بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارتِ بجلی کی مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ کا انعقاد


کمیٹی نے ایک سال میں ریکارڈ 50 گیگا واٹ  سے زیادہ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے اور ایک قابلِ اعتماد، لچیلے اور مضبوط گرڈ کے لیے کیے گئے اقدامات کی ستائش کی

प्रविष्टि तिथि: 02 JUN 2026 4:16PM by PIB Delhi

وزارتِ بجلی کی مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ آج چندی گڑھ میں منعقد ہوئی۔ ’گرڈ کا استحکام‘کے موضوع پر ہونے والی اس میٹنگ کی صدارت مرکزی وزیر برائے بجلی جناب منوہر لال نے کی۔

اس میٹنگ میں بجلی کے وزیر مملکت وزیر جناب شری پد یسو نائک،ارکان پارلیمنٹ جو مشاورتی کمیٹی کے ارکان ہیں، سکریٹری (وزارتِ بجلی) اور بجلی کے شعبے کے اہم اداروں بشمول سنٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی، گرڈ کنٹرولر آف انڈیا لمیٹڈ اور سنٹرل ٹرانسمیشن یوٹیلیٹی آف انڈیا لمیٹڈ کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔

اس کمیٹی نے بھارت میں بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ، بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کوبروئے کار لانے اور انورٹر پر مبنی پیداواری وسائل و بلک لوڈز کے بڑھتے ہوئے حصص کے پیشِ نظر، گرڈ کے استحکام کی ابھرتی ہوئی ضروریات پر غور و خوض کیا۔ بات چیت میں محفوظ طریقے سے قابلِ تجدید توانائی کو بروئے کار لانے، ٹرانسمیشن کو مضبوط بنانے، توانائی ذخیرہ کاری، ڈائنامک ری ایکٹو پاور سپورٹ، گرڈ کا لچیلا پن، تکنیکی معیارات کی تعمیل، پیشن گوئی، بجلی کے معیار اور گرڈ کی مضبوطی جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔

یہ بات نوٹ کی گئی کہ گرڈ کا استحکام توانائی کی حفاظت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور بھارت کی ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کی منتقلی کے عمل کو ایک قابلِ اعتماد، لچکدار اور مضبوط پاور گرڈ کا تعاون حاصل ہونا ضروری ہے۔

ارکان نے پہلے سے کیے جانے والے اقدامات کی تعریف کی، جن میں ریسورس ایڈیکویسی پلاننگ، ذیلی خدمات ، انرجی اسٹوریج کو فروغ دینا، اسٹیٹ کامز  اور سنکرونس کنڈنسر کی تنصیب، پی ایم یو پر مبنی نگرانی، بلیک اسٹارٹ موک ڈرلز اور تکنیکی معیارات کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کمیٹی نے ایک سال میں 50 گیگا واٹ  سے زیادہ کی ریکارڈ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی بھی تعریف کی۔

انورٹر پر مبنی پیداواری وسائل  اور بلک لوڈز کی بڑے پیمانے پر شمولیت کے ساتھ ساتھ  بھارتی گرڈ کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کو سراہا گیا:

  • بجلی کے ضیاع سے بچنے کے لیے ٹرانسمیشن لائنوں اور قابلِ تجدید توانائی کے پیداواری منصوبوں کو چالو کرنے کے درمیانی فرق کو ختم کرنا۔
  • وسائل کی مناسبت کو یقینی بنانے اور انرشیل سپورٹ  فراہم کرنے کے لیے طویل مدت کے اسٹوریج والے پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس (پی ایس پیز) کو فروغ دینا۔
  • ٹرانسمیشن کی سرمایہ کاری کو موزوں بنانے کی خاطر بڑے قابلِ تجدید توانائی کے پیداواری کمپلیکسوں کے قریب بڑے پیمانے پر بجلی استعمال کرنے مناسب صارفین کی حوصلہ افزائی کرنا۔
  • وولٹیج کے استحکام اور سسٹم کی مضبوطی کے تعاون کے لیے اسٹیٹ کامز اور سنکرونس کنڈنسر جیسے آلات کی منصوبہ بندی اور تنصیب۔
  • قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع اور اسٹوریج سسٹمز سے لچیلی خدمات  حاصل کرنے کے لیے مناسب ریگولیٹری اور تجارتی نظام قائم کرنا۔
  • نئی ٹیکنالوجیز جیسے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز، گرڈ فارمنگ انورٹرز، الیکٹرولائزرز اور ڈیٹا سینٹر لوڈز کے تکنیکی معیارات کا وقتاً فوقتاً اور بروقت جائزہ لینا۔
  • گرڈ سے منسلک اداروں کی جانب سے پیریڈک سیلف آڈٹ اور تعمیل کی رپورٹنگ کے ذریعے ضوابط پر عمل آوری کی نگرانی کو مضبوط بنانا۔
  • موسم کے بہتر ڈیٹا، ویدر اسٹیشنوں کی کیلیبریشن اور دیکھ بھال اور قابلِ تجدید توانائی کے پلانٹس میں موسمیات کےخودکار اسٹیشنوں کی تنصیب کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کی پیش گوئی کو بہتر بنانا۔
  • موسم کی زد میں آنے والی راہداریوں میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر، ہنگامی بحالی کے نظام  کو برقرار رکھ کر اور تیز تر بحالی کے لیے بلک اسٹارٹ کی صلاحیت کو بڑھا کر گرڈ کی مضبوطی میں اضافہ کرنا۔
  • انورٹر پر مبنی وسائل کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے پیشِ نظر بجلی کے معیار اور ہارمونکس کی جانچ کے لیے ایک مناسب فریم ورک تیار کرنا۔

اس میٹنگ کا اختتام ایک ماحولیات کے لیے سازگار، قابلِ اعتماد، لچکدار، محفوظ اور مضبوط بھارتی گرڈ کی سمت میں اجتماعی طور پر کام کرنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔

*****

 (ش ح ۔ک  ح۔م ذ)

U. No.7873


(रिलीज़ आईडी: 2268090) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Punjabi , Gujarati , Tamil