قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ آر سی نے مدھیہ پردیش کے سدھی ضلع میں سہولیات کی کمی کی وجہ سے ایک سال کے اندر زچگی کے دوران 53؍اموات کا از خود نوٹس لیا


اطلاعات کے مطابق، ریاستی محکمۂ صحت کی جانب سے کی جانے والی ’کمیونٹی میٹرنل ہیلتھ لیگ‘ کی درجہ بندی میں یہ ضلع مسلسل تین کم ترین کارکردگی والے اضلاع میں شامل رہا ہے۔

مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری ، دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 JUN 2026 11:21AM by PIB Delhi

ہندوستان کے قومی حقوق انسانی کمیشن (این ایچ آر سی) نےمدھیہ پردیش کے سدھی ضلع میں اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان ایک  برس کی مدد کے دوران میں زچگی سے قبل اور بعد میں 53 حاملہ ماؤں کی موت کے بارے میں میڈیا کی رپورٹ کا از خود نوٹس لیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ان اموات کی بنیادی وجوہات آگاہی کی کمی اور طبی سہولتوں کی ناکافی دستیابی تھی۔اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق ریاستی محکمۂ صحت کی جانب سے کی جانے والی کمیونٹی میٹرنل ہیلتھ لیگ کی درجہ بندی میں سدھی ضلع مسلسل نچلے تین اضلاع میں شامل رہا ہے۔

کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ میڈیا رپورٹ کا مواد اگر درست ہے تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا اس نے مدھیہ پردیش حکومت کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کیا ہے اور دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

29 مئی 2026 کو شائع ہوئی میڈیا رپورٹ کے مطابق53 زچگی اموات میں مرنے والی خواتین کی اوسط عمر 26 سال بتائی گئی ہے، اور ان میں زیادہ تر پہلی یا دوسری بار ماں بننے والی خواتین شامل تھیں۔ خبر میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز، پرائمری ہیلتھ سینٹرز اور ضلع اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور تکنیکی ماہرین سمیت بنیادی بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے، جس کے باعث مریضوں کو دور دراز واقع ریوا ضلع کے بڑے طبی مراکز کی طرف بھیجا جاتا ہے، جس سے راستے میں زندگی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ایمبولینس ڈرائیور نے انکشاف کیا کہ سِدھی ضلع کے کئی دیہات میں مناسب سڑک رابطہ موجود نہیں ہے، جس سے برسات کے موسم میں حالات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ حاملہ خواتین کو ایمبولینس تک پہنچنے کے لیے دو سے تین کلومیٹر تک چارپائی پر اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے۔

**********

) ش ح –   م ع ن-  ش ہ ب )

U.No. 7848

 


(ریلیز آئی ڈی: 2267828) وزیٹر کاؤنٹر : 9