وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے مغربی بنگال کے شہر کولکاتا کے ریڈ روڈ سے بارہویں عالمی یومِ یوگا کی قومی تقریب کی قیادت کی


یوگا ہم سب کو آپس میں جوڑتا ہے اور ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے: وزیرِ اعظم

جب یوگا طرزِ زندگی بن جاتا ہے تو وہ انسانی یکجہتی کی بنیاد بن جاتا ہے: وزیرِ اعظم

یوگا ہمارے جسم کو لچکدار بناتا ہے اور ہماری توانائی کو برقرار رکھتا ہے: وزیرِ اعظم

یوگا ہمیں متوازن زندگی گزارنے کا ہنر سکھاتا ہے: وزیرِ اعظم

یوگا ذہنی آسودگی سے جسمانی صحت تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا ہے: وزیرِ اعظم

प्रविष्टि तिथि: 21 JUN 2026 9:28AM by PIB Delhi

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے آج کولکاتا کے ریڈ روڈ سے بارہویں عالمی یومِ یوگا کی قومی تقریب کی قیادت کی۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے ہزاروں یوگا سادھکوں کے ساتھ مشترکہ یوگا پروٹوکول کے سیشن میں شرکت کی۔  عالمی یومِ یوگا کے موقع پر دنیا بھر کے لوگوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ 21 جون دنیا کے کئی حصوں میں سال کا طویل ترین دن ہوتا ہے اور یوگا کے ذریعے یہ دن انسانیت کے سب سے بڑے اجتماعی جشن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

کولکاتا میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں سے یوگا کے حوصلہ افزا مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہمالیہ سے بحرِ ہند تک اور بنگال و شمال مشرق سے لے کر سوراشٹر کے مغربی خطے تک پورا ملک یوگا کے جذبے سے سرشار دکھائی دے رہا ہے۔ ملک اور دنیا صحت، ہم آہنگی اور خیرسگالی کے مشترکہ عزم کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، جو یوگا کی وحدت آفرین قوت کا مظہر ہے۔‘‘ وزیرِ اعظم نے ’’سوچھتا سے سواگت‘‘ مہم کے تحت کولکاتا کے شہریوں کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صفائی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں نے جس لگن، محنت اور شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پورے ملک کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔

جناب مودی نے کہا کہ مغربی بنگال میں یومِ یوگا کا انعقاد خصوصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ ریاست عظیم روحانی اور ثقافتی ورثے کی امین ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بنگال وہ سرزمین ہے جہاں بھگوان رام کرشن پرمہنس نے زندگی گزاری اور اپنے افکار کی تعلیم دی، جہاں سے سوامی وویکانند نے ہندوستان کی روحانی دانش اور یوگا کی روایات کو دنیا بھر میں متعارف کرایا اور جہاں مہارشی اروبندو اور لاہڑی مہاشیہ نے یوگ فلسفے اور اس کی عملی روایت کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ انسان کی حقیقی شناخت اپنے اردگرد کی دنیا سے بامعنی تعلقات قائم کرنے سے تشکیل پاتی ہے اور یہی اصول یوگا کی روح ہے۔ انہوں نے مہارشی اروبندو کے اس نظریے کا بھی ذکر کیا کہ ’’پوری زندگی ہی یوگا ہے‘‘ اور کہا کہ جب یوگا انسان کی فطرت کا حصہ بن جاتا ہے تو وہ انسانی یکجہتی کی بنیاد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا: ’’یوگا محض جسمانی ورزش کا نام نہیں اور نہ ہی اسے کسی مخصوص عمر کے دائرے میں محدود کیا جا سکتا ہے۔ یہ شعور، توانائی اور باطنی روشنی کا سرچشمہ ہے، جو انسانی زندگی کے ہر مرحلے کو بہتر اور بامقصد بناتا ہے۔‘‘ عالمی یومِ یوگا 2026 کے موضوع ’’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوگا انسان کو عمر کے بڑھنے کے باوجود صحت مند، متحرک اور پُرجوش رہنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ صحت مند بڑھاپے کا مطلب یہ ہے کہ عمر میں اضافہ انسان کی صلاحیتوں میں کمی کا سبب نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ یوگا انسان کو پوری زندگی مسلسل ترقی اور خود کو بہتر بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ انسان چالیس برس کی عمر میں بیس برس کی نسبت زیادہ لچکدار، پچاس برس کی عمر میں تیس برس کی نسبت زیادہ پُرجوش اور ستر برس کی عمر میں پچاس برس کی نسبت طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں کا زیادہ مضبوطی سے مقابلہ کرنے والا ہو۔

انہوں نے کہا کہ یوگا جسم میں لچک پیدا کرنے، توانائی برقرار رکھنے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور ذہنی صحت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جبکہ طرزِ زندگی سے جڑی بیماریوں کی روک تھام میں بھی معاون ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا: ’’یوگا کی باقاعدہ مشق انسان کو اپنے جسم اور ذہن کا عمر بھر طالبِ علم بنائے رکھتی ہے۔ جوں جوں خود آگاہی میں اضافہ ہوتا ہے، ویسے ویسے انسان اپنی زندگی کو بہتر انداز میں منظم کرنے اور زیادہ صحت مند طرزِ حیات اختیار کرنے کے قابل ہوتا جاتا ہے۔‘‘

وزیرِ اعظم نے کہا: ’’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا‘‘ کا موضوع صرف بزرگوں تک محدود نہیں بلکہ ہر عمر کے افراد کے لیے یکساں طور پر اہم ہے، اور اسی وجہ سے یوگا صحت، فلاح و بہبود اور ذاتی نشوونما کے سفر میں عمر بھر کا ساتھی بن جاتا ہے۔

بھگوت گیتا کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا: ’’متوازن غذا، متوازن تفریح، متوازن عمل اور متوازن نیند و بیداری یوگا کو دکھوں پر قابو پانے کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ توازن یوگا کی بنیادی روح ہے اور ایک کامیاب و بامعنی زندگی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یوگا انسان کو متوازن انداز میں زندگی گزارنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ یہ رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، جس کے نتیجے میں ایک صحت مند طرزِ زندگی پروان چڑھتی ہے۔

وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ یوگا صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں بلکہ یہ ذہنی آسودگی سے جسمانی تندرستی تک پہنچنے کا ایک جامع راستہ فراہم کرتا ہے۔ ’’یُکت چیشٹسیہ کرمسو‘‘ کے مفہوم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوگا انسان کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی بصیرت عطا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایسی بیداری نہ صرف باطنی سکون کا سرچشمہ بنتی ہے بلکہ عالمی ہم آہنگی کی راہیں بھی ہموار کرتی ہے۔ یوگا اب صرف ذاتی طرزِ زندگی کا حصہ نہیں رہا بلکہ دنیا کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے ایک ضرورت بن چکا ہے۔‘‘

جناب مودی نے کہا کہ گرچہ عالمی یومِ یوگا کے موقع پر ہر سال کروڑوں افراد یوگا کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، تاہم یہ دن اس عہد کی تجدید کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ یوگا کو روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یوگا کو صرف ایک دن یا ایک تقریب تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے اپنی زندگی، اپنے خاندان اور آنے والی نسلوں کی زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے۔

وزیرِ اعظم نے اس سال ’’یوگا 365‘‘ مہم کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا: ’’اس مہم کے تحت سو روزہ آن لائن یوگا پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں عوامی شرکت نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ دنیا کے 130 ممالک سے تیس لاکھ سے زائد افراد نے اس پروگرام میں حصہ لیا، جو یوگا کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت اور قبولیت کا واضح ثبوت ہے۔‘‘

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک مضبوط، خوشحال اور پُراعتماد قوم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے سب کی صحت و سلامتی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے قدیم دعا کا ذکر کیا: ’’سروے بھونتو سکھنہ، سروے سنتو نرامیہ‘‘، یعنی ’’سب خوش رہیں اور سب بیماریوں سے محفوظ رہیں۔‘‘

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-8956


(रिलीज़ आईडी: 2275984) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , Manipuri , Gujarati , Malayalam