خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خوراک  کی ڈبہ بندی کی صنعت کے مرکزی وزیر جناب چراغ پاسوان نے ’’سیپلنگ ڈائیلاگ 2026‘‘ (جنوبی ایشیا میں بہتر غذائیت اور ترقی کے لیے پالیسی قیادت) کا افتتاح کیا


’’قدر آفرینی کے نئے امکانات‘‘ کے موضوع پر علاقائی اعلیٰ سطحی پالیسی مکالمہ 9 اور 10 جون 2026 کو احمد آباد میں منعقد ہوا

بھارت کی خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کی وزارت اور عالمی بینک گروپ کے اشتراک سے منعقدہ اس تقریب کا مقصد جنوبی ایشیا میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے اور خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کو مزید مضبوط بنانا ہے

प्रविष्टि तिथि: 09 JUN 2026 11:03AM by PIB Delhi

بھارت کی خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کی وزارتِ  (ایم او ایف پی آئی) نے عالمی بینک گروپ کی قیادت میں چلنے والے سیپلنگ مہم کے اشتراک سے ’’قدر آفرینی کے نئے امکانات: جنوبی ایشیا میں روزگار کے فروغ اور پائیدار ترقی کے لیے خوراک کی ڈبہ بندی  کی صنعت کا فروغ‘‘ کے عنوان سے علاقائی اعلیٰ سطحی پالیسی مکالمے کا افتتاح 9 جون 2026 کو احمد آباد، گجرات میں کیا۔

دو روزہ اس علاقائی پالیسی مکالمے میں تقریباً 200 شرکا ءشریک ہیں، جن میں پالیسی ساز، صنعتی شعبے کے رہنما، ترقیاتی شراکت دار، اختراع کار، محققین، نئی کاروباری کمپنیوں (اسٹارٹ اَپس) کے نمائندے اور جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مندوبین شامل ہیں۔ اس مکالمے کا مقصد خطے میں خوراک سازی کے نظام کو مضبوط بنانا اور ایسا غذائی نظام تشکیل دینا ہے جو مضبوط، سب کی شمولیت  والا اور پائیدار ہو۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کے مرکزی وزیر جناب چراغ پاسوان نے خوراک کی ڈبہ بندی کے عالمی مرکز کے طور پر بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی غذائی معیشت کو نئی سمت دینے کے لیے زرعی پیداوار میں قدر افزائی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور علاقائی تعاون نہایت اہم ہیں۔

اس موقع پر جناب چراغ پاسوان نے کہا کہ خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت زراعت اور خوشحالی کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اس شعبے میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے، فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لانے، کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی پالیسی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات عالمی معیار کی مسابقتی غذائی قدر افزائی کی زنجیروں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

گجرات کے وزیر زراعت جناب جیتوبھائی واگھانی نے سیپلنگ 2026 کے اس تاریخی موقع پر مختلف ممالک کی شرکت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے نہایت حوصلہ افزا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت زرعی شعبے میں تبدیلی لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت گجرات زرعی صنعت کو فروغ دے کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، زرعی پیداوار میں قدر افزائی اور ریاست کی مجموعی معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے زراعت اور صنعت کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے اور اس شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے گجرات میں خوراک کی ڈبہ بندی کی ٹیکنالوجی، کاروباری فروغ اور نظم و نسق کے قومی ادارے کے ایک نئے کیمپس کے قیام کی بھی وکالت کی۔

افتتاحی مکمل اجلاس میں متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں عالمی بینک کے بھارت کے قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر جناب پال پروسی، گیٹس فاؤنڈیشن کی بھارت میں کنٹری ڈائریکٹر محترمہ ارچنا ویاس اور خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کی وزارت کے سکریٹری جناب اویناش جوشی شامل تھے۔

اس پالیسی مکالمے کے دوران مختلف موضوعاتی اجلاس بھی منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں درج ذیل اہم موضوعات زیربحث آئیں گے:

  • وسیع وژن، مقامی عمل: جنوبی ایشیا میں خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کے امکانات سے بھرپور استفادہ۔
  • کھیت سے کارخانے تک: خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کے لیے زرعی سپلائی چین کو مضبوط بنانا۔
  • غیر رسمی سے باقاعدہ نظام کی جانب: چھوٹے پیمانے پر خوراک کی ڈبہ بندی کرنے والے اداروں کو منظم اور ضابطہ بند پیداواری و تجارتی نظام کا حصہ بنانا۔
  • جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات: ٹیکنالوجی کے ذریعے خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت میں انقلابی تبدیلیاں لانا۔
  • محفوظ خوراک، مضبوط منڈیاں: مسابقتی تجارت کے لیے صحت، معیار اور حفاظتی ضوابط کو یقینی بنانا۔
  • کاشتکاری، صنعت اور سرمایہ کاری: خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کو متحرک کرنا۔
  • غذائی مستقبل کی مشترکہ تعمیر: جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون اور مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے پائیدار غذائی نظام کی تشکیل۔

مذاکرات میں عالمی اور بھارتی سطح کے ممتاز اداروں، جن میں نیسلے، بیئر، رابو بینک، اجینوموتو، آئی ٹی سی، سیوا، نابارڈ اور فوڈ انڈسٹری ایشیا شامل ہیں، کے سینئر نمائندے بھی شریک ہیں۔

 

پالیسی مکالمے کے ساتھ ایک اختراعاتی نمائش بھی منعقد کی گئی ہے، جس میں کولڈ چین لاجسٹکس، ڈیجیٹل سراغ رسانی، ماحول دوست پیکیجنگ، جدید خوراک کی ڈبہ بندی کی ٹیکنالوجیز اور ذخیرہ سازی کے جدید نظام سے متعلق انقلابی حل پیش کیے جا رہے ہیں۔ اس نمائش کا مقصد اختراع کاروں، پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ فریقوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

اس موقع پر خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کی وزارت کی سفارش پر تیار کی گئی رپورٹ ’’بھارت میں خوراک سازی کی سطح کا جائزہ‘‘ بھی وزراء اور دیگر معزز شخصیات نے جاری کی۔ اس رپورٹ میں اہم زرعی اجناس کی خوراک کی ڈبہ بندی کی موجودہ صورتحال کا جامع تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں خوراک کی ڈبہ بندی کی مجموعی شرح 2016 میں تقریباً 10 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں تقریباً 17 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ میں پھلوں، سبزیوں اور دودھ جیسی جلد خراب ہونے والی زرعی مصنوعات میں قدر افزائی کے وسیع امکانات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لانے، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور عالمی غذائی معیشت میں بھارت کی مسابقتی صلاحیت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم پالیسی سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔

علاقائی اعلیٰ سطحی پالیسی مکالمہ سیپلنگ، عالمی بینک گروپ کے ایگری کنیکٹ مہم اور سیپلنگ پلیٹ فارم کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے، جن کا ہدف پالیسی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل کے ذریعے جنوبی ایشیا میں مضبوط، پائیدار اور غذائیت پر مبنی غذائی نظام کو فروغ دینا ہے۔

توقع ہے کہ یہ پالیسی مکالمہ مختلف ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے کو فروغ دے گا، علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا، بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کی معاونت کرے گا اور جنوبی ایشیا میں خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کے ذریعے معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے قابلِ عمل حکمتِ عملی وضع کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  ت ف۔ع ن)

U. No. 8147


(रिलीज़ आईडी: 2270615) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Telugu , English , हिन्दी , Gujarati , Tamil