ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

دواسازی کے شعبے میں 12 سال کی انقلابی ترقی کفایتی صحت  کی دیکھ بھال اورآتم نربھر بھارت کوتقویت دے رہی ہے


 جن اوشدھی کیندروں کی تعداد 84 سے بڑھ کر 19,200+ ہوگئیں، جو بھارت کے ہر کونے تک کفایتی دوائیں فراہم کررہی ہیں

شمال مشرقی خطے میں 12 برسوں میں جن اوشدھی مراکز کی تعداد 1 سے بڑھ کر 417 ہو گئی

دوا سازی کے لیے پیدوار سے منسلک ترغیباتی اسکیم( پی ایل آئی) نے 42,694 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کو راغب کیا، 1.13 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے،طبی آلات نے29,400 کروڑ روپے کی فروخت  حاصل کی

प्रविष्टि तिथि: 17 JUN 2026 5:31PM by PIB Delhi

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران بھارت کے دواسازی کے شعبے نے نمایاں ترقی اور تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے۔ کیمیکلز اور فرٹیلائزرز کی وزارت کے تحت دواسازی کا محکمہ نے کفایتی صحت کی دیکھ بھال کو فروغ دیا، گھریلو پیداوار کو مضبوط بنایا، اختراع اور تحقیق کی حوصلہ افزائی کی اور دواسازی کے شعبے میں عوامی مرکزیت پر مبنی اقدامات اور صنعت دوست اصلاحات کے ذریعے بھارت کی حیثیت کو ’’فارمیسی آف دا ورلڈ‘‘کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001HN1W.jpg

 

پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا (پی ایم بی جے پی) کی توسیع محکمۂ دواسازی کی سب سے مؤثر کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ سن 2014 میں تقریباً 84 فعال جن اوشدھی کیندروں سے بڑھ کر یہ نیٹ ورک 2026 میں ملک بھر میں 19,200 سے زائد کیندروں تک پہنچ چکا ہے، جس کے ذریعے لاکھوں شہریوں کو معیاری جنرک ادویات نہایت کم قیمت پر دستیاب ہوئی ہیں۔یہ اسکیم دور دراز علاقوں میں بھی نمایاں طور پر توسیع پا چکی ہے، خصوصاً شمال مشرقی ریاستوں میں جہاں 2014 میں صرف ایک جن اوشدھی کیندر تھا، وہ 2026 تک بڑھ کر 417 ہو چکا ہے۔کئی ریاستوں میں اس اسکیم کے تحت مسلسل توسیع دیکھی گئی ہے۔ اتر پردیش ملک میں 4,042 جن اوشدھی کیندروں کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد کیرالہ (1,791)، کرناٹک (1,665)، تمل ناڈو (1,591)، بہار (1,183)، مغربی بنگال (937)، گجرات (918)، اڈیشہ (852)، راجستھان (718) اور مہاراشٹر (741) شامل ہیں۔

قومی راجدھانی دہلی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں 2014 میں 4 کیندروں سے بڑھ کر 2026 میں 645 کیندر ہو گئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں یہ تعداد 6 سے بڑھ کر 358، ہماچل پردیش میں 8 سے 76، پنجاب میں 20 سے 556 اور تریپورہ میں 1 سے 33 ہو گئی ہے۔معیاری جنیرک ادویات کی انتہائی کم قیمتوں پر دستیابی کو یقینی بنا کر پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا نے شہریوں کے صحت کے اخراجات میں 40,000 کروڑ روپے سے زائد کی بچت میں مدد فراہم کی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002NIA7.jpg

 

 گھریلوپیداوار کو مضبوط بنانے اور درآمدات پر انحصار کو کم کرنے کے لیے حکومتِ ہند نے21- 2020میں دواسازی اور طبی آلات کے لیے پیداوار سے متعلق ترغیباتی اسکیم( پی ایل آئی) کا آغاز کیا۔دواسازی کے شعبے کے لیے پی ایل آئی اسکیم نے مجموعی طور پر 42,694.89 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے اور 3,43,215.27 کروڑ روپے کی مجموعی فروخت حاصل کی ہے، جبکہ اس کے ذریعے 1.13 لاکھ سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔یہ اسکیم بایو فارماسیوٹیکلز اور پیچیدہ جنیرک ادویات جیسی اعلیٰ قدر والی دواؤں کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے ذریعے بھارت کی صلاحیتوں کو مضبوط کرتی ہے اور عالمی سطح پر ’’فارمیسی آف دی ورلڈ‘‘ کے طور پر اس کی حیثیت کو مزید مستحکم بناتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0031MJJ.jpg

اسی طرح، طبی آلات کی گھریلو پیداوار کے فروغ کے لیےپی ایل آئی اسکیم نے 1,136.23 کروڑ  روپےکی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے اور 29,402.93 کروڑ روپے کی مجموعی فروخت  کا ہدف حاصل کیا ہے۔ اس اسکیم نے 6,822 افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور اہم طبی آلات کی گھریلو تیاری کو تیز کیا ہے، جس سے میڈ ٹیک شعبے میں خود انحصاری کو تقویت ملی ہے۔

ادویات کی تھوک  گھریلو پیداوار کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کوکم کرنے کے لیے بلک ڈرگ پارکس اسکیم کے تحت آندھرا پردیش، گجرات اور ہماچل پردیش میں تین بلک ڈرگ پارکس قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ پارکس عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل، دواسازی سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور ایک آتم نربھر اور عالمی سطح پر مسابقتی دواسازی شعبے کے وژن کو فروغ دے رہے ہیں۔

اسی طرح، 21 جولائی 2020 کو شروع کی گئی میڈیکل ڈیوائس پارکس کے فروغ کی اسکیم کے تحت تمل ناڈو، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں میڈیکل ڈیوائس پارکس قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد مشترکہ بنیادی ڈھانچے اور پیداواری لاگت میں کمی کے ذریعے بھارت کے طبی آلات کے شعبے کو مضبوط بنانا اور طبی آلات کی تیاری میں خود انحصاری کو فروغ دینا ہے۔

 

فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائس پروموشن اینڈ ڈیولپمنٹ اسکیم (پی ایم پی ڈی ایس) نے پالیسی معاونت، شراکت داروں کی مصروفیت، علم و تحقیق کے فروغ کے ذریعے شعبے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 47 شراکت داروں سے متعلق تقریبات اور 12 شعبہ جاتی مطالعات منعقد کی گئی ہیں، جنہوں نے صنعت اور حکومت کے درمیان تعاون، جدت کے فروغ اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مدد فراہم کی ہے۔

اس کے علاوہ  بایو فارما شکتی’(علم، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال میں پیش رفت کی حکمت عملی)کو26- 2025کے بجٹ میں 5 سال کے لیے 10,000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ اعلان کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد بھارت کے بایو فارماسیوٹیکل شعبے کو مضبوط بنانا اور بایولوجکس اور بایوسیمیلرز کے لیے خود کفیل نظام کے ذریعے کفایتی حیاتیاتی ادویات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

یہ تمام اقدامات حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایک آتم نربھر بھارت کی تعمیر کی جائے، سرمایہ کاری اور اختراع کو فروغ دیا جائے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور بھارت کو دواسازی، بایو فارماسیوٹیکلز اور طبی آلات کے شعبے میں عالمی سطح پر مسابقتی مرکز کے طور پر قائم کیا جائے۔ جیسا کہ ہندوستان وکست بھارت@2047 کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے ، دواسازی کا محکمہ قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے اور دواسازی کے شعبے میں اختراع پر مبنی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے موزوں ہے ۔

 

*****

ش ح۔ م ش  ۔ ص ج

U. No-8769


(रिलीज़ आईडी: 2274202) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Kannada