PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹلائزیشن سے ذہانت تک: بھارت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) انصاف تک رسائی کو فروغ دے رہی ہے


ٹیکنالوجی عدالتی عمل کا متبادل نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی میں معاون کردار ادا کر رہی ہے

प्रविष्टि तिथि: 11 FEB 2026 1:42PM by PIB Delhi

اہم نکات

  • ای-کورٹس مرحلہ III کے تحت حکومت کی سرمایہ کاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے بھارت کے نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے کے لیے طویل مدتی عزم رکھتی ہے۔
  • سپریم کورٹ اور متعدد ہائی کورٹس میں استعمال ہونے والے  سوپیس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹرانسکرپشن اور ترجمہ جاتی ٹولز کے ذریعے اے آئی عدالتی کارروائیوں میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔
  • یہ ٹولز خودکار فائلنگ، ذہین نوعیت کے مقدمات کی شیڈولنگ، مقدمات سے متعلق معلوماتی نظام کو مضبوط بنانے اور چیٹ بوٹس کے ذریعے فریقین سے رابطے کے ذریعے کارکردگی میں اضافہ کرتے ہیں۔
  • مصنوعی ذہانت کا استعمال نہایت احتیاط اور نگرانی کے ساتھ کیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکنالوجی انصاف کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو، لیکن عدالتی فیصلہ سازی کے عمل کا متبادل نہ بنے۔

 

تعارف: اے آئی سے معاونت یافتہ عدالتوں کی جانب بھارت کے متوازن اقدامات

 

بھارت کی عدالتوں میں کسی بھی عام دن خاصی گہماگہمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ فائلیں ایک میز سے دوسری میز تک منتقل کی جا رہی ہوتی ہیں، مقدمات کی سماعت کے لیے آوازیں لگائی جاتی ہیں، مصروف راہداریوں میں وکلا کی آمد و رفت جاری رہتی ہے اور مقدمات کے فریقین اپنی باری کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے یہ نظام مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ، لسانی تنوع، انصاف تک رسائی میں رکاوٹوں اور پیچیدہ قانونی کارروائیوں جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔

حالیہ برسوں میں ایک منظم ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کے ذریعے عدالتی نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ ای-کورٹس مرحلہ III کے آغاز (2023) کے بعد عدالتوں اور ریکارڈ روم میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ کاغذی دستاویزات کی جگہ بتدریج ڈیجیٹل فائلنگ لے رہی ہے، مقدمات کی فہرستوں کو بروقت اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے باقاعدگی سے سماعتیں منعقد ہو رہی ہیں، اور عدالتی ریکارڈ تک ملک کے کسی بھی حصے سے باآسانی رسائی ممکن ہو گئی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

کاز لسٹ  میں ان مقدمات کی تفصیلات درج ہوتی ہیں جو کسی مخصوص دن سماعت کے لیے عدالت میں مقرر کیے گئے ہوں۔

ای-کورٹس، وزارتِ قانون و انصاف کے تحت محکمۂ انصاف کا ملک گیر مشن موڈ منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی  کے استعمال کے ذریعے عدالتی کارروائیوں کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت عدالتوں میں ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ مقدمات کے اندراج، سماعت، ریکارڈ کے انتظام اور عدالتی خدمات کی فراہمی کو مزید آسان اور تیز بنایا جا سکے۔

 

ڈیجیٹل تبدیلی کے اس وسیع عمل کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے بھی ایک محتاط اور منظم کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ حکومت، سپریم کورٹ، مختلف ہائی کورٹس، نیشنل انفارمیٹکس سینٹر  اور آئی آئی ٹی مدراس جیسے اداروں کے تعاون سے اے آئی پر مبنی ٹولز اب متعدد شعبوں میں معاونت فراہم کر رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • زبانی دلائل اور عدالتی کارروائی کا خودکار متن نویسی (ٹرانسکرپشن)
  • عدالتی فیصلوں اور دستاویزات کا ترجمہ
  • ای-فائلنگ کے دوران غلطیوں کی نشاندہی
  • قانونی تحقیق (لیگل ریسرچ) میں معاونت
  • عدالتی ریکارڈ سے میٹا ڈیٹا کا استخراج اور تجزیہ

ای-کورٹس منصوبے کے تحت تیار کیے گئے مختلف سافٹ ویئر ایپلی کیشنز میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ  سمیت اس کی ذیلی ٹیکنالوجیز، جیسے آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن  اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ  کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل کورٹ 2.1 جیسے نئے ایپلی کیشنز اور لیگل ریسرچ اینالیسس اسسٹنس نیز سپریم کورٹ پورٹل فار اسسٹنس اِن کورٹس ایفیشینسی (سوپیس) عدالتی نظام میں زیادہ ذہین اور مؤثر ورک فلو کی جانب ابتدائی لیکن نہایت اہم اقدامات ہیں۔

اس وقت ایک ایسا عدالتی ماحول تشکیل پا رہا ہے جس میں ٹیکنالوجی رفتار، درستگی اور شفافیت میں اضافہ کرتے ہوئے عدالتی کام کاج میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ تاہم اس پورے عمل میں انسانی فیصلہ سازی کی خودمختاری اور بالادستی کو برقرار رکھا گیا ہے، تاکہ ٹیکنالوجی صرف مددگار کردار ادا کرے اور عدالتی فیصلوں کا اختیار جج صاحبان کے پاس ہی رہے۔

ڈیجیٹلائزیشن سے مصنوعی ذہانت تک: عدالتی ٹیکنالوجی کا مسلسل ارتقا

بھارت کے عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا انضمام کوئی اچانک تکنیکی جست نہیں، بلکہ ایک مسلسل، مرحلہ وار اور سوچے سمجھے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کا حصہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران عدالتیں بنیادی کمپیوٹرائزیشن کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ملک گیر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، حقیقی وقت (ریئل ٹائم) پر مبنی ڈیٹا سسٹمز، ورچوئل عدالتوں اور کثیر لسانی عدالتی خدمات تک رسائی کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہیں۔

 

ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ابتدائی اقدامات کا آغاز 2007 میں ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ سے ہوا، جس کا بنیادی مقصد عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانا تھا۔ اس منصوبے کے تحت توجہ درج ذیل امور پر مرکوز کی گئی تھی:

  • عدالتی دستاویزات کی کمپیوٹرائزیشن تاکہ مقدمات کی فائلوں کا ذخیرہ، بازیافت اور انتظام ڈیجیٹل انداز میں کیا جا سکے۔
  • کاز لسٹ  کی ڈیجیٹلائزیشن تاکہ روزانہ سماعت کے لیے مقرر مقدمات کی فہرست آن لائن اور بروقت شائع و اپ ڈیٹ کی جا سکے۔
  • الیکٹرانک کیس انفارمیشن سسٹمز  کا نفاذ تاکہ عدالتوں کو مقدمات کی پیش رفت پر نظر رکھنے اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے ایک مربوط پلیٹ فارم میسر آ سکے۔

مرحلہ اول میں بنیادی طور پر اس بات پر توجہ دی گئی کہ عدالتی معلومات انتظامیہ اور مقدمات کے فریقین، دونوں کے لیے زیادہ نمایاں، شفاف اور آسانی سے دستیاب ہوں۔

مرحلہ دوم میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل مزید پختہ اور وسیع ہوا، جبکہ مرحلہ سوم میں چیلنج صرف معلومات کی دستیابی تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑی مقدار میں موجود ڈیٹا کے مؤثر انتظام اور اس سے بہتر استفادہ کا بن گیا۔

ای-کورٹس منصوبے کے مختلف مراحل کے دوران متعدد جدید ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرائی گئیں، جنہوں نے عدالتی نظام کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

 

  • ای-فائلنگ کے لیے جدید ٹولز
  • درخواستوں اور دستاویزات میں غلطیوں کی الیکٹرانک جانچ
  • سمن کی ڈیجیٹل ذرائع سے ترسیل
  • خودکار طور پر تیار ہونے والی کاز لسٹ

 

اس مسلسل ارتقائی سفر کا اگلا مرحلہ مصنوعی ذہانت  ہے۔ سابقہ ڈیجیٹل ٹولز کے برعکس، اے آئی پر مبنی نظام نہ صرف معلومات کو محفوظ اور منظم کرتے ہیں بلکہ ان کا تجزیہ اور فہم بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اے آئی درج ذیل کاموں میں معاونت فراہم کر سکتی ہے:

  • زبان کی پروسیسنگ ، جیسے عدالتی کارروائی کی ٹرانسکرپشن اور ترجمہ
  • پیٹرن کی شناخت ، جس کے ذریعے بڑی مقدار میں موجود معلومات سے رجحانات اور تعلقات معلوم کیے جا سکتے ہیں
  • ڈیٹا پر مبنی پیچیدہ اور وسیع نوعیت کے کاموں میں معاونت، جہاں انسانی وقت اور محنت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے

اہم بات یہ ہے کہ اے آئی کو ہندوستانی عدلیہ میں موجودہ نظاموں کے متبادل کے طور پر نہیں رکھا گیا ہے۔ دراصل، یہ انٹیگریٹڈ کیس مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم، ای فائلنگ ماڈیولز، اور فیصلوں کے ڈیٹا بیس کے ذریعے ان نظاموں کو مضبوط بنا رہا ہے۔

 

اے آئی مختلف شعبوں میں پیش رفت پر: عملی اور آزمائشی نفاذ

 

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب عدالتی نظام میں فعال کردار ادا کر رہی ہے، جہاں اسے منتخب اور واضح طور پر متعین انتظامی و معاون شعبوں میں ادارہ جاتی نگرانی کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے بعض نظام مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ بعض دیگر ابھی کنٹرول شدہ تجرباتی مراحل میں ہیں۔

 

عدالتی کارروائی کی متن نویسی میں اے آئی: زبانی دلائل کا محفوظ ریکارڈ

سپریم کورٹ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ابتدائی اور نمایاں استعمالات میں سے ایک عدالتی کارروائی اور زبانی دلائل کی خودکار متن نویسی (ٹرانسکرپشن) ہے، خصوصاً آئینی بنچوں کے مقدمات میں۔

روایتی طور پر عدالتی کارروائی کا ریکارڈ ہاتھ سے لکھے گئے نوٹس، منتخب ڈکٹیشن یا سماعت کے بعد تیار کیے جانے والے خلاصوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ اب اسپیچ ریکگنیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے زبانی دلائل کو تقریباً حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں تحریری شکل دی جا رہی ہے، جنہیں زیادہ شفافیت اور درست ریکارڈ کے لیے سپریم کورٹ کے سرکاری پلیٹ فارمز پر بھی جاری کیا جاتا ہے۔

آئینی بنچ کی سماعتوں میں کامیاب استعمال کے بعد اس نظام کا دائرہ کار بتدریج عام سماعتی دنوں تک بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔

یہ نظام آٹومیٹک اسپیچ ریکگنیشن  پر مبنی ہے، جو مشین لرننگ کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ اسے قانونی اصطلاحات، مختلف لہجوں اور عدالتی بحثوں  کو سمجھنے اور شناخت کرنے کے لیے تربیت دی گئی ہے، تاہم حتمی جانچ اور تصدیق اب بھی انسانی ماہرین کے ذریعے ہی کی جاتی ہے۔

کثیر لسانی انصاف کے لیے اے آئی: عدالتی فیصلوں کا ترجمہ

بھارت کے عدالتی نظام میں زبان کا مسئلہ طویل عرصے سے انصاف تک رسائی میں ایک بنیادی رکاوٹ رہا ہے۔ اگرچہ بیشتر عدالتی فیصلے انگریزی زبان میں تحریر کیے جاتے ہیں، لیکن مقدمات کے فریقین اور عوام کی ایک بڑی تعداد علاقائی زبانوں میں کام کرتی ہے۔

اس خلا کو کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کو بڑے پیمانے پر عدالتی فیصلوں اور قانونی دستاویزات کے ترجمے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مختلف زبانیں بولنے والے شہری بھی عدالتی فیصلوں اور قانونی معلومات تک زیادہ آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں، جس سے انصاف کا نظام مزید شفاف، جامع اور عوام دوست بن سکے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

ای ایس سی آر (الیکٹرانک سپریم کورٹ رپورٹس) پورٹل سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تلاش کرنے، پڑھنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ایک مفت، ڈیجیٹل اور صارف دوست سروس ہے۔

کثیر لسانی انصاف کے لیے اے آئی: عدالتی فیصلوں کا ترجمہ

نیشنل انفارمیٹکس سینٹر کے تعاون سے نیچرل لینگویج پروسیسنگ  پر مبنی مصنوعی ذہانت کے ٹولز سپریم کورٹ کے فیصلوں کا 18 بھارتی زبانوں میں ترجمہ کر رہے ہیں۔

اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ کے اے آئی سے تقویت یافتہ ترجمہ جاتی نظام "سُواس" (سپریم کورٹ ودھک انوواد سافٹ ویئر) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر انگریزی زبان میں جاری ہونے والے عدالتی فیصلوں اور احکامات کو مختلف علاقائی زبانوں میں تبدیل کرتا ہے، جس سے عدالتی معلومات تک رسائی میں اضافہ ہوتا ہے اور عدالتوں میں علاقائی زبانوں کے استعمال کو فروغ ملتا ہے۔

ان تراجم شدہ فیصلوں کو ای-ایس سی آر  پورٹل پر شائع کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ زیادہ وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچتے ہیں اور قانونی معلومات تک رسائی مزید آسان ہو جاتی ہے۔

ترجموں کے معیار اور آئینی و قانونی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کی اے آئی ترجمہ کمیٹیاں مسلسل نگرانی کرتی ہیں۔ اس پورے عمل میں اے آئی کا کردار معاون نوعیت کا ہے، جبکہ ترجمہ شدہ مواد کا جائزہ اور حتمی توثیق عدالتی نظام کے اندر انسانی ماہرین اور متعلقہ اداروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔

 

فائلنگ اور رجسٹری کے امور میں اے آئی: طریقۂ کار سے متعلق رکاوٹوں میں کمی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال عدالتی رجسٹریوں میں بھی کیا جا رہا ہے، جہاں دستاویزات اور درخواستوں کی جانچ پڑتال کے لیے عموماً بہت زیادہ وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ رجسٹری نے آئی آئی ٹی مدراس کے اشتراک سے ایسے اے آئی ٹولز تیار کیے ہیں جو ای-فائلنگ میں موجود خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

یہ ٹولز مشین لرننگ اور آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے درخواستوں، منسلک دستاویزات، فارمیٹنگ، میٹا ڈیٹا اور فائلنگ کے قواعد و ضوابط کی تعمیل کا جائزہ لیتے ہیں۔

صرف دستی جانچ پر انحصار کرنے کے بجائے، اے آئی نظام ممکنہ خامیوں کو پہلے ہی نمایاں کر دیتا ہے، جس سے رجسٹری کے افسران اپنی توجہ زیادہ اہم اور پیچیدہ جانچ کے مراحل پر مرکوز کر سکتے ہیں۔

فی الحال یہ نظام ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس تک رسائی آزمائشی بنیادوں پر ایڈووکیٹس آن ریکارڈ  کے ایک محدود گروپ کو فراہم کی گئی ہے تاکہ اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے اور ضروری تجاویز و آراء حاصل کی جا سکیں۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد فائلنگ میں موجود خامیوں کی بروقت نشاندہی اور فوری اصلاح کو ممکن بنانا ہے، تاکہ مقدمات کے آغاز ہی میں پیدا ہونے والی غیر ضروری تاخیر کو کم کیا جا سکے اور عدالتی کارروائی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

 

قانونی تحقیق میں اے آئی کی معاونت: لیگ آر آر اے اور سوپیس

جج صاحبان کی قانونی اور عدالتی تحقیق میں مدد کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے ٹولز تیار کیے گئے ہیں جو عدالتی تجزیے کا متبادل نہیں بلکہ معاون کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ججوں کو مقدمات سے متعلق وسیع قانونی مواد، نظائر اور دستاویزات کا جائزہ لینے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

لیگل ریسرچ اینڈ اینالیسس اسسٹنٹ (لیگ آر آر اے) ایک ایسا اے آئی ٹول ہے جو عدالتی دستاویزات کا تجزیہ کرتا ہے، متعلقہ قانونی حوالہ جات اور نکات اخذ کرتا ہے اور تحقیقی مواد کو منظم انداز میں مرتب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ نظام نیچرل لینگویج پروسیسنگ  اور مشین لرننگ جیسی ٹیکنالوجیز پر مبنی ہے، تاہم اس کا کردار صرف تحقیقی معاونت تک محدود ہے۔ یہ نہ تو عدالتی نتائج کی سفارش کرتا ہے اور نہ ہی خود مختار طور پر فیصلوں کا مسودہ تیار کرتا ہے۔

 

اسی طرح سپریم کورٹ پورٹل فار اسسٹنس اِن کورٹ ایفیشینسی (سوپیس) ایک اے آئی پر مبنی نظام ہے جسے سابقہ عدالتی فیصلوں کی شناخت، متعلقہ نظائر کی تلاش اور مقدمات کے حقائق کو جامع انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

 

وائس ٹو ٹیکسٹ اور ڈکٹیشن میں معاونت: اے ایس آر -شروتی اور پانینی

عدالتی تحریر میں مدد کرنے اور مینوئل ڈرافٹنگ پر خرچ ہونے والے وقت کو کم کرنے کے لیے، ڈیجیٹل کورٹس 2.1 جیسی ایپلی کیشنز میں اے آئی سے چلنے والے ڈکٹیشن اور ترجمے کے ٹولز متعارف کرائے گئے ہیں۔

  • اے ایس آر-شروتی: یہ احکامات اور فیصلوں کے لیے آواز سے متنی ڈکٹیشن کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • پانینی: یہ ترجمہ اور لسانی ساخت کے ساتھ مدد کرتا ہے۔

یہ آلات ججوں کو مسودہ تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ ادارتی اور عدالتی کنٹرول مکمل طور پر جج کے پاس رہتا ہے۔ وہ متن کی بنیادی تصنیف یا استدلال کو تبدیل کیے بغیر کارکردگی کو فروغ دیتے  ہیں۔

 

اہم عدالتی نظاموں کے ساتھ اے آئی کا انضمام

مصنوعی ذہانت پر مبنی تمام ٹولز کو موجودہ عدالتی ڈیجیٹل ڈھانچے کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ عدالتوں میں کام کاج زیادہ مؤثر، منظم اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔ ان میں شامل ہیں:

  • انٹیگریٹڈ کیس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (آئی سی ایم آئی ایس)
  • کیس انفارمیشن سسٹم  (سی آئی ایس)4.0
  • ای-فائلنگ  اور فیصلوں کو تلاش کرنے کے پورٹلز

کیا آپ جانتے ہیں؟

سپریم کورٹ کا انٹیگریٹڈ کیس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم  متعدد جدید ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرتا ہے، جن میں ای-نوٹس، ای-کاز لسٹ، مقدمات تک ڈیجیٹل رسائی، آن لائن کیس مانیٹرنگ اور ہائی کورٹس، سرکاری محکموں، جیلوں اور پولیس اسٹیشنوں کے درمیان باہمی رابطہ شامل ہے۔ اس کے ذریعے عدالتی معلومات کا تبادلہ زیادہ تیز، مؤثر اور منظم انداز میں ممکن ہوتا ہے۔

ای-کمیٹی کے اقدام کے تحت تیار کردہ کیس انفارمیشن سسٹم (سی آئی ایس) عدالتی نظام میں شفافیت کو فروغ دیتا ہے اور مقدمات کے فریقین کے لیے عدالتی معلومات تک رسائی کو آسان بناتا ہے۔

کیس انفارمیشن سسٹم  (سی آئی ایس)  4.0 ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کے لیے جدید اور بہتر یوزر انٹرفیس، ڈیش بورڈز اور کیس مینجمنٹ کے مؤثر ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے مقدمات کی نگرانی، انتظام اور عدالتی کارروائیوں کو زیادہ منظم اور صارف دوست بنایا جا سکتا ہے۔

اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ اے آئی ایک آزاد یا بیرونی نظام کے بجائے ادارہ جاتی حدود میں کام کرتا ہے، اس طرح عدالتی آزادی اور آئینی احتساب کو مزید تقویت ملتی ہے۔

فوجداری نظام انصاف

فوجداری نظام انصاف کے اندر، ساختی ڈیجیٹل اصلاحات کے ساتھ ساتھ تفتیش، ثبوت، استغاثہ، اور فیصلہ میں اے آئی  کا کردار بڑھ رہا ہے۔ پولیس، فرانزک، پراسیکیوشن، جیلوں اور عدالتوں کو ڈیجیٹل طور پر آپس میں جوڑ کر، اے آئی  انٹرآپریبلٹی میں دیرینہ خلاء کو ختم کرنے میں مدد کر رہا ہے جو پہلے تاخیر اور معلومات کی دیر سے ترسیل کا سبب بنتا تھا۔

انٹر آپریبل کریمنل جسٹس سسٹم (آئی سی جے ایس) پروجیکٹ کے اندر AI

آئی سی جے ایس کے اندر کئی AI سے چلنے والے ٹولز تعینات کیے جا رہے ہیں- ایک ایسا نظام جو 'ایک ڈیٹا، ایک انٹری' کے اصول پر مبنی پولیس، عدالتوں، جیلوں، فارنسک سسٹمز، اور پراسیکیوشن ڈیٹا بیس کو ڈیجیٹل طور پر مربوط کرتا ہے۔ اے آئی  بڑی مقدار میں فوجداری کیس کے ڈیٹا کو منظم کرنے، طریقہ کار کے مراحل سے باخبر رہنے اور ایجنسیوں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے اعتماد کو فروغ دیتا ہے ۔

عدالتوں کے لیے، یہ تصدیق شدہ ایف آئی آر، چارج شیٹ، تحویل کی حیثیت، اور فرانزک رپورٹس تک تیزی سے رسائی کے قابل بناتا ہے، اس طرح دستی فائلوں پر انحصار کم ہوتا ہے۔ اےآئی  سے چلنے والا ڈیٹا ہینڈلنگ ثبوتی معیارات میں ردوبدل کیے بغیر مستقل مزاجی اور وقت کی پابندی کو بہتر بناتا ہے۔

 

نیشنل آٹومیٹڈ فنگر پرنٹ آئیڈینٹی فکیشن سسٹم (این اے ایف آئی ایس) کو مجرمانہ فنگر پرنٹس کا ایک مرکزی، قابل تلاش قومی ذخیرہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں 12.3 ملین سے زیادہ ریکارڈ موجود ہیں۔ یہ میراثی نظام کو تبدیل کر رہا ہے اور ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں درست، بروقت، اور یکساں فنگر پرنٹ پر مبنی شناخت کو یقینی بنا رہا ہے۔

اے آئی کی مدد سے کارروائی اور شواہد کی ریکارڈنگ

اے آئی  سے چلنے والے نظام عدالتی کارروائیوں کی ریکارڈنگ اور تحفظ کو بھی بہتر بنا رہے ہیں۔ سی آئی ایس کے اندر روزانہ کی کارروائیوں کو ڈیجیٹل طور پر رکھا جاتا ہے، جبکہ منتخب عدالتوں میں سماعتوں کی لائیو سٹریمنگ شفافیت کو بڑھاتی ہے۔

آئی سی جے ایس کے تحت متعارف کرائی گئی 'نیا شروتی' جیسی ایپلی کیشنز محفوظ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مجازی پیشی اور گواہی کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ اے آئی  سے چلنے والی صوتی پروسیسنگ واضح، مستقل مزاجی اور درست دستاویزات کو یقینی بناتی ہے، خاص طور پر فوجداری مقدمات میں جہاں متعدد شراکت دار  مختلف مقامات پر شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، ای-ایویڈینس جیسے پلیٹ فارمز پر ثبوت کی ڈیجیٹل ریکارڈنگ درستگی کو بہتر بناتی ہے اور ریکارڈ میں چھیڑ چھاڑ کیے بغیر طریقہ کار کے تنازعات کو کم کرتی ہے۔

ادارہ جاتی حکمرانی، تحفظات، اور سرمایہ کاری

 

منظم نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے، سپریم کورٹ نے ایک اے آئی  کمیٹی تشکیل دی، جسے بعد میں اس کے مینڈیٹ کو مضبوط بنانے کے لیے از سر نو تشکیل دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج کی سربراہی میں، یہ کمیٹی عدلیہ کے اندر اے آئی   اقدامات کی نگرانی کرتی ہے — جیسا کہ ترجمہ، تحقیقی معاونت، اور پروسیس آٹومیشن — اور بڑے پیمانے پر اپنانے سے پہلے اہم منصوبوں کا جائزہ لیتی ہے۔

زیادہ تر اے آئی  ٹولز ای کورٹس پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے  کے تحت 'تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ' کے منظور شدہ پیرامیٹرز کے اندر تیار کیے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ای-کمیٹی پالیسی اور حکمت عملی تیار کرتی ہے، جبکہ ہائی کورٹس عمل درآمد کو سنبھالتی ہیں، جس سے قومی معیارات کے اندر مقامی تخصیص کی اجازت دی جاتی ہے۔

عدلیہ نے واضح طور پر ڈیٹا پرائیویسی، سیکورٹی اور تعصب کو کم کرنے کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے ججوں اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل خصوصی ذیلی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو محفوظ رابطے، تصدیق کے طریقہ کار اور عدالتی ڈیٹا کے تحفظ کی نگرانی کرتی ہیں۔

سرمایہ کاری اور صلاحیت سازی کے حوالے سے، ہندوستان کی عدلیہ میں اے آئی کا انضمام مسلسل حکومتی کوششوں کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔ ای کورٹس پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے  کے تحت، "مستقبل کی تکنیکی ترقی" کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں — جس میں اے آئی  ، مشین لرننگ، اور بلاک چین شامل ہے  جس کی لاگت  7,210 کروڑ ہے۔

حرف آخر: آئینی اخلاق سے مربوط ٹیکنالوجی

ایک طویل مقدمے کے اختتام پر، ایک جج توقف کرتا ہے، سنتا ہے، حقائق کو جانچتا ہے، اور قانون کا اطلاق کرتا ہے۔ یہ بنیادی عمل بدستور برقرار ہے۔ جو کچھ بدلا ہے وہ قانونی چارہ جوئی کے پردیی پہلو ہیں — جیسے کہ نظیروں کی تحقیق کے لیے درکار وقت، ریکارڈ تلاش کرنے کے لیے درکار کوشش، اور زبان کی رکاوٹوں اور رسد کی وجہ سے ہونے والی تاخیر۔ اے آئی  عدالتی فیصلہ سازی کے بنیادی جوہر میں مداخلت کیے بغیر قانونی چارہ جوئی میں تاخیر کو کم کرنے کے لیے خاموشی سے ان پہلوؤں پر توجہ دے رہا ہے۔

جیسے جیسے ہندوستان تکنیکی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، ڈیجیٹل ٹولز کو تیزی سے انصاف کے نظام میں ضم کیا جا رہا ہے- عدالتوں تک آفاقی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کی جمہوریت کے ذریعے کارفرما۔ یہ مشترکہ بھلائی کی خدمت کرنے والی ٹیکنالوجی کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے—سب کے لیے بہبود اور خوش حالی  — اورانسانیت کے لیے مصنوعی ذہانت  کے تصور سے مطابقت رکھتا ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اے آئی  وقار، انصاف اور اعتماد کو برقرار رکھتا ہے۔ ہندوستان کی عدلیہ اے آئی  کو متوازن اور آئینی طور پر صحیح طریقے سے مربوط کر رہی ہے۔ کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یہ یقینی بناتا ہے کہ انسانی فیصلہ سب سے اہم رہے۔ یہ پیمائش شدہ نقطہ نظر آئینی اقدار سے سمجھوتہ کیے بغیر انصاف کی فراہمی کو تقویت دیتا ہے۔

حوالہ جات

وزارت قانون و انصاف


https://nalsa.gov.in/lok-adalats/

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s32e45f93088c7db59767efef516b306aa/uploads/2025/09/202509171342021284.pdf

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3ec0490f1f4972d133619a60c30f3559e/uploads/2024/07/2019-2020.pdf

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s38261bae60fcef985b46667cf365e690b/uploads/2025/12/20251208634523449.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2100326&reg=3&lang=2
https://doj.gov.in/access-to-justice-for-the-marginalized/

https://nalsa.gov.in/faqs/#1743592297157-684e9890-2d0b

https://nalsa.gov.in/faqs/#1743592298196-ba4b10d1-37f2
https://nalsa.gov.in/national-lok-adalat/

https://nalsa.gov.in/permanent-lok-adalat/

https://nalsa.gov.in/the-legal-services-authorities-act-1987/
https://nalsa.gov.in/lokadalats/#:~:text=Lok%20Adalat%20is%20one%20of,Legal%20Services%20Authorities%20Act%2C%201987

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1848734&reg=3&lang=2
https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s39f329089b8d9644b96ba05d545355d67/uploads/2025/06/202506042007507813.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223646&reg=3&lang=1

 

لوک سبھا

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/184/AU4710_TmG1Ss.pdf?source=pqals

 

پریس انفارمیشن بیورو

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2187718&reg=3&lang=2

دیگر


https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s38261bae60fcef985b46667cf365e690b/uploads/2025/12/20251208634523449.pdf

https://www.indiacode.nic.in/bitstream/123456789/10960/1/the_legal_service_authorities_act%2C_1987.pdf

          پی ڈی ایف کے لیے یہاں کلک کریں:

*******

ش ح۔ ع و۔ خ م

UN-NO-9130


(रिलीज़ आईडी: 2277484) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati