شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’’شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر اور شمال مشرقی کونسل کے نائب صدر، جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا نے کونسل کے 73ویں بڑے اجلاس میں شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کے منصوبوں اور وہاں تبدیلی لانے والے اقدامات  کا ذکر کیا‘‘


’’اس کے ساتھ ہی، مختلف شعبوں میں کام کو آگے بڑھانے اور سال 2047 تک ہندوستان کو ایک مکمل ترقی یافتہ ملک بنانے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے، آٹھ اعلیٰ سطحی کمیٹیوں نے اپنے اپنے محکموں کے عملی منصوبے سامنے رکھے‘‘

प्रविष्टि तिथि: 04 JUN 2026 6:54PM by PIB Delhi

’’شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر اور شمال مشرقی کونسل کے نائب صدر، جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا نے آج شیلانگ میں مرکزی وزیر داخلہ اور وزیرباہمی تعاون جناب امت شاہ کی صدارت میں ہونے والے کونسل کے 73 ویں بڑے اجلاس میں اپنی وزارت کے تعمیری اور انقلابی کاموں کا ذکر کیا اور آٹھ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیوں کی تجاویز کا جائزہ بھی لیا۔‘‘

’’اس اہم اجلاس میں شمال مشرقی خطے کی آٹھوں ریاستوں کے گورنر، وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ حکام موجود تھے۔ ان سے خطاب کرتے ہوئے جناب سندھیا نے کہا کہ ان کی وزارت اب صرف کام کرانے تک محدود نہیں رہی بلکہ تین بنیادی اصولوں یعنی باہمی رابطہ قائم کرنے، مل جل کر کام کرنے اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنےپر چلتے ہوئے، اس پورے علاقے کی بہبود کے لیے راستے آسان بنانے، محکموں میں تال میل بٹھانے اور ایک مضبوط کڑی کا کام کرنے والا ادارہ بن چکی ہے۔‘‘

جناب سندھیا نے مطلع کیا کہ شمال مشرقی کونسل (این ای سی) کے 72ویں کل وقتی اجلاس کے بعد تشکیل دی گئی آٹھ اعلیٰ سطحی خصوصی کمیٹیوں نے اپنی تجاویز اور عملی منصوبے پیش کر دیے ہیں۔ ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے، زراعت و باغبانی، دستکاری، بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی رابطوں، اقتصادی راہداریوں، مویشی پروری اور ماہی پروری میں خود کفالت اور کھیل کود اور سیاحت کے شعبے شامل ہیں۔ وزرائے اعلیٰ کی سربراہی اور مرکز و ریاستوں کے نمائندوں کے تعاون سے قائم ان کمیٹیوں کا مقصد شمال مشرقی خطے کی مستقبل کی ترقی کے لیے ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنا تھا تاکہ یہ خطہ ’وکست بھارت 2047‘ کے خواب کو پورا کرنے میں اپنا بھرپور اور نمایاں کردار ادا کر سکے۔

’’جناب سندھیا نے بتایا کہ ان کمیٹیوں کی تجاویز کو آگے کی غور و فکر اور عمل درآمد کے لیے شمال مشرقی کونسل کے صدر  کے پاس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی نگراں کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس میں متعلقہ وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزراء شامل ہوں گے تاکہ وہ ان تجاویز پر ہونے والے کام کی دیکھ ریکھ کر سکیں۔‘‘

‘‘وزارت کی حالیہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب سندھیا نے کہا کہ شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کا خرچ سال 23-2022 کے تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے سے بڑھ کر گزشتہ دو سالوں میں قریباً چار ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ موجودہ مالی سال کے لیے وزارت کو 6,500 کروڑ روپے کا بجٹ ملا ہے۔ منصوبوں کی منظوری کے عمل کو سادہ بنانے، کام میں صفائی  لانے اور رقم کی بروقت منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔‘‘

’’مرکزی وزیر نے ’رائزنگ نارتھ ایسٹ انویسٹمنٹ سمٹ‘ کی کامیابی کا خاص طور پر ذکر کیا، جس میں 100 سے زیادہ غیر ملکی سفیروں نے حصہ لیا اور جس کے نتیجے میں خطے میں قریباً ساڑھے چار لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی 2025 میں ہونے والی اس کانفرنس کے بعد سے اب تک تقریباً 40,000 کروڑ روپے کی رقم عملی طور پر کام میں لگائی جا چکی ہے، جو یہ دکھاتی ہے کہ اب سرمایہ کاروں کا اس علاقے پر بھروسہ بڑھ رہا ہے۔‘‘

’’مالی شمولیت کے بارے میں ، جناب سندھیا نے بتایا کہ گزشتہ 15 مہینوں کے دوران شمال مشرق علاقوں میں 131 نئی بینک شاخیں قائم کی گئی ہیں اور 6,500 ایسے گاؤں کو سرکاری بینکنگ نظام سے جوڑا گیا ہے جہاں پہلے بینک کی کوئی سہولت نہیں تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس علاقے میں یو پی آئی  کے ذریعے انٹرنیٹ سے رقم کی لین دین کا رجحان تقریباً 90 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔‘‘

وزیر موصوف نے ’اشٹ لکشمی درشن طالب علموں کے تبادلہ  خیال کےپروگرام‘ اور اسرو کے تعلیمی دوروں کی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی، جنہوں نے ملک بھر اور شمال مشرقی خطے کے طالب علموں کو ثقافتی تبادلے اور سائنسی معلومات حاصل کرنے کے بہترین مواقع فراہم کیے ہیں۔

جناب سندھیا نے شمال مشرق کی تمام آٹھوں ریاستوں میں منفرد اور پرکشش سیاحتی مراکز  تیار کرنے کے لیے وزارت کی کوششوں کا بھی ذکر کیا، تاکہ اس خطے کی مالا مال قدرتی خوبصورتی، ثقافتی ورثے، حیاتیاتی تنوع  اور مہم جوئی پر مبنی سیاحت کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے تریپورہ کے ’ماتا باڑی سیاحتی مرکز‘ اور میگھالیہ کے ’سوہرا سیاحتی مرکز‘ جیسے اہم منصوبوں کا خاص طور پر ذکر کیا، جنہیں سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سیاحوں کے لیے سہولیات کو بہتر بنانے، آمد و رفت کے راستوں کو آسان کرنے اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مستقل مواقع پیدا کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کوششوں سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا، روزگار کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے اور خطے کی معیشت کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔

وزیر موصوف نے ’ایک ریاست، ایک پروڈکٹ‘کے پروگرام کی بھی تفصیلات بتائیں، جس کے تحت شمال مشرق کی ہر ریاست نے اپنی خاص مہارت اور ثقافتی شناخت کی بنیاد پر کسی ایک انوکھے پروڈکٹ یا شعبے کا انتخاب کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت چنے گئے مصنوعات میں میگھالیہ کی لاکاڈونگ ہلدی، آسام کا موگا ریشم، اروناچل پردیش کا کیوی، تریپورہ کا کوئین انناس اور سکم کی نامیاتی کھیتی باڑی وغیرہ شامل ہیں۔ اس مہم کا مقصد مصنوعات کی تیاری سے لے کر فروخت تک کے پورے نظام کو مضبوط کرنا، ان کی برانڈنگ اور پیکنگ کو بہتر بنانا، انہیں بازاروں تک پہنچانا، برآمدات کو فروغ دینا اور کسانوں، کاریگروں اور تاجروں کی آمدنی کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔ جناب سندھیا نے کہا کہ ہر ریاست کی اس منفرد طاقت کا درست استعمال کر کے، یہ پروگرام شمال مشرق کی مصنوعات کو عالمی سطح پر ایک بڑی پہچان دلانے کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں پائیدار معاشی ترقی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بینکوں کی توسیع، سیاحت،نقل و حمل و ترسیل اور انسانی سرمائے کی ترقی کے میدان میں کی جانے والی مسلسل کوششیں ایک خوشحال اور خود کفیل شمال مشرقی خطے کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ خطہ بھارت کی ترقی کے ایک بڑے انجن کے طور پر ابھرے گا اور ’وکست بھارت 2047‘کے خواب کو پورا کرنے میں ایک مرکزی اور انتہائی اہم کردار ادا کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  ت ف۔ع ن)

U. No. 7995


(रिलीज़ आईडी: 2269201) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Assamese , Khasi , English