PIB Backgrounder
نکسل سے پاک ہندوستان
مربوط حکمت عملی نے بائیں بازو کی انتہا پسندی کو شکست دی
प्रविष्टि तिथि:
19 JUN 2026 1:38PM by PIB Delhi
|
مورخہ31 مارچ 2026 کو ہندوستان نے ایک تاریخی سنگ میل حاصل کیا ۔ تقریبا چھ دہائیوں تک چلے تشدد کے دور کے بعد ملک بائیں بازو کی انتہا پسندی سے مؤثر طریقے سے آزاد ہو ا ۔ یہ کامیابی حکومت کی بارہ سال کی مسلسل کوششوں کے سبب ممکن ہوئی ۔یہ تبدیلی وشواس،نرمان اور جان کلیان(اعتماد، تعمیر اور عوامی بہبود)کے اصولوں سے کارفرما تھی۔ ایک متوازن حکمت عملی میں ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کے ساتھ ساتھ فیصلہ کن حفاظتی حکمت عملی اور کارروائیاں شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی سے چلنے والے اقدامات نے انٹیلی جنس، نگرانی اور ہم آہنگی کو مضبوط کیا۔ باز آباد کاری کی پالیسیوں نے ہزاروں ارکان کو ہتھیار ڈالنے اور معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے کی ترغیب دی۔ ان کوششوں نے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دی اور عوامی خدمات تک رسائی کو بہتر بنایا۔ انہوں نے حکمرانی پر اعتماد بحال کیا اور جمہوری شراکت کو مضبوط کیا۔ سب سے اہم بات ان کی وجہ سے تمام کلیدی پیمانے میں تشدد میں خاطر خواہ اور مستقل کمی واقع ہوئی۔ ’نکسل سے آزاد ہندوستان‘کی کامیابی پائیدار امن اور ترقی کے لیےحکومت کے نقطہ نظر کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔
|
|
امن اور سلامتی کا نیا دور
|
تقریبا چھ دہائیوں تک ہندوستان بائیں بازو کی انتہا پسندی(ایل ڈبلیو ای)سے دوچار رہا ۔ یہ کوئی دور کا یا تجریدی چیلنج نہیں تھا بلکہ لاکھوں قبائلی خاندانوں ، سڑکوں ، اسکولوں سے منقطع دیہاتوں اور جامع ترقی کے وسیع تر وعدے کے لیے ایک زندہ حقیقت تھی ۔ تشدد مستقل تھا اور غیریقینی صورتحال روزمرہ کی زندگی کی حقیقت بن گئی تھی ۔
مورخہ 31 مارچ 2026 کو یہ صورت حال بدل گئی ، جو ہندوستان کے داخلی سلامتی کے سفر میں ایک تاریخی سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے ۔کیونکہ ملک مؤثر طریقے سے ماؤ نوازی سے آزاد ہوا ۔ جب موجودہ حکومت نے مئی2014 میں اقتدار سنبھالا تو ریڈ کوریڈور داخلی سلامتی کے سب سے سنگین چیلنجوں میں سے ایک رہا ۔ پہلے کے نقطہ ٔنظر بڑے پیمانے پر بکھرے ہوئے اور واقعے پر مبنی تھے ، جو مسئلہ کی ساختی جڑوں کو حل کرنے کے بجائے علامات کا انتظام کرتے تھے ۔ بعد میں اسے حل کرنے کے لیے ایک زیادہ جامع اور مربوط حکمت عملی پر عمل کیا گیا ۔

گزشتہ12 برسوں میں تبدیلی کی رہنمائی تین متعین ستونوں-وشواس ، نرمان اور جن کلیان نے کی ۔ وشواس نے مضبوط حفاظتی کارروائیوں ، بہتر بین ایجنسی ہم آہنگی ، منظم ہتھیار ڈالنے اور باز آباد کاری کے فریم ورک اور پائیدار کمیونٹی آؤٹ ریچ کے ذریعے اعتماد کی بحالی پر توجہ مرکوز کی ۔ نرمان نے فزیکل اور ڈیجیٹل رابطے کو بڑھانے ، دور دراز کے علاقوں میں گورننس کی موجودگی کو بہتر بنانے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعہ پائیدار اقتصادی مواقع پیدا کرنے پر زور دیا ۔ جن کلیان نے وقار ، فلاح و بہبود کی فراہمی ، ثقافتی شمولیت اور متاثرہ برادریوں کو قومی ترقیاتی عمل میں مرکزی دھارے میں لانے کو ترجیح دی ۔
ہر ستون دوسرے کو مضبوط کرتا ہے ۔ سلامتی نے ترقی کے لیے جگہ پیدا کی ۔ ترقی نے اعتماد کو گہرا کیا ۔ اعتماد نے فلاح و بہبود کی فراہمی کو تیز کیا ۔ یہ کوئی سلسلہ نہیں تھا ۔ یہ ترقی کا ایک لازم و ملزوم سلسلہ تھا ۔
وشواس-ریاست میں اعتمادکی بحالی
وشواس نے کمزور اور دور دراز علاقوں میں ریاست کی مستقل موجودگی کے ذریعہ اعتماد کی تعمیر نو پر توجہ مرکوز کی ۔ اس نے موثر ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں اور گورننس اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کیا ۔ اس نقطۂ نظر نے مختلف طبقوں اور ریاستی نظام کے درمیان دیرینہ خلا کو پر کیا ۔
2014 سے پہلے تشدد اور اسٹریٹیجک خطرات کی انتہا
ایل ڈبلیو ای 1967 میں مغربی بنگال کی نکسل باڑی بغاوت سے پروان چڑھا ، جو ماؤنواز نظریے اور مسلح انقلاب کے نظریے سے متاثر تھا ۔ اس کا رہنما اصول سادہ اور پرتشدد تھا:طاقت بندوق کی نالی سے بہتی ہے ۔ نکسلیوں کے تقریباً 92 فیصد ہتھیار براہ راست پولیس ہتھیاروں سے لوٹے ہوئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کئی انتہا پسند تنظیمیں 2004 میں سی پی آئی(ماؤنواز)کے تحت ضم ہو گئیں ، جس سے ہندوستان کی داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج پیدا ہو گیا ۔

2004 سے 2014 تک کی دہائی ایل ڈبلیو ای کی تاریخ کی سب سے زیادہ پرتشدد دہائیوں میں سے ایک تھی ۔ ایک ہی سال میں1,936 واقعات اور 720 شہری ہلاکتوں کے ساتھ 2010 میں تشدد عروج پر تھا ۔ پوری دہائی میں17,542 پرتشدد واقعات ، 1,913 فوجی اہلکاروں کی موت اور 5,019 شہری اموات در ج کی گئیں ۔
اس تعلق سے سابقہ حکومتوں کے پاس کوئی جامع اورمستقل قومی پالیسی نہیں تھی ۔ ریاستی حکومتیں مختلف سطح پر کام کرتی تھیں ۔ اس کے باوجود حکومت نے 2009 میں عوامی طور پر تسلیم کیا کہ نکسل ازم ہندوستان کو درپیش سب سے بڑا داخلی سلامتی کا چیلنج تھا ، جو جغرافیائی پھیلاؤ میں کشمیر اور شمال مشرق سے بھی آگے تھا ۔
پالیسی کی تبدیلی: بکھرے ہوئے ردعمل سے متحد حکمت عملی تک
پہلی فیصلہ کن کارروائی 2015 میں ایل ڈبلیو ای سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی اور ایکشن پلان کی منظوری کے ساتھ ہوئی ۔ اس نے پہلے کے غیر مستقل نقطہ نظر کو ایک منظم ، مکمل حکومت کے فریم ورک سے تبدیل کر دیا ۔ اس نے مرکزی مسلح پولیس دستوں (سی اے پی ایف) کو خصوصی تربیت فراہم کی اور سیکورٹی سے متعلق اخراجات ، خصوصی انفراسٹرکچر اسکیم اور خصوصی مرکزی امدادی اسکیموں کے ذریعے فنڈز مختص کیے۔ جبکہ سیکورٹی کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی بنیادی وجوہات کو حل کیا ۔
پہلی بارہندوستان نے ایل ڈبلیو ای کے خلاف سہ جہتی حکمت عملی-بات چیت ، سلامتی اور ہم آہنگی پر مبنی ایک منظم اور جامع نقطۂ نظر کو نافذ کیا ۔ حکومت کے ردعمل کو وزارت داخلہ کے تحت ایک زیادہ مرکزی مربوط فریم ورک کے ذریعہ ہدایت دی گئی۔ جس سے پالیسی کے نفاذ میں زیادہ ہم آہنگی آئی ۔

ہندوستان کو نکسل ازم کے خوف اور تشدد سے آزاد کرنے کا مقصد مرکوز منصوبہ بندی اور مربوط کارروائی کے ذریعے حاصل کیا گیا ۔ 24 اگست 2024 کو حکومت ہند نے 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسل سے پاک بنانے کا ہدف مقرر کیا ۔ یہ ہدف سخت حفاظتی کارروائیوں ، مضبوط ہم آہنگی ، بنیادی ڈھانچے کی توسیع ، اور تیز تر ترقیاتی رسائی کے ذریعے مقررہ وقت پر حاصل کیا گیا ۔
سیکورٹی فریم ورک کی تعمیر
حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی توسیع ، خصوصی افواج اور بہتر آپریشنل کوآرڈینیشن کے ذریعے نکسل متاثرہ علاقوں میں حفاظتی خلا کو منظم طریقے سے پر کیا ۔ اس مربوط نقطہ نظر نے ریڈ کوریڈور میں ریاست کی موجودگی ، نقل و حرکت ، خفیہ معلومات کا تبادلہ اور انسداد بغاوت کی صلاحیتوں کو بڑھایا ۔

سال2014 سے پہلے صرف 66 کے مقابلے میں 597 چاق وجو بند پولیس اسٹیشن تعمیر کیے گئے تھے ۔ نکسلیوں کے واقعات کی اطلاع دینے والے پولیس اسٹیشن 333 سے کم ہو کر 16 رہ گئے ۔ مزید برآں گزشتہ سات برسوں میں سیکورٹی گرڈ کو سخت کرنے ، علاقے کے تسلط کو بہتر بنانے اور دور دراز کے جنگلاتی علاقوں میں مسلسل کارروائیوں کو برقرار رکھنے کے لیے 408 نئے سی اے پی ایف سیکورٹی کیمپ قائم کیے گئے ۔ (68 نائٹ لینڈنگ ہیلی پیڈ)دور دراز علاقوں میں تیزی سے تعیناتی کے لیے بنائے گئے ۔ جس سے فوجیوں کی نقل و حرکت ، ہلاکتوں کا انخلا اور نگرانی ممکن ہو سکے ۔ سیکورٹی فورسز کو 400 بلٹ پروف اور بلاسٹ پروف گاڑیاں موصول ہوئیں اور ان کی فلاح و بہبود اور طبی مدد کے لیے5 اسپتال تعمیر کیے گئے ۔
ایلیٹ فورسز کا انضمام: کوبرا ، ڈی آر جی ، ایس ٹی ایف اور گرے ہاؤنڈ
کوبرا (کمانڈو بٹالین فار ریزولیوٹ ایکشن) سی آر پی ایف ، ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ (ڈی آر جی) اور جھارکھنڈ جیگوار ، چھتیس گڑھ پولیس یونٹس اور آندھرا پردیش کے گرے ہاؤنڈ جیسی اشرافیہ ریاستی اکائیوں کو اکٹھا کرتے ہوئے ایک پرتوں والا ، خصوصی حفاظتی ڈھانچہ تیار کیا گیا ۔ ڈی آر جی ، ایس ٹی ایف ، سی آر پی ایف اور کوبرا میں مشترکہ تربیت نے ایک واضح کمانڈ ڈھانچے کے ساتھ ایک مربوط ، انٹرآپریبل فورس تشکیل دی ۔
2014 کے بعد مرکزی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کے ذریعے انسداد نکسل کارروائیوں کو تبدیل کر دیا ۔ بغیر پائلٹ والی فضائی گاڑیاں (یو اے وی) ڈرون ، سیٹلائٹ امیجری اور اے آئی پر مبنی ڈیٹا تجزیہ نے حقیقی وقت کی نگرانی اور عین مطابق نگرانی کو قابل بنایا ۔ اعلیٰ درجے کے لوکیشن ٹریکنگ سسٹم ، سائنسی کال لاگ تجزیہ ، موبائل ڈیٹا اینالیٹکس اور سوشل میڈیا کی نگرانی کو فعال کیا گیا ۔ وزارت داخلہ نے نقل و حرکت کو ٹریک کرنے ، مواصلاتی نمونوں کا تجزیہ کرنے اور آپریشنل کارکردگی کو تیز کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی ان پٹ کا استعمال کیا ۔
ٹریس ، ٹارگٹ ، غیر جانبدار کرنے کے لیے اہم کارروائیاں
حکومت کے’’ٹریس ، ٹارگٹ ، نیوٹرلائز‘‘ نظریے نے قابل ذکر نتائج پیش کیے ۔ مستقل حفاظتی کارروائیوں اور انٹیلی جنس پر مبنی حکمت عملیوں کے ذریعہ حکومت نے ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کیا جو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایل ڈبلیو ای کے زیر اثر تھے ۔

آپریشن بلیک فارسٹ ، آپریشن آکٹوپس ، آپریشن ڈبل بل ، آپریشن تھنڈر اسٹورم ، آپریشن بھیمبرگ اور آپریشن چکربندھا سمیت مربوط کارروائیوں کے ایک تسلسل نے متاثرہ علاقوں میں ماؤنواز نیٹ ورک کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ۔ ان میں سے آپریشن بلیک فارسٹ ایک بڑی پیش رفت کے طور پر ابھرا ۔ جس نے ماؤنوازوں کے ایک اہم گڑھ کو ختم کر دیا۔ جس کے نتیجے میں30 سے زیادہ ماؤنوازوں کا خاتمہ ہوا اور گرفتاریوں اور ہتھیار ڈالنے میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔ آپریشن ڈبل بل کے نتیجے میں گملا ، لوہرداگا اور لاتیہار اضلاع نکسلیوں سے پاک ہو گئے ۔ اجتماعی طور پر ان کارروائیوں نے طویل عرصے سے متاثرہ علاقوں میں ریاستی موجودگی کو بحال کیا، انتہا پسندی کے اثر و رسوخ کو کم کیا اور بہتر سلامتی ، حکمرانی اور ترقیاتی رسائی کے لیے حالات پیدا کیے ۔

مرکزی حکومت نے ایک جامع ایجنسی نقطہ ٔ نظر’’ آل ایجنسی اپروچ‘‘ کو اپنایا ۔ جس میں نہ صرف مسلح ماؤ نوازوں بلکہ ان کی حمایت اور معاونت کرنے والے پورے نظام کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ ترقی کے لیے اسے مکمل حکومتی نقطہ ٔنظر کے طور پر نافذ کیا گیا ۔ حفاظتی کارروائیوں کےلحاظ سے اس کا مطلب ایک مکمل ایجنسی کی حکمت عملی کے طور پر اسے اپنا یا گیا ۔
ماؤ نوازوں کی مالی مدد کو روکنے کے لیے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)کے ذیل میں ایک وقف سیکشن قائم کیا گیا ۔ دسمبر 2025 تک این آئی اے نے 40 کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثے ضبط کئے ۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)نے 12 کروڑ روپے کے اثاثےکی کر کی کی۔ جبکہ ریاستی ایجنسیوں نے اضافی40 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے ضبط کیے ۔ دسمبر 2025 تک 111 بائیں بازو کی انتہا پسندی(ایل ڈبلیو ای) کے مقدمات کی تحقیقات کی گئی اور 98 چارج شیٹ داخل کی گئیں ۔ جون 2026 تک این آئی اے کے مقدمات کی کل تعداد 112 تک پہنچ گئی۔ جس میں 100 چارج شیٹ داخل کی جا چکی تھیں ۔

خود سپردگی کر نے والوں کے لئے ریڈ کارپیٹ
حکومت کے مضبوط حفاظتی ردعمل کی تکمیلبحالی پر مرکوز نقطۂ نظر سے ہوئی ۔ اس کا پیغام واضح رہا:‘‘جو لوگ ہتھیار ڈالتے ہیں ان کے لیےریڈ کارپیٹ کی سہولت ہے ۔’’ ہتھیار ڈالنے والے کیڈروں کو اعلیٰ درجے کے ماؤنوازوں کے لیے5 لاکھ روپے اور دیگر کے لیے2.5 لاکھ روپے کی فوری گرانٹ کے ساتھ ہی 36 ماہ کے لیے 10,000 روپے ماہانہ وظیفہ بھی ملا ۔ ہتھیار ڈالنے کے لیے 50,000 روپے کی اضافی ترغیب فراہم کی گئی ، جو اجتماعی طور پر خود سپردگی کرنے کی صورت میں دوگنی کر دی گئی اور ہتھیار جمع کرنے کے لیے اضافی معاوضے کا نظم کیا گیا ۔

باز آبادکاری کی پالیسی کی کامیابی ہتھیار ڈالنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں جھلکتی ہے ۔ صرف 2025 میں2337 نکسلیوں نے ہتھیار ڈال دیے ، جبکہ2024 سے مارچ 2026 کے درمیان3927ماؤ نوازوں نے خود سپردگی کی ۔ ان نتائج کو سول سوسائٹی کے اراکین ، صحافیوں ، کمیونٹی لیڈروں اور عوامی نمائندوں کی کوششوں سے تقویت ملی ، جنہوں نے بحالی کے اقدامات میں اعتماد پیدا کرنے میں مدد کی اور متاثرہ افراد کو مرکزی دھارے میں دوبارہ شامل ہونے کی ترغیب دی ۔
وشواسکے تحت حاصل ہونے والی کامیابیاں سلامتی کے نتائج سے آگے بڑھ گئیں ۔ انہوں نے طویل مدتی ترقی اور ریاست کی قیادت میں تبدیلی کی بنیاد رکھی ۔ ہر چاق وچو بند پولیس اسٹیشن ، ہر سی اے پی ایف کیمپ اور ہر ہتھیار ڈالنے والا ماؤ نواز حکمرانی کی رسائی کو پہلے کے ناقابل رسائی علاقوں تک بڑھا دیا ۔ سیکورٹی نے قبائلی برادریوں تک پہنچنے کے لیے سڑکوں ، اسکولوں ، صحت کی سہولیات ، بینکنگ خدمات اور ڈیجیٹل رابطے کے دروازے کھول دیے ۔ یہ استحکام اور اعتماد کی بحالی ہی تھی جس نے تبدیلی کے اگلے ستون-نرمان کی بنیاد رکھی ۔
نرمان-ایک نئے مستقبل کی تعمیر
ماؤ نوازی کو ختم کرنے کا عزم کبھی بھی صرف نکسلیوں کو ختم کرنے کے بارے میں نہیں تھا ۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں تھا کہ بڑے شہروں میں دستیاب ہر سہولت خطے کے غریب قبائلیوں تک پہنچے تاکہ ان کے بچوں کا بھی روشن مستقبل ہو سکے ۔ نرمان نے دور دراز کے علاقوں میں بنیادی ڈھانچے ، رابطے اور گورننس آؤٹ ریچ کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ۔ اس نے ضروری خدمات ، سڑکوں اور ڈیجیٹل نیٹ ورک تک رسائی کو بہتر بنایا ۔ ان کوششوں نے پہلے سے غیر محفوظ علاقوں کو مرکزی دھارے کی ترقی اور گورننس سسٹم کے ساتھ مربوط کرنے میں مدد کی ۔
سڑک رابطہ: 2014 سے اب تک بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں 12249 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں تعمیر کی گئیں ۔20557 کروڑ روپے کی لاگت سے کل 17,319 کلومیٹر کے پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ۔
ڈیجیٹل اور موبائل رابطہ: ٹیلی کام رابطہ جدید معاشروں میں ترقی کی بنیاد کے طور پر ابھری ہے ۔ دیہی قبائلی برادریوں کے معاملے میں یہ اور بھی اہم ہے کیونکہ یہ سماجی و اقتصادی ترقی ، ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے ، تعلیم اور صحت تک رسائی فراہم کرنے اور معاشی مواقع کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم محرک کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے محکمہ ٹیلی کام کی مختلف اسکیموں کے تحت 9600 سے زیادہ موبائل ٹاور قائم کیے گئے ہیں ۔ ان علاقوں میں جو سب سے زیادہ ایل ڈبلیو ای سے متاثر تھے ۔96فیصد گاؤوں (46592 گاؤوں میں سے 44728) میں اب موبائل کنیکٹیویٹی ہے ، جس سے تعلیم کے دروازے کھل رہے ہیں ، خدمات کی آن لائن فراہمی اور اقتصادی ترقی ہو رہی ہے ۔
مالی شمولیت: مرکزی حکومت نے گزشتہ بارہ سالوں میں بائیں بازو سے متاثرہ اضلاع میں مالی شمولیت کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے ۔ اپریل2015 سے مارچ 2026 کے دوران 1,804 بینک برانچز کھولی گئیں ، 1,321 اے ٹی ایم لگائے گئے ، 74,720 بینکنگ کرسپانڈنٹ کی تقرری کی گئی اور 6,025 ڈاک خانے قائم کیے گئے ۔
تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی: پچھلے بارہ سالوں کے دوران 259 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) کو حکومت ہند کی طرف سے منظوری دی گئی ہے اور179 ای ایم آر ایس تیار کیے گئے ہیں ۔ مزید برآں ان علاقوں میں 46 صنعتی تربیتی ادارے (آئی ٹی آئی) اور 49 ہنر مندی کے فروغ کے مراکز (ایس ڈی سی) بھی تیار کیے گئے ۔ مجموعی طور پر تقریباً 800 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔ یہ قبائلی نوجوانوں کے لیے تعلیم ، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے مواقع میں شامل کرتے ہیں۔ جس سے دور دراز کی برادریوں کو مرکزی دھارے کی معیشت کے ساتھ مربوط کرنے میں مدد ملتی ہے ۔90 ہزارسے زیادہ نوجوانوں اور خواتین کو ہنر مندی کی تربیت فراہم کی گئی ۔
شہری ایکشن پروگرام: شہری ایکشن پروگراموں کے تحت حکومت ہند نے صحت کیمپوں اور ادویات کی تقسیم کے لیے212 کروڑ روپے کے کام شروع کیے ۔ اس کے ساتھ ہی کمیونٹیز کے ساتھ گہرا تعلق بڑھانے کے لیےقبائلی نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام منعقد کیے گئے۔ مزیدبرآںمیڈیا پلان اسکیم کے تحت50.45 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا۔
نرمان کے تحت بنایا گیا بنیادی ڈھانچہ ، دیہاتوں کو جوڑنے والی سڑکیں ، مواصلات کو فعال کرنے والے موبائل ٹاور ، معاشی شرکت کو آسان بنانے والے بینک ، قبائلی نوجوانوں کے لیے دروازے کھولنے والے اسکول ، جن کلیان میں براہ راست تبدیل ہوئے ۔ اس نے ایک ایساادارہ جاتی پلیٹ فارم بنایا جس پر حقیقی فلاح و بہبود ، وقار اور ثقافتی نشاۃ ثانیہ آخر کار انجام دیا جا سکتا تھا ۔

متاثرہ خطے میں مجموعی طور پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی پائیدار بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے علاقائی یکجہتی کو مضبوط کرتی ہے ۔ بہتر رابطہ اقتصادی مواقع اور نقل و حرکت کو آگے بڑھاتا ہے ۔ طویل مدتی سرمایہ کاری پائیدار اور جامع ترقی کے راستوں کو یقینی بناتی ہے ۔
جن کلیان-عوام کی فلاح و بہبود اور وقار
جن کلیان وقار اور شمولیت کے ساتھ فلاح و بہبود کی فراہمی پر زور دیتے ہیں ۔ یہ پسماندہ طبقوں کے لیے آخری میل تک خدمات کی فراہمی کو مضبوط کرتا ہے ۔ یہ نقطہ نظر ضروری عوامی خدمات تک مساوی رسائی کو یقینی بناتا ہے ۔
قبائلی روزی روٹی کو مضبوط بنانا
قبائلی فلاح و بہبود پر مستقل توجہ نے ترقی کو بڑھا کر، مواقع تک رسائی کو بہتر بنا کر اور قبائلی برادریوں اور جمہوری اداروں کے درمیان تعلق کو مضبوط بنا کر ، ایل ڈبلیو ای کے اثر و رسوخ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ترقی بہتر تعلیم ، بنیادی ڈھانچے ، صحت کی دیکھ بھال ، رہائش اور روزی روٹی کی مدد کے ذریعے دور دراز کے قبائلی علاقوں تک پہنچے ۔
ہتھیار ڈالنے والے کارکنوں کے لیےباز آباد کاری کے فریم ورک نے ہنر مندی کے فروغ ، روزی روٹی میں مدد ، پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت ہاؤسنگ سپورٹ اور خود روزگار کے لیے مالی مدد کے ذریعے معاشرے کے مرکزی دھارے میں ان کے انضمام کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ ان دیہاتوں کو ترقیاتی گرانٹ فراہم کی گئیں جنہوں نے نکسلیوں کے اثر و رسوخ کو ختم کیا اور جمہوری طور پر منتخب پنچایتیں قائم کیں ۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے بچوں نے بارہویں جماعت تک مفت تعلیم حاصل کی ، جس سے خاندانوں کو زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر میں مدد ملی ۔

کئی ہدف شدہ اقدامات نے اس تبدیلی کو تیز کیا ۔ قومی پالیسی اور ایکشن پلان نے سلامتی ، ترقی اور کمیونٹی کے حقوق کے تحفظ کو یکجا کیا ۔ خصوصی مرکزی امداد نے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں اہم عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی ۔ امنگوں والے اضلاع کے پروگرام نے صحت ، تعلیم ، مالی شمولیت اور رابطے میں نتائج کو بہتر بنانے کے لیے متعدد فلاحی اسکیموں کو یکجا کیا ۔
تعلیمتبدیلی کے ایک اہم ستون کے طور پر ابھری ۔ ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس)کے لیے بہتر تعاون نے بائیں بازو کی انتہا پسندی(ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ علاقوں سمیت درج فہرست قبائل کے بچوں کے لیے معیاری رہائشی تعلیم تک رسائی کو بڑھایا ۔ پی ایم-جن من پہل نے رہائش ، پینے کے صاف پانی ، تعلیم ، صحت کی دیکھ بھال اور ضروری رابطے تک رسائی کو بہتر بنا کر خاص طور پر کمزور قبائلی گروپوں (پی وی ٹی جی) پر مزید توجہ مرکوز کی ، جس سے پسماندہ طبقات کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لانے میں مدد ملی ۔
دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اتکرش ابھیان کے آغاز سے قبائلی دیہاتوں میں بنیادی ڈھانچے کی خامیوں کو پر کرنے کی کوششوں کو مزید تقویت ملی ۔ متعدد وزارتوں کی مربوط مداخلتوں کے ذریعہ اس پروگرام کا مقصد معیار زندگی کو بہتر بنانا ، معاشی مواقع کو بڑھانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قبائلی برادریاں ہندوستان کے ترقیاتی سفر میں مکمل طور پر حصہ لیں ۔
کیس اسٹڈی: ماؤ نوازی سے ترقی تک چھتیس گڑھ کا سفر
کئی دہائیوں تک چھتیس گڑھ کا بستر ملک کے سب سے زیادہ نکسل متاثرہ علاقوں میں سے ایک رہا ۔ محدود رابطہ ، کمزور انتظامی موجودگی اور مشکل خطوں نے انتہا پسند گروہوں کو مضبوط قدم جمانے کے قابل بنایا ۔ پچھلے 12 سالوں میں سلامتی ، ترقی اور قبائلی شراکت داری کو یکجا کرنے والی ایک مربوط حکمت عملی نے خطے کی رفتار کو تبدیل کر دیا ۔
2017 میںبستریہ بٹالین کی تشکیل کے ساتھ ایک اہم موڑ آیا ۔ بٹالین نے 1,143 اہلکاروں کو بھرتی کیا ، جن میں بیجاپور ، سکما اور دنتے واڑہ کے تقریبا 400 مقامی نوجوان شامل تھے ۔ مقامی شرکت نے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کیا ، سیکورٹی فورسز اور قبائلی برادریوں کے درمیان اعتماد کو بہتر بنایا ، اور ریاستی اداروں میں اعتماد بحال کرنے میں مدد کی ۔

جیسے جیسے سلامتی کے حالات بہتر ہوئے ترقی میں تیزی آئی ۔ بستر ، بیجاپور ، دنتے واڑہ ، سکما ، نارائن پور ، کانکر اور کونڈا گاؤں اضلاع کا احاطہ کرتے ہوئے بستر کے پورے علاقے میں3,240 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں تعمیر کی گئیں ۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل رابطے کو بہتر بنانے کے لیے889 موبائل ٹاور لگائے گئے ۔ وہ گاؤں جو کبھی الگ تھلگ تھے بازاروں ، اسکولوں ، صحت کی سہولیات ، بینکنگ خدمات اور سرکاری پروگراموں سے جڑے ہوئے تھے ۔
حکومت نے بحالی اور دوبارہ انضمام پر بھی توجہ دی ۔ تقریباً 3,000 ہتھیار ڈالنے والے ماؤ نوازوں کے لیے ایک وقف شدہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا ، جسے ہنر مندی کی ترقی ، تعلیم اور روزی روٹی کے مواقع کے لیے20 کروڑ روپے کی ابتدائی مختص رقم کی مدد حاصل تھی ۔ اس پہل کا مقصد تشدد کےسلسلہ کو معاشی بااختیار بنانے کے راستوں سے تبدیل کرنا تھا ۔
مئی 2026 میں حفاظتی فوائد کو دیرپا ترقی میں تبدیل کرنے کے لیےشہید ویر گنڈا دھور سیوا ڈیرہ پہل شروع کی گئی تھی ۔ تقریباً70 سی اے پی ایف کیمپوں کو سرکاری اسکیموں ، صحت کی دیکھ بھال ، بینکنگ ، زرعی مدد ، ہنر مندی کے فروغ اور دیگرشہری خدمات تک رسائی فراہم کرنے والے سروس سینٹرز میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ ویر گنڈادھور کی جائے پیدائش نیتانار میں ایک کامن سروس سینٹر کا قیام ، انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں حکمرانی کی واپسی کی علامت ہے ۔
بنیادی ڈھانچے اور فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ بستر پنڈم اور بستر اولمپک جیسے ثقافتی اقدامات نے کمیونٹی کی شرکت اور قبائلی شناخت کو مضبوط کیا ۔ ان پلیٹ فارموں نے لاکھوں قبائلی نوجوانوں اور فنکاروں کو اکٹھا کیا ، سماجی یکجہتی کو فروغ دیا اور مشغولیت اور قیادت کے نئے مواقع پیدا کیے ۔

بستر کی تبدیلی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پائیدار امن تب حاصل ہوتا ہے جب حفاظتی اقدامات کے بعد ترقی ، فلاح و بہبود کی فراہمی اور سماج کو بااختیار بنایا جاتا ہے ۔ چھتیس گڑھ کے تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح حکومت کی مستقل موجودگی ، مقامی شرکت اور جامع ترقی تنازعات سے متاثرہ خطے کو ترقی اور خوشحالی کے راستے میں تبدیل کر سکتی ہے ۔
تبدیلی کی دہائی کے نتائج
2014 میں ہندوستان بھر کے 126 اضلاع ایل ڈبلیو ای سے متاثر ہوئے تھے ۔ 2026 تک یہ تعداد کم ہو کر صرف 2 اضلاع رہ گئی ہے ۔ مزید برآں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع کی تعداد بھی35سے کم ہو کر صفر ہو گئی ہے ۔ جس سے سلامتی کے منظر نامے میں فیصلہ کن تبدیلی آئی ہے ۔

اس کا اثر تشدد کے تمام بڑے اشارے پر نظر آنے لگا ۔ سال 2010 ماؤ نوازی کی تاریخ کے مہلک ترین مراحل میں سے ایک تھا ، جس میں 1,936 نکسلیوں سے متعلق واقعات اور 1005 اموات کی اطلاع ملی ۔ اس کے بعد سے مسلسل حفاظتی کارروائیاں ، ترقیاتی مداخلت اور بہتر حکمرانی نے لیفٹ ونگ ایکسٹریمزم(ایل ڈبلیو ای)نیٹ ورک کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ۔ نکسلیوں سے متعلق واقعات 2014 میں 870 سے کم ہو کر 2025 میں 234رہ گئے ۔ اموات بھی 2014 میں310 سے تیزی سے کم ہو کر 2025 میں100 ہو گئیں ۔ تشدد میں مسلسل کمی نکسل گروہوں کی فعال صلاحیتوں کے کمزور ہونے اور متاثرہ علاقوں میں سلامتی ، رابطے اور عوام کے اعتماد کی بتدریج بحالی کی نشاندہی کرتی ہے ۔

یہ رجحان حفاظتی ماحول میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے ۔ کبھی اکثر تشدد سے متاثر ہونے والے علاقوں میں امن اور عوامی تحفظ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے ۔
ہندوستان کی سلامتی اور ترقی کی کہانی کا ایک اہم باب
31 مارچ 2026 کو ہندوستان کی’ نکسل سے پاک ہندوستان‘ کی کامیابی ملک کی آزاد تاریخ کی سب سے اہم داخلی سلامتی کی کامیابیوں میں سے ایک ہے ۔ یہ فیصلہ کن قیادت ، پائیدار پالیسی کے نفاذ اور سلامتی ، ترقی اور بحالی کو یکجا کرنے والی کثیر جہتی حکمت عملی کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے ۔
گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان نے بائیں بازو کی انتہا پسندی کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر کو رد عمل سے قابو پانے سے فعال خاتمے میں تبدیل کر دیا ۔ اگلا سفر شروع ہو چکا ہے ۔ نکسل سے پاک ہندوستان کا حصول محض شورش کا خاتمہ نہیں ہے ۔ یہ ہندوستان کی کچھ انتہائی کمزور برادریوں کے لیے امن ، شمولیت اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے ۔
حوالہ جات:
Click here for pdf file
***
(ش ح ۔ م ح۔ج ا)
U.No.9120
(रिलीज़ आईडी: 2277385)
आगंतुक पटल : 15