سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹیکنالوجی میں 12 برس کی تبدیلی نے 2047 کی بنیاد رکھ دی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


گزشتہ 12 برسوں میں ایسا اختراعی نظام تشکیل پایا ہے جو آئندہ دو دہائیوں میں بھارت کی ترقی کی رہنمائی کرے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

اس تبدیلی نے عالمی سائنسی منظرنامے میں بھارت کی حیثیت کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے، بھارت ٹیکنالوجی کے پیروکار سے قائد کے مقام پر پہنچ گیا ہے: وزیر

کوانٹم مشنز، خلائی اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کو اپنانا بھارت کی تکنیکی پختگی کا مظہر ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

آنے والی دہائیوں میں اختراع، تحقیق اور ٹیکنالوجی بھارت کے ترقیاتی سفر کی سمت متعین کریں گے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 MAY 2026 4:04PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، نیز وزیرِ مملکت برائے وزیرِ اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ گزشتہ 12 برسوں میں ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تبدیلیوں نے 2047 کے ہدف کی بنیاد رکھ دی ہے اور وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ٹیکنالوجی کا محض پیروکار رہنے کے بجائے ایک قائدانہ مقام حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی نے عالمی سائنسی منظرنامے میں بھی بھارت کی حیثیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

دوردرشن نیوز کو دیے گئے ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کئی دہائیوں تک بھارت زیادہ تر وہ ٹیکنالوجیاں اختیار کرتا رہا جو دوسرے ممالک میں تیار کی جاتی تھیں اور اکثر نئی تکنیکی شعبوں میں نمایاں ممالک کے مقابلے میں کئی سال بعد داخل ہوتا تھا۔ تاہم آج بھارت عالمی سطح پر جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کی ترقی میں نہ صرف فعال کردار ادا کر رہا ہے بلکہ کئی شعبوں میں اختراع کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں بھی معاون بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا: ’’گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت نے ٹیکنالوجی کے پیروکار سے ٹیکنالوجی کے قائد تک کا سفر طے کیا ہے۔ اس عرصے میں تشکیل پانے والی سائنسی صلاحیتوں، اختراعی نظام اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے نے وِکست بھارت 2047 کی بنیاد رکھ دی ہے۔‘‘

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو قومی پالیسی سازی کے مرکز میں جگہ دی، نجی شعبے کی زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کی، اختراع پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا اور یہ یقینی بنایا کہ سائنسی ترقی کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچیں۔ ان کے مطابق اس حکمتِ عملی نے بھارت کو ایسا تکنیکی نظام تشکیل دینے میں مدد دی ہے جو بیک وقت اقتصادی ترقی، تزویراتی صلاحیت اور عوامی خدمات کی فراہمی کو تقویت دیتا ہے۔

جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں بھارت کی بڑھتی ہوئی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک نے خلائی تحقیق، جوہری توانائی، کوانٹم ٹیکنالوجی، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور صاف توانائی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام شعبے مل کر 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے لیے مطلوب سائنسی اور تکنیکی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

خلائی شعبے کے حوالے سے وزیر موصوف نے کہا کہ نجی شعبے کے لیے دروازے کھولنے کے بعد بھارت نے دنیا کے سب سے متحرک خلائی ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک تشکیل دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلائی شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اپس کی تعداد چند اکائیوں سے بڑھ کر 400 سے زائد ہو چکی ہے، جبکہ بھارت کی خلائی معیشت، جس کا موجودہ حجم تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر ہے، آئندہ برسوں میں نمایاں طور پر وسعت اختیار کرنے کی توقع ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کی خلائی کامیابیوں نے سائنس کے ساتھ عوامی وابستگی کو مضبوط کیا ہے اور اختراع کاروں اور کاروباری افراد کی ایک نئی نسل کو تحریک دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج خلائی ٹیکنالوجیاں مواصلات، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، حکمرانی، آفات کے انتظام، زراعت اور قومی سلامتی جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جس کے باعث ان کی افادیت روزمرہ زندگی میں بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

وزیر موصوف نے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کی پیش رفت کو بھارت کی طویل مدتی توانائی حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ڈاکٹر ہومی جہاںگیر بھابھا کے تصور کردہ تین مرحلہ جاتی جوہری پروگرام کو آگے بڑھاتی ہے اور توانائی کے تحفظ اور خود انحصاری کی جانب بھارت کے سفر کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جوہری توانائی کے شعبے میں نجی شعبے کی زیادہ شمولیت کو ممکن بنانے والی حالیہ اصلاحات نے اسٹارٹ اپس، کاروباری افراد اور ٹیکنالوجی پر مبنی اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اصلاحات سے اختراع کی رفتار تیز ہوگی اور جدید توانائی ٹیکنالوجیوں کے میدان میں بھارت کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

نیشنل کوانٹم مشن کے تحت ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت نفاذ کے ابتدائی برسوں ہی میں 2,000 کلومیٹر طویل کوانٹم مواصلاتی صلاحیت کے اپنے ہدف کا تقریباً نصف حاصل کر چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت دنیا کے اہم ترین تزویراتی ٹیکنالوجی شعبوں میں سے ایک میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مہارت کی عکاس ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ کوانٹم مواصلاتی ٹیکنالوجیاں محفوظ مواصلات، دفاعی تیاری اور نئی نسل کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی، جس سے بھارت ان چند ممالک کی صف میں شامل ہو رہا ہے جو کوانٹم سائنس کے انتہائی جدید میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔

حیاتیاتی ٹیکنالوجی (بایو ٹیکنالوجی) کے بارے میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بایو ای تھری پالیسی کے ذریعے بھارت حیاتیاتی ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتی تبدیلی کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی معیشت پر حیاتیاتی ٹیکنالوجی، جینیات اور حیاتیاتی پیداوار (بایو مینوفیکچرنگ) میں ہونے والی پیش رفت کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، اور بھارت ان شعبوں میں قائدانہ کردار حاصل کرنے کے لیے فعال اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے جینوم سیکوینسنگ، نایاب بیماریوں کی تشخیص و علاج، مقامی سطح پر ادویات کی تیاری اور جین تھراپی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بھارت کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ملک کو قومی اور عالمی سطح پر مؤثر حل فراہم کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اے آئی حکمرانی، صحت، زراعت، مواصلات، سائنسی تحقیق اور عوامی خدمات کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں ایک انقلابی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک متوازن حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے جس میں انسانی مہارت اور اے آئی سے تقویت یافتہ نظاموں کو یکجا کر کے کارکردگی، اختراع اور عوام مرکز حکمرانی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انڈیا اے آئی مشن کمپیوٹنگ بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا سیٹس، اختراعی سرگرمیوں اور ابھرتی ہوئی ایپلی کیشنز میں سرمایہ کاری کے ذریعے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیوں میں مستقبل کی قیادت کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے وسیع تر اختراعی ماحولیاتی نظام میں غیر معمولی توسیع ہوئی ہے، جس کا اظہار دنیا کے نمایاں اسٹارٹ اپ مراکز میں بھارت کی شمولیت، پیٹنٹ درخواستوں میں نمایاں اضافے، عالمی اختراعی درجہ بندی میں بہتری اور سائنسی تحقیقی مقالات کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اب محض دیگر ممالک میں تیار کی جانے والی ٹیکنالوجیوں کے صارف کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اسے ایک ایسے ملک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے جو عالمی چیلنجوں کے لیے خود نئی اختراعات اور مؤثر حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

صاف توانائی کے حوالے سے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت ایک متنوع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے جس میں جوہری توانائی، سبز ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور سمندری وسائل پر مبنی نئی توانائی ٹیکنالوجیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پائیدار ترقی اور 2070 تک خالص صفر اخراج کے قومی عزم کے مطابق ہیں۔

وزیر نے کہا کہ بھارت کی ترقی کے اگلے مرحلے میں نسبتاً کم دریافت شدہ شعبے، جیسے بلیو اکانومی (سمندری معیشت)، گہرے سمندری وسائل، ہمالیائی حیاتیاتی وسائل، جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور اگلی نسل کی مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیاں اہم کردار ادا کریں گی۔ ان کے مطابق بھارت کو ان میں سے کئی شعبوں میں منفرد قدرتی اور سائنسی برتری حاصل ہے اور ملک انہیں قومی ترقی کے مؤثر محرکات میں تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے سفر کو ایک وسیع تر قومی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں پیدا ہونے والا سائنسی اعتماد، تکنیکی صلاحیت اور اختراعی ماحولیاتی نظام بھارت کو ایک نمایاں علمی معیشت کے طور پر ابھرنے اور وِکست بھارت 2047 کے ویژن کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001KZBJ.jpg

تصویر: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ اتوار کے روز دوردرشن بھون، نئی دہلی میں ڈی ڈی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی پوڈ کاسٹ انٹرویو کے دوران۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002Q134.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003XL1J.jpg

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-7783


(ریلیز آئی ڈی: 2267254) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi