جرمنی کی دس ایوارڈ یافتہ طلباء کی فلمیں ایم آئی ایف ایف میں عالمی سنیما کے مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں
’’ابھرتے ہوئے فلم فنکار: فلم اسکول ایڈیشن‘‘ فیسٹیول میں نئے ٹیلنٹ کو متعارف کروا رہا ہے
انیسویں ممبئی بین الاقوامی فلم فیسٹیول (ایم آئی ایف ایف) 2026 نے دنیا کے سب سے زیادہ معتبر فلمی اداروں میں سے ایک جرمنی کی ممتاز فلم اکیڈمی بیڈن - ورٹمبرگ جی ایم بی ایچ (ایف اے بی ڈبلیو) کی دس فلموں کی خصوصی نمائش کے ساتھ سنیما میں اختراعی جذبے کا جشن منایا۔ فیسٹیول کے خصوصی حصے “ابھرتے ہو ئےفلم فنکار: فلم اسکول ایڈیشن” کے تحت اس پیشکش نے ناظرین کو متنوع کہانیوں سے روشناس کرایا، جن میں کارٹون فلمیں، مختصر افسانوی کہانیاں اور دستاویزی فلمیں شامل تھیں، جو نئی نسل کے فلم سازوں کی تخلیقی توانائی اور فنکارانہ وژن کی عکاسی کرتی ہیں۔
غم، وابستگی اور تعلق کی دل کو چھو لینے والی کہانیوں سے لے کر یادداشت، بڑھاپے اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات کی بصری طور پر شاندار انیمیٹیڈ فلمی تخلیقات تک، ان فلموں نے یہ ظاہر کیا کہ فلم اکیڈمی بیڈن - ورٹمبرگ جی ایم بی ایچ معاصر سنیما میں ابھرتی ہوئی باصلاحیت آوازوں کی تربیت گاہ کے طور پر کیوں جانی جاتی ہے۔
نمایاں فلموں میں ایک اہم فلم “اے اسپیروز سانگ” تھی، جو ٹوبیاس ایکرلن کی ہدایت کاری میں بننے والی ایک انیمیٹیڈتاریخی ڈرامہ فلم ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے حقیقی واقعات سے متاثر یہ ایوارڈ یافتہ فلم ایک عمر رسیدہ بیوہ کی کہانی بیان کرتی ہے جو جنگ کی تباہ کاریوں کے درمیان ایک زخمی گوریا کی دیکھ بھال کرتے ہوئے سکون اور امید پاتی ہے۔ اپنی نازک کہانی گوئی اور جذباتی گہرائی کے باعث اس اسٹوڈنٹ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ مختصر فلم نےناظرین پر دیرپااثر چھوڑ ا۔

ناظرین کی ایک اور پسندیدہ فلم ’’فلائنگ اینیملز‘‘ رہی ، جو اینا نیبرٹ کی ہدایت کار ی میں بنی ایک دستاویزی فلم ہے۔ یہ فلم دستاویزی فلم سازی کے ساتھ اینیمیشن کا امتزاج ہے اور تین ایسے بچوں کی تخیلاتی دنیا میں داخل ہوتی ہے جو سنگین طبی حالات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ فلم جدو جہد، تخلیقی صلاحیت اور بچپن کی تخیلات کی لازوال طاقت کی دل کو چھو لینے والی تصویر پیش کرتی ہے۔
اس موقع پر فلم ’’ماجینی‘‘ کی بھی اسکریننگ کی گئی جو کہ جو شووا نیوبرٹ اور ویکٹر مہاگاچی کی ہدایت کاری میں بننے والا ایک مختصر افسانوی ڈرامہ ہے۔ تنزانیہ کے ساحلی علاقے کے پس منظر میں بنائی گئی یہ فلم دو بھائیوں کی کہانی بیان کرتی ہے جو خوف، ذمہ داری اور حوصلے جیسے احساسات کا سامنا کرتے ہیں جب حالات انہیں خطرناک سمندر کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ اس کی طاقتور کہانی اور جذباتی حقیقت پسندی کو پہلے ہی بین الاقوامی فلمی میلوں میں پذیرائی حاصل ہو چکی ہے۔

اس پیکیج میں سب سے زیادہ بصری طور پر متاثر کن فلموں میں “پیئر گارڈن” شامل تھی، جو شاداب شایگان کی ہدایت کاری میں بننے والی ایک اینیمیٹڈ ڈرامہ فلم ہے۔ یہ فلم چھ سالہ بچی للی کی کہانی بیان کرتی ہے جو اپنی دادی کے چھاتی کے آپریشن (ماسٹیکٹومی) کو سمجھنے کی کوشش کے دوران ایک خوابناک سفر پر نکل پڑتی ہے۔ شاعرانہ مناظر اور جذباتی نزاکت کے ذریعے یہ فلم بیماری، نقصان اور علاج و معالجے جیسے موضوعات کو ایک بچے کے نقطۂ نظر سے پیش کرتی ہے۔
4WOV.jpeg)
اسی طرح کی دلوں کو چھو لینے والی فلم’’سلور اسٹرنگز‘‘ رہی، جو پال کلی کی ہدایت کاری میں بننے والی ایک اینیمیٹڈ بچوں کی فلم ہے۔ یہ دل کو متاثر کر دینے والی کہانی ایک معمر شخص کے گرد گھومتی ہے جس کی ایک ننھی مکڑی کے ساتھ غیر متوقع دوستی اس کی روزمرہ زندگی کو بدل دیتی ہے اور ساتھ ہی اس کی بیٹی کی اپنے والد کی دیکھ بھال کی کوششوں کو بھی ایک نئے انداز سے چیلنج کرتی ہے۔ فلم مزاح، گرمجوشی اور جذباتی بصیرت کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔
دیگر فلموں نے جرمن ادارے سے ابھرنے والی وسیع صلاحیتوں کو مزید نمایاں کیا۔ ’’چیزنگ کائٹس‘‘ ایک مختصر افسانوی ڈرامہ ہے جس کی ہدایت کاری لیا زیٹزنباکر نے کی ہے، جو ماں کے انتقال کے بعد غم اور بہن بھائیوں کے تعلقات کو دو بھائیوں کی کہانی کے ذریعے بیان کرتی ہے۔ ’’لینیے 12‘‘ ایک اینیمیٹڈ ڈرامہ-ایڈونچر فلم ہے جسے کرسٹوفر شمیر اور سارہ شلز نے بنایا، جو موسیقی، مشینری اور دوستی کو ایک بصری طور پر تخلیقی انداز میں پیش کرتی ہے۔’’اسپارک (چسپا)‘‘ ویرا کائے کی ہدایت کاری میں بننے والی ایک بچوں کی ڈرامہ فلم ہے، جو ایک چھوٹی بچی کی اپنے مصروف والد سے جذباتی تعلق کی تلاش کو نہایت نرمی سے دکھاتی ہے۔ ’’رائز ایج‘‘ تتزانا تھیور کی تجرباتی اینیمیٹڈ میوزیکل فلم ہے، جو ماحولیاتی تبدیلی اور اجتماعی انکار کو متحرک مناظر اور مزاح کے ذریعے پیش کرتی ہے۔ جبکہ’’دِس اِز ناٹ اے کریکٹر، دس اِز بیٹریئل ‘‘رومینا کوپر کی ہدایت کاری میں بنی مختصر افسانوی ڈرامہ-کامیڈی ہے، جو ایک حجام کی ماں اور اس کےقلمکار بننے کے خواہشمند بیٹے کے تعلق کے ذریعے طبقاتی فرق، شناخت اور خاندانی کشمکش کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ تمام دس فلمیں مجموعی طور پر ایم آئی ایف ایف کے ناظرین کو بین الاقوامی فلم سازی کے مستقبل کی ایک جھلک فراہم کرتی ہیں، جو جرات مندانہ، جذباتی طور پر پر ُاثر اور مؤثر انسانی کہانیوں پر مبنی ہے۔
***
ش ح ۔ م ش ۔ش ب ن
U. No. 8897
रिलीज़ आईडी:
2275291
| Visitor Counter:
10