PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان


جامع اور محفوظ زچگی کی صحت کی خدمات کی فراہمی کا ایک دہائی پر محیط سفر

प्रविष्टि तिथि: 08 JUN 2026 9:41PM by PIB Delhi

کلیدی نکات

  • جون- 2016 میں شروع کی گئی پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) کے تحت حاملہ خواتین، خصوصاً حمل کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کے دوران مفت اور معیاری قبل از پیدائش (اینٹی نیٹل) طبی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔
  • ہر ماہ کی9 تاریخ کو نامزد سرکاری صحت مراکز میں منعقد ہونے والے اس پروگرام کا مقصد حمل کے دوران خطرات کی بروقت نشاندہی، وقت پر طبی مداخلت اور محفوظ زچگی کو یقینی بنانا ہے۔
  • 9 جون 2026 کو اس منصوبے کے دس سال مکمل ہونے پر7.50 کروڑ سے زائد حاملہ خواتین معمول کی اینٹی نیٹل (اے این سی) جانچ کے علاوہ پی ایم ایس ایم اےکے تحت قبل از پیدائش طبی خدمات سے مستفید ہو چکی ہیں۔
  • سال2022 میں شروع کیے گئےتوسیع شدہ پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان کے ذریعے زیادہ خطرے والی حاملہ خواتین کی مسلسل طبی نگرانی، فالو اَپ اور مؤثر ٹریکنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

 

زچگی کی صحت کیوں اہم ہے؟

ہر حمل اپنے ساتھ ایک نئی امید لے کر آتا ہے—صرف ایک خاندان کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری برادری اور قوم کے مستقبل کے لیے بھی۔ اسی لیے محفوظ حمل اور صحت مند بچے کی پیدائش کو یقینی بنانا عوامی صحت اور انسانی ترقی دونوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم، حمل کے دوران بعض ایسے طبی خطرات بھی موجود ہوتے ہیں جن کی اگر بروقت تشخیص اور مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو ماں اور بچے دونوں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔اسی وجہ سے زچگی کی صحت کسی بھی ملک کے نظام صحت کی مضبوطی، مؤثریت اور شمولیت پر مبنی خدمات کا ایک اہم اور واضح پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

 

زچگی کی شرحِ اموات (ایم ایم آر) کیا ہے؟

زچگی کی شرحِ اموات (ایم ایم آر) سے مراد کسی مخصوص مدت کے دوران ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر ہونے والی زچگی سے متعلق اموات کی تعداد ہے۔زچگی سے متعلق موت اس خاتون کی وفات کو کہا جاتا ہے جو حمل کے دوران یا حمل کے خاتمے کے42 دن کے اندر ایسے اسباب کی وجہ سے وفات پا جائے جو حمل، زچگی یا اس کے طبی انتظام سے براہِ راست متعلق ہوں یا ان کی وجہ سے شدت اختیار کر گئے ہوں۔البتہ حادثاتی یا دیگر غیر متعلقہ وجوہات سے ہونے والی اموات کو زچگی کی شرحِ اموات (ایم ایم آر) میں شامل نہیں کیا جاتا۔

پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان ( پی ایم ایس ایم اے): محفوظ زچگی کی جانب ایک اہم قدم- پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) کے آغاز سے قبل زچگی کے دوران اموات بھارت کے لیے صحتِ عامہ کا ایک بڑا چیلنج تھیں۔2014 سے 2016 کے دوران بھارت میں زچگی کی شرحِ اموات(ایم ایم آر) ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 130 اموات تھی۔

اس صورتحال نے ملک بھر میں زچگی کی صحت سے متعلق خدمات کو مزید مضبوط بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے پائیدار ترقیاتی اہداف(ایس ڈی جیز) کے تحت یہ ہدف مقرر کیا تھا کہ2030 تک زچگی کی شرحِ اموات کو ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 70 سے کم کیا جائے۔ ‘قومی صحت پالیسی- 2017’ میں بھی زچگی کی صحت کو ایک اہم ترجیح قرار دیا گیا، جس نے اس شعبے میں مربوط اور مسلسل اقدامات کی ضرورت کو مزید تقویت دی۔ انہی حالات کے پیشِ نظر حکومت نے 2016 میں پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) کا آغاز کیا۔

 

پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان (پی ایم ایس ایم اے)

 بتاریخ 9 جون 2016 کو شروع کیا گیا یہ پروگرام حاملہ خواتین، خصوصاً حمل کی دوسری اور تیسری سہ ماہی میں، ہر ماہ کی9 تاریخ کو نامزد سرکاری صحت مراکز میں مفت اور جامع قبل از پیدائش طبی خدمات فراہم کرتا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد ہر حاملہ خاتون، خواہ وہ ملک کے کسی بھی حصے میں رہتی ہو، کے لیے حمل کے دوران خطرات کی بروقت تشخیص، بروقت طبی مداخلت اور محفوظ زچگی کو یقینی بنانا ہے۔

پی ایم ایس ایم اے کے تحت فراہم کی جانے والی خدمات،اس پروگرام کے تحت درج ذیل سہولیات فراہم کی جاتی ہیں: طبی معائنہ(سی ای)، خون اور پیشاب کے ضروری لیبارٹری ٹسٹ، الٹراساؤنڈ، ضروری ادویات کی فراہمی، متوازن غذا، زچگی کی منصوبہ بندی اور محفوظ حمل سے متعلق مشاورت۔

 

اہم خصوصیات

  • حمل کے دوران کم از کم ایک جامع اور معیاری طبی معائنہ، جو ماہر امراضِ نسواں (او اینڈ جی) یا جامع ہنگامی زچگی و نومولود نگہداشت (سی ای ایم او این سی) سے تربیت یافتہ ڈاکٹر کی جانب سے کیا جائے۔
  • حمل کی دوسری یا تیسری سہ ماہی میں سی ای ایم او این سی یابنیادی ہنگامی زچگی و نومولود نگہداشت(بی ای ایم او این سی) کی تربیت یافتہ ڈاکٹر کے ذریعے معائنہ۔
  • حاملہ خواتین کو نامزد سرکاری صحت مراکز میں ماہرین سے قبل از پیدائش طبی خدمات حاصل کرنے کے لیے متحرک کرنا۔
  • *زیادہ خطرے والے حمل(ایچ آر پی) کی نشاندہی کے لیے25 مختلف خطرے کے عوامل کی بنیاد پر اسکریننگ اور ابتدائی مرحلے میں مناسب علاج و نگہداشت۔
  • زیادہ خطرے والے حمل کی حامل خواتین کو محفوظ زچگی کے لیے قریبی فرسٹ ریفرل یونٹ(ایف آر یو) سے منسلک کرنا۔
  • پروگرام کے تحت خدمات کی فراہمی کے لیے نجی شعبے کے صحت فراہم کنندگان کو بھی شامل کرنا۔
  • خون اور پیشاب کے ضروری ٹسٹ اور الٹراساؤنڈ کی سہولت فراہم کرنا۔
  • ہر حاملہ خاتون کو متوازن غذا، مناسب زچگی کی منصوبہ بندی اور ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کی تیاری کے بارے میں رہنمائی اور مشاورت فراہم کرنا۔

 

25 ہائی رسک حمل (ایچ آر پی) زمرہ جات: ایچ آئی وی ، آتشک، شدید خون کی کمی، حمل کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر، حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس ، تپ دق، ملیریا، پچھلے نچلے حصے کے سیزرین سیکشن (ایل ایس سی ایس)، سیفالو-پیلوک ڈسپریشن، ایک سے زیادہ خون کی کمی، حمل کی خرابی کی تاریخ، ٹی بی، ملیریا غیر معمولی جنین کی دل کی دھڑکن، نوعمر حمل، تیز بخار، تولیدی راستے کے انفیکشن/جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن(آر ٹی آئی/ایس ٹی آئی) ، مردہ پیدائش کی تاریخ، پیدائشی خرابی، منفی خون کا گروپ، ابتدائی پرائمی (بڑی عمر میں پہلی حمل)، ارلی پرائمی (بڑھتی عمر میں پہلی حمل)، گرینڈ ملٹی فائڈ یا مختصر طبی حالات، ایس ٹی آئی۔

 

 

حاملہ خواتین کی حالت اور خطرے کے عنصر کی نشاندہی کرنے والا اسٹیکر ہر دورے کے لیے ماں اور بچے کے تحفظ کے کارڈز پر شامل کیا جاتا ہے:

 

پی ایم ایس ایم اے خدمات تک کون رسائی حاصل کر سکتا ہے:

حاملہ خواتین اپنے دوسرے سہ ماہی (13-27 ہفتے) یا تیسرے سہ ماہی (28 سے لے کر پیدائش تک)۔

ہندوستان میں مقیم ہندوستانی شہری، ہر مہینے کی 9 تاریخ کو نامزد سرکاری صحت کی سہولیات کا دورہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔

زیادہ خطرہ والے حمل کے  کیسزکو ترجیحی توجہ اور پیروی کی دیکھ بھال ملتی ہے۔

وہ خواتین جو پیدائش سے پہلے کی باقاعدگی سے دیکھ بھال سے باہر ہو جاتی ہیں ان کی شرکت کیلئے فعال طور پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

 

ڈاکٹر رضاکارانہ نظام

یہ پروگرام ہر مہینے کی 9 تاریخ کو رضاکارانہ طور پر اپنا وقت دینے کے لیے نجی شعبے کےاو بی-جی وائے این کے ماہرین، ریڈیولوجسٹ، اور معالجین کا فعال طور پر خیرمقدم کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے ‘من کی بات’ خطاب کے دوران خود ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ سال میں صرف 12 دن اس مقصد کے لیے وقف کریں۔ ڈاکٹر سرکاری پی ایم ایس ایم اے پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ رضاکاروں کو ان کے تعاون کے لیے ‘ آئی پلیج فار 9اچیورز ایوارڈز’ کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔

 

 

 

ہندوستان بھر میں رسائی کو بڑھانا

 

 

جو ایک مخصوص زچگی صحت کے اقدام کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اپنے آغاز کے بعد سے پی ایم ایس ایم اے نے مسلسل اپنے دائرۂ کار کو اضلاع، صحت کی سہولیات اور کمیونٹیز تک وسیع کیا ہے۔

 

 

قابلِ ذکر طور پر، بھارت نے زچگی اموات کی شرح(ایم ایم آر) میں 43 پوائنٹس کی کمی حاصل کی ہے، جو 2014–16 سے 2022–24 کے دوران 130 سے کم ہو کر 87 زچگی اموات فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں تک پہنچ گئی۔

 

 

 

 

 

توسیع شدہ پی ایم ایس ایم اے: فالو اپ نگہداشت کو مضبوط بنانا

 

 

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ زیادہ خطرے والے حمل کی شناخت صرف پہلا قدم ہے، حکومت نے فالو اپ کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے کے لیے جنوری 2022 میں توسیعی پی ایم ایس ایم اے حکمت عملی کا آغاز کیا۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جن خواتین کو زیادہ خطرہ کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے ان کو حمل کے دوران اضافی چیک اپ، مسلسل نگرانی اور بروقت طبی امداد حاصل ہوتی ہے۔ جب تک محفوظ ڈیلیوری حاصل نہیں ہو جاتی، ہر زیادہ خطرے والے حمل کو انفرادی طور پر ٹریک کیا جاتا ہے۔ جبکہ، مالی ترغیبات مستفید ہونے والے اور اس کے ساتھ آنے والے ایکریڈیٹیڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹ (اے ایس ایچ اے-‘آشا’) کارکن دونوں کو تین اضافی دوروں تک مدد فراہم کرتی ہیں۔ ایس ایم ایس الرٹس فائدہ اٹھانے والے کے ساتھ ساتھ آشا ورکر کو ایچ آر پی کے اندراج اور فالو اپ وزٹ کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔

 

زچگی کی صحت کے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ کام کرنا

 

  • پی ایم ایس ایم اے تنہائی میں کام نہیں کرتا ہے۔ یہ حکومت کی طرف سے نافذ کیے گئے زچہ و بچہ کی صحت کے پروگراموں کے ایک بڑے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے۔
  • جننی تحفظ یوجنا (جے ایس وائے) ادارہ جاتی فراہمی کو فروغ دیتی ہے۔ 2014-15 سے مارچ 2025 تک اس نے 11.96 کروڑ سے زیادہ خواتین کو فائدہ پہنچایا ہے۔
  • جننی شیشو تحفظ کاریہکرم ( جے ایس ایس کے) حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو مفت صحت کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ 2014-15 سے، 18.05 کروڑ سے زیادہ مستفیدین اس اسکیم کے تحت تعاون حاصل کر رہے ہیں۔
  • سرکشت ماترتوا آشواسن(ایس یو ایم اے این)  99,290 سے زیادہ سہولیات کے نیٹ ورک کے ذریعے معیاری ماں کی صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط کرتا ہے۔
  • دیگر اقدامات جیسے پرائم منسٹرز اوور آرچنگ اسکیم فار ہولیسٹک نیورشمنٹ (پوشن) ابھیان، پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائے) اور لیبر روم کوالٹی امپروومنٹ انیشیٹو  لیبر رومز میں زچگی کی غذائیت، زچگی کے فوائد اور دیکھ بھال کے معیار پر توجہ دیتے ہیں۔

یہ پروگرام مل کر زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے لیے ایک جامع فریم ورک بناتے ہیں۔

 

 پی ایم ایس ایم اے کے 10 سال کا جشن

حکومت پی ایم ایس ایم اے کے 10 سال مکمل ہونے پر درج ذیل اقدامات کے ذریعے اس کا جشن منا رہی ہے:

  • آیوشمان آروگیا شِوِر 1.8 لاکھ آیوشمان آروگیہ مندرز میں ملک بھر کے 1.8 لاکھ آیوشمان آروگیا مندرز میں معیاری قبل از ولادت (اے این سی) خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
  • کمیونٹی میں آگاہی کے پروگرام ویلیج ہیلتھ سینیٹیشن اینڈ نیوٹریشن ڈے (وی ایچ ایس این ڈی)، جن آروگیہ سمیتی (جے اے ایس) اور سیلف ہیلپ گروپس ( ایس ایچ جیز) کے ذریعے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
  • تمام ضلع اسپتالوں / سب ڈسٹرکٹ اسپتالوں / فرسٹ ریفرل یونٹس (ایف آر یو) اور دیگر نامزد پی ایم ایس ایم اے مراکز میں خصوصی  پی ایم ایس ایم اےسیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں۔

 

دس سال- مستقبل کی سمت

گزشتہ ایک دہائی کے دوران،  پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) نے بھارت میں قبل از ولادت نگہداشت کی فراہمی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ معیاری زچگی صحت کی سہولیات اب زیادہ قابلِ رسائی، منظم اور مؤثر ہو چکی ہیں۔ ہائی رسک حمل کی بروقت نشاندہی، مسلسل نگرانی اور فوری طبی مداخلت کے ذریعے اس پروگرام نے ملک بھر میں زچگی صحت کے نظام کو مضبوط بنایا ہے اور ماں اور نومولود دونوں کی صحت کے بہتر نتائج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پی ایم ایس ایم اے نے ثابت کیا ہے کہ جب معیاری صحت کی سہولتیں خواتین تک بروقت پہنچتی ہیں تو یہ جانیں بچاتی ہیں، پیچیدگیوں کو روکتی ہیں اور خاندانوں اور آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند آغاز فراہم کرتی ہیں۔

جیسے جیسے  ہندوستان‘ وکست بھارت@2047 ’کی جانب بڑھ رہا ہے پی ایم ایس ایم اے زچگی صحت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ ہر حمل زیادہ محفوظ ہو اور ہر ماں کو وہ نگہداشت ملے جس کی وہ مستحق ہے۔ گزشتہ دہائی میں زچگی اموات کی شرح (ایم ایم آر) کا 130 سے کم ہو کر 87 تک آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہدفی اقدامات ہزاروں زندگیاں بچا سکتے ہیں۔ مسلسل عزم اور اجتماعی کوششوں کے ساتھ، پی ایم ایس ایم اےایک ایسے دور کی بنیاد رکھ سکتا ہے جہاں کوئی بھی عورت زندگی دیتے ہوئے اپنی جان نہ گنوائے اور ایک صحت مند و خوشحال بھارت کی بنیاد مزید مضبوط ہو۔

 

حوالہ جات

پریس انفارمیشن بیورو

پرائم منسٹر آفس(پی ایم او)

وزارت صحت و خاندانی بہبود

دیگر

Click here to see pdf

********

ش ح- ظ الف-  ش ہ ب

UR- 8153


(रिलीज़ आईडी: 2270679) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Malayalam