وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

بھارت-سلوواکیہ مشترکہ اعلامیہ

प्रविष्टि तिथि: 15 JUN 2026 5:32PM by PIB Delhi

سلوواکیہ کے وزیر اعظم، عالی مرتبت رابرٹ فیکو کی دعوت پر، جمہوریہ بھارت کے وزیر اعظم، عالی مرتبت جناب نریندر مودی نے 15 جون 2026 کو جمہوریہ سلوواکیہ کا سرکاری دورہ کیا۔

یہ دورہ 1993 میں سلوواکیہ کی آزادی کے بعد سے کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے، جو ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار دوستی میں ایک نئی راہ کا تعین کرتا ہے۔ 1993 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے، بھارت اور سلوواکیہ نے اعتماد، برابری اور باہمی احترام پر مبنی روایتی دوستی اور کثیر جہتی تعاون کو فروغ دیا ہے۔

اس دورے کی تاریخی نوعیت اور دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے، جمہوریہ بھارت کے وزیر اعظم اور جمہوریہ سلوواکیہ کے وزیر اعظم نے اپنے تعلقات کو ’’جمہوریہ بھارت اور جمہوریہ سلوواکیہ کے درمیان جامع شراکت داری‘‘ کے درجے تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس جامع شراکت داری کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانا، موجودہ تعاون کے نظام کو مضبوط کرنا اور دوطرفہ و کثیر جہتی، دونوں سطحوں پر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔

ہند-بحرالکاہل  خطے کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی، اقتصادی اور تکنیکی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے باہمی طور پر مفید تعاون، علاقائی رابطوں، کھلی بین الاقوامی تجارت، جہاز رانی کی آزادی، تنازعات کے پرامن حل اور قواعد و ضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام کی حمایت میں بھارت اور سلوواکیہ کے درمیان مضبوط شراکت داری کی اہمیت کو تسلیم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے باقاعدہ اعلیٰ سطحی تبادلوں اور مسلسل سیاسی بات چیت کی اہمیت پر زور دیا اور تمام سطحوں پر وفود کے تبادلوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے پارلیمانی تبادلوں، رابطوں اور تعاون کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تاکہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیا جا سکے اور قانون سازی کے تجربات اور بہترین طور طریقوں کا تبادلہ کیا جا سکے۔

رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے ساتھ کثیر جہتی (ملٹی لیٹرل ازم) اور قواعد و ضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اقوام متحدہ اور خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کثیر جہتی اداروں میں جامع اصلاحات کی حمایت کی، تاکہ انہیں عصرِ حاضر کی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کا زیادہ نمائندہ، جامع، مؤثر اور عکاس بنایا جا سکے۔ رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں توسیع کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ اس تناظر میں، بھارت نے ایک اصلاح شدہ اور توسیعی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے لیے سلوواکیہ کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی تنظیموں میں اپنی اپنی امیدواریوں پر مشاورت اور ہم آہنگی جاری رکھنے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورموں پر قریبی تعاون اور خیالات کا تبادلہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ سلوواکیہ نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کی رکنیت کے لیے اپنے تعمیری اندازِ فکر کا اعادہ کیا۔

رہنماؤں نے سلاوکوف 3، ویسیگراڈ 4 اور تھری سیز انیشیٹو جیسے علاقائی گروہوں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی حمایت پر اتفاق کیا، جس میں باہم مربوط اور باہمی طور پر فائدہ مند بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں جو رابطے، پائیدار اقتصادی ترقی اور علاقائی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔ دونوں فریقوں نے بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر مبنی ایک آزاد، کھلے، پرامن اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے تئیں اپنے عزم کا مزید اعادہ کیا، جس میں سمندری قوانین پر اقوام متحدہ کا کنونشن بھی شامل ہے۔

رہنماؤں نے دوطرفہ شراکت داری کے اہم ستونوں میں سے ایک کے طور پر دفاعی اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے متعلقہ دفاعی حکام کے درمیان باقاعدہ مشاورت اور تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دفاعی ٹیکنالوجیز، استعداد کار میں اضافے، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور دفاعی صنعتی تعاون سمیت دیگر شعبوں میں وسیع تر اشتراکِ عمل کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ اس تناظر میں، رہنماؤں نے دونوں فریقوں کے درمیان دفاعی تعاون پر مبنی مفاہمتی مکتوب (لیٹر آف انٹینٹ) پر دستخط کا خیرمقدم کیا، جو دفاعی شعبے میں باہمی طور پر مفید شراکت داری کو فروغ دے گا۔

رہنماؤں نے قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت  کی تعمیر میں تعاون کو مضبوط بنانے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کیا اور لچکدار بنیادی ڈھانچے، استعداد کار میں اضافے، معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کے شعبوں میں اشتراکِ عمل کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔

رہنماؤں نے ایک کھلی، محفوظ، قابلِ رسائی، مستحکم، باہم مربوط، لچکدار اور پرامن ڈیجیٹل فضا کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ، اہم معلوماتی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور سائبر جرائم کی روک تھام اور ان کے سدِباب کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے رمز نویسی (کرپٹو گرافی) کو درپیش ابھرتے ہوئے کوانٹم خطرات کے خلاف معلوماتی ٹیکنالوجی کے نظام کو محفوظ بنانے میں ایک دوسرے کی حمایت کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا، جس میں پوسٹ -کوانٹم سیکورٹی کے مراحل کے لیے تیاری بھی شامل ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے نوٹ کیا کہ اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور پوسٹ- کوانٹم رمز نویسی کے شعبے میں دستخط شدہ تعاونی یادداشت کے ذریعے اس طرح کے تعاون کو مزید سہولت ملے گی۔

دونوں رہنماؤں نے سرحد پار دہشت گردی سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی اور 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردی کے سدِباب کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے جامع اور پائیدار انداز میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا۔ رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف دوطرفہ اور کثیر جہتی تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، جس میں اقوام متحدہ کا فریم ورک بھی شامل ہےاور دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کے ذریعے نامزد کردہ تنظیمیں اور ان سے وابستہ افراد، ان کے کارندے، سرپرست، مالی معاونت فراہم کرنے والے اور حامی شامل ہیں۔ انہوں نے دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکب افراد، منتظمین اور سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرانے کی اہمیت پر مزید زور دیا اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کے اندر بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق جامع کنونشن (سی سی آئی ٹی) کو جلد از جلد حتمی شکل دینے اور اسے اپنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

جنوری 2026 میں بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے(ایف ٹی اے) کے مذاکرات کی تکمیل اور نئے مشترکہ بھارت-یورپی یونین جامع اسٹریٹجک ایجنڈے کا خیرمقدم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے نوٹ کیا کہ یہ آزاد تجارتی معاہدہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے اہم ویلیو چینز کو متنوع بنا کر اور نئی منڈیوں کو کھول کر تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے اس معاہدے پر جلد دستخط کرنے اور بروقت عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے اعلیٰ امکانی شعبوں کی نشان دہی اور ان کے فروغ کے لیے ’’بھارت-سلوواکیہ مشترکہ اقتصادی کمیٹی‘‘ کے کردار کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے سلوواکیہ کے ترقی یافتہ صنعتی نظام اور بھارت کی وسیع صلاحیت، جدت طرازی کے نظام اور تکنیکی استعداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، آٹوموٹو (گاڑیوں کی صنعت)، الیکٹرانکس اور دیگر جدید مینوفیکچرنگ صنعتوں جیسے شعبوں میں دوطرفہ تجارت اور دوطرفہ سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر بڑھانے کے راستے تلاش کرنے کا عزم کیا، جس میں خاص طور پر اعلیٰ قدر کے حامل (ہائی ویلیو ایڈڈ) اشتراک عمل پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

دونوں فریقوں نے خالص صفر اخراج (نیٹ زیرو ایمیشنز) کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جس میں ماحول دوست توانائی کی منتقلی (گرین انرجی ٹرانزیشن) کے لیے ٹیکنالوجیز کے تبادلے اور صاف، قابل اعتماد اور لچکدار توانائی کے نظام کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

رہنماؤں نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ توانائی کے ذرائع کو متنوع بنا کر توانائی کے تحفظ، پائیداری اور لچک کو فروغ دیا جا سکے، جس میں جوہری توانائی اور ارضیاتی حرارتی توانائی (جیو تھرمل پاور) شامل ہیں۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق، مہارت کے تبادلے اور استعداد کار میں اضافے کے اقدامات کے ذریعے تعاون کو گہرا کرنے کے ارادے کا اظہار کیا۔

رہنماؤں نے موسمیات اور  ہائیڈرولوجی (پانی کے نظام کا علم) کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جس میں پانی کے وسائل کے مؤثر و پائیدار انتظام اور ڈیموں کی حفاظت میں مہارت اور بہترین طور طریقوں کا تبادلہ شامل ہے۔ انہوں نے پانی کے ذرائع کی پائیداری، دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی، پانی کی صفائی کی ٹیکنالوجیز، استعداد کار میں اضافے اور عوامی شمولیت جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے ارادے کا اظہار کیا اور پانی کے تحفظ کو بڑھانے اور محفوظ پینے کے پانی تک پائیدار رسائی کو یقینی بنانے کے لیے دیہی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

رابطے کو شراکت داری کے ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) ستون کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے، دونوں فریقوں نے گاڑیوں (آٹوموٹو) اور ریلوے کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدت طرازی اور مہارتوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا تاکہ مسابقت کو بڑھایا جا سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور رابطے کو فروغ دینے کے لیے وسطی یورپی نقل و حمل کے مرکز کے طور پر سلوواکیہ کی پوزیشن اور بھارت کی بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (صنعتی پیداوار) کی صلاحیتوں کے امکانات کو بھی نوٹ کیا۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے اقتصادی، کاروباری اور عوامی تبادلوں کو آسان بنانے کے لیے بھارت اور سلوواکیہ کے درمیان براہِ راست ہوائی رابطے کی راہیں تلاش کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔

دونوں رہنماؤں نے دہلی میں منعقدہ ’’اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘‘(مصنوعی ذہانت کے اثرات سے متعلق سربراہی کانفرنس) کے کامیاب نتائج کو سراہا، جس میں جمہوریہ سلوواکیہ کے صدر، عالی مرتبت پیٹر پیلیگرینی نے شرکت کی تھی۔ دونوں فریقوں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے متعلق مفاہمت ناموں پر دستخط کا خیرمقدم کیا، جو ڈیجیٹل شعبے میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کریں گے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹلیجنس)، سیمی کنڈکٹرز، اسٹارٹ اپس، جدت طرازی کے نظام، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، تاکہ جدت پر مبنی ترقی اور باہمی طور پر مفید شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔ دونوں فریقوں نے نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بشمول 5جی کے استعمال کے طریقے، 6جی کی معیاربندی، انٹرنیٹ آف تھنگز(آئی او ٹی) اور مشین سے مشین(ایم 2 ایم) ایپلی کیشنز میں تعاون کے راستے تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کے شعبے میں اپنے اپنے خلائی نظام کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے جدت طرازی اور جدید خلائی ٹیکنالوجیز کے فروغ کی حوصلہ افزائی کے لیے سائنسی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ ساتھ صنعت کے شراکت داروں کے درمیان تبادلوں کو بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

رہنماؤں نے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں باقاعدہ بات چیت برقرار رکھنے اور تعاون کو گہرا کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی، جس میں دواسازی (فارماسیوٹیکل) کی تحقیق و ترقی، ڈیجیٹل صحت کے حل اور صحت کے لیے انسانی وسائل کو مضبوط بنانے پر خاص توجہ دی گئی۔ دونوں فریقوں نے عوامی صحت کے انتظام میں بہترین طور طریقوں کے تبادلے اور اپنی اپنی قومی ترجیحات کے مطابق زیادہ لچکدار، مؤثر اور مریضوں کی سہولت پر مبنی صحت کے نظام کی تعمیر کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے گہرے تعلیمی اور سائنسی تبادلوں کو فروغ دینے کی غرض سے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی(ایس ٹی ای ایم) اور انسانیات (ہومینیٹیز) کے شعبوں پر خاص توجہ کے ساتھ طلبہ، ماہرین تعلیم اور محققین کی آمد و رفت کو بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان موجودہ انتظامات اور اشتراکِ عمل کا جائزہ لیا اور ان کی مزید توسیع اور تنوع کی حوصلہ افزائی کی۔ دونوں فریقوں نے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبے میں متعلقہ وزارت ہائے تعلیم کے درمیان ایک مفاہمت نامے کی تکمیل کا بھی خیرمقدم کیا، جو تعلیمی رابطوں کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرے گا۔

رہنماؤں نے بھارت اور سلوواکیہ کے عوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو گہرا کرنے اور دوستی کے رشتوں کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ثقافتی تبادلوں، سیاحت اور عوامی رابطوں کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے فنکاروں اور ثقافتی ٹولیوں کے باقاعدہ تبادلوں، نمائشوں کے انعقاد اور تہواروں میں شرکت کے ذریعے ثقافتی تعاون کو وسعت دینے اور ساتھ ہی دونوں سمتوں میں سیاحت کے بہاؤ کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ رہنماؤں نے صوتی و بصری تخلیق (آڈیو ویژول کری ایشن) سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کا بھی خیرمقدم کیا، جو فلم اور میڈیا پروڈکشن کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی رابطے کو مزید فروغ دے گا۔

رہنماؤں نے ہنرمند پیشہ ور افراد کی منظم، محفوظ اور قانونی آمد و رفت کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے جنوری 2026 میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے ’’نقل و حرکت پر تعاون کے جامع فریم ورک‘‘ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے نقل و حرکت کو آسان بنانے اور بھارت اور سلوواکیہ کے متعلقہ حکام کے درمیان معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے لیبر مائیگریشن  (مزدوروں کی نقل مکانی)کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقوں نے سماجی تحفظ کے معاہدے (سوشل سیکورٹی ایگریمنٹ) کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے کام کرنے پر بھی اتفاق کیا، جو بھارت اور سلوواکیہ کے درمیان نقل و حرکت کرنے والےکام کاجیپیشہ ور افراد کی فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

رہنماؤں نے نوٹ کیا کہ عوام کی بڑھتی ہوئی آمد و رفت اور وسعت پاتے ہوئے عوامی تعلقات کے پیشِ نظر، قونصلیاتی معاملات میں تعاون دونوں ممالک کے لیے مسلسل دلچسپی کا شعبہ رہا ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے قونصلیاتی معاملات میں تعاون کو آسان بنانے کے لیے اپنے اپنے قونصلیاتی حکام کے درمیان باقاعدہ قونصلیاتی مشاورت کا ایک نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

رہنماؤں نے مناسب فعال سطح (فنکشنل لیول) پر جامع شراکت داری پر عمل درآمد کا باقاعدگی سے جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دورہ ، بھارت-سلوواکیہ تعلقات میں بڑی تبدیلی  لانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے اور انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو باہمی روابط کے ایک نئے مرحلے میں لے جانے کا عزم کیا۔

وزرائے اعظم نے کیے گئے اعلانات اور دستخط شدہ مفاہمت ناموں(ایم او یو ز) کا خیرمقدم کیا، جو وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے اپنی اور اپنے وفد کی شاندار مہمان نوازی پر وزیر اعظم فیکو اور سلوواکیہ کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطحی تبادلوں کی رفتار کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

***

ش ح۔م م    ۔ ع د

U-No. 8637


(रिलीज़ आईडी: 2273162) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Manipuri , Bengali , Assamese , Punjabi , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam