سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
شاہراہ کےہر حصے پر رہے گی نظر:این ایس وی کے ذریعے بھارت کی قومی شاہراہوں کومزید محفوظ بنایا جا رہا ہے
प्रविष्टि तिथि:
11 JUN 2026 1:45PM by PIB Delhi
بھارت کی مصروف ترین قومی شاہراہوں پر ایک خوشگوار صبح، ایک چمکدار سفید گاڑی آہستگی سے آگے بڑھتی ہے۔ یہ نہ تو پولیس کی گاڑی ہے اور نہ ہی سڑکوں کی مرمت ک کرنےوالا ٹرک، بلکہ یہ مستقبل کی ٹیکنالوجی سے لیس ایک جدید ترین نظام ہے۔ اس کی چھت پر نصب اسکینر غیر مرئی شعاعیں خارج کرتے ہیں، ہائی ریزولوشن کیمرے خاموشی سے کام کرتے ہیں اور جدید تھری ڈی لیزر سینسر سڑک کے ہر انچ کی نقشہ بندی شروع کر دیتے ہیں۔
یہ ہے نیٹ ورک سروے وہیکل (این ایس وی) ایک جدید اختراع جو لیزر پروفائلرز، جی پی ایس اور جدید ترین امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ ہر بار سڑک پر گزرنے کے ساتھ یہ گاڑی سڑک کی سطح کو اسکین کرتی ہے، دراڑوں، گڑھوں اور ناہمواریوں کی نشاندہی کرتی ہے اور قومی شاہراہوں کو ایک متحرک ڈیجیٹل نقشے میں تبدیل کر دیتی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا سفر معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ بھارت میں قومی شاہراہوں کی نگرانی، دیکھ بھال اور حفاظت کے نظام میں ایک انقلابی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
بھارت کی قومی شاہراہوں پر سفر کرنے والوں کے تجربے کو مزید محفوظ، آرام دہ اور بہتر بنانے کے لیےسڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت نے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ملک بھر کی قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک پر جدید تھری ڈی لیزر پر مبنی نظام سے لیس نیٹ ورک سروے وہیکلز (این ایس وی) تعینات کئے جا رہے ہیں۔قومی شاہراہوں کے مختلف راہداریوں پر تعینات یہ جدید اور ہائی ٹیک گاڑیاں محض سروے کرنے والی مشینیں نہیں بلکہ سڑکوں کے معیار کی ڈیجیٹل محافظ ہیں۔ سڑک کے ہر حصے کو اسکین کرتے ہوئے یہ گاڑیاں سڑک کی ساخت، بنیادی ڈھانچے اور سطح کی حالت سے متعلق تفصیلی معلومات جمع کرتی ہیں، جبکہ گڑھوں، دراڑوں، مرمت شدہ حصوں اور دیگر نقائص کی درست نشاندہی بھی کرتی ہیں۔

عوامی بہبود کیلئے جدت پر مبنی اقدامات
تھری ڈی لیزر ٹیکنالوجی کو اپنانا سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت(ایم او آر ٹی ایچ) کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید اختراعات کو عوامی مفاد کے لئے بروئے کار لایا جائے۔ یہ اقدام قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال کے نظام میں ایک انقلابی تبدیلی لانے والا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف سڑکوں کے نقائص کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی بلکہ ان کی فوری مرمت بھی یقینی بنائی جائے گی تاکہ لاکھوں مسافروں کو زیادہ ہموار، محفوظ اور آرام دہ سفر میسر آ سکے۔جن کاموں کی تکمیل پہلے کئی مہینوں میں ہوتی تھی، وہ اب چند ہی دنوں میں ممکن ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں سڑکوں کی حفاظت میں اضافہ، مرمتی کاموں میں تیزی اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان معلومات کی شفاف اور مؤثر ترسیل یقینی بنائی جا رہی ہے۔
یومیہ 80 کلومیٹر سے 300 کلومیٹر تک سروے
ماضی میں سڑکوں کے سروے کے دوران ایک دن میں صرف 20 سے 80 کلومیٹر تک کا علاقہ ہی کور کیا جا سکتا تھا۔ تاہم، جدید ٹیکنالوجی سے لیس نیٹ ورک سروے وہیکلز (این ایس وی) کی بدولت اب روزانہ 300 کلومیٹر تک قومی شاہراہوں کا سروے ممکن ہو گیا ہے۔کارکردگی میں اس نمایاں اضافے سے سڑکوں کے نقائص کی بروقت نشاندہی ممکن ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مرمتی کارروائی تیزی سے شروع کی جا سکتی ہے اور قومی شاہراہوں کو زیادہ محفوظ اور بہتر حالت میں برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
تین مرحلوں پر مشتمل محفوظ اور مرکزی ڈیٹا فلو کا نظام
- خام سروے ڈیٹا کو خفیہ (اینکرپٹ) کر کے 48 گھنٹوں کے اندر مرکزی این ایس وی مرکز کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔
- ماہر ٹیمیں، جو پانچ زونز میں اسٹریٹجک طور پر تعینات ہیں، نتائج کی نگرانی کرتی ہیں اور منظم طریقے سے رپورٹنگ کرتی ہیں۔
- 10 دن کے اندر اندر، خام ڈیٹا کو قابلِ عمل معلومات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو پہلے 4 سے 6 ماہ تک جاری رہتا تھا۔
کوالٹی کی ضمانت، ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ترسیل
ہر رپورٹ کو قبول کیے جانے سے قبل ماہرین کے ذریعے ایک سخت سوال و جواب (Q&A) کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ تصدیق کے بعد، تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز خودکار اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں، جس سے انسانی عمل دخل ختم ہو جاتی ہے اور رابطے کا عمل تیز، ہموار اور مؤثر بن جاتا ہے۔
اسمارٹ مینٹیننس کیلئے اے آئی پر مبنی شاہراہوں کی نگرانی
نئے این ایس وی نظام کے تحت بھارت کی قومی شاہراہوں سے حاصل ہونے والا ہر ڈیٹا براہِ راست این ایچ اے آئی کے اے آئی بیسڈ ڈیٹا لیک پورٹل پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔ اس سے ماہر ٹیمیں فوری طور پر معلومات کا تجزیہ کر سکتی ہیں اور شواہد پر مبنی مرمت اور دیکھ بھال کے فیصلے بغیر کسی تاخیر کے کر سکتی ہیں۔
ہر حصے کا جامع کوریج
یہ سروے دو لین سے لے کر آٹھ لین تک کی قومی شاہراہوں پر کیے جائیں گے، جو مختلف جغرافیائی خطوں کا احاطہ کریں گے ، جن میں مصروف مال بردار راہداریاں، زیادہ ٹریفک والے حصے اور موسم سے متاثرہ علاقے شامل ہیں۔ یہ سروے ہر چھ ماہ بعد باقاعدگی سے کئے جائیں گے تاکہ کسی بھی خرابی یا نقص کو نظر انداز نہ کیا جا سکے۔

شہریوں کیلئےبہتر نتائج
طویل مدت میں یہ اقدام اثاثہ جات کے انتظام اور سڑکوں کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بناتا ہے، جس کے نتیجے میں ہموار سفر، محفوظ نقل و حرکت اور زیادہ شفافیت حاصل ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید سروے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت(ایم او آر ٹی ایچ) اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ بھارت کی قومی شاہراہیں صرف تعمیر ہی نہ ہوں بلکہ انہیں عوامی مفاد کے لئے پائیدار طور پر برقرار بھی رکھا جائے۔
سفر میں استعمال ہونے والی ایپ
ایک نئی تیار کردہ موبائل ایپ سائٹ انسپکٹرز کو درج ذیل سہولیات فراہم کرتی ہے:
- این ایس وی کے نتائج کو بروقت دیکھنا
- معائنے کے دوران تبصرے اور جیو-ٹیگ شدہ تصاویر اپ لوڈ کرنا
- موقع پر ہی مرمتی کاموں کی پیش رفت کو ٹریک کرنا
یہ نظام ہر مرحلے پر شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بناتا ہے، جس سے نگرانی اور دیکھ بھال کا عمل مزید مؤثر اور قابلِ اعتماد بن جاتا ہے۔
خرابیوں کی درستگی کے ساتھ عمل کی تکمیل
پچھلے نظام کے برعکس جو صرف نگرانی تک محدود تھے، نیا این ایس وی فریم ورک اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پورا عمل تب تک مکمل نہیں سمجھا جاتا جب تک تمام نقائص مکمل طور پر دور نہ کر دیے جائیں۔ سڑکوں کی دیکھ بھال کرنے والی ایجنسیوں کو اس وقت تک جوابدہ رکھا جاتا ہے جب تک ہر رپورٹ شدہ مسئلہ 100 فیصد حل نہ ہو جائے۔
یہ نیا اقدام قومی شاہراہوں کے انتظام میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے ، جو ردِعمل پر مبنی مرمت سے آگے بڑھ کر پیشگی اور فعال ردعمل کی طرف جاتا ہے۔ مسائل کی بروقت نشاندہی کے ذریعے این ایس وی سڑکوں کی خرابی سے ہونے والے حادثات میں کمی لانے اور تمام مسافروں کے لیے ہموار اور محفوظ سفر کو یقینی بنانے میں مدد کریں گے۔
یہ محض ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں بلکہ جوابدہی، ڈیجیٹل گورننس اور ڈیٹا پر مبنی بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کی سمت ایک جرأت مندانہ قدم ہے۔
مزید تفصیلات کیلئے براہ کرم نیچے دیے گئے لنک سے رجوع کریں۔
https://drive.google.com/file/d/1nFtKZHQFqCE7ZpSYeMZsbacvue9BHUu_/view
***
ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن
UN.8274
(रिलीज़ आईडी: 2271606)
आगंतुक पटल : 9