عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
مودی حکومت کے 12 سالہ دورِ حکومت میں پنشن اصلاحات جموں و کشمیر کے مرکز کا زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد ملازمین اور پنشن یافتگان کے وسیع تر طبقات تک پہنچ رہی ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی مرکزی پنشن یافتگان کی ایسوسی ایشنز مرکزی حکومت کے نظامِ کار کو ہموار بنانے میں تعمیری رول ادا کر رہی ہیں
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سری نگر میں قبل از سبکدوشی سے متعلق 59ویں مشاورتی ورکشاپ اور بینکاری سے متعلق تیرہویں بیداری پروگرام کا افتتاح کیا
پنشن و پنشن یافتگان کی بہبود کے محکمے ( ڈی او پی پی ڈبلیو ) اور جموں و کشمیر بینک نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پنشن سے متعلق خدمات کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مفاہمت نامہ پر دستخط کئے
प्रविष्टि तिथि:
16 JUN 2026 4:55PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز، وزیر اعظم کے دفتر ( پی ایم او ) ، عملے، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران شروع کی گئی حکمرانی اور پنشن اصلاحات، جموں و کشمیر کے سابقہ ریاست سے مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یو ٹی ) میں تبدیل ہونے کے بعد، ملازمین اور پنشن یافتگان کے وسیع تر طبقے تک پہنچ رہی ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے نتیجے میں ، خطے میں مرکزی حکومت کے ملازمین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، جس کے باعث ابتدائی مرحلے میں کام کے بوجھ اور خدمات کی فراہمی سے متعلق بعض چیلنج درپیش ہوئے ہیں ۔ وزیرِ موصوف نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی مربوط کوششوں کی بدولت ان چیلنجوں پر بتدریج قابو پایا گیا، جس کے نتیجے میں مرکز کے زیر انتظام پورے علاقے کے ملازمین اور پنشن یافتگان گزشتہ دس برسوں کے دوران متعارف کرائی گئی پنشن اصلاحات سے مکمل طور پر استفادہ کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر سینٹرل پنشنرز ایسوسی ایشنز کے رول کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انجمنیں اس تبدیلی کے عمل میں اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ وزیرِ موصوف نے کہا کہ ان انجمنوں نے نہ صرف مکمل تعاون فراہم کیا ہے بلکہ یہ انجمنیں مختلف مسائل کو عملی تجاویز کے ساتھ ساتھ لگاتار اس ضمن میں حکومت کی توجہ بھی مبذول کراتی رہی ہیں۔ ان کے تعمیری تعاون نے ریاست کے ملازمین کو مرکزی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں منتقل کرنے کے عمل کو آسان بنانے اور جموں و کشمیر میں پنشن اصلاحات کے مؤثر نفاذ میں اہم رول ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے پنشن یافتگان اور ملازمین اب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں شروع کی گئی متعدد شہریوں کے لیے سا زگاراقدامات سے بڑھ چڑھ کر فائدہ حاصل کر رہے ہیں، جن سے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک بھر میں پنشن انتظامی نظام میں آنے والی انقلابی اصلاحات کے وسیع اثرات کی عکاسی ہوتی ہے۔
سری نگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر ( ایس کے آئی سی سی ) میں ٔ پنشن و پنشن یافتگان کی بہبود کے محکمے ( ڈی او پی پی ڈبلیو ) کے زیر اہتمام منعقد قبل از سبکدوشی سے متعلق 59ویں مشاورتی ( پی آر سی ) ورکشاپ اور بینکرز کی بیداری کے 13ویں پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے پنشن یافتگان کے حوالے سے اپنے نقطۂ نظر میں بنیادی تبدیلی لاتے ہوئے ، ان کی فلاح و بہبود، وقار اور زندگی میں سہولت کو پالیسی سازی کا مرکزی محور بنا دیا ہے۔
مذکورہ پروگرام میں پنشن و پنشن یافتگان کی بہبود کے محکمے کی سیکریٹری محترمہ نویدیتا شکلا ورما، مرکز کے زیرِ انتظام علاقے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری جناب اٹل ڈُلوّ، جموں و کشمیر بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو افسر جناب امیتاو چٹرجی، جوائنٹ سیکریٹری (پنشن) جناب دھروباجیوتی سین گپتا سمیت سینئر افسران، بینکرز اور مستقبل قریب میں سبکدوش ہونے والے ملازمین نے شرکت کی۔
اس موقع پر پنشن و پنشن یافتگان کی بہبود کے محکمے ( ڈی او پی پی ڈبلیو ) اور جموں و کشمیر بینک نے ایک مشترکہ پہل کا آغاز کیا، جس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پنشن سے متعلق خدمات کے دائرے کو وسعت دینا اور پنشن یافتگان کے لیے ان خدمات تک رسائی کو اور آسان بنانا ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ شراکت داری خدمات کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنائے گی اور جموں و کشمیر کے زیادہ سے زیادہ پنشن یافتگان کو جاری پنشن اصلاحات کے فوائد اور زیادہ سہولت کے ساتھ حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مذکورہ محکمہ محض پنشن کی کارروائی مکمل کرنے والے ادارے کے بجائے حقیقی معنوں میں پنشن یافتگان کی بہبود کے لیے کام کرنے والے محکمے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب توجہ صرف پنشن ادائیگی کے احکامات ( پی پی اوز ) جاری کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ پنشن یافتگان اور بزرگ شہریوں کے لیے وقار، تحفظ، سہولت اور زندگی میں سہولت فراہم کرنے کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھوشیہ پلیٹ فارم نے پنشن انتظامیہ میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پنشن سے متعلق تمام کارروائیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے۔ اب پنشن ادائیگی کے احکامات ( پی پی اوز ) کو ڈیجی لاکر سے مربوط کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشن سے متعلق دستاویزات تک بغیر کاغذی کارروائی کے، شفاف اور آسان رسائی حاصل ہو رہی ہے۔
وزیر موصوف نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں متعارف کرائی گئی سب سے کامیاب اصلاحات میں سے ایک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چہرے کی شناخت سے متعلق ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ کی سہولت نے پنشن یافتگان کی زندگی میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، کیونکہ اب وہ اپنے موبائل فون کے ذریعے گھر بیٹھے لائف سرٹیفکیٹ جمع کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بزرگ شہریوں کے لیے زندگی میں آسانی میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے اور بینکوں اور سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ نومبر ، 2025 ء میں ملک گیر سطح پر چلائی گئی ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ مہم کو غیر معمولی عوامی پذیرائی حاصل ہوئی، جس کے دوران ملک بھر میں 1.91 کروڑ سے زائد ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جن میں سے 1.16 کروڑ سے زیادہ چہرے کی شناخت سے متعلق ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیے گئے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے پنشن یافتگان کے درمیان ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی واضح طور پرعکاسی ہوتی ہے ۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت ، سی پی ای این جی آر اے ایم ایس ، موضوعاتی جائزہ نظام اور قومی پنشن عدالتوں کے ذریعے شکایات کے ازالے کے نظام کو بھی مزید مستحکم بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں پنشن سے متعلق شکایات کے تیز رفتار تصفیے کو ممکن بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیملی پنشن، اضافی پنشن، ریٹائرمنٹ فوائد اور لاپتہ ملازمین سے متعلق معاملات میں کی گئی اصلاحات نے بھی پنشن یافتگان اور ان کے اہل خانہ کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مستحکم بنایا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے ادارہ جاتی یادداشت کو محفوظ رکھنے اور ریٹائر ہونے والے ملازمین کی مسلسل شمولیت کی حوصلہ افزائی کی خاطر انوبھو پلیٹ فارم کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبکدوش ہونے والے ملازمین کو اپنی خدمات کے تجربات، اختراعات اور بہترین طریقۂ کار شیئر کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، تاکہ آئندہ نسل کے سرکاری ملازمین کے لیے علم و تجربے کا ایک قیمتی ذخیرہ تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے انوبھو اسکیم 2026 کے آغاز کا بھی خیرمقدم کیا، جس کا مقصد سبکدوش ہونے والے سرکاری ملازمین کی نمایاں خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت میں پنشن یافتگان کی بڑھتی ہوئی تعداد ،اوسط عمر میں اضافے اور معیارِ زندگی میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہونے والے ملازمین اب وسیع تجربے، مہارت اور ادارہ جاتی معلومات کے حامل ہوتے ہیں، جو سبکدوش ہونے کے بعد بھی معاشرے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بنتے ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ قبل از سبکدوش ہونے سے متعلق مشاورتی ورکشاپس کا مقصد ملازمین کو صرف پنشن کے طریقۂ کار اور ریٹائرمنٹ کے فوائد سے آگاہ کرنا نہیں، بلکہ انہیں سبکدوش ہونے کے بعد ایک بامقصد، فعال اور نتیجہ خیز زندگی کے لیے بھی تیار کرنا ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ سبکدوش ہونے والے ملازمین کا برسوں کا تجربہ اور مہارت معاشرے اور قومی ترقی میں مسلسل استعمال ہوتے رہیں ۔
سبکدوش ہونے والے ملازمین سے بھارت کی ترقی کے سفر میں سرگرم رول ادا کرتے رہنے کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی متعدد مواقع پر اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ‘‘ وکست بھارت @ 2047 ’’ کی تعمیر میں ہر شہری کا رول اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزرگ شہری اور پنشن یافتگان، اپنے وسیع تجربے اور دانشمندی کے باعث، اس قومی مشن میں یکساں طور پر اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔




.................. . ............................................. . ......................
( ش ح ۔ ش م ۔ ع ا )
U. No. 8703
(रिलीज़ आईडी: 2273690)
आगंतुक पटल : 22