PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

انڈیا اے آئی اسٹیک: وسیع پیمانے پر مصنوعی ذہانت کو قوت فراہم کرنے والا نظام


ڈیٹا اور کمپیوٹنگ صلاحیت کو حقیقی دنیا کے مؤثر نتائج میں تبدیل کرنا

प्रविष्टि तिथि: 04 FEB 2026 4:05PM by PIB Delhi

تعارف

 ہندوستان  میں ٹیکنالوجی کے مستقبل کی رہنمائی ایک سادہ مگر طاقتور تصور کر رہا ہے-مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی جمہوری رسائی، مصنوعی ذہانت کو چند کمپنیوں، اداروں یا ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس کے بجائے اسے اس انداز میں ترقی دی جانی چاہیے اور استعمال کیا جانا چاہیے کہ ہر شہری اس سے مستفید ہو، عوامی فلاح و بہبود کو فروغ ملے اور اجتماعی خوشحالی کو تقویت حاصل ہو۔انسانیت کے لیے مصنوعی ذہانت کا یہ ویژن انسانوں کو تکنیکی ترقی کا مرکز بناتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جدت طرازی معاشرے کی خدمت کرے، نہ کہ معاشرہ ٹیکنالوجی کی خدمت کے لیے ہو۔

اس ویژن کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے پر قابل اعتماد انداز میں کام کرے اور صحت، تعلیم، زراعت، مالیات اور عوامی خدمات سمیت روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے ضم ہو جائے۔ آبادی کی سطح پر اس طرح کے وسیع اثرات ایک مضبوط اور مربوط اے آئی اسٹیک کے ذریعے ممکن ہوتے ہیں، جو اُن تمام آلات، نظاموں اور بنیادی ڈھانچوں کو یکجا کرتا ہے جو اے آئی ایپلی کیشنز کی مؤثر تیاری، تعیناتی اور آپریشن کے لیے درکار ہوتے ہیں۔

اے آئی اسٹیک: تعیناتی اور توسیع پذیری کو ممکن بنانے والی مختلف پرتیں

 

اے آئی اسٹیک اُن تمام آلات، نظاموں اور پلیٹ فارمز کا مکمل مجموعہ ہے جو مل کر مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز کی تیاری اور ان کے مؤثر استعمال کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ ایپلی کیشنز روزمرہ استعمال ہونے والے ورچوول اسسٹنٹس جیسےسِری اورالیکسا، نیز نیٹ فلکس اوراسپاٹیفائی جیسے پلیٹ فارمز پر ذاتی نوعیت کی سفارشات سے لے کر صحت کی تشخیص، مالیاتی دھوکہ دہی کی نشاندہی اور نقل و حمل کے شعبوں میں استعمال ہونے والے جدید نظاموں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اے آئی اسٹیک ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور مختلف پلیٹ فارمز کو یکجا کرتا ہے جو ڈیٹا جمع کرنے، اے آئی ماڈلز کی تربیت دینے اور انہیں عملی زندگی میں استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، تاکہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) آغاز سے اختتام تک مؤثر اور ہموار انداز میں کام کر سکے۔

اے آئی اسٹیک پانچ پرتوں (لیئرز) پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر پرت ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ اسٹیک مصنوعی ذہانت کو حقیقی دنیا میں قابلِ عمل بناتا ہے، خواہ وہ روزمرہ استعمال کی ایپلی کیشنز ہوں یا پس منظر میں کام کرنے والا ڈیٹا، کمپیوٹنگ طاقت، نیٹ ورکس اور توانائی کا نظام۔ یہ تمام پرتیں مل کر اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ اے آئی پر مبنی حل توسیع پذیر ، قابلِ اعتماد اور آبادی کی سطح پر مؤثر نتائج فراہم کرنے کے قابل ہوں۔

ایپلی کیشن لیئر

ایپلی کیشن لیئر اے آئی اسٹیک کا وہ حصہ ہے جس سے صارف براہ راست تعامل کرتا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مختلف ایپلی کیشنز اور خدمات شامل ہوتی ہیں، جیسے صحت کی تشخیصی ٹولز، کسانوں کے لیے مشاورتی پلیٹ فارمز، چیٹ بوٹس اور زبانوں کے ترجمے کی ایپلی کیشنز۔ یہ پرت مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے پیچیدہ عمل کو سادہ، آسان فہم اور صارف دوست خدمات میں تبدیل کرتی ہے تاکہ عام لوگ انہیں باآسانی استعمال کر سکیں۔

اعلیٰ اثرات رکھنے والی ایپلی کیشنز کے ذریعہ  ہندوستان  میں مصنوعی ذہانت کا فروغ

 ہندوستانی اسٹارٹ اپس مقامی زبانوں، علاقائی ضروریات اور مختلف شعبوں کے مخصوص تقاضوں کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز تیار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں معیشت کے مختلف شعبوں میں اے آئی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

زراعت کے شعبہ میں اے آئی سے چلنے والے مشاورتی ٹولز بوائی کے بہتر فیصلوں، فصلوں کی پیداوار میں اضافے اور زرعی وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ آندھرا پردیش اور مہاراشٹر جیسی بعض ریاستوں میں ان کے نفاذ کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

صحت کے شعبہ میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز تپِ دق (ٹی بی)، کینسر، اعصابی بیماریوں اور دیگر طبی مسائل کی ابتدائی تشخیص کو ممکن بنا رہی ہیں، جس سے احتیاطی اور تشخیصی صحت کی خدمات مزید مؤثر ہو رہی ہیں۔

تعلیم کے میدان میں قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے تحت سی بی ایس ای کے نصاب،‘دیکشا’  پلیٹ فارم اوریووائی  جیسے اقدامات کے ذریعے اے آئی کی تعلیم کو شامل کیا گیا ہے، تاکہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت سے متعلق عملی مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔

نظام انصاف میں ای-کورٹس فیز- III کے تحت مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کا استعمال ترجمے، مقدمات کے انتظام، شیڈولنگ اور شہری خدمات کی فراہمی کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی زبانوں میں رسائی، شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

موسمیات اور آفات کے انتظام کے شعبے میں محکمہ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) بارش، سمندری طوفانوں، دھند، آسمانی بجلی اور جنگلاتی آگ کی پیش گوئی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہا ہے۔ موسم جی پی ٹی جیسے جدید ٹولز کسانوں کی رہنمائی اور آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

بنیادی طور پر ایپلی کیشن لیئر وہ سطح ہے جہاں مصنوعی ذہانت اپنی حقیقی افادیت ثابت کرتی ہے، کیونکہ یہ جدید اور پیچیدہ صلاحیتوں کو آسان، قابل رسائی اور صارف مرکز خدمات میں تبدیل کرتی ہے۔ جب اسے ترجیحی شعبوں میں وسیع پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے تو مصنوعی ذہانت محض تجرباتی مرحلے سے آگے بڑھ کر روزمرہ فیصلہ سازی اور خدمات کی فراہمی کا ایک لازمی حصہ بن جاتی ہے۔ یہی وسیع پیمانے پر اپنانا بالآخر مصنوعی ذہانت کے سماجی اور اقتصادی اثرات کا تعین کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز کے فروغ کا عمومی رجحان

مصنوعی ذہانت اسی وقت انقلابی اثرات مرتب کرتی ہے جب اس کی ایپلی کیشنز بڑے پیمانے پر اختیار کی جائیں، بالکل اسی طرح جیسے انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجی نے وسیع پیمانے پر اپنائے جانے کے بعد معاشروں کو تبدیل کیا۔ آج اے آئی ایپلی کیشنز زراعت، صحت، تعلیم، مینوفیکچرنگ، نقل و حمل، حکمرانی اور موسمیاتی اقدامات سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے استعمال کی جا رہی ہیں۔ ہندوستان ‘اے آئی ڈفیوژن’ کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد آبادی کی سطح پر مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ ملک بھر میں اے آئی سے تقویت یافتہ ایپلی کیشنز کسانوں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں، معالجین کو بیماریوں کی ابتدائی تشخیص میں معاونت دے رہی ہیں اور عوامی خدمات کی فراہمی کی کارکردگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔مزید برآں، حقیقی دنیا کے مسائل کے حل اور وسیع پیمانے پر نفاذ کو ترجیح دے کر ایپلی کیشن لیئر اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد محض نظریاتی نہ رہیں بلکہ عملی اور قابلِ محسوس صورت میں عوام تک پہنچیں اور براہِ راست شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنائیں۔

اے آئی ماڈل لیئر

اے آئی ماڈل لیئر مصنوعی ذہانت کے نظام کا دماغ تصور کی جاتی ہے۔ اے آئی ماڈلز کو مختلف اقسام کے ڈیٹا پر تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ نمونوں ( پیٹرنز) کو پہچان سکیں، پیش گوئیاں کر سکیں اور مناسب فیصلے لے سکیں۔مثال کے طور پر، یہ ماڈلز ایکس رے تصاویر کے ذریعے بیماریوں کی تشخیص، فصلوں کی پیداوار کی پیش گوئی، مختلف زبانوں کا ترجمہ، یا چیٹ بوٹس کے ذریعے صارفین کے سوالات کے جوابات دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔یہ ماڈلز ایپلی کیشنز کو ذہانت فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ صارفین کو مؤثر، بامعنی اور مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ خدمات اور نتائج فراہم کرنے کے قابل بنتی ہیں۔

 ہندوستان  میں اے آئی ماڈل لیئر کا فروغ

انڈیا اے آئی مشن کے تحت  ہندوستان  کی مخصوص ضروریات اور استعمال کے مختلف شعبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے12 مقامی  اے آئی ماڈلز تیار کیے جا رہے ہیں۔

خودمختار اور مقامی اے آئی ماڈلز کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اسٹارٹ اپس کو رعایتی نرخوں پر کمپیوٹنگ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے کمپیوٹنگ لاگت کا25 فیصد تک حصہ گرانٹس اور ایکویٹی کے امتزاج کے ذریعے برداشت کیا جاتا ہے، جس سے نئے اداروں کے لیے رکاوٹیں کم ہوتی ہیں اور مقامی جدت طرازی کو تیزی ملتی ہے۔

‘بھارت جین’- ہندوستان کی ضروریات کے مطابق بنیادی اور ملٹی موڈل اے آئی ماڈلز تیار کر رہا ہے، جن کے پیرامیٹرز اربوں سے لے کر کھربوں تک ہیں۔ ان ماڈلز کا مقصد تحقیق، اسٹارٹ اپس اور عوامی شعبے کی مختلف ایپلی کیشنز کی معاونت کرنا ہے۔

انڈیا اے آئی کوش -ڈیٹا سیٹس، اے آئی ماڈلز اور متعلقہ ٹولز کے لیے ایک قومی ذخیرہ  کے طور پر کام کرتا ہے۔ دسمبر 2025 تک اس پلیٹ فارم پر5,722 ڈیٹا سیٹس اور 251 اے آئی ماڈلز موجود تھے، جن میں 20 مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 54 اداروں نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔

بھارتی اسٹارٹ اپس  ہندوستانی زبانوں، صحت عامہ کی ضروریات اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مدنظر رکھتے ہوئے فل اسٹیک اور شعبہ جاتی مخصوص  اے آئی ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر:

سروَم اے آئی   ہندوستانی زبانوں کے لیے بڑے لسانی اور صوتی ماڈلز تیار کر رہا ہے، جو وائس انٹرفیسز، دستاویزات کی پراسیسنگ اور شہری خدمات کی فراہمی میں معاون ہیں۔

بھاشنی، جوقومی زبان ترجمہ مشن (این ایل ٹی ایم) کے تحت کام کر رہا ہے،350 سے زائد اے آئی ماڈلزپر مشتمل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ یہ ماڈلز تقریر کی شناخت (ایس آر)، مشینی ترجمہ (ایم ٹی)، متن کو آواز میں تبدیل کرنے (ٹیکسٹ ٹو اسپیچ)، آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن (اہ سی آر) اور زبان کی شناخت جیسی صلاحیتوں کا احاطہ کرتے ہیں، جس سے ڈجیٹل خدمات تک کثیر لسانی رسائی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

اے آئی ماڈل لیئر وہ بنیادی ذہانت ہے جو اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ایپلی کیشنز حقیقی دنیا کی ضروریات کو کس حد تک مؤثر طور پر سمجھ، پیش گوئی اور ان کا جواب دے سکتی ہیں۔ خودمختار اور ہندوستان پر مرکوز ماڈلز اور مشترکہ ریپوزٹریز کی تیاری کے ذریعے یہ لیئر اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اے آئی کی صلاحیتیں مقامی زبانوں اور ترجیحات کے مطابق، متعلقہ اور قابل اعتماد ہوں۔ اس بنیاد کو مضبوط بنانے سے اسکیل ایبل جدت طرازی ممکن ہوتی ہے جبکہ بیرونی ماڈل ایکوسسٹمز پر انحصار کم ہوتا ہے۔

اے آئی ماڈل اپنانے کا عمومی رجحان

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005WTD6.jpg

اے آئی ماڈلز میں ابتدائی پیش رفت چند بڑے ٹیکنالوجی لیڈرز کے ذریعے ہوئی جن کے پاس بڑے پیمانے پر کمپیوٹ تک رسائی تھی، تاہم اوپن سورس ماڈلز کے ظہور نے داخلے کی رکاوٹیں کم کر دی ہیں، لاگت میں کمی کی ہے، شفافیت کو بہتر بنایا ہے اور مختلف زبانوں اور سیاق و سباق کے مطابق مقامی بنانے (لوکولائزیشن) کو ممکن بنایا ہے۔ اس تبدیلی کی بنیاد پر  ہندوستان  ایک خودمختار، جامع اور ایپلی کیشن پر مبنی اے آئی ماڈل ایکوسسٹم تیار کر رہا ہے جو قومی ترجیحات اور آبادی کی سطح کی ضروریات پر مرکوز ہے، خصوصاً عوامی خدمات، صحت، زراعت اور حکمرانی کے شعبوں میں، جبکہ مقامی زبانوں، ریگولیٹری فریم ورکس اور ثقافتی تنوع سے ہم آہنگ ہے۔ اس طرح یہ نظام تکنیکی خود انحصاری کو مضبوط کرتا ہے اور مختلف شعبوں میں حقیقی دنیا پر اثرات پیدا کرتا ہے۔

کمپیوٹ لیئر

کمپیوٹ لیئر اے آئی کا ‘پٹھا’ (مسکل) ہے؛ یہ وہ کمپیوٹنگ طاقت فراہم کرتا ہے جو اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے اور چلانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ تربیت کے دوران، کمپیوٹ بڑی مقدار میں ڈیٹا کو پروسیس کرتا ہے تاکہ ماڈل سیکھ سکے اور بہتر ہو سکے۔ آج یہ طاقت جدید پروسیسنگ چپس جیسے این وی آئی ڈی آئی اے-نویڈیا کےبلیک ویل گرافکس پروسیسنگ یونٹ(جی پی یو) یونٹ  کے ٹینسر پورسیسنگ یونٹ( ٹی پی یوز)، اور نیچرل پروسیسنگ یونٹس( این پی یوز) کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، جو اے آئی سسٹمز کو مؤثر اور بڑے پیمانے پر کام کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

ہندوستان میں کمپیوٹ کی صلاحیت اور اے آئی انفراسٹرکچر

 ہندوستان  میں اے آئی مشن کے لیے پانچ سالہ مدت میں10,300کروڑ روے سے زائدمختص کیے گئے ہیں

انڈیا اے آئی کمپیوٹ پورٹل کمپیوٹ-ایس-ا-سروس  ماڈل پر کام کرتا ہے۔ یہ 38,000 جی پی یوز اور 1,050  ٹی پی یوز تک مشترکہ اور کلاؤڈ بیسڈ رسائی فراہم کرتا ہے، جس کی سبسڈی شدہ لاگت 100 روپےسے کم رکھی گئی ہے، جس سے اسٹارٹ اپس اور چھوٹی تنظیموں کے لیے داخلے کی رکاوٹیں نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہیں۔

خودمختار اور اسٹریٹجک اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے 3,000 نئی نسل کے جی پی یوز پر مشتمل ایک محفوظ قومی جی پی کلسٹر بھی قائم کیا جا رہا ہے۔

انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن- جس کا مجموعی بجٹ76,000 کروڑ ہے، نے 10 سیمی کنڈکٹر منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن میں چپ فیبریکیشن اور پیکجنگ یونٹس شامل ہیں۔

 ہندوستان  میں مقامی چپ ڈیزائن اقدامات جیسے‘شکتی’ اور‘ویگا’پروسیسرز ملک کی اے آئی ہارڈویئر صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان  کسٹم اے آئی چپس کی ترقی اور سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کو وسعت دینے پر بھی کام کر رہا ہے۔

نیشنل سپر کمپیوٹنگ مشن کے تحت آئی آئی ٹی، آئی آئی ایس ای آر اور قومی تحقیقی اداروں میں 40 سے زیادہ پیٹا فلاپس کی کمپیوٹنگ صلاحیت نصب کی جا چکی ہے۔

فلیگ شپ سسٹمز جیسے پارام سدھی- اے آئی اور‘ایراواٹ’ اے آئی کے لیے موزوں سپر کمپیوٹنگ فراہم کرتے ہیں، جنہیں نیچرل لینگویج پروسیسنگ، موسم کی پیش گوئی اور ادویات کی دریافت جیسے استعمالات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

کمپیوٹ لیئر وہ بنیادی فعال عنصر ہے جو مصنوعی ذہانت(اے آئی) میں جدت کی وسعت، رفتار اور پیچیدگی کا تعین کرتا ہے۔ اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ تک مشترکہ اور کم لاگت رسائی کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ مقامی چپ اور سپر کمپیوٹنگ صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر بھارت اے آئی ترقی کی ساختی رکاوٹوں کو کم کر رہا ہے۔ یہ طریق کار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کمپیوٹ پاور تحقیق، اسٹارٹ اپس اور سرکاری اداروں میں وسیع بنیادوں پر جدت کو فروغ دے، بجائے اس کے کہ یہ چند ہاتھوں تک محدود رہے۔

اے آئی کمپیوٹ اپنانے کا عمومی رجحان

اعلیٰ سطح کی اے آئی کمپیوٹ تک رسائی زیادہ تر بلند لاگت اور جدید ہارڈویئر کے چند ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ممالک میں مرکوز ہونے کی وجہ سے محدود رہی ہے، جس سے چھوٹے اداروں کی شمولیت متاثر ہوئی ہے۔ اس کے برعکس،  ہندوستان انڈیا اے آئی مشن کے تحت حکومتی معاونت سے چلنے والے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کے ذریعے سستی اور مشترکہ کمپیوٹ رسائی کو وسعت دے رہا ہے۔انڈیا اے آئی کمپیوٹ پورٹل کے ذریعہ 38,000 سے زائد جی پی یوز اور 1,050 ٹی پی یوز تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس کی سبسڈی شدہ لاگت 100 روپےفی گھنٹہ سے کم ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرحیں200 روپے فی گھنٹہ سے زائد ہیں۔ کلاؤڈ بیسڈ پلیٹ فارمز، قومی مشنز اور عوامی انفراسٹرکچر کو مقامی چپ ڈیزائن، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور سپر کمپیوٹنگ صلاحیتوں کی ترقی کے ساتھ ملا کر  ہندوستان داخلے کی رکاوٹیں کم کر رہا ہے، طویل مدتی خود انحصاری کو مضبوط بنا رہا ہے، اور اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ کمپیوٹ کی دستیابی سے محدود ہوئے بغیر اے آئی جدت مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر پھیل سکے۔

 

ڈیٹا سینٹرز اور نیٹ ورک انفراسٹرکچر لیئر

یہ  لیئراے آئی کا‘گھر اور شاہراہیں’ ہے۔ ڈیٹا سینٹرز وہ جگہیں ہیں جہاں اے آئی سسٹمز کو محفوظ رکھا جاتا ہے اور انہیں چلایا جاتا ہے، جبکہ انٹرنیٹ، براڈبینڈ اورجی5 جیسے نیٹ ورکس ڈیٹا کو صارفین، کمپیوٹرز اور اے آئی ماڈلز کے درمیان منتقل کرتے ہیں۔ یہ دونوں مل کر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اے آئی تیزی، بھروسے اور ہر جگہ دستیابی کے ساتھ کام کرے۔ مضبوط نیٹ ورکس اور ڈیٹا سینٹرز کے بغیر اے آئی ایپلی کیشنز مؤثر طور پر کام نہیں کر سکتیں اور نہ ہی اسکیل ہو سکتی ہیں۔

 ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز اور نیٹ ورک انفراسٹرکچر

  • ایک ملک گیر آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کلاؤڈ اور اے آئی خدمات کے لیے تیز رفتار ڈیٹا کی ترسیل کو سہارا دیتا ہے۔ 5جی خدمات ملک کے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شروع کی جا چکی ہیں اور ملک کے 99.9 فیصد اضلاع میں دستیاب ہیں، جبکہ 85 فیصد آبادی اس کی کوریج میں شامل ہے۔
  • ہندوستان عالمی ڈیٹا سینٹر صلاحیت کا تقریباً 3 فیصد حصہ رکھتا ہے، جس کی موجودہ انسٹالڈ ڈیٹا سینٹر صلاحیت تقریباً 960 میگاواٹ ہے۔ مزید یہ کہ اے آئی اور کلاؤڈ ورک لوڈز میں اضافے کے باعث 2030 تک اس صلاحیت کے 9.2 گیگاواٹ تک بڑھنے کا امکان ہے۔
  • ممبئی–نوی ممبئی ہندوستان کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر ہب ہے، جو ملک کی مجموعی صلاحیت کے 25 فیصد سے زائد کا حامل ہے۔ دیگر اہم ڈیٹا سینٹر ہب میں بنگلورو، حیدرآباد، چنئی، دہلی این سی آر، پونے اور کولکاتہ شامل ہیں۔
  • * عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہندوستان میں اے آئی اور ڈجیٹل انفراسٹرکچر کو تیز کرنے کے لیے سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جو ملک کے تکنیکی منظرنامے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اہم سرمایہ کاریوں میں مائیکروسافٹ کی 1.5 لاکھ کروڑ روپے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی ٹریننگ کے لیے، آمیزون کی 2.9 لاکھ کروڑ روپے کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور اے آئی پر مبنی ڈجیٹلائزیشن کے لیے (2030 تک) اور گوگل کی1.25 لاکھ کروڑ روپے ایک 1 گیگاواٹ اے آئی ہب کے لیے وجے واڑہ میں شامل ہیں۔

انرجی لیئر پورے اے آئی ایکوسسٹم کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور پائیداری کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ مناسب، سستی اور بتدریج صاف توانائی کی فراہمی کو یقینی بنا کر بھارت توانائی کے زیادہ استعمال والے اے آئی انفراسٹرکچر کو اس انداز میں وسعت دے رہا ہے کہ بجلی کے نظام کے استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ مضبوط اور کم کاربن توانائی کے نظام کی طرف یہ منتقلی طویل مدتی اے آئی ترقی کی حمایت کرتی ہے جبکہ تکنیکی پیش رفت کو قومی ماحولیاتی اور پائیداری کے اہداف سے ہم آہنگ رکھتی ہے۔

اے آئی اور توانائی کی طلب کا عمومی رجحان

مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے توسیع عالمی سطح پر بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ کر رہی ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 تک ڈیٹا سینٹرز کی عالمی بجلی کھپت دو گنا سے بھی زیادہ ہو کر تقریباً945 ٹیراواٹ آور سالانہ تک پہنچ جائے گی، کیونکہ اے آئی پر مبنی ورک لوڈز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔  ہندوستان میں یہ رجحان اس وقت سامنے آ رہا ہے جب توانائی کا شعبہ ایک تاریخی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت500 گیگا واٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں غیر فوسل ایندھن ذرائع 51 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں—یہ 2030 کے ہدف سے پہلے ایک اہم صاف توانائی سنگ میل ہے۔ صاف، سستی اور محفوظ توانائی کی یہ توسیع توانائی کے نظام کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مسلسل اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والے اے آئی اور ڈیٹا سینٹر کے کاموں کو سہارا دے سکے اور یوں اے آئی انفراسٹرکچر کی ترقی کو پائیدار اور مضبوط توانائی کی فراہمی سے ہم آہنگ کرتی ہے۔

خلاصہ

ایک مضبوط اے آئی اسٹیک کی تعمیر  ہندوستان  کے لیے ایک تکنیکی ترجیح بھی ہے اور ایک سماجی عزم بھی۔ ایپلی کیشنز، اے آئی ماڈلز، کمپیوٹ، ڈجیٹل انفراسٹرکچر اور توانائی سمیت ہر پرت کو مضبوط بنا کر ہندوستان  مصنوعی ذہانت کی جمہوری رسائی کو ممکن بنا رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ اس کے فوائد آبادی کی سطح پر شہریوں تک پہنچیں۔ زراعت، صحت، تعلیم، انصاف اور آفات کے انتظام جیسے شعبوں میں حقیقی دنیا کے استعمال پر توجہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اے آئی کس طرح خدمات کی فراہمی، پیداواری صلاحیت اور عوامی فلاح کو براہِ راست بہتر بنا سکتا ہے، جبکہ یہ جامع، خودمختار اور قومی ترجیحات سے ہم آہنگ بھی رہتا ہے۔

سستی کمپیوٹ تک رسائی، مقامی ماڈلز کی تیاری، محفوظ ڈیٹا انفراسٹرکچر اور پائیدار توانائی کے نظام کے ذریعے  ہندوستان  ایک ایسا اے آئی ایکو سسٹم تشکیل دے رہا ہے جو قابل توسیع، مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار ہے۔ یہ مربوط حکمتِ عملی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اے آئی کی جدت لاگت، انفراسٹرکچر یا توانائی کی دستیابی کی رکاوٹوں کا شکار نہ ہو، اور طویل مدتی خود انحصاری کو بھی فروغ دے۔ ‘اے آئی فار ہیومنٹی’ کے ویژن کے تحت ہندوستان  کا اے آئی اسٹیک ٹیکنالوجی کو جامع ترقی، سماجی مساوات اور فلاح و بہبود کا ذریعہ بناتا ہے اور ڈجیٹل دور میں سب کے لیے فلاح اور سب کے لیے خوشحالی کے ہدف کو آگے بڑھاتا ہے۔

حوالہ جات

PIB Headquarters

Ministry of Electronics and Information Technology

Ministry of Science and Technology

Office of the Principal Scientific Adviser to the Government of India

Ministry of Communications:

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2206477&reg=3&lang=1

Ministry of Power:

 

International Energy Agency:

DD News:

Click here of pdf file.

 

********

ش ح- ظ الف- ش ب ن

UR-9078


(रिलीज़ आईडी: 2277080) आगंतुक पटल : 27
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , English , Assamese , Bengali , Gujarati