زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دہلی میں قومی خریف کانفرنس کے موقع پر مرکزی وزیر برائے زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان کی پریس کانفرنس


خریف 2026 کے لیے ملک تیار ہے، ضرورت سے 11 فیصد زیادہ معیاری بیج دستیاب ہیں — جناب شیوراج سنگھ چوہان

کسانوں کو بروقت مدد فراہم کرنے کے لیے 1.74 لاکھ کوئنٹل قومی بیج ذخیرہ تیار — جناب شیوراج سنگھ

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا:9.76 کروڑ فارمر آئی ڈیز تیار ہو چکی ہیں، اب اسکیموں سے فائدہ حاصل کرنا مزید آسان ہوگا

فصل بیمہ، کریڈٹ اور معیار پر توجہ، مرکز اور ریاستوں نے مل کر مضبوط حکمتِ عملی تیار کی — جناب شیوراج سنگھ چوہان

یکم سے 30 جون تک ‘کھیت بچاؤ مہم’ جاری رہے گی، دیہات دیہات میں زرعی آگاہی پہنچائی جائے گی — جناب شیوراج سنگھ چوہان

قدرتی زراعت، متوازن کھاد کے استعمال اور مربوط کاشتکاری پر قومی سطح پر زور دیا جا رہا ہے — مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ

ہر ریاست کے لیے الگ زرعی روڈ میپ تیار کیا جائے گا، زرعی و موسمیاتی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی ہوگی — جناب شیوراج سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 MAY 2026 7:45PM by PIB Delhi

زراعت ، کسانوں کے بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج دہلی میں قومی خریف زرعی کانفرنس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خریف 2026 کے لیے ملک مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستوں کے زرعی وزراء، سینئر افسران، سائنسدانوں، زرعی یونیورسٹیوں، کے وی کیز، ترقی پسند کسانوں اور مرکز و ریاست کی مکمل زرعی ٹیم کے ساتھ ہونے والی وسیع مشاورت میں بیج، کھاد، فصل بیمہ، زرعی قرض، قدرتی زراعت اور ریاستی سطح کے زرعی روڈ میپ جیسے اہم امور پر واضح اور ٹھوس سمت طے کی گئی ہے۔

نئی دہلی کے پوسا  م۶میں واقع سبرامنیم ہال میں قومی خریف زرعی کانفرنس کے دوران منعقدہ پریس کانفرنس میں مرکزی وزیربرائے زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ خریف سیزن کسی بھی لحاظ سے چیلنجنگ نہیں، بلکہ تیاری، ہم آہنگی اور کسان  پرمرکوز پالیسی کا سیزن ہونا چاہیے اور اس کے لیے مرکز اور ریاستیں مل کر کام کر رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کسی بھی فصل کی کامیابی کی پہلی شرط معیاری بیج ہے اور اس بار ملک میں خریف 2026 کے لیے بیج کی دستیابی مکمل طور پر اطمینان بخش ہے۔ انہوں نے مطلع کرتے ہوئے بتایاکہ خریف سیزن کے لیے ملک میں تقریباً 173 لاکھ کوئنٹل بیج کی ضرورت ہے، جبکہ 192 لاکھ کوئنٹل بیج دستیاب ہے۔ یعنی ضرورت سے تقریباً 11 فیصد زیادہ بیج فراہم کیا گیا ہے۔ریاستوں کی ضروریات کے مطابق بیج کی تقسیم کا کام بھی مکمل ہو گیا ہے اور اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ بیج بروقت ریاستوں کے ذریعے حاصل کیا جائے اور خریف کی بوائی سے پہلے کسانوں تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موسمی حالات سے وابستہ غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکز نے 1.74 لاکھ کوئنٹل بیج کا قومی ذخیرہ بھی تیار کیا گیا ہے۔پیشگی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ اگر کسی علاقے میں بارش میں تاخیر، طویل خشک سالی یا دوبارہ بوائی کی ضرورت پیش آئے تو کسانوں کو بیج حاصل کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جناب چوہان نے کہا کہ کسان آئی ڈی مہم کو تیز کیا گیا ہے تاکہ حکومتی اسکیموں کے فوائد کسانوں تک زیادہ آسان، ہموار اور ہدفی انداز میں پہنچ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 9 کروڑ 76 لاکھ سے زائد کسان آئی ڈیز تیار کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق اس سے کسانوں کو بار بار مختلف دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت کم ہو جائے گی اور کھاد، امداد اور دیگر سہولیات کی تقسیم میں شفافیت بڑھے گی جبکہ فوائد صحیح مستحقین تک پہنچیں گے۔

زرعی قرضے کے معاملے پر مرکزی وزیر شیوراج سنگھ نے کہا کہ ملک میں زرعی قرضے کا اوسط حجم تقریباً 1.32 لاکھ روپے ہے، تاہم ریاستوں اور علاقوں کے درمیان اس میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مشرقی  ہندوستان میں یہ اوسط کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ریاستوں میں جہاں زرعی قرضوں کاپھیلا کم ہے، وہاں بینکوں کے ساتھ میٹنگ کی جائیں گی تاکہ کسانوں کو بروقت مناسب قرضے دستیاب ہوں اور وہ زراعت میں وقت پر سرمایہ کاری کر سکیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک میں بڑی تعداد میں کسان اپنی زمین کے مالک نہیں ہیں ،بلکہ لیز یا کرائے(بٹائی) پر کاشتکاری کرتے ہیں۔ مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ ریاستوں کے ساتھ اس حوالے سے سنجیدہ بات چیت کی گئی ہے تاکہ ایسے بٹائی دار کسان بھی سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کر سکیں۔ کچھ ریاستوں کے کامیاب ماڈلز کا مطالعہ کیا جائے گا اور اس مسئلے پر ایک مناسب قومی سطح کا فریم ورک تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

فصل بیمہ اسکیم  کے متعلق بات کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ اس اسکیم کا دائرہ وسیع ہے ،لیکن کچھ خلا ابھی بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فصل کٹائی کے تجربات اور ریموٹ سینسنگ پر مبنی جائزوں کو زیادہ درست، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستوں کی جانب سے پریمیم کی ادائیگی میں تاخیر اور انشورنس کمپنیوں کی جانب سے دعوؤں کی ادائیگی میں تاخیر کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد اگر کسی ادائیگی میں تاخیر ہو تو 12 فیصد سود کی ادائیگی کی شق لاگو ہوگی تاکہ کسانوں کو بروقت فائدہ مل سکے۔

جناب چوہان نے ریاستوں سے یہ بھی اپیل کی کہ مختلف زرعی اسکیموں کے تحت مرکز کی جانب سے جاری کیے گئے فنڈز کا استعمال مقررہ مدت کے اندر یقینی بنایا جائے تاکہ فوائد بغیر تاخیر کے کسانوں تک پہنچ سکیں۔ ملاوٹ شدہ اور جعلی کیڑے مار ادویات کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو سیمپلنگ میں اضافہ کرنا ہوگا، لیبارٹریوں کو مضبوط بنانا ہوگا اورنیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز(ایل اے بی ایل) سے منظور شدہ لیبارٹریوں کو وسعت دینے پر توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جعلی زرعی ان پٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کرنے پر بھی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

پی ایم- اے اے ایس ایچ اے اسکیم کے تحت خریداری میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ سامنے آیا ہے اور اب اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ خریداری مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کرشی وگیان کیندروں کو مزید مضبوط بنانے، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او) مہم کو تیز کرنے اور مختلف فصلوں کے لیے خطہ وار مناسب اقسام پر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ تور (ارہر) جیسی فصلوں کی مختصر مدت میں تیار ہونے والی اور بہتر اقسام کی تیاری کے لیے تیز رفتار کام کی ضرورت ہے اور مختلف زرعی و موسمیاتی حالات کے مطابق موزوں اقسام کے انتخاب پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ اس تناظر میں انہوں نے اعلان کیا کہ ہر ریاست کے لیے الگ الگ زرعی روڈ میپ تیار کیے جائیں گے۔ ان روڈ میپس میں مٹی کی حالت، موسم، غذائی اجزاء کی دستیابی، موزوں فصلیں، بیج کی اقسام اور کھاد کے استعمال جیسے عوامل شامل ہوں گے تاکہ زرعی منصوبہ بندی زیادہ سائنسی، عملی اور علاقہ مخصوص ہو سکے۔

قدرتی کاشتکاری اور کھاد کے متوازن استعمال پر بھی کانفرنس میں تفصیلی غور کیا گیا۔ مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ نے کہا کہ 20 لاکھ کسان قدرتی کاشتکاری کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں، جو تقریباً 8 لاکھ ہیکٹر زمین پر محیط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی کسان پہلے ہی روایتی طریقوں کے ذریعے قدرتی زراعت اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے مربوط کاشتکاری کو چھوٹے اور درمیانے کسانوں کے لیے خاص طور پر اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ زرعی آمدنی بڑھانے کا ایک عملی اور پائیدار طریقہ بن سکتا ہے۔

جناب چوہان نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں مل کریکم جون سے 30 جون تک ‘کھیت بچاؤ مہم’ چلائیں گی تاکہ دیہی سطح پر براہِ راست کسانوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ اس مہم کے تحت افسران اور زرعی ٹیمیں دیہات کا دورہ کریں گی اور متوازن کھاد کے استعمال، سوئل ہیلتھ کارڈ کی سفارشات، قدرتی کاشتکاری کے طریقوں، فصل کے بہتر انتظامات اور دیگر حکومتی اسکیموں کے بارے میں آگاہی فراہم کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ممکن ہو گا وہاں کسان کریڈٹ کارڈ، زرعی مشینی آلات، سوئل ہیلتھ کارڈ اور دیگر زرعی سہولیات کی عملی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

وزیر زراعت نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی 12 سالہ مدت کار کے دوران زرعی شعبے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں ملک نے زرعی پیداوار میں بے مثال اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے زرعی شعبے میں نئی سوچ، نئی ٹیکنالوجی، بہتر ہم آہنگی اور کسان مرکوز نقطۂ نظر کے ساتھ ترقی کی ہے۔

مجموعی طور پر قومی خریف زرعی کانفرنس نے یہ پیغام دیا کہ مرکز اور ریاستیں اب زراعت کو صرف ایک موسمی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ ایک قومی مشن کے طور پر دیکھ رہی ہیں، جو سائنسی منصوبہ بندی، مقررہ وقت پر عمل درآمد اور کسانوں کو بااختیاربنانے پر مبنی ہے۔ بیج سے لے کر بیمہ تک، قرض سے لے کر معیار کے کنٹرول تک، قدرتی کاشتکاری سے لے کر ریاستی سطح کے زرعی روڈ میپس تک، حکومت نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ خریف 2026 کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

 

*******

(ش ح۔ م ع ن ۔ ج)

UR-7807


(ریلیز آئی ڈی: 2267436) وزیٹر کاؤنٹر : 3