ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب جینت چودھری نے ’’نواچارمنتر‘‘  کا آغاز کیا، جو نچلی سطح کے اختراع کنندگان اور کاروباری افراد کے لیے ایک قومی پہل ہے


یہ پروگرام ٹائر 2، ٹائر 3 اور دیہی بھارت سے آنے والی قابل توسیع اختراعات کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس میں حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان اشتراک کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے گی

درخواستیں 5 جولائی 2026 تک دستیاب رہیں گی؛ پروگرام کے نفاذ کی ذمہ داری این آئی ای ایس بی یو ڈی اورآئی آئی ٹی، ایف آئی ٹی ٹی دہلی کے سپرد ہوگی

प्रविष्टि तिथि: 03 JUN 2026 5:04PM by National

بھارت کی حکومت کی وزارت برائے ہنرمندی و کاروبار (ایم ایس ڈی ای) نے آج ’’نواچار منتر‘‘ کا آغاز کیا ہے، جو ایک قومی پہل ہے جس کا مقصد نچلی سطح پر کاروبار کے فروغ کو مضبوط بنانا اور ابھرتے ہوئے بھارت میں اختراع کاروں  کے لیے مواقع کو وسعت دینا ہے۔یہ پروگرام نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انٹرپرینیورشپ اینڈ اسمال بزنس ڈیولپمنٹ (این آئی ای ایس بی یو ڈی) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ فاؤنڈیشن فار انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی ٹرانسفر (ایف آئی ٹی ٹی)، آئی آئی ٹی دہلی اس کے تکنیکی علم و شراکت دار کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔

یہ پہل جناب جینت چودھری، وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے ہنرمندی و کاروبار اور وزیر مملکت برائے تعلیم، حکومتِ ہند نے آئی آئی ٹی دہلی میں پالیسی سازوں، اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم کے رہنماؤں، تعلیمی اداروں، سرمایہ کاروں اور نوجوان کاروباری افراد کی موجودگی میں شروع کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے ہنرمندی و کاروبار اور وزیر مملکت برائے تعلیم جناب جینت چودھری نے کہا:’’دنیا کونہ صرف بھارت میں تیار کردہ مصنوعات  کواستعمال کرنا چاہئے بلکہ اسے بھارت میں تخلیق شدہ ٹیکنالوجیز بھی استعمال کرنا چاہئے، یہی ’نواچار منتر‘ کی اصل روح ہے۔ خواہ وہ مصنوعی ذہانت ہو، سیمی کنڈکٹرز ہوں، گرین انرجی ہو، بایوٹیکنالوجی ہو، ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر ہو یا جدید مینوفیکچرنگ—عالمی تبدیلی کی اگلی لہر میں بھارت کی فکری چھاپ ضرور ہونی چاہیے۔ یہ صرف امنگ کی بات نہیں بلکہ اس لیے کہ بھارت کے پاس ایک منفرد برتری ہے: مسائل کا وسیع پیمانہ، حقائق کا تنوع اور نوجوان ذہنوں کی ایسی صلاحیت جو عالمی سطح کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:’’میں نوجوان اختراع کاروں سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایسے خیالات اور کیریئر کا انتخاب کریں جو واقعی انہیں حوصلہ دیتے ہوں اور پرجوش کرتے ہوں۔ یہ زندگی کے اہم فیصلے ہیں اور آپ کو اپنے انتخاب سے خوش ہونا چاہیے۔ ایسی کسی چیز کے پیچھے نہ جائیں جو آپ کو اندر سے مطمئن نہ کرے، کیونکہ وقت کے ساتھ وہ بوجھ بن جاتی ہے۔ سب سے بامعنی اختراعات اکثر وہ لوگ کرتے ہیں جو ہر دن اپنے کام کے لیے جوش و جذبے کے ساتھ اٹھتے ہیں، جو صرف موقع نہیں بلکہ مقصد اور جذبے سے بھی رہنمائی پاتے ہیں۔ ’نواچار منتر‘ ایک ایسا نظام بنانے کے بارے میں ہے جہاں ایسے خیالات اور ایسے اختراع کار پروان چڑھ سکیں۔‘‘

اس موقع کی ایک اہم جھلک ایک ’’فائر سائیڈ چیٹ‘‘ تھی جس کا عنوان تھا: ’’کاروباری سفر کی رہنمائی: نچلی سطح کی اختراع سے قومی سطح تک‘‘۔ اس نشست میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کامیاب کاروباری افراد اور اختراع کاروں نے شرکت کی۔ اس سیشن کی نظامت جناب رجت وردھن، بانی و سی ای او،ا سکینکسٹ سائنسی ٹیکنالوجیز نے کی، جبکہ پینل میں جناب سندیپ اگروال (بانی،ڈروم)، جناب بپن پریت سنگھ (بانی و سی ای او، موبی کوئک)؛ ڈاکٹر جگدیش گپتا کپُگنٹی (بانی، فروویٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ.) اور محترمہ مینل گپتا (بانی، ایزیوفی سولیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ.) شامل تھیں۔ مقررین نے اپنی کاروباری زندگی کے تجربات کی روشنی میں اختراع، استقامت، کاروبار کی توسیع اور پائیدار کاروباری ماڈلز کی تعمیر جیسے موضوعات پر قیمتی خیالات پیش کیے، جس سے موجود نوجوان کاروباری افراد اور اختراع کاروں کو رہنمائی اور تحریک ملی۔

’’نواچار منتر‘‘ وزارت برائے ہنرمندی و کاروبار (ایم ایس ڈی ای) کا ایک انقلابی قومی اقدام ہے جس کا مقصد بھارت کے سب سے امید افزا نچلی سطح کے اختراع کاروں اور ابتدائی مرحلے کے کاروباری افراد کی نشاندہی، ان کی نشو ونما اور ان کی صلاحیتوں کو وسعت دینا ہے۔ یہ پروگرام نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انٹرپرینیورشپ اینڈ اسمال بزنس ڈیولپمنٹ (این آئی ای ایس بی یو ڈی) کے ذریعے، فاؤنڈیشن فار انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی ٹرانسفر (ایف آئی ٹی ٹی)، آئی آئی ٹی دہلی کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں، پرامنگ اضلاع اور کم سہولت یافتہ علاقوں کے اختراع کاروں کے لیے رہنمائی، نمایاں ہونے اور ترقی کے مواقع تک رسائی کے راستے فراہم کرنا ہے۔

یہ اقدام ایک منظم معاون نظام فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اُن اختراع کاروں کو سہولت دیتا ہے جو زرعی ٹیکنالوجی، صحت ٹیکنالوجی، تعلیمی ٹیکنالوجی اورہنرمندی، موسمیاتی تبدیلی اور پائیداری، دیہی تجارت اور ایم ایس ایم ایز کی ترقی جیسے اہم شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ ’’نواچار منتر‘‘ کے ذریعے اختراع کاروں کو پالیسی سازوں، صنعت کے رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور ماہرین تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی، جس سے وہ اپنے خیالات کو بہتر بنا سکیں گے، اپنے کاروباری ماڈلز کو مضبوط کریں گے اور اختراع سے باقاعدہ کاروبار تک کے سفر کو تیز کر سکیں گے۔

اس کے بعد، اب ملک بھر کے اختراع کاروں اور کاروباری افراد کے لیے ایک مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے درخواستوں کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 5 جولائی 2026 مقرر کی گئی ہے۔ اعلیٰ صلاحیت رکھنے والے منصوبوں کے انتخاب کے لیے ماہرینِ تعلیم، صنعت، سرمایہ کاری کے اداروں اور حکومتی اداروں پر مشتمل ایک سخت اور متعدد مراحل پر مبنی جانچ کا عمل انجام دیا جائے گا۔ اس پروگرام میں بھارت بھر سے درخواستیں متوقع ہیں، جبکہ خاص طور پر اُن اختراع کاروں پر توجہ دی جائے گی جو مقامی مسائل اور کمیونٹی کی بہتری کے لیے حل پیش کر رہے ہیں۔

منتخب اختراع کاروں کو ایک سالہ پروگرام میں شامل کیا جائے گا جس میں رہنمائی پر مبنی نشستیں، موضوعاتی ویبینارز، اختراعی نمائشیں، سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں اور قومی سطح کے تشہیری و کہانی سنانے کے پلیٹ فارمز شامل ہوں گے۔ شرکاء کو کاروباری ترقی، مارکیٹ تک رسائی، ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل، دانشورانہ املاک کے حقوق، سرمایہ کاری کے حصول اور کاروبار کو وسعت دینے کی حکمتِ عملیوں پر خصوصی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ یہ پروگرام اُنہیں پائلٹ پروجیکٹس، شراکت داریوں اور بازار کے روابط کے مواقع بھی فراہم کرے گا تاکہ امید افزا اختراعات کو پائیدار کاروبار میں بدلا جا سکے۔

’’نواچار منتر‘‘ کی ایک اہم خصوصیت اس کی نمایاں شناخت اور پذیرائی پر توجہ ہے۔ وزارتی پوڈکاسٹس، اختراعی نمائشوں، ڈیجیٹل مہمات اور ایکوسسٹم ایونٹس کے ذریعے منتخب اختراع کاروں کو قومی سطح پر آگاہی اور اپنی کہانیاں وسیع سامعین تک پہنچانے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ پروگرام ایک قومی نمائش (نیشنل شوکیس) ایونٹ پر اختتام پذیر ہوگا، جس میں اختراع کار، صنعت کے رہنما، سرمایہ کار، پالیسی ساز اور ایکوسسٹم کے دیگر اسٹیک ہولڈرز اکٹھے ہو کر اختراع پر مبنی کاروبار کو سراہیں گے اور مستقبل کی ترقی کے راستے متعین کریں گے۔

نچلی سطح کے اختراع کاروں کی ایک مضبوط فہرست (پائپ لائن) تشکیل دے کر اور انہیں ملک کے سرکردہ اداروں اور نیٹ ورکس سے جوڑ کر ’’نواچار منتر‘‘ بھارت کے اختراعی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور ایک خود کفیل، کاروباری اور اختراع پر مبنی ’’وِکست بھارت‘‘ کے وژن کو آگے بڑھانے کا مقصد رکھتا ہے۔

اس افتتاحی تقریب میں متعدد ممتاز شخصیات اور سینئر حکام نے شرکت کی، جن میں جناب دلیپ کمار (ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ ڈی جی ٹی)، محترمہ حنا عثمان (جوائنٹ سیکرٹری، وزارت برائے ہنرمندی و کاروبار ایم ایس ڈی ای)، محترمہ ارچنا مایارام (اقتصادی مشیر، ایم ایس ڈی ای)، پروفیسر رنگن بنرجی (ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی دہلی)، ڈاکٹر پونم سنہا (ڈائریکٹر جنرل، این آئی ای ایس بی یو ڈی) اور ڈاکٹر نکھل اگروال (منیجنگ ڈائریکٹر، ایف آئی ٹی ٹی، آئی آئی ٹی دہلی) شامل تھے۔اس تقریب میں مختلف سرکاری وزارتوں کے سینئر نمائندگان، صنعت، تعلیمی اداروں، اختراعی تنظیموں، اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم کے معاون اداروں اور دیگر شراکتی اداروں کے نمائندگان نے بھی بھرپور شرکت کی۔

***

(ش ح ۔ ا ک۔م ا(

UR.No-7937


(रिलीज़ आईडी: 2268562) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil