سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ  :بھارت کی بایو اکانومی 10 ارب ڈالر سے بڑھ کر 190 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ گزشتہ 12 برسوں میں بھارت کی سائنسی ترقی کی کہانی نئی بلندیوں تک پہنچ گئی ہے


ان کا کہنا ہے کہ خلائی شعبہ غیر معمولی ترقی کا مشاہدہ کر رہا ہے، جہاں اسٹارٹ اپس کی تعداد سنگل ڈیجٹ سے بڑھ کر 400 سے زائد ہو گئی ہے،  اس کے ساتھ ساتھ خلائی معیشت جو اس وقت 8 ارب ڈالر ہے، اس کے 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موسم کی پیش گوئی کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے؛ پہلے 17 موسمی ریڈار تھے، جو اب بڑھ کر 50 ہو چکے ہیں، جبکہ مزید 50 ریڈار لگانے کی منصوبہ بندی جاری ہے

ان کا مزید کہنا ہے کہ چندریان -3 اور کووڈ ویکسین جیسی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی  کی قیادت میں بھارت کا سائنس و ٹیکنالوجی کا ماحولیاتی نظام عالمی سطح پر ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھرا ہے

प्रविष्टि तिथि: 15 JUN 2026 5:15PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج ) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز اور وزیر مملکت برائے پی ایم او، عملہ عوامی شکایات، پنشن جوہری توانائی اور خلاء ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت کا سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع  کا منظرنامہ گزشتہ بارہ برسوں میں غیر معمولی تبدیلی سے گزرا ہے، جس میں بایو اکانومی میں تقریباً بیس گنا اضافہ، چاند کے جنوبی قطب کے قریب تاریخی لینڈنگ، خلائی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی تیز رفتار ترقی، موسم کی پیش گوئی کے نظام میں انقلابی بہتری، اور اسٹریٹجک شعبوں میں مقامی  ٹیکنالوجیز کا ظہور  شامل ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نئی دہلی میں سی ایس آئی آر ہیڈکوارٹرز کے ایس ایس بی آڈیٹوریم میں ‘‘سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع میں گزشتہ 12 برسوں کی انقلابی ترقی” کے موضوع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی اب لیبارٹریوں سے نکل کر عام شہریوں کی زندگیوں تک پہنچ چکی ہیں اور یہ وزیرِ اعظم نریندر مودی  کی قیادت میں بھارت کے ترقیاتی سفر کا ایک مرکزی ستون بن چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سائنسی کامیابیوں میں عوامی دلچسپی میں اضافہ خود اس تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو گزشتہ دہائی کے دوران رونما ہوئی ہے۔

پریس کانفرنس میں ڈاکٹر این کالے سیلوی (جو سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل اور ڈی ایس آئی آر و وزارتِ ارضیاتی علوم کی سیکریٹری بھی ہیں)، ڈاکٹر راجیش گوکھلے سیکریٹری، محکمہ بایو ٹیکنالوجی ، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی ، سی ایس آئی آر  اور وزارتِ ارضیاتی علوم کے سینئر حکام، اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج حکومت کے تقریباً تمام بڑے فلیگ شپ پروگرام بھارت کے سائنس و ٹیکنالوجی ایکو سسٹم سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر انحصار کر رہے ہیں، جو ایک مربوط اور جامع حکومتی حکمتِ عملی کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی اختراع، عالمی مسابقت، صنعت کی شمولیت اور نجی شعبے کی شراکت پر توجہ نے مختلف شعبوں میں سائنسی پیش رفت کو تیز کیا ہے، جن میں صحت، زراعت، خلائی علوم، موسمیات، بنیادی ڈھانچہ اور توانائی شامل ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کے بایوٹیکنالوجی انقلاب کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بایو اکانومی 2014 میں تقریباً 10 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر آج 190 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 2030 تک اسے 300 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت صحت، جینومکس، تشخیص اور بایو فارماسیوٹیکلز میں مقامی اختراعات کے ذریعے ایک عالمی بایوٹیکنالوجی مرکز کے طور پر ابھرا ہے، جسے بایو ای3 جیسے ترقی پسند پالیسی فریم ورک کی بھی معاونت حاصل ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت نے جدید صحت کی ٹیکنالوجیز کے میدان میں بھی اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے، جس میں اگلی نسل کی اینٹی بایوٹکس، کم لاگت چی اے آر - ٹی سیل تھراپی، جینومکس اور پریسیژن میڈیسن جیسے شعبوں میں اہم پیش رفت شامل ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک اب نہ صرف اپنے اندرونی صحت کے چیلنجز کے لیے حل تیار کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر اہم بیماریوں اور طبی مسائل کے لیے بھی مؤثر اور جدید حل فراہم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی ایس آئی آر  کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی ادارے اب پہلے کے مقابلے میں صنعت، اسٹارٹ اپس، کسانوں اور مقامی کمیونٹیز کے زیادہ قریب ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اروما مشن  جیسے پروگراموں نے کامیابی حاصل کی ہے، جس نے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور خاص طور پر ہمالیائی خطوں کے ہزاروں کسانوں کو اعلیٰ قدر  زراعت میں شامل ہونے میں مدد دی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سی ایس آئی آر کی تیار کردہ متعدد ٹیکنالوجیز اب بڑے پیمانے پر مختلف شعبوں میں استعمال ہو رہی ہیں، جن میں بنیادی ڈھانچہ، صاف توانائی، صحت کی دیکھ بھال اور مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔

وزیر موصوف نے اسٹیل سلیگ روڈ ٹیکنالوجی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے صنعتی فضلے کو ایک قیمتی قومی وسیلے میں تبدیل کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تعمیر کی گئی سڑکوں نے زیادہ پائیداری، دیکھ بھال کے کم  اخراجات اور بہتر کم قیمت  کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا استعمال ملک بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے عملی نمونے ظاہر کرتے ہیں کہ سائنس کس طرح براہِ راست اقتصادی نمو اور پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے موسم اور موسمیاتی خدمات کے حوالے سے کہا کہ بھارت کی محکمہ موسمیات  کی تبدیلی گزشتہ بارہ برسوں کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2014 میں ملک میں صرف 17 موسمی ریڈار موجود تھے، جبکہ آج یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 50 فعال ریڈار تک پہنچ چکی ہے، اورمشن موسم  کے تحت مزید 50 ریڈار نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے بجلی گرنے کا سراغ لگانے والے نظام ، پیش گوئی کے نیٹ ورکس اور بارش کی نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی غیر معمولی پیمانے پر وسعت دی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ موسم کی پیشن گوئی کی کوریج تقریبا 300 شہروں سے بڑھ کر تقریبا 1,700 مقامات تک پہنچ گئی ہے ، جبکہ ناو کاسٹ جیسی جدید خدمات انتہائی مقامی قلیل مدتی پیشن گوئی فراہم کر رہی ہیں جس سے شہریوں ، کسانوں اور آفات کے انتظام کے اداروں کو باخبر فیصلے کرنے میں مدد مل رہی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ ان بہتریوں نے ہندوستان کی آفات سے متعلق تیاریوں اور لچک میں نمایاں اضافہ کیا ہے ۔

ہندوستان کے خلائی شعبے کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں متعارف کرائی گئی اصلاحات نے ملک کے خلائی ماحولیاتی نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ خلائی اسٹارٹ اپس کی تعداد ایک ہندسوں سے بڑھ کر کئی سو ہو گئی ہے ، جبکہ یہ شعبہ اختراع اور اقتصادی ترقی کے ایک بڑے محرک کے طور پر ابھرا ہے ۔

چندریان-3 کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نے چاند کے جنوبی قطب کے قریب کامیاب لینڈنگ کرنے والا پہلا ملک بن کر دنیا کے سامنے اپنی سائنسی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ۔  انہوں نے کہا کہ خلائی شعبے کو نجی شراکت داری کے لیے کھولنے کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات اور صنعتی تعاون نے اختراع کی رفتار کو تیز کیا ہے اور ہندوستانی کاروباریوں کے لیے مواقع میں توسیع کی ہے ۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اب مستقبل کے امنگو ں سے پر اہداف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، جس میں 2035 تک بھارتیہ انترکش اسٹیشن کا قیام اور 2040 تک چاند پر ہندوستانی لینڈنگ شامل ہے ، جبکہ مستقبل کے انسانی خلائی پرواز کے مشنوں کی تیاریاں جاری ہیں ۔

وزیر موصوف نے جوہری توانائی کے شعبے کو نجی شرکت کے لیے کھولنے کو حالیہ برسوں میں کی گئی سب سے اہم پالیسی اصلاحات میں سے ایک قرار دیا ۔  انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے مضبوط ملکی اور بین الاقوامی دلچسپی پیدا ہوئی ہے اور توقع ہے کہ اسٹریٹجک توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری ، اختراع اور صلاحیت سازی میں تیزی آئے گی ۔

پریزنٹیشنز کے دوران ، ڈاکٹر این کلے سیلوی نے ارضیاتی علوم  کی وزارت اور سی ایس آئی آر کی بڑی کامیابیوں پر روشنی ڈالی ، جن میں مشن موسم کے تحت موسمی مشاہدے کے نظام کی توسیع ، ڈیپ اوشین مشن کے تحت پیش رفت ، متسیہ 6000 اور وراہا جیسی مقامی گہرے سمندر کی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور زراعت ، صحت کی دیکھ بھال ، بنیادی ڈھانچے ، توانائی اور دیہی ترقی میں موثر ٹیکنالوجیز کی تعیناتی شامل ہیں ۔

ڈاکٹر راجیش گوکھلے نے بائیوٹیکنالوجی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے محکموں کی کامیابیاں پیش کیں ، جن میں ہندوستان کے بائیوٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کی ترقی ، بائیو ای 3 پالیسی کا نفاذ ، اسٹارٹ اپ اور انوویشن نیٹ ورک کی توسیع ، جینومکس اور ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجیز میں پیش رفت ، اور انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) نیشنل کوانٹم مشن ، ریسرچ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن (آر ڈی آئی) فنڈ ، نیشنل سپر کمپیوٹنگ مشن اور نیشنل جیو اسپیشل پالیسی جیسے تاریخی اقدامات شامل ہیں ۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پچھلے بارہ سالوں کی کامیابیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح سائنس ، ٹیکنالوجی اور اختراع عالمی علم پر مبنی معیشت کے طور پر ہندوستان کے عروج کے کلیدی معاون بن چکے ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سائنسی ترقی نہ صرف اسٹریٹجک اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو بھی بہتر بنا رہی ہے اور ترقی ، روزگار اور قومی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے اور اس طرح ملک وکست بھارت 2047 کے وژن کی طرف گامزن ہے۔

فوٹو: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ پیر کے روز سی ایس آئی آر ہیڈکوارٹر ، رفیع مارگ ، نئی دہلی میں سائنس ، ٹیکنالوجی اور اختراع میں تبدیلی کی ترقی کے 12 سال کے موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ۔

***

ش ح۔ ا ک۔ ر ب

UN.8635


(रिलीज़ आईडी: 2273185) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Malayalam , Tamil , Kannada