وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
شمال مشرقی خطے کے لیے علاقائی جائزہ میٹنگ، آئیزول: ایم ڈی سی ایس بیس لائن سروے کا آغاز،خنزیر پروری بکلیٹ اور اے ایس ایف بیداری فلم
مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے میزورم میں 32.15 کروڑ روپے مالیت کے ماہی پروری کے پروجیکٹس کا افتتاح کیا اور سنگِ بنیاد رکھا
حکومتِ ہند نے میزورم میں کولڈ چین کی سہولیات سے لیس فش مارکیٹنگ سینٹر کی منظوری دی، جس سے ماہی پروری کی ویلیو چین کو فروغ ملے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 MAY 2026 4:05PM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت نے میزورم کے شہرآئیزول میں ’علاقائی جائزہ میٹنگ: شمال مشرقی خطہ 2026‘ کا انعقاد کیا، جس کی صدارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری کی وزارت اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے کی، جبکہ اس موقع پر ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور اقلیتی امور کی کےمرکزی وزیرِ مملکت جناب جارج کورین بھی معزز مہمان کے طور پر موجود تھے۔

ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے پی ایم ایم ایس وائی اور ایف آئی ڈی ایف کے تحت تقریباً 32.15 کروڑ روپے مالیت کے اہم پروجیکٹس کا افتتاح کیا اور سنگِ بنیاد رکھا، جو شمال مشرقی خطے میں ایک خود کفیل ماہی پروری کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر موصوف نے مستفیدین، بشمول بہترین فشریز اسٹارٹ اپس اور کوآپریٹوز، میں فشریز کے سی سی کارڈز اور اعزازات بھی تقسیم کیے اور ان کے چیلنجوں کو سمجھنے اور مزید مدد فراہم کرنے کے لیے ان سے بات چیت کی۔

مرکزی وزیر نے شمال مشرقی خطے میں ماہی پروری کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ریاستوں اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے مربوط کوششوں پر زور دیا اور آرائشی ماہی گیری میں موجود مواقع کو اجاگر کیا جو برآمدات کے ایک اہم محرک کے طور پر ابھر رہی ہے۔ انہوں نے مربوط ایکوا پارکس اور کلسٹر ڈیولپمنٹ کے ذریعے ویلیو چین کو مضبوط بنانے پر زور دیا، جس کے تحت سات کلسٹرز پہلے ہی نوٹیفائی کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے شمال مشرقی خطے میں ماہی پروری کی پیداوار میں شاندار ترقی کا ذکر کیا اور ایکوا پارکس، کلسٹر ڈیولپمنٹ، اور بائیوفلاک جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ ساتھ این ایف ڈی پی کے ذریعے ڈیجیٹلائزیشن اور میزورم میں منظور شدہ 50 کروڑ روپے کے فش مارکیٹنگ سینٹر سمیت بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زور دیا، جبکہ ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ واضح فریم ورک اور ٹائم لائنز کے ذریعے وقت پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

’’شمال مشرقی خطے کے لیے علاقائی جائزہ میٹنگ‘‘ کے دوران کثیر مقصدی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز (ایم ڈی سی ایس) کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے بیس لائن ولیج لیول سروے کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد ڈیری کوآپریٹیوز کو مضبوط بنانا اور شمال مشرقی ریاستوں کے دیہی ڈیری کسانوں کے لیے روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔ یہ سروے، ’’خنزیر پروری کے اچھے طورطریقے‘‘ کے عنوان سے تیار کردہ بکلیٹ اور افریقن سوائن فیور (اے ایس ایف) بیداری فلم کے ساتھ، حکومتِ ہند کے ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ کی جانب سے لانچ کیا گیا۔ یہ بکلیٹ سائنسی پگ فارمنگ، پیداواری صلاحیت میں بہتری، بیماریوں سے بچاؤ، جدید انتظامی طورطریقوں اور کسانوں کے لیے پائیدار روزگار کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جبکہ اے ایس ایف فلم شمال مشرقی خطے میں افریقن سوائن فیور کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے بیداری، تیاری اور مربوط کوششوں کو فروغ دیتی ہے۔

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت نے آئیزول میں علاقائی جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے، دیہی روزگار اور علاقائی معیشت کو فروغ دینے کے لیے شمال مشرقی خطے میں لائیو اسٹاک اور ڈیری کے شعبے کی وسیع صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مصنوعی تخم ریزی اور سیکس-سورٹڈ سیمن ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر اپنانے، ڈیری انفراسٹرکچر اور کوآپریٹوز کو مضبوط بنانے، سرکاری اسکیموں کے مؤثر نفاذ اور ٹیکہ کاری مہم کے ذریعے بیماریوں کی روک تھام پر زور دیا۔ انہوں نے پروجیکٹس کے بروقت نفاذ، مرکزی فنڈز کے موثر استعمال اور لائیو اسٹاک و ڈیری کے شعبے میں اس خطے کو خود کفیل بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں پر بھی زور دیا۔
حکومتِ ہند کے ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیرِ مملکت جناب جارج کورین نے ماہی پروری کی پیداواری صلاحیت اور پائیداری کو بڑھانے کے لیے جدید سائنسی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ انہوں نے بہتر منافع کے لیے لاجسٹکس، کولڈ چین اور مارکیٹ کنیکٹویٹی کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
حکومتِ ہند کے ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیرِ مملکت نے شمال مشرقی ریاستوں میں برادری پر مبنی مضبوط ایکو سسٹم، خاص طور پر خواتین کی قیادت والے سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کے فعال کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کمیونٹی نیٹ ورکس اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کا مؤثر استعمال مویشی پروری کے شعبے کو نمایاں طور پر مضبوط بنا سکتا ہے، برآمدات پر مبنی مصنوعات کو فروغ دے سکتا ہے اور شمال مشرق میں علاقائی ترقی کو تیز کر سکتا ہے۔
حکومتِ ہند کے ڈی اے ایچ اینڈ ڈی کے سکرٹری جناب نریش پال گنگوار نے اپنے کلیدی خطاب میں، شمال مشرقی ریاستوں کی جانب سے محکمہ جاتی اسکیموں کی مؤثر از سر نو تنظیم اور ان کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ویٹرنری انفراسٹرکچر، ٹیکہ کاری اور مصنوعی تخم ریزی کے لیے ڈی اے ایچ ڈی کے معیارات کو اپنائیں، جبکہ انہوں نے ایس اے ایس سی آئی اسکیم کے ذریعے سرمایہ کاری کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ افریقن سوائن فیور (اے ایس ایف) کے لیے ویکسین کے اختیارات پر غورکر رہا ہے۔
محکمۂ ماہی پروری کے سکرٹری ڈاکٹر ابھیلکش لکھی نے شمال مشرقی خطے میں ماہی پروری کے پروجیکٹس میں زمینی سطح پر عمل درآمد کی پیشرفت پر روشنی ڈالی اور معقول لاگت کے اصولوں کے ذریعے علاقائی رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے آر اینڈ ڈی کے لیے آئی سی اے آر کے مضبوط تعاون کے ساتھ ساتھ معیاری بیج، تنوع اور مخلوط ماہی پروری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پائیدار ترقی اور برآمدی صلاحیت کو تیز کرنے میں آبی ذخائر، کیج کلچر، ڈیجیٹائزیشن اور نجی شعبے کی شرکت کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے معیاری بیج، تنوع، استعداد کار میں اضافے اور ویلیو ایڈیشن پر زور دیا۔
ماہی پروری کے ریاستی وزراء نے تالابوں کی ترقی، ان پٹ سپورٹ اور مالی امداد سمیت اہم اقدامات پر روشنی ڈالی،ساتھ ہی انہوں نے آرائشی ماہی گیری کی صلاحیت اور نوجوانوں میں کاروباری صلاحیت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مربوط کاشتکاری کو فروغ دینے، مہارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور علاقائی ضروریات کی بہتر عکاسی کے لیے پی ایم ایم ایس وائی کی یونٹ لاگت پر نظرثانی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
حکومتِ ہند کے ڈی اے ایچ اینڈ ڈی کی ایڈیشنل سکرٹری (کیٹل اینڈ ڈیری) محترمہ ورشا جوشی نے اہم اقدامات پر روشنی ڈالی، جن میں راشٹریہ گوکل مشن، ڈیری کی ترقی کے لیے قومی پروگرام، نیشنل لائیو اسٹاک مشن، مویشی پروری سے متعلق بنیادی ڈھانچے کا فنڈاور لائیو اسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں پر یہ زور بھی دیا کہ وہ مویشی پروری اور ڈیری کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایس اے ایس سی آئی اسکیم کے تحت ملنے والی امداد کا استعمال کریں۔
حکومتِ ہند کے محکمہ ماہی پروری کے جوائنٹ سکرٹری جناب ساگر مہرہ نے شمال مشرقی خطے میں ماہی پروری کے شعبے کی کامیابیوں اور روڈ میپ کو پیش کیا، جس میں مختلف اسکیموں کے تحت تقریباً 2,228 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پر روشنی ڈالی گئی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے، ویلیو چین کی ترقی اور پائیدار نمو کے لیے اہم ترجیحات کا خاکہ پیش کیا گیا۔ این ایف ڈی بی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر بیجے کمار بہرا نے تشکر کا اظہارکیا، جس کے ساتھ ہی یہ سیشن بخوبی اختتام پذیر ہوا۔
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے این ای آر علاقائی جائزہ میٹنگ کے بعد، مرکزی وزیرِ مملکت اور دیگر معززین کے ساتھ ملکو ڈیری کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران میزو کیفے اور ایف پی او آفس-کم-سیل آؤٹ لیٹ کا افتتاح، ملکو کاؤ گھی کا آغاز، کسانوں میں تکنیکی آلات کی تقسیم اور ماہی پروری کے مستفیدین، ایف ایف پی اوز اور کوآپریٹوز کی حوصلہ افزائی کی گئی، جس نے خطے میں نچلی سطح پر کامیابی کی کہانیوں کو اجاگر کیا۔
اپنے خطاب میں، مرکزی وزیر موصوف نے زیادہ دودھ دینے والے مویشیوں کی آبادی بڑھانے کے لیے مہم کے طور پر مصنوعی تخم ریزی خدمات اور سیکس-سورٹڈ سیمن کے استعمال پر زور دیا، ساتھ ہی انہوں نے مخصوص ٹائم لائنز کے ساتھ مشن موڈ پر ڈیری کوآپریٹوز قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے میزورم کے کسانوں کو یقین دلایا کہ محکمہ اور این ڈی ڈی بی شمال مشرقی خطے کو ڈیری کے شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ یہ اقدامات کوآپریٹوز کو مضبوط بنانے، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور میزورم اور پورے این ای آر میں کسانوں کے لیے پائیدار روزگار کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔
***
ش ح۔ ک ح۔ خ م
U. No. 7572
(ریلیز آئی ڈی: 2265527)
وزیٹر کاؤنٹر : 16