صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے قومی خاندانی صحت سروے-6 جاری کیا


قومی خاندانی صحت سروے-6 کے نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارت نے زچہ و بچہ کی صحت، غذائیت اور مالی تحفظ کے شعبوں میں تیز رفتار پیش رفت حاصل کی ہے

ادارہ جاتی زچگی کی شرح 90.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے

بل از پیدائش نگہداشت ( اے این سی ) کی کوریج92.6 فیصد سے بڑھ کر 95.9 فیصد ہو گئی ہے

بارہ سے تئیس ماہ کی عمر کے بچوں میں کسی بھی ویکسین کی شرح مسلسل بلند سطح پر برقرار ہے اور یہ 96 فیصد سے زیادہ رہی ہے

زیادہ تر ویکسین 95.6 فیصد بچوں کو سرکاری صحت مراکز میں لگائی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کا اعتماد سرکاری صحت نظام پر برقرار ہے

روٹا وائرس ویکسین کی کوریج میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے

ابتدائی صحت خدمات کے استحکام نے بھارت کو مکمل حفاظتی ٹیکہ کاری کی شرح میں نمایاں بہتری کی جانب گامزن کیا ہے، جو 83.8 فیصد سے بڑھ کر 87.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے

بچوں کی غذائی صورتحال کے اشاریوں میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے، جس کے تحت قد میں کمی (اسٹنٹنگ) میں17 فیصد اور شدید کم وزنی (سیویئر ویسٹنگ) میں 32 فیصد کمی واقع ہوئی ہے

آیوشمان بھارت-پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا  اور توسیع شدہ صحت تحفظ اقدامات نے صحت کے شعبے میں مالی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 MAY 2026 3:55PM by PIB Delhi

صحت و خاندانی  فلاح و بہبود کی وزارت ( ایم او ایچ ایف ڈبلیو) نے آج قومی خاندانی صحت سروے-6 جاری کیا۔ یہ سروے 24-2023 کے دوران صحت و خاندانی فلاح و بہبود کی وزارت  نے بین الاقوامی آبادیاتی سائنس ادارہ (آئی آئی پی ایس)، ممبئی کو مرکزی ادارہ مقرر کرتے ہوئے مکمل کیا۔ یہ سروے تقریباً 6.79 لاکھ گھرانوں کا احاطہ کرتا ہے جو 715 اضلاع پر محیط ہیں۔ اس کے ذریعے آبادی، صحت، غذائیت اور خاندانی فلاح و بہبود کے اہم اشاریوں سے متعلق جامع معلومات فراہم کی گئی ہیں، جو ضلعی سطح تک شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور پروگراموں کے مؤثر نفاذ میں مددگار ثابت ہوں گی۔

قومی خاندانی صحت سروے-6 کے اہم نتائج

بھارت نے صحت، غذائیت اور سماجی ترقی کے اشاریوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے، جو مسلسل پالیسی اقدامات اور اہم فلیگ شپ پروگراموں کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ ہے۔ قومی خاندانی صحت سروے-5 (21-2019) سے قومی خاندانی صحت سروے-6 (24- 2023) کے درمیان سامنے آنے والے اہم نتائج درج ذیل ہیں:

 

محفوظ زچگی، ادارہ جاتی زچگی اور زچہ و بچہ کی بہتر صحت کی سہولتیں

قومی خاندانی صحت سروے-6 ملک بھر میں زچہ و بچہ کی صحت کی خدمات میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ 95.9 فیصد حاملہ خواتین کو قبل از پیدائش نگہداشت (اے این سی) فراہم کی گئی، جبکہ پہلی سہ ماہی میں اے این سی حاصل کرنے والی ماؤں کا تناسب 70.0 فیصد سے بڑھ کر 76.2 فیصد ہو گیا۔ کم از کم چار اے این سی جانچ کروانے والی ماؤں کی شرح بھی 58.5 فیصد سے بڑھ کر 65.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو زچہ و بچہ کی صحت کی خدمات کے تسلسل میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔

ادارہ جاتی زچگی کی شرح 88.6 فیصد سے بڑھ کر 90.6 فیصد ہو گئی، جس سے بھارت عالمی سطح پر مکمل کوریج کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔ ہنر مند صحت عملے کی نگرانی میں ہونے والی ولادتوں کی شرح 89.4 فیصد سے بڑھ کر 91.3 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پیدائش کے بعد دو دن کے اندر ڈاکٹروں، نرسوں، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز (ایل ایچ وی) ، معاون نرس دائی ( اے این ایم) یا دیگر صحت کارکنوں کے ذریعے نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت 79.1 فیصد سے بڑھ کر 85.3 فیصد ہو گئی۔

زچہ کی غذائی کیفیت کے اشاریوں میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ دورانِ حمل 100 دن یا اس سے زیادہ آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹ استعمال کرنے والی ماؤں کی شرح 44.1 فیصد سے بڑھ کر 54.9 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ 180 دن یا اس سے زیادہ سپلیمنٹ لینے والی ماؤں کا تناسب 26.0 فیصد سے بڑھ کر 37.8 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

یہ پیش رفت ملک بھر میں مضبوط ہوتی ہوئی عوامی صحت کے ڈھانچے اور زچہ و بچہ کی صحت کی خدمات تک بہتر رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بہتری متعدد مرکزی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ ہے، جن میں جننی سُرکشا یوجنا (جے ایس وائی) ، جننی شِشو سُرکشا کاریہ کرم ( جے ایس ایس کے) ، پردھان منتری سُرکشِت ماترتو ابھیان ( پی ایم ایس ایم اے / ای-پی ایم ایس ایم اے)، سُرکشِت ماترتو آشوَاسن ( ایس یو ایم اے این) ، ادارہ جاتی نوزائیدہ نگہداشت، گھریلو نوزائیدہ نگہداشت اور پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی 2.0) شامل ہیں۔ ان پروگراموں نے قبل از اور بعد از پیدائش نگہداشت کی کوریج کو بہتر بنایا ہے، حمل اور زچگی کے دوران معیاری خدمات کو یقینی بنایا ہے اور محفوظ زچگی و بچوں کی صحت کے طریقوں کو فروغ دیا ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی میں بہتری

بھارت میں کل شرحِ افزائشِ آبادی ( ٹی ایف آر )  2.0 پر برقرار ہے۔  مانع حمل ذرائع کے استعمال کی شرح ( سی پی آر ) 66.7 فیصد سے بڑھ کر 69.1 فیصد ہو گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ماں اور بچے کی صحت و بہبود پر توجہ کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔

یہ پیش رفت قومی سطح پر جاری خاندانی منصوبہ بندی پروگراموں، بالخصوص ’’مشن پریوار وکاس‘‘ کے مسلسل مؤثر نفاذ کا نتیجہ ہے۔

بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری میں کامیابی

بھارت عالمی سطح پر مکمل حفاظتی ٹیکہ کاری کے ہدف کے حصول کی سمت مضبوط پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔ 12 سے 23 ماہ کی عمر کے بچوں میں مکمل ویکسینیشن کی شرح، ویکسینیشن کارڈ کی بنیاد پر، 83.8 فیصد سے بڑھ کر 87.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

زیادہ تر بچوں کو سرکاری صحت مراکز نے ویکسین فراہم کی ہے ، جو تقریباً 95.6 فیصد ہے  ، جس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ عوام  کو سرکاری صحت نظام پر بھروسہ ہے۔

12 سے 23 ماہ کی عمر کے بچوں میں کسی بھی ویکسین کی کوریج مسلسل بلند سطح پر برقرار رہتے ہوئے 96 فیصد سے زیادہ رہی، جبکہ اہم ویکسین کے حوالے سے نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ روٹا وائرس ویکسینیشن کی شرح میں واضح اضافہ ہوا، جو 36.4 فیصد سے بڑھ کر 85.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح خسرہ سے بچاؤ کی دوسری خوراک کی کوریج بھی 58.6 فیصد سے بڑھ کر 71.8 فیصد ہو گئی۔

سروے میں بچوں کی صحت کے اہم اشاریوں میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ شدید سانس کی انفیکشن (اے آر آئی) کی علامات کی شرح 2.8 فیصد سے کم ہو کر 1.9 فیصد رہ گئی، جبکہ شدید اسہال کی شرح بھی کم ہو کر 0.5 فیصد تک آ گئی۔

یہ تمام پیش رفت فیلڈ سطح پر صحت کارکنوں کی بہتر کارکردگی، مضبوط کولڈ چین نظام، یو-وِن ( یو –ڈبلیو آئی این ) جیسے ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز اور یونیورسل امیونائزیشن پروگرام سمیت دیگر عوامی صحت اقدامات کے تحت سرگرم  سماجی شمولیت کا نتیجہ ہے۔

بچوں کی غذائیت میں ہندوستان کی پیش رفت: ایس ڈی جی کے حصول کی طرف ایک مثبت رجحان

 

قومی خاندانی صحت سروے-6 بچوں کی غذائی صورتحال میں حوصلہ افزا پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔

سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھ ماہ سے کم عمر کے 95.6 فیصد بچوں کو ماں کا دودھ پلایا جا رہا تھا۔  اس کے علاوہ ، تین سال سے کم عمر بچوں میں پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پلانے کی شرح میں تقریباً 10 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جو 41.8 فیصد سے بڑھ کر 50.1 فیصد تک پہنچ گیا۔

پانچ سال سے کم عمر بچوں میں قد میں کمی (اسٹنٹنگ) کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو 35.5 فیصد سے گھٹ کر 29.3 فیصد رہ گئی، جو طویل المدتی غذائی بہتری اور بچوں کی صحت میں مثبت تبدیلی کی واضح علامت ہے۔

شدید کم وزنی (سیویئر ویسٹنگ) کی شرح بھی 7.7 فیصد سے کم ہو کر 5.2 فیصد رہ گئی، جبکہ کم وزن بچوں کی مجموعی شرح میں معمولی کمی آ کر یہ 32.1 فیصد سے 31.8 فیصد ہو گئی۔ غذائی عادات میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں 6 سے 8 ماہ کی عمر کے بچوں میں دودھ کے ساتھ ٹھوس یا نیم ٹھوس غذا لینے کی شرح 45.9 فیصد سے بڑھ کر 59.5 فیصد تک پہنچ گئی۔

یہ پیش رفت مختلف وزارتوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جن میں ’’پوشن ابھیان‘‘، ’’سکشم آنگن واڑی‘‘ اور ’’پوشن 2.0‘‘ جیسے اہم پروگرام شامل ہیں، جو مربوط دیکھ بھال اور خدمات ( آئی سی ڈی ایس)کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی صحت مشن ( این ایچ ایم) کے تحت زچہ و بچہ صحت خدمات، نیوٹریشن ریہیبلیٹیشن سینٹرز، مدرس ایبسلوٹ (ایم اے اے)مہم، شیرخوار و کم عمر بچوں کی غذائی رہنمائی، آئرن و فولک ایسڈ سپلیمنٹیشن اور نشوونما کی نگرانی جیسے اقدامات نے بھی ان نتائج کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

صحت کے تحفظ میں توسیع

گھریلو سطح پر صحت بیمہ/مالی تحفظ کی اسکیموں کی کوریج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 41.0 فیصد سے بڑھ کر 60.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ پیش رفت حکومت کی ان پالیسیوں کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے جن کا مقصد صحت کے شعبے میں مالی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ آیوشمان بھارت – پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا ( پی ایم – جے اے وائی) جیسے فلیگ شپ پروگراموں نے خصوصاً کمزور اور محروم طبقات کے لیے سستی اور معیاری صحت خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے میں اہم   رول ادا کیا ہے۔ یہ توسیع ملک میں عالمی سطح پر جامع صحت کوریج اور مساوی صحت سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

خواتین کو بااختیار بنانا اور مالی شمولیت

قومی خاندانی صحت سروے-6 خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت اور مالی بااختیاری میں مسلسل پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والی خواتین کا تناسب 33.3 فیصد سے بڑھ کر 64.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو تقریباً دوگنا اضافہ ہے۔ وہ خواتین جن کے پاس اپنا بینک یا بچت کھاتہ موجود ہے اور وہ خود اس کا استعمال کرتی ہیں، ان کی شرح 78.6 فیصد سے بڑھ کر 89.0 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی طرح وہ خواتین جو اپنا ذاتی موبائل فون استعمال کرتی ہیں، ان کا تناسب 53.9 فیصد سے بڑھ کر 63.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

15 سے 24 سال کی عمر کی خواتین میں ماہواری کے دوران حفظانِ صحت کے محفوظ طریقوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جو 77.6 فیصد سے بڑھ کر 79.2 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت راشٹریہ کشور سوستھیا کاریہ کرم (آر کے ایس کے) کے تحت ماہواری حفظانِ صحت اسکیم ( ایم ایچ ایس) اور پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا کے تحت کم قیمت پر سینیٹری مصنوعات کی دستیابی جیسے اقدامات کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ ان اقدامات نے ملک بھر میں ماہواری حفظانِ صحت سے متعلق آگاہی، دستیابی اور محفوظ طریقوں کے اختیار کو بہتر بنایا ہے۔

قومی خاندانی صحت سروے-6 صحت اور سماجی شعبوں میں پروگراموں کے نفاذ اور پالیسی سازی کے لیے اہم اور بنیادی شواہد فراہم کرتا ہے۔ اس کے نتائج زچہ و بچہ کی صحت، غذائیت، خواتین کو بااختیار بنانے اور بنیادی خدمات تک رسائی میں مسلسل اور مستحکم پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسی کے ساتھ، غیر متعدی امراض میں اضافہ، طرزِ زندگی سے متعلق خطرات اور غذائی کمی کے ساتھ ساتھ معمر افراد میں بڑھتا ہوا وزن/موٹاپا جیسے دوہرے بوجھ جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجز اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ احتیاطی صحت اقدامات، رویوں میں مثبت تبدیلی اور متوازن غذائی حکمت عملیوں پر مسلسل توجہ دی جائے۔

مجموعی طور پر یہ نتائج اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ بھارت پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کی سمت مسلسل اور مستحکم پیش رفت کر رہا ہے۔ مربوط حکمت عملی، آخری مرحلے تک خدمات کی فراہمی اور جامع ترقی پر مسلسل توجہ کے ساتھ، بھارت اپنی ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے اور اپنی آبادی کی صحت و فلاح و بہبود میں مزید بہتری لانے کے حالت میں ہے۔

 قومی خاندانی صحت سروے-6 درج ذیل لنک پر دستیاب ہے:

https://master-mohfw-dohfw.digifootprint.gov.in/documents/publications?page=1

************

ش ح۔ت ف۔ش ت

 (U: 7707)


(ریلیز آئی ڈی: 2266691) وزیٹر کاؤنٹر : 15