نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

کوٹایم میں روزنامہ  دیپیکا ملیالم کے 140ویں یومِ تاسیس کی تقریبات میں نائب صدر جمہوریہ کی شرکت

صحافت کا دھرم یہ ہے کہ اچھائی کی تحسین کی جائے اور بدی  و بدعنوانی پر تنقید کی جائے:  نائب صدرجمہوریہ

تعمیری صحافت معاشرے کو مثبت سمت دیتی ہے اور ملک کی تعمیر و ترقی کو مضبوط بناتی ہے:  نائب صدرجمہوریہ

اداریوں میں رائے اور نقطۂ نظر کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن خبر کو ہر حال میں خبر ہی رہنا چاہیے:   نائب صدرجمہوریہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 MAY 2026 5:03PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ہند  جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج کیرالہ کے شہر کوٹایم میں واقع کے سی میمن ماپّلّائی ہال میں روزنامہ  دیپیکا ملیالم کے 140ویں یومِ تاسیس کی تقریبات میں شرکت کی اور ’’دیپیکا ایکسیلینس ایوارڈ‘‘ پیش کیے۔

اپنے خطاب میں نائب صدر نے  روزنامہ دیپیکا کے 140 سالہ سفر کو ’’عزم، جرأت، وقار  اور عوامی خدمت کی شاندار روایت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے انیسویں صدی کے اواخر میں اخبار کے قیام کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 140 سال قبل، جب تعلیم اور ذرائع ابلاغ تک رسائی محدود تھی، اس وقت کسی اشاعتی ادارے کا آغاز کرنا غیر معمولی عزم، بصیرت اور دور اندیشی کا متقاضی تھا۔

جمہوری نظام میں ذمہ دار صحافت کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ سیاسی قیادت عوامی زندگی کے سب سے کٹھن شعبوں میں سے ایک ہے، اس لیے تنقید تعمیری، منصفانہ اور متوازن ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کا حقیقی دھرم یہ ہے کہ اچھے کاموں کی تحسین کی جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں بے خوفی کے ساتھ غلطیوں اور بدعنوانیوں پر تنقید کی جائے۔

نائب صدر  جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ اخبارات کی ذمہ داری محض واقعات کی رپورٹنگ تک محدود نہیں، بلکہ ان پر ایک وسیع تر سماجی فریضہ بھی عائد ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کو امید، اختراع، ہمدردی اور سائنسی ترقی سے متعلق مثبت اور حوصلہ افزا خبروں کو بھی نمایاں کرنا چاہیے، کیونکہ ایسی تعمیری صحافت نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور انہیں ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اخبارات میں اداریہ رائے اور نقطۂ نظر کے اظہار کا جائز اور مناسب پلیٹ فارم ہوتا ہے، لیکن خبروں کی رپورٹنگ کو غیر جانب دار، معروضی اور حقائق پر مبنی رہنا چاہیے۔ انہوں نے خبروں کو رائے سے آلودہ کرنے اور رپورٹنگ میں اداریہ نگاری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے  روزنامہ دیپیکا کی اس بات پر بھی ستائش کی کہ اس نے نسل در نسل سماجی ہم آہنگی، تعلیم، ثقافت اور تعمیری عوامی مکالمے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کیرالہ کے ادبی و ثقافتی منظرنامے کو مزید مالامال  بنانے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

میڈیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نائب صد جمہوریہ ر نے غلط معلومات (مِس اِنفارمیشن)، عوامی اعتماد میں کمی، تجارتی دباؤ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے باعث رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کو صحافت کے لیے بڑے چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج لوگ اکثر کسی معاملے کی گہرائی میں جانے اور سنجیدہ مباحث کا مطالعہ کرنے کے بجائے صرف سرخیوں اور مختصر عبارتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔

ادارے کے روشن مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ میڈیا کو درپیش ہر چیلنج اپنے اندر ایک نیا موقع بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ  روزنامہ دیپیکا آئندہ بھی دیانت داری، غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ معیار کی اعلیٰ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نوجوان صحافیوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔

نائب صدر جمہوریہ نے  روزنامہ دیپیکا کی انتظامیہ، عملے، قلم کاروں، مشتہرین، تقسیم کاروں اور قارئین کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اخبار کے لیے مزید کامیابیوں، اعتبار اور عمدگی کی دعا کی، تاکہ وہ آئندہ بھی معاشرے اور ملک کی خدمت کا فریضہ بخوبی انجام دیتا رہے۔

اس موقع پر کیرالہ کے گورنر جناب راجیندر وشواناتھ آرلیکر، کیرالہ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جناب اے این شمسیر، مغربی بنگال کے سابق گورنر جناب سی وی آنند بوس، کوٹایم کے آرچ بشپ مار میتھیو مولاکٹ، راشٹر دیپیکا لمیٹڈ کے چیئرمین جناب فرانسس کلیٹس، منیجنگ ڈائریکٹر جناب مائیکل ویٹیکاٹ اور چیف ایڈیٹر ڈاکٹر جارج کڈیلِل سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔

******

(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)

UR No-7785

 

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2267307) وزیٹر کاؤنٹر : 19