بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
ہندوستاننےپورٹ پرفارمنس انڈیکس جاری کیا ہے، جس سے سمندری شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے عالمی مسابقت کو فروغ ملے گا
مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے ڈیجیٹل گورننس پلیٹ فارم کی رقی پر زور دیا، جس کا مقصد کارکردگی، شفافیت اور ملاحوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے
جناب سربانند سونووال نے ہندوستان کی جہاز سازی کو فروغ دینے کے لیے شپ ری سائیکلنگ کریڈٹ اسکیم کے لیے مربوط شپ ری سائیکلنگ پورٹل کا آغاز کیا
وی ٹی ایس کا آغاز، مصنوعی ذہانت کی جدت اور اہم ایم او یو ایز،جے این پی اےکی ترقی کے اگلے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں: جناب سونووال
प्रविष्टि तिथि:
29 MAY 2026 8:50PM by PIB Delhi
نئی دہلی ، 29 مئی 2026:ہندوستان نے جمعہ کے روز مالی سال25-2024 کے لیے لاجسٹکس پورٹ پرفارمنس انڈیکس (ایل پی پی آئی) اورجہاز رانی کی صنعت (شپنگ ایکو سسٹم) میں بہتر حکمرانی، شفافیت اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے مقصد سے چار بڑی ڈیجیٹل پہلوں کے آغاز کے ساتھ اپنے سمندری شعبے کی جدید کاری کی سمت میں ایک اور قدم اٹھایا۔ ان پہلوں کا آغاز بندرگاہ، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر(ایم او پی ایس ڈبلیو)جناب سربانند سونووال نے مہاراشٹر کے ممبئی میں واقع جواہر لال نہروپورٹ اتھارٹی(جے این پی اے) کے 37ویں یومِ تاسیس کی تقریب کے دوران کیا۔
سگار آکَلن فریم ورک کے تحت تیار کردہ ایل پی پی آئی ایک قومی معیاری نظام ہے، جو ہندوستانی بندرگاہوں کی عملی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے بہتر بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ اشاریہ وزیراعظم کے گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان، میری ٹائم انڈیا وژن 2030 اور سمندری امرت کال وژن 2047 کے مطابق ہے اور اس کا مقصد عالمی لاجسٹکس اور سمندری تجارت میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔
اس موقع پر جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ہم نے آج مالی سال 25-2024 کے لیے لاجسٹکس پورٹ پرفارمنس انڈیکس جاری کیا ہے۔ یہ ہندوستانی بندرگاہوں کی کارکردگی، شفافیت اور عالمی مسابقت میں بہتری کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ مسلسل بہتری اور عالمی معیار کو فروغ دے کر یہ ہندوستان کو ایک سرکردہ سمندری طاقت کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔
ایل پی پی آئی کارگو ہینڈلنگ، جہاز کے ٹرن اراؤنڈ ٹائم، برتھ آئیڈل ٹائم، پری برتھنگ ویٹنگ ٹائم، کنٹینر ڈویل ٹائم اور شپ برتھ ڈے آؤٹ پٹ جیسے عملی اشاریوں کی بنیاد پر تین کارگو شعبوں—خشک بلک، مائع بلک اور کنٹینر کارگو—میں بندرگاہوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ فریم ورک مجموعی کارکردگی اور سال بہ سال بہتری دونوں کو برابر اہمیت دیتا ہے، جس سے بندرگاہی آپریشنز میں مسلسل بہتری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
ایل پی پی آئی کے ساتھ ساتھ جناب سونووال نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ(ڈی جی ایس) کی جانب سے تیار کردہ چار ڈیجیٹل اقدامات کا بھی آغاز کیا، جس کا مقصد ملاحوں اور سمندری اسٹیک ہولڈرز کے لیےخدمات کی فراہمی، شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنانا ہے۔
ان اقدامات میں ای-ناوِک پلیٹ فارم کے تحت ہفتے کے ساتوں دن اور چوبیس گھنٹے(7x24) شکایات کے ازالے کا ماڈیول، ای-سمُدرا پلیٹ فارم پر جہازوں کی رجسٹریشن کا ماڈیول، میڈیکل پریکٹیشنر ماڈیول اور مربوط شپ ری سائیکلنگ کریڈٹ نوٹ ماڈیول شامل ہیں۔
شکایت کے ازالے کے پلیٹ فارم کو ہندوستانی ملاحوں کے لیے ایک اہم فلاحی اقدام قرار دیتے ہوئے جناب سونووال نے کہا کہ یہ نظام ای-ناوِک پورٹل، ٹول فری ہیلپ لائن، واٹس ایپ اور مخصوص ای میل خدمات سمیت متعدد ذرائع کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے سے شکایات درج کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔
جناب سونووال نے کہا کہ ملاح اکثر اپنے گھر سے دور مشکل اور غیر یقینی حالات میں کام کرتے ہیں۔ ایک مؤثر شکایتی نظام نہ صرف ایک انتظامی ضرورت ہے بلکہ ایک اہم فلاحی اور تحفظاتی ڈھانچہ بھی ہے۔ یہ ایک بحری ملک کے طور پر مودی حکومت کی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے اور 2006 کے میری ٹائم لیبر کنونشن کے اصولوں کے لیے ہندوستان کی وابستگی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
مرکزی وزیر نے جہاز کے ڈیجیٹل رجسٹریشن ماڈیول کو ایک اہم اصلاح قرار دیا ،جو جہازوں کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنائے گا اور ہندوستان کی بحری حکمرانی کو بڑے عالمی جہازر انی ممالک کے معیار کے مطابق پہنچائے گا۔ سونووال نے کہا کہ میڈیکل پریکٹیشنر ماڈیول جعلی سرٹیفکیشن کے خطرے کو کم کرتے ہوئے ملاحوں کی تصدیق کے لیے مجاز ڈاکٹروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کو منظم کرے گا۔
اس پروگرام کے دوران اعلان کردہ ایک اور اہم اصلاح ’شپ ری سائیکلنگ کریڈٹ‘اسکیم کے لیے ‘یونیفائڈشپ ری سائیکلنگ پورٹل” ہے۔ یہ پورٹل حکومت کی جانب سے 2025 میں اعلان کردہ 70,000 کروڑ روپے کےسمندری ترقیاتی پیکیج کا حصہ ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہانگ کانگ کنونشن کی تعمیل کرنے والے ہندوستانی شپ یارڈز میں جہازوں کی ری سائیکلنگ کرنے والے جہاز مالکان کو جہاز کی اسکریپ ویلیو کے 40 فیصد کے برابر کریڈٹ نوٹ مل سکتا ہے، جسے ہندوستان میں نئی جہاز سازی کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے جے این پی اے کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بندرگاہ نے مالی برس26-2025 کے دوران 8 ملین TEU سے زیادہ اور 102 ملین میٹرک ٹن سے زائد کارگو ہینڈل کیا۔
جناب سونووال نے کہا کہ گزشتہ 37 برسوں میں جے این پی اے کا سفر ہندوستان کے سمندری شعبے کی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جو ایک روایتی بندرگاہی نظام سے عالمی سطح پر مسابقتی لاجسٹکس اور تجارتی دروازے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آج جے این پی اے ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت، ایک اہم عالمی ملک کے طور پر ہندوستان کی نئی حیثیت اور مضبوط بحری صلاحیتوں کی علامت ہے، جو مودی حکومت کی جانب سے بندرگاہوں کی جدید کاری، میکانائزیشن اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ مقامی جہاز ٹریفک سروس (وی ٹی ایس)، اے آئی سے چلنے والا ٹینڈر اسیسمنٹ پلیٹ فارم’’این آئی وی آئی ڈی(نودھا)’’ کا آغاز، اور اس موقع پر کیے گئے متعدد اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشتیں بندرگاہ کے جدت، پائیداری اور عملی بہترین کارکردگی کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں جیسے جیسے ہندوستان نئے ابھرتے ہوئے معاشی مواقع کے ساتھ عالمی تجارت میں اپنا حصہ بڑھا رہا ہے، ہندوستان کی بندرگاہوں کو اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی، کارکردگی اور وسعت کو اپنانا جاری رکھنا چاہیے۔ آج شروع کیے گئے اصلاحات ہندوستان کے بحری نظام کو مزید مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عالمی بحری طاقت بننے کے ہمارے وژن کی حمایت کریں گے۔
بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں پارادیپ پورٹ اتھارٹی نے 5 ملین ٹن سے زیادہ کارگو ہینڈلنگ کے ساتھ خشک بلک کارگو کیٹیگری میں پہلا مقام حاصل کیا، جبکہ سیکا پورٹ اینڈ ٹرمینلز نے مائع بلک کارگو کے شعبے میں قیادت حاصل کی۔ مُندرا بندرگاہ نے کنٹینر کارگو کیٹیگری میں 0.5 ملین ای ٹی یو سے زیادہ کی نقل و حرکت کے ساتھ اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ جواہر لال نہرو پورٹ اتھارٹی نے اسی زمرے کے بڑے کنٹینر والےبندرگاہوں میں دوسرا مقام حاصل کیا۔
اپنے خطاب کے دوران مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ برسوں میں عالمی لاجسٹکس رینکنگ میں ہندوستان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سونووال نے بتایا کہ عالمی بینک کے لاجسٹکس پرفارمنس انڈیکس میں بین الاقوامی شپمنٹس کے شعبے میں ہندوستان کی درجہ بندی 44ویں سے ترقی کر کے 22ویں مقام پر پہنچ گئی ہے، جبکہ عالمی بینک کے کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس 2024 میں سات ہندوستانی بندرگاہیں دنیا کی ٹاپ 100 بندرگاہوں میں شامل ہیں۔
اس پروگرام میں بندرگاہ، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ، ممبئی پورٹ اتھارٹی، جے این پی اے کے سینئر افسران اور شپنگ کمپنیوں، لاجسٹکس اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔
*******
UR-7802
(ش ح۔ م ع ن ۔ ج)
(रिलीज़ आईडी: 2267433)
आगंतुक पटल : 9