کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
حکومت ہند نے پنجاب کے خریف 2026 سیزن کے لیے یوریا کی مضبوط دستیابی کو یقینی بنایا؛ 9 لاکھ میٹرک ٹن کی متناسب ضرورت کے مقابلے میں 10.71 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کی فراہمی
پنجاب میں یوریا کی کوئی قلت نہیں: مناسب اختتامی ذخائر اور پیشگی وافر سپلائی نے ریاست میں دھان کی پیوند کاری کی ضروریات کو محفوظ بنایا
عالمی جغرافیائی و سیاسی رکاوٹوں سے ملکی کھاد کی فراہمی کو محفوظ رکھنے کے لیے جامع اقدامات فعال؛ مسلسل نگرانی کے باعث پنجاب میں کھاد کے ذخائر وافر مقدار میں برقرار
प्रविष्टि तिथि:
10 JUN 2026 6:29PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے محکمہ کھاد نے اس بات کی مضبوط یقین دہانی کرائی ہے کہ جاری خریف 2026 زرعی سیزن کے لیے ریاست پنجاب میں یوریا کی وافر دستیابی موجود ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق محکمہ کھاد (ڈی او ایف) نے پنجاب کے لیے یوریا کی فراہمی کے نظام کو نہایت مستحکم اور ضرورت سے زائد سطح پر برقرار رکھا ہے۔
پنجاب میں ذخائر کی صورتحال: دھان کے سیزن کے لیے مکمل تیاری
پنجاب کے لیے خریف 2026 سیزن میں مجموعی طور پر 14.50 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) یوریا کی ضرورت کے مقابلے میں، 9 جون 2026 تک متناسب ضرورت 9.0 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کی گئی تھی۔ اس کے برخلاف محکمہ کھاد نے 10.71 لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی دستیابی یقینی بنائی۔ اس فراہم کردہ مقدار میں سے ریاست میں یوریا کی حقیقی فروخت 6.25 لاکھ میٹرک ٹن رہی، جس کے نتیجے میں 4.46 لاکھ میٹرک ٹن کا خاطر خواہ اختتامی ذخیرہ فوری طور پر دستیاب ہے۔
اس کے علاوہ 39,167 میٹرک ٹن (0.39 لاکھ میٹرک ٹن) اضافی یوریا اس وقت پنجاب کے لیے راستے میں ہے۔ ریاستی حکومت کے ریکارڈ کی زمینی جانچ سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاست میں دھان کی پیوند کاری ابھی مکمل طور پر شروع نہیں ہوئی، جس کے باعث موجودہ ذخائر ابھرتی ہوئی زرعی ضروریات کو بآسانی پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔
خصوصی طور پر ضلع امرتسر میں خریف 2026 سیزن کے دوران اب تک یوریا کی مجموعی دستیابی 64,720 میٹرک ٹن (0.65 لاکھ میٹرک ٹن) رہی ہے۔ موجودہ وقت میں صرف ضلع امرتسر میں ہی 32,956 میٹرک ٹن (0.33 لاکھ میٹرک ٹن) یوریا کا مضبوط ذخیرہ دستیاب ہے۔
پیشگی وافر فراہمی اور فروخت کی رفتار
موجودہ مضبوط ذخائر کی صورتحال خریف سیزن سے قبل مرکزی حکومت کی جانب سے اختیار کی گئی جارحانہ پیشگی فراہمی کی حکمت عملی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ جنوری 2026 سے مارچ 2026 کے درمیان 3.50 لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی مجموعی ضرورت کے مقابلے میں محکمہ کھاد نے پنجاب کو 6.08 لاکھ میٹرک ٹن یوریا فراہم کیا، جو کہ اضافی ضرورت اور زیادہ طلب والے مہینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2.58 لاکھ میٹرک ٹن زیادہ فراہمی کے برابر ہے۔
1 مارچ 2026 سے 9 جون 2026 کے درمیان ریاست میں یوریا کی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 7.10 لاکھ میٹرک ٹن کے مقابلے میں 7.86 لاکھ میٹرک ٹن رہی، یعنی 0.76 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال ربیع 2025-26 سیزن کے بعد سامنے آئی، جب پنجاب میں یوریا کی مجموعی ضرورت 15 لاکھ میٹرک ٹن تھی، جبکہ محکمہ کھاد نے 19.43 لاکھ میٹرک ٹن کی دستیابی یقینی بنائی۔ ربیع 2025-26 کے دوران یوریا کی فروخت 15.45 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی، جو ابتدائی تخمینے سے 45,000 میٹرک ٹن زیادہ تھی۔
اگرچہ اس بھاری مقدار میں کھپت نے ریاستی حکومت کے دستیاب بفر ذخائر کو متاثر کیا ہو سکتا ہے، تاہم مرکزی حکومت نے مسلسل دوبارہ فراہمی کے ذریعے سپلائی نظام کو کامیابی کے ساتھ مستحکم رکھا ہے۔
وسیع تر منظرنامہ: عالمی سپلائی رکاوٹوں سے بھارت کا تحفظ
قومی اور عالمی سطح پر کھاد کی سپلائی چین اس وقت ایک نہایت غیر یقینی جغرافیائی و سیاسی صورتحال سے گزر رہی ہے۔ خاص طور پر امریکہ-اسرائیل اور ایران تنازع نے عالمی سطح پر کھاد کی دستیابی کو شدید متاثر کیا ہے اور بحری تجارتی راستوں میں بھی خلل پیدا کیا ہے۔
ان بیرونی چیلنجوں کے باوجود محکمہ کھاد نے فعال داخلی پالیسی اقدامات کے ذریعے بھارتی زراعت کو عالمی جھٹکوں سے محفوظ رکھا ہے۔ حکومت ہند نے قدرتی گیس کے لیے ”ایمپاورڈ پول مینجمنٹ کمیٹی“ نظام کو مؤثر انداز میں فعال کیا، جس کے تحت فوری خریداری کے ذریعے ملکی پیداوار کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لایا گیا۔ اس داخلی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ پورے سال کے دوران منظم انداز میں درآمدات بھی یقینی بنائی گئیں، تاکہ سپلائی میں تسلسل برقرار رہے۔
ریاستی ذمہ داری اور بے ضابطگیوں کے خلاف سخت نگرانی
اگرچہ مرکزی حکومت ریاستی سطح پر وافر مقدار میں کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے، تاہم اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہموار اور منصفانہ خردہ تقسیم کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ اضلاع کے درمیان اور اضلاع کے اندر سپلائی کے نظام کو مؤثر بنائیں تاکہ مقامی سطح پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا قلت سے بچا جا سکے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بھاری سبسڈی والی یوریا صرف زرعی مقاصد کے لیے مستحق کسانوں تک پہنچے، مرکزی حکومت نے متعدد اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیے ہیں۔ حال ہی میں سکریٹری (محکمہ زراعت و کسان بہبود) اور سکریٹری (محکمہ کھاد) کی مشترکہ صدارت میں ایک ویڈیو کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں ریاستی حکام کو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور زرعی سبسڈی والی یوریا کو غیر زرعی صنعتی یونٹس کی جانب غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات دی گئیں۔
کھاد تیار کرنے والی اور درآمد کرنے والی کمپنیوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مستعد رہیں اور ریاستوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری ردِعمل کو یقینی بنائیں۔ حکومتِ ہند، ریاستی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں، کسان برادری کی مدد اور خریف 2026 سیزن کو کامیاب بنانے کے لیے چوبیس گھنٹے صورتحال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
10-06-2026
U: 8239
(रिलीज़ आईडी: 2271360)
आगंतुक पटल : 6