سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’’ٹی ڈی بی-ڈی ایس ٹی کی جانب سے گرین کیمسٹری پر مبنی فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کو تجارتی سطح پر لانے کے لیے میسرز بائیونیم ٹیک انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، چنئی کی مالی معاونت‘‘

प्रविष्टि तिथि: 04 JUN 2026 4:07PM by PIB Delhi

جیسا کہ بھارت فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ کے ایک بڑے مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کر رہا ہے، حکومتِ ہند کے محکمۂ سائنس اور ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) نے میسرز بائیونیم ٹیک انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، چنئی کے ایک پروجیکٹ کے لیے مالی معاونت فراہم کی ہے۔ اس پروجیکٹ کا عنوان ’’مینوکسیڈل، ٹرانیزامک ایسڈ، ڈیکوالینیم کلورائڈ، ان کے انٹرمیڈیٹس اور ڈرگ لیپوسومز کی مینوفیکچرنگ‘‘ ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد اہم ادویاتی اجزاء اور جدید ترین ڈرگ ڈیلیوری سسٹم کی تیاری کے لیے مقامی گرین کیمسٹری ٹیکنالوجیز کو تجارتی سطح پر لانا ہے، جس سے درآمدی متبادل ، پائیدار مینوفیکچرنگ اور صحت عامہ کے تحفظ کو فروغ ملے گا۔

اس پروجیکٹ میں بیچ اور کنٹینیوس فلو کیمسٹری ٹیکنالوجیز کے امتزاج کے ذریعے فارماسیوٹیکل انٹرمیڈیٹس، ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء  اور ادویات کی ترسیل کے نئے نظام کے لیے جدید ترین مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کے قیام پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ مینوفیکچرنگ کے جدید طریقوں کو اپنا کر، اس اقدام کا مقصد درآمدی فارماسیوٹیکل انٹرمیڈیٹس پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ پیداواری کارکردگی، مصنوعات کے معیار، آپریشنل حفاظت اور ماحولیاتی پائیداری کو بہتر بنانا ہے۔

اس پروجیکٹ کا ایک اہم حصہ ٹرانیزامک ایسڈ کی تیاری کے مقامی طریقۂ کار کو تجارتی سطح پر لانا ہے، جو خون بہنے کے عارضےکے علاج میں استعمال ہونے والا ایک اہم مالیکیول ہے۔ ایک کم لاگت اور ماحول دوست تشکیلی طریقۂ کار کے تحت تیار کردہ یہ ٹیکنالوجی کچرے کی پیداوار اور عمل کی پیچیدگی کو کم سے کم کرتے ہوئے اعلیٰ درجے کی خالص مصنوعات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ مینوکسیڈل اور ڈیکوالینیم کلورائڈ کے ساتھ ساتھ ان کے اہم انٹرمیڈیٹس کی ملکی سطح پر پیداوار میں بھی معاون ثابت ہوگا، جس سے فارماسیوٹیکل ویلیو چینز میں مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں مضبوط ہوں گی جو فی الحال کافی حد تک درآمدات پر منحصر ہیں۔

اس میں جدت طرازی کا ایک مضبوط پہلو شامل کرتے ہوئے، بائیونیم ٹیک نے جدید نینو ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز پر مبنی ملکیتی ڈرگ لیپوسوم اے پی آئی تیار کی ہے۔ یہ لیپوسومل فارمولیشنز سینے اور جلد کے کینسر کے علاج سمیت دیگر طبی استعمال کے لیے تیار کی جا رہی ہیں اور کنٹرول شدہ نینو ذرات کی خصوصیات کے ساتھ ان کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔ کمپنی نے اس ٹیکنالوجی کے لیے املاک دانش کے حقوق کے تحفظ کا عمل بھی شروع کر دیا ہے، جس سے مستقبل میں طے شدہ ادویات کی ترسیل کے جدید حل تیار کرنے کی بنیاد فراہم ہوگی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے، ٹی ڈی بی کے سکریٹری جناب راجیش کمار پاٹھک نے کہا، ’’فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ کا مستقبل پائیدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی پیداواری نظاموں سے وابستہ ہے، جو معیار، کارکردگی اور ماحولیاتی ذمہ داری کا بہترین امتزاج ہوں۔ جدید ترین اے پی آئی، اہم انٹرمیڈیٹس اور ادویات کی ترسیل کے نئے پلیٹ فارمز کی ملکی سطح پر تیاری، عالمی فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ کے مرکز کے طور پر بھارت کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ٹی ڈی بی ایسے اختراعی اداروں کی مدد کے لیے پوری طرح پرعزم ہے جو درآمدی متبادل اور صحت عامہ کے تحفظ میں اپنا تعاون دینے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ قدر کی حامل ٹیکنالوجیز تیار کر رہے ہیں۔‘‘

اس مالی معاونت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے، بائیونیم ٹیک انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کی قیادت نے کہا کہ یہ پروجیکٹ کمپنی کو اپنی گرین کیمسٹری پر مبنی مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز اور جدید فارماسیوٹیکل مصنوعات کے تجارتی عمل کو بڑے پیمانے پر بڑھانے کے قابل بنائے گا۔ یہ تعاون ملکی اور بین الاقوامی بازاروں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اے پی آئی مینوفیکچرنگ اور اگلے سلسلے کی معالجاتی فارمولیشنز  میں مقامی صلاحیتوں کی ترقی کو تیز تر کرے گا۔

****

ش ح۔ک ح

U-7978

 


(रिलीज़ आईडी: 2268963) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil