MIFF banner

  ایک وژن، متعدد شکلیں: ایم آئی ایف ایف کے گول میز مباحثے میں فلمی میلےکے ماہرین نے تنوع، اختراع اور اجتماعی ثقافت کی اہمیت کو  اجاگر کیا


مستند آواز اور مادری زبان میں قصہ نگاری عالمی سنیما کی نئی سمت متعین کر رہی ہے: آنند واردراج

 فلمی میلوں سے اجتماعی طور پر فلم دیکھنے کی روایت کو برقرار رکھا جاتا ہے اور فلمی ثقافت مضبوط  ہوتی ہے: پریمندر مجمدار

 اینیمیشن فلم کو بہتر شناخت، سرپرستی اور عالمی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے: ساوتری ہری

 مقامی روایات اور زبانوں پر مبنی فلموں کی بڑھتی ہوئی عالمی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ خلوص اور صداقت جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہو سکتی ہے: دیپک کمار بیشرا

 دستاویزی فلمیں عوامی مباحثے کو فروغ دیتی ہیں اور تاریخی شعور کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں : نلوتپل مجمدار

 فلمی میلے تجرباتی اور غیر تجارتی سنیما کو پیش کرنے کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں : پیٹریسیا سانچیز مورا

ممبئی میں19ویں ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ایم آئی ایف ایف) کے موقع پر   " ایک وژن، متعدد شکلیں: فلمی میلوں میں تنوع کا جشن"  کے موضوع پر  منعقدہ گول میز مذاکرے   میں مقررین نے کہا کہ فلمی میلے متنوع آوازوں کو اجاگر کرنے، ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے، سنیما کی وراثت کے تحفظ اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

فلم سازوں، ناقدین، فیسٹیول ڈائریکٹر اور فلمی صنعت کے ماہرین کی شرکت  والے اس مباحثے میں اس بات پر غ وخوض  کیا گیا کہ تکنیکی اختراعات، ناظرین کی بدلتی ہوئی  ترجیحات اور مستند قصہ گوئی کی بڑھتی ہوئی طلب کے دور میں فلمی میلے کس طرح ارتقا پذیر ہوتے  ہیں۔

مباحثے کی نظامت کرتے ہوئے ایوارڈ یافتہ اداکارہ شینا چوہان نے کہا کہ قصہ گوئی  کا فن مختلف ثقافتوں اور تجربات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جوڑنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق فلمی میلے ناظرین کو مختلف زاویوں سے دنیا کو دیکھنے اور ایسی کہانیوں سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں جو سمجھ بوجھ اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہی فلمیں دیر تک یاد رہتی ہیں جو مقامی تجربات کے ذریعے آفاقی سچائیوں کو بیان کرتی ہیں۔

بنگلور انٹرنیشنل شارٹ فلم فیسٹیول (بی آئی ایس ایف ایف) کے بانی اور آرٹسٹک ڈائریکٹر آنند واردراج نے کہا کہ سنیما بنیادی طور پر ایک اجتماعی تجربہ ہے۔ اندھیرے سنیما ہال میں دوسروں کے ساتھ فلم دیکھنا مشترکہ جذباتی سفر پیدا کرتا ہے جس کا متبادل کہیں اور ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی متاثر کن منظر پر ناظرین کا اجتماعی ردعمل سنیما کی اصل روح کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے عالمی سنیما میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب غیر مرکزی دھارے کی زبانوں میں فلموں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ فلم ساز اور مصنفین اپنی مادری زبانوں میں تخلیق کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں زیادہ گہری اور مستند کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اب صرف بڑے شہروں ہی نہیں بلکہ چھوٹے قصبوں اور دور دراز علاقوں سے بھی معیاری فلمیں سامنے آ رہی ہیں۔ ساتھ ہی فلم ساز اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ذرائع کو تخلیقی انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔

مختصر فلموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر بات کرتے ہوئے آنند واردراج نے کہا کہ آج کے ناظرین ایسے مواد کو ترجیح دیتے ہیں جو مصروف طرزِ زندگی سے مطابقت رکھتا ہو لیکن ساتھ ہی بامعنی کہانی بھی پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دور میں جب وقت قیمتی بن چکا ہے، فلمی میلے معیاری مختصر فلموں کے انتخاب اور نمائش میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلمی میلے ناظرین کو عظیم فلم سازوں کے کم معروف کارناموں سے بھی متعارف کراتے ہیں۔ مثال کے طور پر رتوک گھٹک کی مختصر فلمیں بی آئی ایس ایف ایف میں پیش کی گئیں، جس کے بعد ناظرین کو معلوم ہوا کہ یہ عظیم فلم ساز مختصر فلموں کے میدان میں بھی غیر معمولی کام کر چکے ہیں۔

 19ویں ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ایم آئی ایف ایف 2026) میں " ایک وژن، متعدد شکلیں: فلمی میلوں میں تنوع کا جشن"  کے موضوع پر  منعقدہ گول میز مذاکرے   میں نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایف ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکر پرکاش مگدم، فلمی ناقد پریمندر مجمدار، فلم ساز نلوتپل مجمدار، آنند واردراج، دیپک کمار بیشرا، ساوتری ہری، پیٹریسیا سانچیز مورا اور نظامت کار اداکارہ شینا چوہان نے شرکت کی۔

فلمی ثقافت کی تشکیل میں فلمی میلوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے فیڈریشن آف فلم سوسائٹیز آف انڈیا کے نائب صدر اور معروف فلمی ناقد پریمندر مجمدار نے کہا کہ سنیما ایک اجتماعی فن ہے اور فلم دیکھنا سماجی سرگرمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلمی میلے ہندوستان کی فلم سوسائٹی تحریک کا فطری تسلسل ہیں، جس نے ملک میں معیاری اور بامقصد سنیما کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل انقلاب سے دنیا بھر میں فلمی میلوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ اس سے فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، تاہم معیار اور ضابطہ بندی سے متعلق چیلنج بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق فلمی میلوں کی اصل روح، یعنی فنی معیار اور ثقافتی مکالمے کے فروغ، کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

ساوتری ہری، جو تلنگانہ وی ایف ایکس، اینیمیشن اینڈ گیمنگ ایسوسی ایشن  سے وابستہ ہیں،  انہوں نے کہا کہ اینیمیشن کو اب بھی زیادہ تر بچوں کی تفریح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مالی معاونت اور تقسیم کے میدان میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی  اینیمیشن فلمیں عالمی سطح پر شناخت حاصل کر رہی ہیں، تاہم زبان اور تقسیم کے مسائل ان کی رسائی کو محدود کر دیتے ہیں۔ انہوں نے فلم سازوں پر زور دیا کہ وہ تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ کاروباری حکمت عملی اور عالمی منڈیوں کی سمجھ بھی پیدا کریں۔

این ایف ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکر پرکاش مگدم نے فلموں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلمی وراثت کو محفوظ رکھنا آئندہ نسلوں تک سنیما کی تاریخ پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے دنیا کے کئی بڑے فلمی میلوں میں بحال شدہ کلاسیکی فلموں کے لیے خصوصی سیکشن مختص کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے مختلف پس منظر رکھنے والے فلم سازوں کے لیے اپنی تخلیقات عالمی فلمی میلوں تک پہنچانا آسان ہو گیاہے۔ ان کے مطابق اینیمیشن، موشن گرافکس اور مصنوعی ذہانت جیسی نئی ٹیکنالوجیز تخلیقی امکانات کو وسعت دے رہی ہیں، لیکن ناظرین بالآخر فلم کے جذباتی اور انسانی پہلو سے متاثر ہوتے ہیں، نہ کہ صرف اس کی ٹیکنالوجی تک محدود رہتے ہیں۔

سوسائٹی فار آدیواسی فلم ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن  اور باری پاڈا نیشنل انڈیجینس شارٹ فلم فیسٹیول کے بانی دیپک کمار بیشرا نے کہا کہ فلمی میلوں کے ذریعے قبائلی اور مقامی برادریوں کو اپنی کہانیاں وسیع تر دنیا تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناظرین ایسی کہانیوں سے زیادہ گہرا تعلق محسوس کرتے ہیں جو ان کی اپنی زندگی، ثقافت اور تجربات کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے مقامی روایات اور زبانوں پر مبنی فلموں کو ملنے والی عالمی پذیرائی کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ صداقت اور خلوص سرحدوں سے بالاتر ہو سکتے ہیں۔

ڈاک ایج کولکاتہ کے بانی صدر نلوتپل مجمدار نے دستاویزی فلموں کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستانی دستاویزی فلموں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ فلم ساز اب زیادہ متنوع موضوعات اور بیانیہ انداز اختیار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دستاویزی فلمیں سماجی مسائل، انسانی جذبات اور زمینی حقائق کو یکجا کرکے تاریخی شعور پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے دستاویزی فلم سازوں کے لیے رہنمائی، تربیت اور ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

بین الاقوامی نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے پیٹریسیا سانچیز مورا، ڈائریکٹر ایل الٹرنیٹیوا پرو اور ایکسٹریم لیب فیسٹ نے کہا کہ فلمی میلے تجرباتی اور غیر تجارتی سنیما کے لیے نہایت اہم پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ یہ مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمے، تعاون اور تخلیقی تبادلے کو فروغ دیتے ہیں۔

مذاکرے کے اختتام پر مقررین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ فلمی میلے فنّی جستجو، ثقافتی تبادلے اور سماجی رابطے کا ناگزیر پلیٹ فارم ہیں۔ متنوع آوازوں کو فروغ دینے، اختراع کی حوصلہ افزائی کرنے اور فلم سازوں و ناظرین کے درمیان بامعنی روابط کی استواری کے  ذریعے یہ عالمی سنیما کی زبان کو مضبوط بناتے ہیں، جبکہ مقامی کہانیوں کی انفرادیت کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

اختتامی مرحلے میں مقررین نے فلم سازی کے بنیادی مقصد پر بھی گفتگو کی۔ ان کا مشترکہ مؤقف یہ سامنے آیا  کہ فلم ساز کو سب سے پہلے اپنی کہانی اور اس کے اظہار کے ذریعے پر مکمل یقین ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ بہترین فلمیں ہمیشہ سنجیدگی ، صداقت اور مضبوط یقین کے ساتھ تخلیق کی جاتی ہیں۔

************

 

ش ح ۔   م   ش ع ۔  م  ص

(U : 8861 )


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #MIFF2026. Tag us @pibmumbai on X, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at miff.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2274917   |   Visitor Counter: 12