کامرس اور صنعت کی وزارتہ
ڈی پی آئی آئی ٹی اور او این ڈی سی نے ڈیجی دکان کے ذریعے بھارت کی 1.4 کروڑ کرانہ دکانوں کے لیے خریداری کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کی غرض سے ایف ایم سی جی شعبے کے سرکردہ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا
صنعتی شعبے کے نمائندگان نے ڈیجی دکان کے دائرۂ کار میں توسیع اور جنرل ٹریڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق سفارشات پر تبادلۂ خیال کیا
प्रविष्टि तिथि:
12 JUN 2026 7:34PM by PIB Delhi
ڈپارٹمنٹ فار پروموشن آف انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ (ڈی پی آئی آئی ٹی) نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) کے اشتراک سے 12 جون 2026 کو سی پی جی راؤنڈ ٹیبل — بھارت کامرس چنتن شیوِر — کا انعقاد کیا۔ اس راؤنڈ ٹیبل میں معروف کنزیومر گڈ کمپنیوں، ڈسٹری بیوٹر نیٹ ورک، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان اور لاجسٹکس شراکت داروں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جہاں بھارت کے جنرل ٹریڈ نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بھارت کا جنرل ٹریڈ نظام، جس میں 1.4 کروڑ سے زائد کرانہ دکانیں شامل ہیں، ایف ایم سی جی فروخت کا تقریباً 75 سے 80 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ تاہم، اس شعبے کا بڑا حصہ اب بھی منتشر آرڈرنگ نظام، محدود انوینٹری معلومات اور دستی فروختی عمل کے تحت کام کر رہا ہے، جس کے باعث خوردہ فروشوں، ڈسٹری بیوٹروں اور برانڈز کو غیر مؤثر نظام کا سامنا ہے۔
مباحثوں کا مرکز ”ڈیجی دکان“ رہا، جو او این ڈی سی کا ایک اقدام ہے اور جس کا مقصد کرانہ دکانوں کے لیے بی ٹو بی خریداری کے عمل کو ڈیجیٹل بنانا ہے۔ ویلیو چین میں مؤثریت بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا یہ پلیٹ فارم کرانہ دکانوں کو براہ راست خریداری کے ذریعے منافع بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ اس سے اسکیموں کی بہتر معلومات، سامان کی فراہمی کی بہتر شرح اور ورکنگ کیپیٹل کے انتظام میں سہولت حاصل ہوتی ہے۔ ڈسٹری بیوٹروں کے لیے یہ اقدام آرڈر اور وصولیوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے اضافی فیلڈ اخراجات کے بغیر مارکیٹ تک وسیع رسائی اور بہتر ریٹیلر کوریج فراہم کرتا ہے۔ برانڈ کے لیے یہ ریٹیلر کی طلب، دکانوں تک براہ راست رسائی اور اسکیموں کے مؤثر نفاذ و نگرانی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ڈیجی دکان کو حیدرآباد میں ابتدائی کامیابی حاصل ہو چکی ہے، جہاں Qwipo کے ذریعے 10,000 سے زائد ریٹیلر اور 35 سے زیادہ برانڈ کو اس پلیٹ فارم سے جوڑا جا چکا ہے۔ حیدرآباد کے بعد، ڈیجی دکان کو 19 جون 2026 کو جے پور میں Salescode کے ذریعے شروع کیا جائے گا، جبکہ آئندہ مہینوں میں ممبئی، بنگلورو اور دہلی-این سی آر تک اس کے دائرۂ کار کو وسعت دی جائے گی۔
صنعتی رہنماؤں نے جنرل ٹریڈ نظام کو درپیش اہم چیلنجوں پر بھی گفتگو کی، جن میں منتشر ریٹیلر روابط، سیل فورس کے بڑھتے اخراجات، انوینٹری سے متعلق غیر مؤثریت، ثانوی فروخت کے محدود اعداد و شمار اور ڈیجیٹل بنیادوں پر قائم نئے ریٹیل ماڈلوں سے بڑھتا ہوا مقابلہ شامل ہیں۔ شرکا نے اس بات پر بھی غور کیا کہ کس طرح اوپن ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ایف ایم سی جی ویلیو چین میں ریٹیلر کی رسائی، ڈسٹری بیوٹر کی پیداواریت، طلب کی منصوبہ بندی اور اسکیموں کی مؤثریت کو بہتر بنا سکتا ہے۔
یہ راؤنڈ ٹیبل مختلف فریقین کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوا جہاں انہوں نے ڈسٹری بیوٹرز کی ڈیجیٹلائزیشن، کیٹلاگ کی معیاری تشکیل، ریٹیلر کی آن بورڈنگ اور ٹیکنالوجی انضمام سے متعلق سفارشات پیش کیں۔ شریک کمپنیوں کو ڈیجی دکان کے اگلے مرحلے میں بانی شراکت داروں کے طور پر تعاون کی دعوت بھی دی گئی۔
راؤنڈ ٹیبل کی صدارت ایڈیشنل سیکریٹری، ڈی پی آئی آئی ٹی، جناب اتیش کمار سنگھ نے کی۔ اس میں ایچ یو ایل، آئی ٹی سی، کوکا کولا، ٹی سی پی ایل، کیون کیئر، میریکو، بیکانو، لوریئل، مون بیوریجز، انمول انڈسٹریز، نیسلے اور کرانہ کنگ جیسی کمپنیوں نے شرکت کی۔ شریک اداروں نے ڈیجی دکان اقدام میں تعاون اور شمولیت میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
U: 8554
(रिलीज़ आईडी: 2272333)
आगंतुक पटल : 7