الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
نیا آدھار ایپ قوم کے نام وقف
نیا آدھار ایپ شناختی توثیق کی نئے سرے سے تعریف کرتا ہے، جس میں عوام کو مرکز میں رکھا گیا ہے
معلومات کا منتخب اشتراک ، رضامندی کا کنٹرول آپ کی انگلیوں میں
دکھائیں، شیئر کریں، توثیق کریں: آدھار ایپ آدھار کے استعمال کو فروغ دے کرزندگی کو آسان بنائے گا
प्रविष्टि तिथि:
28 JAN 2026 8:47PM by PIB Delhi
وزارتتجارت و صنعت اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرمملکت، جناب جتن پرساد نے آج نئی آدھار ایپ قوم کے نام وقف کیا، جو لوگوں کو مرکز میں رکھتے ہوئے شناختی توثیق کے عمل میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

یونیک آئیڈینٹی فیکیشن اتھارٹی آف انڈیا(یو آئی ڈی اے آئی) کی جانب سے تیار کردہ’آدھار ایپ‘ ایک اگلی نسل کی موبائل ایپلی کیشن ہے، جسے آدھار نمبر ہولڈرز(اے این ایچ) کو اپنی ڈیجیٹل شناخت کو پاس رکھنے، شیئر کرنے، دکھانے اور اس کی توثیق کرنے کے لیے ایک محفوظ، آسان اور پرائیویسی کو اولیت دینے والا طریقہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
نئے ایپ کی رونمائی کے بعد جناب پرساد نے شاندار کام پر یو آئی ڈی اے آئی کو مبارکباد پیش کی اور اس بات پر زور دیا کہ آدھار حکومت کے لیے ڈیجیٹل حکمرانی کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو آئی ڈی اے آئی خدمات کی فراہمی کو مسائل سے پاک اور ہموار بنا رہا ہےاور نیا ایپ اس عمل کو مزید تیز کرے گی۔

ہندوستان کے اتنی بڑی سطح پر ایک ڈیجیٹل شناختی نظام محض ایک ٹیکنالوجیکل کامیابی نہیں ہے؛ بلکہ یہ عوامی اعتماد،بہتر طرز حکومت اور شہریوں کی خودمختاری کا معاملہ ہے۔ نیا آدھار ایپ شہریوں کو کنٹرول، رضامندی اور سہولت فراہم کر کے ان اصولوں کو مجسم کرتی ہے۔
اپنے خطاب میں ایم ای آئی ٹی وائی کے سکریٹری ایس کرشنن نے کہا کہ نیا ایپ ڈیٹا کے کم سے کم استعمال (ڈیٹا منیمائزیشن) کو فروغ دے گا، سیکورٹی میں اضافہ کرے گا اورساتھ ہی آدھار نمبر ہولڈرز کی جانب سے معلومات کے انتخابی اشتراک کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
صارفین کے تمام طبقات کے لیے استعمال میں آسانی کومد نظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا یہ آدھار ایپ، حقیقی زندگی کے وسیع تر معاملات میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ان میں آف لائن ویریفکیشن سیکنگ اینٹٹی(او وی ایس ای) کے کیو آر کوڈ اسکیننگ کے ذریعے ہوٹل کے چیک ان شامل ہیں۔ یہ ایپ اختیاری فیس ویریفکیشن (چہرے کی توثیق)، سنیما ٹکٹ کی بکنگ کے لیے عمر کی توثیق، زائرین اور تیمارداروں کے لیے ہسپتال میں داخلے، اور عارضی ملازمین اور سروس پارٹنرز کی توثیق جیسے کئی دیگر معاملات کی اجازت دیتا ہے۔
اس ایپ میں موجودگی کے ثبوت کے لیے فیس ویریفکیشن (چہرے کی توثیق)، صرف ایک کلک میں بائیومیٹرک لاک/انلاک، توثیق کی تاریخ (آتھنٹیکیشن ہسٹری) دیکھنا اور رابطے کی تفصیلات آسانی سے شیئر کرنے کے لیے کیو آرکوڈ پر مبنی کانٹیکٹ کارڈ جیسی جدید خصوصیات بھی شامل ہیں۔
یہ ایک ہی ڈیوائس پر زیادہ سے زیادہ پانچ آدھار پروفائلز کے انتظام کی اجازت دیتا ہے، جس سے ’ایک خاندان - ایک ایپ‘ کا تصور سچ ثابت ہوتا ہے۔ پتے کی تبدیلی کے علاوہ شہری اب ایپ کے ذریعے اپنا رجسٹرڈ موبائل نمبر بھی اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں اور مستقبل میں اس میں مزید اپ ڈیٹ سروسز شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
یو آئی ڈی اے آئی کے چیئرمین جناب نیل کنٹھ مشرا نے کہا کہ کاغذی نظام سے کاغذ کے بغیر (پیپر لیس) نظام کی طرف یہ سفر ایک بڑا قدم ہے اور یو آئی ڈی اے آئی اپنے کاموں اور اختراعات میں عوام کو مرکز میں رکھے گا۔
یو آئی ڈی اے آئی کے سی ای او جناب بھونیش کمار نے کہا کہ اس ایپ کی ایک اہم خصوصیت انتخابی شناختی معلومات کا اشتراک (سلیکٹیو آئیڈینٹیٹی شیئرنگ) ہے۔ شہری فرمائش کرنے والے اداروں کی طرف سے تیار کردہ کسٹمائزڈ کیو آر کوڈ کے ذریعے کسی خاص مقصد کے لیے صرف ضروری اور مخصوص شناختی معلومات ہی شیئر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے یہ یقینی ہوتا ہے کہ آدھار نمبر تصدیق کنندگان کے پاس محفوظ نہیں ہوتے اور صرف ڈیجیٹل طور پر دستخط شدہ تصدیق کے قابل شناختی معلومات ہی شیئر کی جاتی ہیں، جس سے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ(ڈی پی ڈی پی) کے مطابق ڈیٹا کا کم سے کم استعمال یقینی بنتا ہے۔
نیا آدھار ایپ کے آغاز کے ساتھ ہندوستان ایک بار پھر اپنے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ایک بنیادی اصول کی توثیق کرتا ہےیعنی ’ ٹیکنالوجی ہمیشہ عوامی مرکزیت، شمولیت اور اعتماد پر مبنی ہونی چاہیے‘۔
*****
) ش ح – م ع ن- ع د )
U.No. 8324
(रिलीज़ आईडी: 2272027)
आगंतुक पटल : 5