سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی رمن ایفیکٹ کی جائے پیدائش آئی اے سی ایس اور سائنس میں بھارت کے پہلے نوبل انعام کی 150 سالہ تقریبات میں شرکت
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کولکاتہ میں آئی اے سی ایس کے تاریخی کیمپس میں مقامی سطح پر تیار کردہ سولر سیل فیبریکیشن سہولت اور ریٹینا انکیوبیشن سینٹر کا افتتاح کیا
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آئی اے سی ایس کا سفر تین صدیوں میں بھارت کی سائنسی ترقی کی عکاسی کرتا ہے
ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ مہندرا لال سرکر اور سی وی رمن کی وراثت وکست بھارت 2047 کی جانب بھارت کے سفر کو تحریک دیتی رہے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 MAY 2026 5:16PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز اور وزیرِ مملکت برائے پی ایم او ، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کولکاتہ میں ’’انڈین ایسوسی ایشن فار دی کلٹیویشن آف سائنس‘‘ (آئی اے سی ایس) کا دورہ کیا۔ یہ وہی ادارہ ہے جہاں سر سی وی رمن نے وہ تحقیقی کام کیا تھا جس کے نتیجے میں رمن ایفیکٹ کی دریافت ہوئی اور سائنس میں بھارت کو پہلا نوبل انعام ملا۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے 19ویں، 20ویں اور 21ویں صدیوں پر محیط بھارت کے اس سب سے تاریخی سائنسی ادارے کی 150 سالہ تقریبات میں شرکت کی۔
آئی اے سی ایس کو آزادی سے پہلے بھارت کی سائنسی بیداری اور آزادی کے بعد اس کی سائنسی ترقی کی ایک زندہ علامت قرار دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس ادارے نے نسل در نسل سائنسی مہارت، اختراع اور قوم سازی کی ایک مسلسل وراثت کو آگے بڑھایا ہے۔ 1876 میں ڈاکٹر مہندر لال سرکر کی طرف سے قائم کردہ یہ ادارہ بھارت کی چند عظیم ترین سائنسی شخصیتوں کا گہوارہ بنا، جن میں جگدیش چندر بوس، میگھ ناد ساہا، ایس این بوس اور سر سی وی رمن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے سی ایس کا سفر، نوآبادیاتی دور کی فکری بیداری سے لے کر وکست بھارت 2047 کی سمت گامزن موجودہ دور کے اختراعی ایکو سسٹم تک، بھارت کی سائنسی شناخت کے ارتقا کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کے پہلے امورفس سلیکون سولر سیل کی تیاری کے لیے آئی اے سی ایس میں مقامی سطح پر تیار کردہ پلازما اینہانسڈ کیمیکل ویپر ڈیپوزیشن (پی ای سی وی ڈی) سسٹم کا افتتاح کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ادارے کے نئے انکیوبیشن سینٹر ’’-ریٹینا‘‘ٹرانسلیشن، اختراع اور جہازرانی کے لیے تحقیقی کاروباری صلاحیت- کا بھی افتتاح کیا۔ وزیر موصوف نے آئی اے سی ایس کے آرکائیوز اور ریسرچ نماشی گیلریوں کا بھی دورہ کیا، جہاں ادارے کی تاریخی سائنسی خدمات اور موجودہ تحقیقی سرگرمیوں کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
وزیر موصوف نے کیمپس میں ڈاکٹر مہندر لال سرکر، سر سی وی رمن اور پروفیسر میگھ ناد ساہا کے مجسموں پر گلہائے عقیدت نذر کیے اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس پروگرام میں آئی اے سی ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر کلوبارن مائیتی، سینئر سائنسدانوں، فیکلٹی ممبران، محققین، طلبہ اور سائنسی برادری کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
مہندر لال سرکر ہال میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آئی اے سی ایس بھارت کی سائنسی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ ایشیا کا پہلا ایسا تحقیقی ادارہ ہے جسے بھارتیوں نے اصل تحقیق کے ذریعے جدید سائنس کے فروغ کے لیے قائم کیا تھا۔ انہوں نے یاد کیا کہ ڈاکٹر مہندر لال سرکار نے ایک ایسے وقت میں بھارتیوں کے لیے سائنسی استعداد کار میں اضافے اور جدید سائنسی تعلیم کا تصورپیش کیا تھا جب ملک میں سائنسی بنیادی ڈھانچہ عملی طور پر ناپید تھا۔ وزیر موصوف نے ڈاکٹر سرکر کے ذریعے جناب رام کرشن پرمہنس کے ساتھ ادارے کے منفرد تاریخی تعلق کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے ان کے ذاتی معالج کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آئی اے سی ایس میں رمن ایفیکٹ کی دریافت بھارت کی سائنسی تاریخ کے اہم ترین سنگہائے میل میں سے ایک ہے اور یہ بھارتی سائنسدانوں کی نسلوں کو مسلسل تحریک دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے نے آزادی کے بعد بھی عالمی سطح پر معتبر سائنسی خدمات پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور فزیکل سائنسز، بائیولوجیکل سائنسز، مٹیریلز سائنس، کمپیوٹیشنل سائنس اور بین الکلیاتی ٹیکنالوجیز میں جدید ترین تحقیق کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا۔
پی ای سی وی ڈی سیٹ اپ کے افتتاح کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ جدید سولر سیل فیبریکیشن ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر تیاری سائنسی خود کفالت اور اختراع کے اس جذبے کی عکاسی کرتی ہے جسے بھارت اب ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے وژن کے تحت تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پروفیسر اشوک کمار بروا کا تیار کردہ یہ سسٹم بھارت میں امورفس سلیکون سولر سیل کی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور اس نے ملک کے قابلِ تجدید توانائی کے سفر میں ایک اہم باب کا اضافہ کیا۔
’’ریٹینا‘‘انکیوبیشن سینٹر کے آغاز پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کے سائنسی ادارے اب بنیادی تحقیق کو کاروباری صلاحیت، اسٹارٹ اپ کلچر اور سماجی افادیت کے ساتھ تیزی سے جوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارتی سائنس کا مستقبل لیبارٹری کی دریافتوں کو سستی اور جامع ٹیکنالوجیز میں تبدیل کرنے میں مضمر ہے، جو ہیلتھ کیئر، ماحولیات کے لیے سازگار توانائی، ایڈوانسڈ مٹیریلز اور پائیدار ترقی میں قومی ترجیحات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
وزیر موصوف نے کوانٹم مٹیریلز، نینو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بیٹری مٹیریلز، کینسر بائیولوجی اور ماحولیاتی ٹیکنالوجیز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں آئی اے سی ایس کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے آئی اے سی ایس کے سائنسدانوں کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے کاموں جیسے کہ ڈوشین مسکولر ڈسٹروفی کے علاج کی تحقیق، زہریلے کچرے کی صفائی ، فوٹو ڈیٹیکٹرز، بائیو سینسرز اور پائیدار توانائی کے مٹیریلز کا ذکر کیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کے سائنسی ادارے وکست بھارت 2047 کے قومی وژن کے مطابق ایک انقلابی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں اختراع، تعلیمی ادارے، صنعت اور اسٹارٹ اپس مل کر کام کریں گے تاکہ بھارت کو دنیا کی صفِ اول کی علمی معیشتوں میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے اسکول کے طلبہ، خواتین اور دیہی برادریوں کے لیے ادارے کے آؤٹ ریچ پروگراموں کی بھی تعریف کی، جن کا مقصد سائنسی مزاج کو پروان چڑھانا اور معاشرے میں سائنسی شرکت کو وسعت دینا ہے۔




***
ش ح۔ ک ح۔ خ م
U. No. 7578
(ریلیز آئی ڈی: 2265564)
وزیٹر کاؤنٹر : 12