مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شہری امور کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ نے ہندوستان کی شہری تبدیلی کے 50 سال مکمل کر لیے


'مضبوط شہری ہندوستان @2047' کے موضوع پر وگیان بھون میں گولڈن جوبلی تقریبات کا انعقاد کیا گیا

ڈاکٹر پی کے مشرا نے کہا کہ جیسے جیسے شہروں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق بڑھتے ہوئے دباؤ اور چیلنجوں کا سامنا ہے، مستقبل کی شہری ترقی کو پیشگی منصوبہ بندی، فطرت پر مبنی حل، سبز بنیادی ڈھانچے اور پائیدار نظاموں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

اس موقع پر نیشنل اربن لرننگ پلیٹ فارم کا بھی آغاز کیا گیا، جو آئی گوٹ-مشن کرم یوگی کے شہری شعبے کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا

प्रविष्टि तिथि: 13 JUN 2026 6:20PM by PIB Delhi

 ہاؤسنگ و شہری امور کی مرکزی وزارت کے تحت کام کرنے والے ممتاز پالیسی تحقیقی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز (این آئی یو اے) نے آج وگیان بھون، نئی دہلی میں ہندوستان میں مربوط اور پائیدار شہری ترقی کے فروغ میں اپنی خدمات کے 50 سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔

گولڈن جوبلی تقریبات "مضبوط شہری ہندوستان @2047" کے موضوع کے تحت منعقد کی گئیں، جن میں آن لائن اور آف لائن ذرائع سے ایک ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔

اس تقریب میں قومی اور بین الاقوامی مندوبین، حکومتِ ہند اور مختلف ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران، پالیسی ساز، شہری ترقی کے ماہرین، محققین، ترقیاتی شراکت داروں اور ہندوستان کی شہری تبدیلی کے عمل سے وابستہ مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

 

ڈاکٹر پی کے مشرا، پرنسپل سکریٹری برائے وزیر اعظم، نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شہری ترقی کے شعبے میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز (این آئی یو اے) کی 50 سالہ خدمات کو سراہا۔

انہوں نے کہا، "جیسے جیسے شہروں کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے دباؤ اور چیلنجوں کا سامنا ہے، مستقبل کی شہری ترقی میں پیشگی منصوبہ بندی، فطرت پر مبنی حل، سبز بنیادی ڈھانچے اور پائیدار نظاموں کو ترجیح دینا ضروری ہوگا۔"

اس موقع پر مرکزی وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور کے سکریٹری جناب سرینواس کاتیکتھلا نے گزشتہ نصف صدی کے دوران شہری شعبے میں این آئی یو اے کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "وکست بھارت @2047 کے ہدف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے شہر صرف ترقی ہی نہیں بلکہ مضبوطی، پائیداری اور طویل مدتی موافقت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بند کیے جائیں۔"

 

جناب ستندر پال سنگھ، ایڈیشنل سکریٹری، وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور اور نائب صدر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز (این آئی یو اے) نے کہا، "آئندہ 50 برسوں میں شہری شعبے کو درپیش چیلنجز نوعیت اور پیمانے دونوں اعتبار سے مختلف ہوں گے، جن سے نمٹنے کے لیے مضبوط اداروں، بہتر علمی وسائل اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔"

این آئی یو اے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر دیبولینا کندو نے کہا، "گزشتہ 50 برسوں کے دوران این آئی یو اے نے تحقیق، پالیسی اور عملی نفاذ کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کیا ہے، ساتھ ہی قومی ترجیحات اور مقامی زمینی حقائق کے درمیان رابطے کو بھی مضبوط بنایا ہے۔"

تقریب کا آغاز ایک خصوصی نمائش سے ہوا جس میں این آئی یو اے کے پچاس سالہ سفر اور ہندوستان کے شہری شعبے میں اس کی اہم خدمات کو پیش کیا گیا۔ نمائش میں 1976 سے اب تک ادارے کی نمایاں کامیابیوں، اہم تحقیقی مطالعات، پالیسی معاونت، صلاحیت سازی کے پروگراموں، شراکت داریوں اور علمی دستاویزات کو اجاگر کیا گیا، جنہوں نے ادارے کی شناخت اور کردار کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

 

اس موقع پر شہری مضبوطی، صلاحیت سازی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم مطبوعات اور اقدامات کا بھی آغاز کیا گیا۔

ان میں "ویژن فار اے ریزیلینٹ اربن انڈیا: بلڈنگ سسٹین ایبل اینڈ فیوچر ریڈی سٹیز" شامل ہے، جس میں شہری منصوبہ بندی، رہائش، تعمیرات، آبی وسائل اور نقل و حمل کے شعبوں میں مضبوط اور پائیدار شہری ترقی کے لیے حکمت عملی پیش کی گئی ہے۔

اسی طرح "انڈرسٹینڈنگ دی نیو جیوگرافی آف انڈیاز اربنائزیشن: اے جیو اسپیشل اپروچ" کے عنوان سے ایک مطالعہ بھی جاری کیا گیا، جس میں بستیوں کی بہتر درجہ بندی اور شہری حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ترمیم شدہ  ڈیگوربا    فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔

تقریب کے دوران "50 ایئرز آف شیپنگ انڈیاز اربن ٹرانسفارمیشن" یعنی بھارت کی شہری تبدیلی کو شکل دینے کے پچاس سال کے عنوان سے ایک یادگاری اشاعت بھی جاری کی گئی، جس میں این آئی یو اے کی گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران تحقیق، پالیسی معاونت، اختراع اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں خدمات اور کردار کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

 

نیشنل اربن لرننگ پلیٹ فارم کا بھی آغاز کیا گیا، جو آئی گوٹ-مشن کرم یوگی کے شہری شعبے کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ یہ اقدام ایک مربوط ہائبرڈ تعلیمی فریم ورک اور چار نئے تکنیکی کورسز کے ذریعے شہری ہندوستان میں تکنیکی صلاحیت سازی کے ایک نئے مرحلے کی شروعات کی علامت ہے۔

تقریبات کے دوران اربن رینیسانس ٹیک پروگرام کی کانووکیشن تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں 127 طلبہ کو اس پروگرام کی کامیاب تکمیل پر اعزاز دیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی شہری حکمرانی اور اختراع کو فروغ دینا ہے۔

جشن کے موقع پر شہری مضبوطی اور پائیدار شہری ترقی سے متعلق اہم موضوعات پر نو تکنیکی مذاکروں کا انعقاد بھی کیا گیا۔

"مضبوط شہری اقتصادی خطے کے لیے شہری حکمرانی اور ادارہ جاتی نظام" کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے، حکومت کے مختلف سطحوں کے درمیان بہتر رابطہ پیدا کرنے اور مربوط علاقائی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

"موسمیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ شہری منصوبہ بندی اور ترقی" کے عنوان سے سیشن میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ ہندوستانی شہر پانی اور گرمی کے بہتر انتظام، شہری ڈھانچے، تعمیراتی مواد، ضابطوں اور محلّہ سطح کی مداخلتوں کے ذریعے کس طرح موسمیاتی حساس منصوبہ بندی کو عملی شکل دے سکتے ہیں، خواہ وہ موجودہ شہری علاقے ہوں یا تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر۔

"رہائش، تعمیر شدہ ماحول اور شہری مضبوطی کے فروغ کے لیے نئی تعمیراتی ٹیکنالوجیز" کے موضوع پر اجلاس میں معاشی، سماجی اور موسمیاتی خطرات کے تناظر میں رہائشی کمزوریوں اور مضبوطی کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ محفوظ، پائیدار اور بدلتے حالات سے مطابقت رکھنے والے تعمیراتی ماحول کی تشکیل میں نئی تعمیراتی ٹیکنالوجیز کے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

 

"روزگار اور شہری مضبوطی" کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ سبز معیشت (گرین ٹرانزیشن)، نگہداشت پر مبنی معیشت (کیئر اکانومی) اور پلیٹ فارم پر مبنی روزگار کے مواقع غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو زیادہ محفوظ اور مستحکم روزگار فراہم کرنے میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اور ان کی معاشی مضبوطی کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے۔

"سرکولیریٹی اور مضبوط وسائل کے نظام" کے عنوان سے سیشن میں روایتی کچرا انتظامیہ سے آگے بڑھتے ہوئے سرکولر ریسورس سسٹمز کی جانب منتقلی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس میں شہری فضلے کے مختلف شعبوں میں کچرے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ، دوبارہ استعمال، وسائل کی قدر میں اضافہ اور شہریوں کی فعال شمولیت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

"شہری مالیات: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، بنیادی ڈھانچہ، ادارے اور موسمیاتی تبدیلی" کے موضوع پر اجلاس میں موسمیاتی مالیات، پبلک پرائیویٹ ساجھے داری ، بلینڈڈ فنانس، اربن چیلنج فنڈ اور شہری بلدیاتی اداروں کی مالی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے میونسپل بانڈ مارکیٹ، خصوصاً گرین بانڈز کے فروغ کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

 

"شہری نقل و حمل کے نظام: مضبوط رابطہ کاری کی جانب" کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں مربوط کثیر النوع نقل و حمل (ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ) ، پائیدار سفری نظام، ٹرانزٹ پر مبنی ترقی، ابتدائی اور آخری مرحلے کی رابطہ کاری (فرسٹ اینڈ لاسٹ مائل کنیکٹیویٹی) ، ذہین ٹرانسپورٹ نظام، حقیقی وقت کے ڈیٹا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ٹرانسپورٹ بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

"صنعت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور عمل: شہری مضبوطی کی جانب" کے عنوان سے سیشن میں شہری مضبوطی کو ایک کثیر جہتی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ صنعت، ماحولیاتی، سماجی اور طرزِ حکمرانی اصول، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی حکمرانی فعال اور مؤثر شہری انتظام کو کس طرح فروغ دے سکتے ہیں۔

"بلڈنگ ٹیم اربن: مضبوط اور ترقی پسند شہری ہندوستان کے لیے تکنیکی صلاحیتوں کا فروغ" کے موضوع پر اجلاس میں مستقبل کی ضروریات کے مطابق مہارتوں، مسلسل سیکھنے کے نظام، ادارہ جاتی صلاحیت، قیادت، جوابدہی اور شہری بلدیاتی اداروں میں بہتر عوامی خدمات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گولڈن جوبلی تقریبات کا اختتام ہندوستان کے شہری شعبے میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز (این آئی یو اے) کی پانچ دہائیوں پر محیط خدمات اور تحقیق، پالیسی معاونت، صلاحیت سازی اور عملی نفاذ میں اس کے مسلسل کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا۔

ادارے کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کے موقع پر اس اعتماد کا اعادہ کیا گیا کہ این آئی یو اے وکست بھارت @2047 کے وژن کے تحت مضبوط، خوشحال، جامع اور پائیدار شہروں کی تعمیر میں آئندہ بھی اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔

 

************

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  8575)


(रिलीज़ आईडी: 2272539) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Tamil , Kannada