MIFF banner

اے آئی فلم سازی کو زیادہ آسان اور کم خرچ بنا سکتا ہے: آنند پانڈے کا 19ویں ایم آئی ایف ایف میں اظہارِ خیال

انسانی تخلیقی صلاحیت سینما کا بنیادی مرکز رہے گی: آنند پانڈے کا 19ویں ایم آئی ایف ایف میں خطاب

ممبئی، 20 جون   2026

  مصنوعی ذہانت (اے آئی) فلم سازی کے طریقہ کار کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود فلمی صنعت سے وابستہ پیشہ ور افراد کی مکمل جگہ لینا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ یہ بات معروف اینیمیشن پروڈیوسر اور تخلیقی ٹیکنالوجی ماہر آنند پانڈے نے 19ویں ممبئی بین الاقوامی فلم فیسٹیول (ایم آئی ایف ایف) میں ’’کمپیکٹ مستقبل میں سنیما کی تلاش‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ کے دوران کہی۔

آنند پانڈے، جو اسکرین یگ کریئیشنز اور مرج ایکس آر کے بانی ہیں، بھارت کی اینیمیشن انڈسٹری کی ترقی میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ انہوں نے لٹل کرشنا، شکتی مان اور کرشنا اور کنس جیسے نمایاں منصوبوں پر بھی کام کیا ہے۔

ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پانڈے نے کہا کہ اے آئی سے چلنے والے ویڈیو ٹولز مسلسل زیادہ جدید اور آسانی سے قابلِ رسائی ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق فلم ساز نسبتاً کم لاگت پر اے پی آئیز اور اوپن سورس پلیٹ فارمز کے ذریعے ان ٹیکنالوجیوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، حتیٰ کہ اگر کچھ جدید اے آئی ماڈلز براہِ راست بھارت میں دستیاب نہ بھی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت فلم سازی کے مختلف مراحل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم تخلیقی صلاحیت، انسانی بصیرت اور فنکارانہ اظہار کی اہمیت بدستور برقرار رہے گی۔

 

اے آئی کیا اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، لائن پروڈیوسرز اور پروڈکشن مینیجرز جیسے شعبوں میں ملازمتوں کی جگہ لے سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں آنند پانڈے نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روایتی فلم سازی ایک ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے فلمی کیمروں سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہر تکنیکی تبدیلی کام کے طریقۂ کار کو بدلنے کے ساتھ نئی مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سینما میں انسانی تخلیقی صلاحیت ہمیشہ بنیادی اہمیت کی حامل رہے گی۔ ان کے مطابق ناظرین انسانی کہانیوں اور اداکاری سے جڑتے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس کی جگہ ٹیکنالوجی نہیں لے سکتی۔ تاہم، اے آئی فلم سازوں کو وقت اور لاگت بچانے، پروڈکشن کی غلطیوں کو درست کرنے اور پوسٹ پروڈکشن کے کام کو آسان بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

ورکشاپ میں اس بات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا کہ اے آئی کس طرح مصنفین، تخلیق کاروں اور آزاد فلم سازوں کو نئے خیالات تیار کرنے، مناظر کی بصری تشکیل کرنے اور اپنے تخلیقی وژن کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

شرکاء نے مقرر کے ساتھ بھرپور تبادلۂ خیال کیا اور اے آئی ٹولز، اے پی آئی تک رسائی اور تخلیقی صنعت میں مستقبل کے روزگار کے مواقع کے حوالے سے رہنمائی حاصل کی۔

نشست کا اختتام ایک مثبت نوٹ پر ہوا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اے آئی کہانی سنانے والوں کی معاونت اور فلم سازی میں نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ ورکشاپ 19ویں ممبئی بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں منعقدہ ورکشاپس کے سلسلے کا اختتامی پروگرام بھی ثابت ہوئی۔

 

************

 

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 8948 )


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #MIFF2026. Tag us @pibmumbai on X, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at miff.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2275842   |   Visitor Counter: 10

इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , Marathi , हिन्दी , Bengali