زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
النینو کے خدشات کے پیشِ نظر خریف سیزن کی تیاریوں کا جائزہ؛ وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کا ریاستوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس
کمزور مانسون، مضبوط حکمتِ عملی: مرکز کی جانب سے 315 حساس اضلاع کے لیے خصوصی ہنگامی امدادی منصوبہ نافذ
ہم بحران کا انتظار نہیں کر رہے ہیں، بلکہ پیشگی تیاری کر رہے ہیں: شیوراج سنگھ چوہان کی کسانوں کو یقین دہانی
النینو کا چیلنج، کسان اولین ترجیح: مرکز نے کثیر جہتی تیاریوں کی حکمتِ عملی کا اعلان کیا
بارش کی ہر بوند قیمتی: تالابوں، چیک ڈیم اور زرعی آبی ذخائر کے ذریعے پانی کے تحفظ پر خصوصی زور
قلیل مدتی اور کم پانی والی فصلوں پر توجہ مرکوز؛ دالوں، موٹے اناج اور تیل دار بیجوں کو ترجیح دی جائے گی
بیج، کھاد اور چارے کے وافر ذخائر دستیاب؛ کمزور مانسون کے باوجود زراعتی ضروریات میں کسی بھی کمی کا خدشہ نہیں
النینو کی صورتحال میں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی)، کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) اور پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) کسانوں کے لیے تین اہم حفاظتی سہارا ثابت ہوں گے
प्रविष्टि तिथि:
23 JUN 2026 7:12PM by PIB Delhi
اس سال النینو کے امکانات اور کمزور یا غیر یقینی مانسون کے پیشِ نظر مرکزی حکومت نے خریف سیزن کی تیاریوں میں تیزی لائی ہے۔ مرکزی وزیر زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی، شیوراج سنگھ چوہان کی زیر صدارت آج اعلیٰ سطحی ورچوئل اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف ریاستوں کے وزرائے زراعت، سینئر حکام، ضلع کلکٹر، ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر)، آئی سی اے آر-سی آر آئی ڈی اے کے نمائندوں اور محکمۂ موسمیات کے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ شیوراج سنگھ چوہان نے کسانوں کو یقین دلایا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ساتھ مل کر ہر ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہیں۔
کمزور مانسون کی صورتحال اور ممکنہ اثرات
شیوراج سنگھ چوہان نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال جنوب مغربی مانسون میں نمایاں تاخیر ہوئی ہے اور اب تک ہونے والی بارش معمول سے تقریباً 43 فیصد کم رہی ہے۔ محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) کی پیش گوئی کے مطابق 2 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بھی بارش کم رہنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا براہِ راست اثر خریف فصلوں پر پڑ سکتا ہے، خصوصاً ان بارانی علاقوں میں جہاں زراعت کا انحصار بڑی حد تک مانسون کی بارش پر ہوتا ہے۔ ان خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور رہنمائی میں مرکزی حکومت گزشتہ کئی دنوں سے پیشگی تیاریوں میں مصروف ہے۔شیوراج سنگھ چوہان نے واضح کیا کہ حکومت حالات کے مزید خراب ہونے کا انتظار نہیں کر رہی ہے بلکہ سائنسی منصوبہ بندی اور زمینی سطح پر مؤثر اقدامات کے ذریعے ممکنہ منفی اثرات کو کم کرنے اور کسانوں کے روزگار و معاش کو محفوظ بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے 315 اضلاع کی نشاندہی
شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ وزارتِ زراعت اور زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) نے سائنسی اعداد و شمار کی بنیاد پر کم بارش اور ناکافی آبپاشی سے متاثر ہونے والے اضلاع کا مشترکہ جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے کے نتیجے میں 315 اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے، جو کمزور مانسون کی صورتحال سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ان میں سے 111 اضلاع کو اعلیٰ ترجیحی زمرے میں رکھا گیا ہے، جہاں آبپاشی کی سہولت 25 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید 76 اضلاع کو درمیانی ترجیح کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے، جہاں آبپاشی کا دائرہ 25 سے 50 فیصد کے درمیان ہے۔ جبکہ 128 اضلاع کو کم ترجیحی زمرے میں رکھا گیا ہے، کیونکہ وہاں ڈیم اور دیگر ذرائع سے نسبتاً بہتر آبپاشی کی سہولت دستیاب ہے۔ان اضلاع کی اکثریت مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش، راجستھان، کرناٹک، بہار، جھارکھنڈ، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور اڈیشہ سمیت 12 ریاستوں میں واقع ہے۔شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ ان ریاستوں کے وزرائے زراعت اور ضلع کلکٹروں کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ مقامی سطح پر تیاریوں کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جائے تاکہ کمزور مانسون سے پیدا ہونے والے ممکنہ چیلنجوں کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔

ضلعی زراعتی ہنگامی امدادی منصوبے: دفاع کی پہلی صف
شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) اور آئی سی اے آر-سی آر آئی ڈی اے نے ملک کے تمام اضلاع کے لیے ضلعی زرعی ہنگامی امدادی منصوبے (ڈی اے سی پی) تیار کر لیے ہیں۔ ان منصوبوں میں ہر ضلع کی مخصوص موسمی صورتحال، فصلوں کے رائج نظام، آبی وسائل اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ان منصوبوں میں کم بارش کی صورت میں متبادل موزوں فصلوں کی سفارش، فصلوں میں تنوع پیدا کرنے کی حکمتِ عملی، دستیاب آبی وسائل کے بہترین استعمال اور کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کے مواقع جیسے اقدامات شامل ہیں تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔انہوں نے ریاستی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ یہ منصوبے صرف فائلوں تک محدود نہ رہیں بلکہ انہیں عملی سطح پر نافذ کرنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جائے۔ مقامی حالات کے مطابق ان منصوبوں کا مسلسل جائزہ لیا جائے، انہیں ضرورت کے مطابق اپ ڈیٹ رکھا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری نفاذ کے لیے تیار رکھا جائے۔شیوراج سنگھ چوہان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ہنگامی منصوبے کی کامیابی کا انحصار نچلی سطح پر اس کے مؤثر نفاذ پر ہوتا ہے، لہٰذا ضلعی انتظامیہ کو مکمل سنجیدگی اور عزم کے ساتھ ان منصوبوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔
پانی کے تحفظ اور آبپاشی کا بندوبست
کمزور مانسون کے خدشے کے پیشِ نظر پانی کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ پانی کی ہر بوند قیمتی ہے اور تمام منصوبہ بندی اسی سوچ کے تحت کی جا رہی ہے۔انہوں نے ہدایت دی کہ تالابوں، آبی ذخائر، ندی نالوں، کھیتوں کے تالابوں، چیک ڈیم، اسٹاپ ڈیم اور عارضی بند باندھنے کے ڈھانچوں کی فوری مرمت اور مضبوطی کا کام انجام دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ منریگا (مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم) اور آئندہ دیہی ترقیاتی پروگراموں، بالخصوص وی بی-جی رام جی کے تحت پانی کے تحفظ اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے سے متعلق منصوبوں کو ترجیح دی جائے، تاکہ روزگار کی فراہمی اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ بیک وقت ممکن ہو سکے۔حساس اضلاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ پینے کے پانی کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے اور اگر ضرورت پیش آئے تو پانی کی زیادہ دستیابی والے علاقوں سے پانی کی قلت کا شکار علاقوں تک پانی کی منتقلی کے انتظامات بھی کیے جائیں۔اجلاس کے دوران مختلف دریائی طاسوں (بیسن) میں آبی ذخائر کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بعض طاسوں میں پانی کا ذخیرہ معمول سے زیادہ ہے، جبکہ بعض دیگر علاقوں میں 20 سے 60 فیصد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اسی بنیاد پر ریاستوں کو ترجیحی بنیادوں پر مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

فصل کی حکمتِ عملی: قلیل مدتی، کم پانی والی اور متنوع فصلوں پر زور
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ بارانی علاقوں میں فصلوں کی حکمتِ عملی میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی کم مدت میں تیار ہونے والی فصلوں اور اقسام کو فروغ دیں جو کم پانی میں بھی بہتر پیداوار دے سکیں۔کسانوں کو فصلی تنوع (کراپ ڈائیورسفکیشن) اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ انحصار کسی ایک فصل پر نہ رہے اور مختلف فصلوں کے ذریعے خطرات کو تقسیم کیا جا سکے۔ اسی طرح بین فصلی کاشت (انٹرکراپنگ) اور مخلوط کھیتی باڑی کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ اگر ایک فصل متاثر ہو جائے تو کسان دوسری فصلوں سے آمدنی حاصل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ دالوں، موٹے اناج/ملیٹس اور تیل دار بیجوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ فصلیں کم نمی اور محدود آبی وسائل کے حالات میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔ریاستوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ اگر معمول کے بوائی کے موسم اور بارش کے آغاز کے درمیان غیر معمولی طویل وقفہ پیدا ہو جائے تو فوری طور پر متبادل فصلوں کے منصوبے پر عمل کیا جائے۔شیوراج سنگھ چوہان نے کہا، ’’ہم کھیتوں کو خالی نہیں رہنے دیں گے۔ اتنی بارش ضرور ہوگی کہ کوئی نہ کوئی فصل کاشت کی جا سکے اور ہماری تمام تیاریاں اسی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔‘‘
بیج، کھاد اور زراعتی ضروریات کی پیشگی تیاری
زراعتی ضروریات کی دستیابی کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ خریف سیزن کے لیے بیجوں کے مناسب انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اضلاع کے لیے اضافی بیجوں کے ذخائر مختص کیے گئے ہیں۔ ایسے اضلاع جہاں دوبارہ بوائی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، ان کے لیے تقریباً ایک فیصد اضافی بیج محفوظ رکھے گئے ہیں۔وزارتِ کھاد کی رپورٹوں کے مطابق خریف سیزن کے لیے تمام اہم کھادوں، بشمول یوریا، ڈی اے پی، ایم او پی، این پی کے اور ایس ایس پی کی دستیابی اطمینان بخش ہے۔کمزور مانسون سے متاثر ہونے والے اضلاع میں کھادوں اور دیگر زرعی وسائل کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے الگ نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے، تاکہ موسم سازگار ہوتے ہی کسان فوری طور پر بوائی کا عمل شروع کر سکیں۔مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ بوائی کا عمل صرف اس وقت شروع کیا جانا چاہیے جب مجموعی بارش 75 سے 100 ملی میٹر تک پہنچ جائے اور زمین میں مناسب نمی موجود ہو۔ ہلکی بارش کے فوراً بعد قبل از وقت بوائی کرنے سے بیجوں کے ضائع ہونے اور دوبارہ بوائی کی ضرورت پیش آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کسان سائنس مراکز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے سائنسی رہنمائی
شیوراج سنگھ چوہان نے بروقت سائنسی مشوروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے 731 کسان سائنس مراکز (کے وی کے) کسانوں تک تکنیکی رہنمائی اور فصلوں کے انتظام سے متعلق معلومات پہنچانے کا اہم ذریعہ ہیں۔کسان سائنس مراکز اور زرعی موسمیاتی مشاورتی یونٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اضلاع کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور کسانوں کو ایل نینو اور کمزور مانسون کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مسلسل رہنمائی فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ معلومات کی ترسیل کو زرعی موسمیاتی مشاورتی پیغامات، ایس ایم ایس، واٹس ایپ پیغامات، کال سینٹروں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر کسان کو بروقت معلومات اور سائنسی رہنمائی فراہم ہو تاکہ وہ بوائی، فصلوں کی تبدیلی اور زرعی وسائل کے استعمال سے متعلق درست اور باخبر فیصلے کر سکے۔
مویشیوں اور چارے کا انتظام
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ اگر مانسون شدید کمزور رہا تو مویشیوں کے لیے چارے کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔اس ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پیشگی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، جس کے تحت چارے کی زیادہ دستیابی والے علاقوں سے قلت کے شکار علاقوں تک اس کی ترسیل کے انتظامات کیے جائیں گے۔چارے کے ذخائر، متبادل چارہ جاتی وسائل اور سپلائی چین کے نظام کو پہلے ہی سے منظم کیا جا رہا ہے تاکہ مویشی پالنے والے کسانوں کو اچانک کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مرکزی اور ریاستی حکومتیں مشترکہ طور پر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں گی تاکہ چارے کی ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کو روکا جا سکے اور ضرورت مند علاقوں تک اس کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

کسانوں کے لیے مالی تحفظ: پی ایم ایف بی وائی، کے سی سی اور پی ایم-کسان
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے زور دے کر کہا کہ تیاریوں کو صرف فصلوں اور پانی تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ کسانوں کا مالی تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اضلاع میں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) کے تحت زیادہ سے زیادہ کسانوں کو شامل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ فصلوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں کسانوں کو بروقت معاوضہ فراہم کیا جا سکے۔ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اہل کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) جاری کرنے کے عمل میں تیزی لائیں، تاکہ کسانوں کے پاس بیجوں کے نقصان، دوبارہ بوائی اور دیگر زراعتی اخراجات سے نمٹنے کے لیے مناسب مالی وسائل دستیاب رہیں۔پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) کے تحت حال ہی میں جاری کی گئی قسط کا ذکر کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ کسان اس رقم کو بیج، کھاد اور دیگر ضروری زرعی وسائل کی خریداری کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی)، کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) اور پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) مل کر النینو جیسے دشوار حالات میں کسانوں کے لیے ایک جامع اور مضبوط حفاظتی و امدادی نظام کا کردار ادا کریں گے۔

کثیر سطحی رابطہ اور نگرانی کا نظام
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ہنگامی اقدامات کی کامیابی کا انحصار بالآخر ضلعی سطح پر مؤثر عمل درآمد پر ہے۔ اسی مقصد کے لیے مرکز، ریاست، ضلع، بلاک اور گاؤں کی سطح پر ایک کثیر سطحی رابطہ و ہم آہنگی کا نظام تشکیل دیا گیا ہے، جس میں ہر سطح کی ذمہ داریاں واضح طور پر متعین کی گئی ہیں۔اس نظام کے تحت ضلع کلکٹروں، محکمۂ زراعت، محکمۂ آبی وسائل، محکمۂ دیہی ترقی، محکمۂ مویشی پروری، کسان سائنس مراکز (کے وی کے)، اے ٹی ایم اے اور دیگر اداروں کے درمیان باقاعدہ اجلاسوں او ر بر وقت (ریئل ٹائم) معلومات کے تبادلے کا مؤثر انتظام کیا جا رہا ہے۔قومی سطح پر نئی دہلی میں ’’النینو مانیٹرنگ سیل‘‘ اور ’’کراپ ویدر واچ گروپ‘‘ قائم کیے گئے ہیں، جو مانسون کی پیش رفت، فصلوں کی بوائی، فصلوں کی صورتحال، زرعی وسائل کی فراہمی اور بازار کے اشاریوں کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ریاستوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کنٹرول روم قائم کریں اور مرکز کے ساتھ رابطے کے لیے نوڈل افسران مقرر کریں۔ بیشتر ریاستیں اپنے نوڈل افسران نامزد کر چکی ہیں۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ سکریٹری سطح کے جائزہ اجلاس ہر ہفتے منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ وہ خود ہر منگل کے روو النینو کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
پیداواری اہداف، ذخائر اور خوراک تحفظ
خریف 2025 کے لیے مقرر کیے گئے کئی اہم پیداواری اہداف، جن میں دھان، مکئی اور مجموعی غذائی اجناس کی پیداوار شامل ہے، پہلے ہی حاصل یا ان سے تجاوز کیا جا چکا ہے۔خریف 2026 کے لیے تقریباً 176 ملین ٹن غذائی اجناس کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ہدف مانسون کی پیش گوئی، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، طلب کے رجحانات، سابقہ کارکردگی اور حکومت کی جاری اسکیموں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چاول اور گندم کے بفر ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں، لہٰذا کمزور مانسون کے خدشات کے باوجود ملک کی غذائی سلامتی کو فی الحال کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔
کسانوں کے نام پیغام: تیار رہیں، گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں
کسانوں کو براہِ راست مخاطلب کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ اگرچہ کمزور مانسون کا امکان موجود ہے، تاہم ملک اس چیلنج کا اجتماعی طور پر مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے کہا:’’گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت صرف پیشگی تیاری اور اجتماعی کوششوں کی ہے۔ اگر مرکز اور ریاستی حکومتیں، سائنسی ادارے، ضلعی انتظامیہ اور کسان باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تو النینو کے چیلنج کو ایک موقع میں بدلا جا سکتا ہے، جہاں پانی کا تحفظ، فصلوں میں تنوع، سائنسی مشورے اور سماجی تحفظ کی اسکیمیں ساتھ مل کر کسانوں کے لیے مضبوط حفاظتی ڈھال ثابت ہوں گی۔‘‘انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ کوششوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی کے زرعی شعبے، مویشی پروری اور دیہی معیشت کو بڑے نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور کسانوں کے روزگار و معاش کو ہر ممکن طریقے سے مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
******
(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)
UR No-9105
(रिलीज़ आईडी: 2277295)
आगंतुक पटल : 8