کامرس اور صنعت کی وزارتہ
سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات پر منعقدہ قومی ورکشاپ میں قدر میں اضافہ، پائیداری اور مارکیٹ تک رسائی پر توجہ دی گئی
سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات میں ایک دہائی کے دوران تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا، بھارت کا 30 ارب امریکی ڈالر کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کا ہدف ہے: تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل
ورکشاپ میں سمندری غذائی مصنوعات کے شعبے میں پی ایل آئی فریم ورک، کولڈ چین بنیادی ڈھانچے اور برآمدی مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
09 JUN 2026 12:01PM by PIB Delhi
تجارت و صنعت کی وزارت کے محکمۂ تجارت نے محکمۂ ماہی پروری اور ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں کی وزارت (ایم او ایف پی آئی) کے اشتراک سے 5 اور 6 جون 2026 کو وشاکھاپٹنم میں سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات پر دو روزہ قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ کا مقصد قدر میں اضافہ، پائیداری، بہتر مارکیٹ تک رسائی، جدت طرازی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے بھارت کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
ورکشاپ میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب این۔ چندر بابو نائیڈو، تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل، ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ، شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو اور ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں کے مرکزی وزیر جناب چراغ پاسوان نے شرکت کی۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت کے مربوط اور ہمہ گیر نقطۂ نظر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کی مالیت میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت عالمی سمندری غذائی تجارت میں بھارت کا حصہ تقریباً 4 فیصد ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ قدر میں اضافہ، برانڈنگ، معیار میں بہتری، پائیداری اور برآمدی منڈیوں میں تنوع کے ذریعے آئندہ پانچ برسوں میں 30 ارب امریکی ڈالر کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں۔
وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ ویلیو ایڈڈ سمندری غذائی مصنوعات، خصوصاً فوراً کھانے کے لیے تیاراور فوراً پکانے کے لیے تیار مصنوعات کا حصہ بڑھایا جائے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کو یہ بھی ترغیب دی کہ وہ بھارت کے حال ہی میں 38 ممالک کے ساتھ طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدوں کے نتیجے میں دستیاب ہونے والے مارکیٹ تک رسائی کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارت کو اعلیٰ معیار اور پائیدار سمندری غذائی مصنوعات کے ایک قابلِ اعتماد عالمی مرکز کے طور پر قائم کیا جائے۔
جناب این چندر بابو نائیڈو نے ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے میں آندھرا پردیش کی نمایاں قیادت اور بھارت کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات میں ریاست کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاستی حکومت جدت طرازی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، برانڈنگ اور تمام متعلقہ فریقوں کے باہمی تعاون کے ذریعے آندھرا پردیش کو پائیدار آبی زراعت اور سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کا ایک عالمی مرکز بنانے کے لیے مسلسل کام کرتی رہے گی۔
جناب راجیو رنجن سنگھ نے بھارت کے ماہی پروری کے شعبے کی شاندار ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں مچھلی کی پیداوار13-2012 کے 95.8 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 25-2024 میں تقریباً 198 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر درپیش مختلف چیلنجوں کے باوجود بھارت کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات تقریباً 73,890 کروڑ روپے (8.46 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ فروزن جھینگا بدستور ملک کی سب سے بڑی برآمدی سمندری غذائی مصنوعات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) اور پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا 2.0 (پی ایم کے ایس ایس 2.0) کے تحت برآمدات پر مبنی ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے، ٹریس ایبلٹی، ویلیو ایڈیشن اور پائیدار آبی زراعت کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو نے اعلیٰ قدر کی حامل سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مؤثر لاجسٹکس اور فضائی کارگو کے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کارگو انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، کثیر النوع نقل و حمل کو بہتر بنانے اور کارگو کی نقل و حرکت کو مزید آسان بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، تاکہ عالمی منڈی میں بھارت کی برآمدی مسابقت کو مزید تقویت مل سکے۔
جناب چراغ پاسوان نے سمندری غذائی مصنوعات کے شعبے میں قدر میں اضافہ کے بے پناہ امکانات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پروسیسنگ، برانڈنگ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور برآمدی منڈیوں میں تنوع پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ‘‘زیادہ مقدار سے زیادہ قدر’’ اور ‘‘پیداوار سے تیار شدہ مصنوعات’’ کی جانب پیش رفت کی جائے، تاکہ عالمی سطح پر خوراک کی مصنوعات کے ایک قابلِ اعتماد سپلائر کے طور پر بھارت کی پوزیشن مزید مضبوط ہو۔
محکمۂ ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھیلکش لیکھی نے بھارت کے سمندری غذائی مصنوعات کے برآمدی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرٹیفیکیشن، جدت طرازی، قدر میں اضافہ اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی اس شعبے کی بین الاقوامی مسابقت کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
اس تقریب میں مرکزی حکومت، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر حکام، ایم پی ای ڈی اے، ای آئی سی، این ایف ڈی بی، نابارڈ ، این سی ڈی سی، این سی ای ایل اور ایس ایف اے سی سمیت اہم اداروں کے نمائندوں کے علاوہ سمندری غذائی مصنوعات کے برآمد کنندگان، پروسیسرز، صنعتی ایسوسی ایشنز، اسٹارٹ اپس، محققین، آبی زراعت سے وابستہ کسانوں اور سمندری غذائی مصنوعات کی ویلیو چین سے وابستہ دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر پردھان منتری متسیا کسان سمرِدھی سہ-یوجنا (پی ایم کے ایس ایس وائی) ، کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) اور حکومت کی دیگر اسکیموں کے تحت اہل مستفیدین میں مختلف فوائد بھی تقسیم کیے گئے۔
تبادلۂ خیال کے سیشن کے دوران شرکاء نے ماہی پروری کی ویلیو چین کو درپیش اہم چیلنجوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان میں بیماریوں سے نمٹنے کے مؤثر انتظام، پیداواری لاگت میں اضافہ، مچھلی کے چارے کی دستیابی، معیاری بیج اور بریڈ اسٹاک تک رسائی، قرنطینہ کے بنیادی ڈھانچے کی کمی، لاجسٹکس، کولڈ چین کی ترقی، سرٹیفیکیشن کی ضروریات، ٹریس ایبلٹی اور پائیداری کے معیارات شامل تھے۔ شرکاء نے ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے، برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کی حوصلہ افزائی کرنے اور پائیدار ماہی پروری کے طریقوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ورکشاپ کے دوسرے دن مختلف تکنیکی سیشن منعقد کیے گئے، جن میں ٹریس ایبلٹی سسٹمز، پائیدار سرٹیفیکیشن، ویلیو ایڈیشن، برآمدات کے فروغ، گہرے سمندر میں ماہی گیری، برآمدی مواقع میں تنوع اور سمندری غذائی مصنوعات کے شعبے کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) فریم ورک کے امکانات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ماہرین اور متعلقہ فریقوں نے بین الاقوامی معیارات پر مؤثر عمل درآمد کو مضبوط بنانے، پروسیسنگ اور کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، جدت طرازی کو فروغ دینے، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کی معاونت کرنے اور بھارتی سمندری غذائی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
تبادلۂ خیال کے دوران بھارت کے خصوصی اقتصادی زون میں موجود اعلیٰ قدر کے حامل گہرے سمندر کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے کے امکانات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی، بالخصوص انڈمان و نکوبار جزائر اور لکش دیپ میں دستیاب مواقع پر۔ اس کے علاوہ سمندری گھاس کی کاشت، آرائشی مچھلیوں کوپالنے، سرد پانی کی ماہی پروری اور ٹراؤٹ مچھلی کی فارمنگ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کی ترقی کے امکانات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
ورکشاپ کا اختتام اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ سمندری غذائی مصنوعات کے شعبے میں پائیداری، ٹریس ایبلٹی، قدر میں اضافہ ، برآمدی بنیادی ڈھانچے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مزید مضبوط بنایا جائے، جبکہ جدت طرازی، کاروباری صلاحیتوں کے فروغ اور شعبے میں تنوع کی حوصلہ افزائی بھی جاری رکھی جائے۔ شرکاء کے مطابق، اس ورکشاپ میں سامنے آنے والی سفارشات بھارت کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کو عالمی سطح پر مزید مسابقتی بنانے اور وکست بھارت 2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل تیار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

********
ش ح۔ع ح۔ ج ا
U-8151
(रिलीज़ आईडी: 2270616)
आगंतुक पटल : 16