وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
وشاکھاپٹنم ، آندھرا پردیش میں محکمہ ماہی گیری ، ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت نے کامرس اور صنعت کی وزارت کے اشتراک سے ، سمندری اشیاءکی برآمدات سے متعلق قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا جارہا ہے
آندھرا پردیش کے وزیر اعلی ، کامرس اور صنعت کے وزیر ، ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر ، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے وزیر اور شہری ہوا بازی کے وزیر کی موجودگی میں اس کا اہتمام کیا جارہا ہے
سمندری اشیاء کی برآمدات سے متعلق خاکہ ،قدر میں اضافے اور پتہ لگانے پر مرکوز
प्रविष्टि तिथि:
03 JUN 2026 3:24PM by PIB Delhi
ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمہ ماہی پروری کے ذریعے حکومت آندھرا پردیش کے تعاون سے کامرس اور صنعت کی وزارت کے اشتراک سے 5 اور 6 جون 2026 کو وشاکھاپٹنم ، آندھرا پردیش میں سمندری اشیاءکی برآمدات پر ایک قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے ، جس کا مقصد ریاستوں اور متعلقہ فریقوں میں ہندوستان کی سمندری اشیاء کے برآمدی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع طریقہ کار تیار کرنا ۔ اس تقریب میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلی جناب نارا چندرابابو نائیڈو ، کامرس اور صنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل ، ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ ، حکومت ہند کے شہری ہوابازی کے وزیر جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو اور حکومت ہند کے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے وزیر جناب چراغ پاسوان شرکت کریں گے ۔ ان کے ساتھ ایف اے ایچ ڈی اور پنچایتی راج کے وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل اور ایف اے ایچ ڈی اور اقلیتی امور کے وزیر مملکت جناب جارج کورین شامل ہوں گے ۔

ورکشاپ میں مرکزی حکومت کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ ساتھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے ۔ اہم قومی ادارے بشمول میرین پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے) ایکسپورٹ انسپیکشن کونسل (ای آئی سی) فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) نابارڈ ، این سی ڈی سی ، این سی ای ایل ، ایس ایف اے سی ، نیفیڈ اور انویسٹ انڈیا بھی اس میں شامل ہوں گے ۔ ورکشاپ میں سمندری اشیاء کے برآمد کار، صنعتی انجمنوں ، پروسیسرز ، اسٹارٹ اپس اور دیگر ویلیو چین سے متعلق فریقوں کی موجودگی بھی ہوگی ، جو سمندری اشیاء کے برآمدی ماحولیاتی نظام کی جامع نمائندگی کو یقینی بنائے گی ۔

تکنیکی اجلاسوں میں ریاست کی مخصوص برآمدی حکمت عملیوں کی نشاندہی کرنے ، قدر میں اضافے اور پتہ لگانے کے لیے ایک روڈ میپ کا خاکہ پیش کرنے اور انضباطی اور بنیادی ڈھانچے کے اقدامات کو فعال کرنے کی سفارش کرنے پر توجہ دی جائے گی ۔ ورکشاپ عالمی سمندری اشیاء کی منڈیوں میں ہندوستان کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو برآمدی ماحولیاتی نظام میں ضم کرنے کے امکانات بھی تلاش کرے گی ۔
دو روزہ پروگرام، ایک افتتاحی اجلاس سے شروع ہوگا ، جس کے بعد حصہ لینے والی وزارتوں اور محکموں کی طرف سے متعلقہ فریقوں کے درمیان بات چیت اور پریزنٹیشنز ہوں گی، پہلے دن ، متعلقہ فریقوں اور اسٹارٹ اپس کے ساتھ بات چیت کا سیشن براہ راست رابطے اور نقطہ نظر کے تبادلہ کا موقع فراہم کرے گا ۔ اس کے بعد متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی طرف سے پریزنٹیشنز پیش کی جائیں گی، جن میں محکمہ ماہی گیری ، محکمہ تجارت ، وزارت فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز ، ڈی پی آئی آئی ٹی ، وزارت محنت ، وزارت ایم ایس ایم ای ، محکمہ مالیاتی خدمات ، اور ایکسپورٹ انسپیکشن کونسل شامل ہیں، جن میں اسکیموں ، پالیسی اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم ایم کے ایس ایس وائی) کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) اور دیگر اقدامات کے تحت بھی فوائد تقسیم کیے جائیں گے ۔ دوسرے دن ، دو تکنیکی سیشن منعقد کیے جائیں گے: ایک ویلیو ایڈیشن ، سرٹیفیکیشن اور ٹریس ایبلٹی کے ذریعے سمندری اشیاء کی برآمدات کو آگے بڑھانے پر ؛ اور دوسرا اسٹارٹ اپس ، ایم ایس ایم ایز ، اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے برآمدی نمو اور تنوع کو آگے بڑھانے میں کردار پر ۔ ورکشاپ کا اختتام کلیدی نتائج اور سفارشات کی تفصیل پیش کرنے والے اختتامی اجلاس کے ساتھ ہوگا ۔
ہندوستان کی سمندری اشیاء کی برآمدات 26-2025 میں ریکارڈ 73,890.46 کروڑ روپے (8.45 بلین امریکی ڈالر) تک پہنچ گئیں ، جس میں برآمدات کا حجم 19.72 لاکھ میٹرک ٹن تھا ، جو مضبوط نمو اور بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کی عکاسی کرتا ہے ۔ اس رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے اس شعبے نے برآمدات میں 1 لاکھ کروڑ روپے حاصل کرنے کا ایک اہم ہدف مقرر کیا ہے ۔ ورکشاپ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ متعلقہ فریقوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر ، بہترین طریقوں کو فروغ دے کر اور برآمدی تیاری کو بڑھا کر اس کی حصولیابی میں مدد فراہم کرے گی ۔
آندھرا پردیش ملک میں مچھلی اور سمندری اشیاء کی سب سے بڑی برآمد کار ریاست ہے ، جس کی آبی زراعت کی پیداوار 26-2025 میں 55.39 لاکھ ٹن ہے ۔ اپنی وسیع ساحلی پٹی ، مضبوط آبی زراعت کی بنیاد ، اور اچھی طرح سے قائم شدہ پروسیسنگ اور برآمدی بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ، ریاست سمندری برآمدات کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھری ہے ۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت آندھرا پردیش کو 2,324.17 کروڑ روپے کی منظوری ملی ہے ۔ بنیادی ڈھانچے کے اہم اقدامات میں وشاکھاپٹنم میں چھ مربوط فش لینڈنگ سینٹرز (2) وجیانگرم ، کاکیناڈا ، تروپتی اور اناکاپلی (126.91 کروڑ روپے) پوڈیماڈکا ، بڈگٹلاپالم اور کوٹھاپٹنم میں تین ماہی گیری کی بندرگاہ (1,137.20 کروڑ روپے) اور باپٹلا میں ایک مربوط ایکوا پارک (88.08 کروڑ روپے) شامل ہیں ۔ یہ منصوبے مل کر ماہی گیری کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے 1,352.19 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی عکاسی کرتے ہیں ۔ مزید برآں ، فشریز اینڈ ایکواکلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) کے تحت 259.28 کروڑ روپے کے 9 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے، حکومت ہند نے پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ریاست میں 4 لاکھ سے زیادہ مستفیدین کی گزر بسر میں بھی مدد کی ہے ، جس سے ماہی گیری کے شعبے میں سب کی شمولیت اور پائیدار ترقی میں اشتراک ہوا ہے۔
اہم بین الاقوامی منڈیوں میں محصول اور غیر محصول چیلنجوں کے باوجود ، ہندوستان کی سمندری اشیاء کی برآمدات نے ترقی اور پائیداری کا مظاہرہ کیا ہے ، جسے پی ایم ایم ایس وائی ، بلیو ریوولوشن اسکیم ، پی ایم ایم کے ایس ایس وائی ، اور ایف آئی ڈی ایف جیسے اقدامات کی حمایت حاصل ہے ، جس نے پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور برآمدی مسابقت کو مضبوط کیا ہے ۔ ان کوششوں کی تکمیل کامرس اور صنعت کی وزارت کے ایکسپورٹ پروموشن مشن (ای پی ایم) اور برآمدات کے لیے زیرو ریٹیڈ جی ایس ٹی نظام ، ٹیکس غیر جانبداری کو یقینی بنانا اور لاگت کے بوجھ کو کم کرنا ، اس طرح عالمی سمندری اشیاء کی منڈیوں میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہے ۔ جیسا کہ ہندوستان 1 لاکھ کروڑ روپے کی سمندری اشیاء کی برآمدات کی طرف اپنا راستہ طے کر رہا ہے ، یہ ورکشاپ اختراع ، انضمام اور عالمی قیادت کے ایک نئے دور کا آغاز ہے ۔ اس ورکشاپ کے نتائج مستقبل کے لیے تیار ، مسابقتی اور جامع سمندری غذا کے برآمدی ماحولیاتی نظام کو متحرک کریں گے ، جس سے ہندوستان عالمی منڈ یوں میں ایک قابل اعتماد رہنما کے طور پر قائم ہوگا ۔
........................................................................................................
) ش ح –ا ع خ-ق ر)
U.No. 7932
(रिलीज़ आईडी: 2268517)
आगंतुक पटल : 9