PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

تیسری ہندوستان-نارڈک چوٹی کانفرنس

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 MAY 2026 12:10PM by PIB Delhi
  • ہندوستان  اور نارڈک ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون نے “انڈیا-نارڈک الائنس” کے ذریعہ ایک نئی شکل اختیار کی۔ پہلا انڈیا-نارڈک سمٹ- 2018 میں منعقد ہوا، جس نے طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کے مقصد کے تحت منظم اوراعلیٰ سطحی روابط کا آغاز کیا۔
  • 19 مئی- 2026 کو وزیراعظم نریندر مودی اور نارڈک ممالک کے وزرائے اعظم نے ناروے کے شہر اوسلو میں تیسرے نارڈک سمٹ میں ملاقات کی۔ اس اجلاس نے  ہندوستان  اور نارڈک تعلقات کو “گرین ٹیکنالوجی اور انوویشن اسٹریٹجک پارٹنرشپ” کی سطح تک بلند کر دیا۔
  • تجارتی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس سمٹ نے ماحولیاتی اقدامات، ایس ٹی ای ایم شعبہ میں تعاون، بلیو اکانومی، تعلیم، دفاعی تعاون اور آرکٹک خطے میں شمولیت سے متعلق مشترکہ اقدامات کو بھی آگے بڑھایا۔

تعارف

 ہندوستان  اور نارڈک ممالک نے 2018 میں پہلے انڈیا-نارڈک سمٹ کے دوران ایک کثیر الجہتی شراکت داری کا آغاز کیا۔ یہ شراکت داری جدت، گرین ٹیکنالوجیز، صاف توانائی اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد  ہندوستان  کی معاشی ترقی میں معاونت کرنا، پائیدار ترقی کے راستوں کو فروغ دینا، اسکلنگ اور ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ کو مضبوط بنانا اور ایک متحرک جدت پر مبنی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا ہے۔  ہندوستان  قابلِ تجدید توانائی اور ماحولیاتی اقدامات میں تعاون کے ذریعہ نارڈک ممالک کی مہارت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

تیسری انڈیا-نارڈک  چوٹی کانفرنس، جو 19 مئی 2026 کو اوسلو میں منعقد ہوا، نے اس اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھایا۔ اس اجلاس نے تجارت، سرمایہ کاری، ڈجیٹل جدت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون کو مضبوط کیا۔

دونوں فریقوں نے بلیو اکانومی، سمندری تعاون، ایس ٹی ای ایم-اسٹیم تحقیق، مضبوط سپلائی چینز اور دفاعی شراکت داری میں بھی تعاون کو وسعت دی۔ معاشی شراکت داریوں کے علاوہ،  ہندوستان نارڈک ممالک کے ساتھ سفارت کاری کے نرم طاقت (سافٹ پاور) کے ذریعہ بھی روابط قائم رکھتا ہے۔

ہندوستان کی آرکٹک پالیسی

نارڈک ممالک کے ساتھ اتحاد،  ہندوستان کی آرکٹک پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔ آرکٹک میں موسمیاتی تبدیلیاں، خصوصاً برف کے تیزی سے پگھلنے کا عمل، موسم اور بارش کے نظام پر بڑے پیمانے پر اثر ڈال سکتا ہے، جس میں مون سون کے پیٹرن بھی شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں بھارت کی معیشت، غذائی و آبی سلامتی،اور 1300 سے زائد جزائر اور سمندری خطوں کی پائیداری کے لیے انتہائی خلل انگیز ثابت ہو سکتی ہیں۔

 ہندوستان  کی آرکٹک پالیسی جس کا عنوان ہے-‘انڈیا اینڈ دی آرکٹک:بلڈنگ اے پارٹنر شپ فار سسٹینیبل ڈیولپمنٹ چھ بنیادی ستونوں پر مبنی ہے: ہندوستان کی سائنسی تحقیق اور تعاون کو مضبوط بنانا، موسمیاتی اور ماحولیاتی تحفظ، معاشی اور انسانی ترقی، نقل و حمل اور رابطہ کاری، نظم و نسق اور بین الاقوامی تعاون اورنمبر چھ آرکٹک خطے میں قومی صلاحیت سازی۔

ہندوستان کا نارڈک ممالک کے ساتھ ارتقائی اشتراک

 ہندوستان  کا نارڈک خطے کے ساتھ تعلق روایتی سفارت کاری سے آگے بڑھ کر ایک مستقبل پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سبز ترقی، صاف ٹیکنالوجیز، جدت اور پائیدار ترقی جیسے مشترکہ ترجیحات اس تبدیلی کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

نارڈک ممالک جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ مہارت فراہم کرتے ہیں، جبکہ  ہندوستان  وسعت، بڑی منڈی، ہنرمند افرادی قوت اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں پیش کرتا ہے۔ یہ باہمی تعاون مل کر  ہندوستان  کی گرین ٹرانزیشن، ڈجیٹل توسیع، آرکٹک میں شمولیت اور مضبوط و لچکدار معاشی ترقی کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون بن رہا ہے۔

ڈنمارک :

  •  ہندوستان  اور ڈنمارک کے درمیان دو طرفہ اشیاء کی تجارت - 2025 میں 2.05 ارب امریکی ڈالر رہی۔ اسی سال  ہندوستان کی ڈنمارک کو برآمدات 1.06 ارب امریکی ڈالر اور درآمدات 0.98 ارب امریکی ڈالر رہیں۔
  • خدمات (سروسز)کے شعبے میں دو طرفہ تجارت 4.25 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جس میں ہندوستان  کی برآمدات 1.9 ارب امریکی ڈالر اور درآمدات 2.3 ارب امریکی ڈالر رہیں (2025)۔
  • ڈنمارک میں ہندوستانی سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت تقریباً 560 ملین امریکی ڈالر ہے۔ تقریباً 40  ہندوستانی کمپنیاں ڈنمارک میں آئی ٹی، قابل تجدید توانائی اور انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ اسی طرح تقریباً 200 ڈینش کمپنیاں بھارت میں شپنگ، قابلِ تجدید توانائی، ماحولیات، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور اسمارٹ اربن ڈیولپمنٹ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔
  • ڈنمارک سے ہندوستان  میں مجموعی براہِ راست سرمایہ کاری کا بہاؤ 2024 تک 1.413 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
  • دونوں ممالک نے ثقافتی تعاون کو بھی فروغ دیا ہے، جس میں 2022 کا ثقافتی تبادلہ پروگرام اور “ سلو ٹریژر فرام انڈیا اینڈ ڈنمارک’’ جیسی نمائشیں شامل ہیں۔
  • ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے دوران بڑے پیمانے پر ثقافتی سرگرمیوں جیسے پرچم کشائی، تہوار، اسکول پروگرامز، اسپورٹس ورکشاپس اور ڈنمارک بھر میں  ہندوستانی برادری  کی بھرپور شرکت نے نرم طاقت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
  • ڈنمارک کے مختلف شہروں میں عالمی یومِ یوگا بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے، خاص طور پر کوپن ہیگن میں “ یوگا فار آل” جیسے فلیگ شپ ایونٹس منعقد ہوتے ہیں۔
  • ڈنمارک میں تقریباً 21,000 (اکیس ہزار)  ہندوستانی تارکینِ وطن رہتے ہیں جو مختلف پیشوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ عوامی مقامات جیسے “ گاندھی ہلینے” (گاندھی پارک)، “انڈیاکاج” اور آہرس یونیورسٹی کے قریب “ نہروروڈ” دونوں ممالک کے درمیان مضبوط عوامی و ثقافتی تعلقات کی علامت ہیں۔
  • سن 2026 میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے باہمی نقل و حرکت، شراکت داری اور عوامی روابط کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا۔

فن لینڈ:

  • فن لینڈ کے ساتھ دو طرفہ اشیاء کی تجارت کا حجم 2024-25 میں 1.017 ارب امریکی ڈالر رہا۔ اسی مدت میں  ہندوستان کی فن لینڈ کو برآمدات 356.37 ملین امریکی ڈالر جبکہ درآمدات 660.70 ملین امریکی ڈالر رہیں۔
  • سن 2025 میں خدمات کے شعبے میں دو طرفہ تجارت 1.9 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔  ہندوستان  سے فن لینڈ میں سرمایہ کاری کا حجم 2 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہے، جو کئی اہم حصولیابیوں اور شراکت داریوں کے باعث ممکن ہوا۔ 100 سے زیادہ فنش کمپنیاں  ہندوستان  میں سرگرم ہیں، جبکہ فن لینڈ کی ہندوستان میں سرمایہ کاری بڑھ کر 4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
  • فن لینڈ میں  ہندوستانی ثقافت کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ یوگا مراکز، پرفارمنگ آرٹس،  ہندوستانی رقص کے اسکول اور ثقافتی تنظیمیں موسیقی، رقص اور تہواروں سے متعلق تقریبات باقاعدگی سے منعقد کرتی ہیں، جنہیں ہندوستانی  سفارت خانہ بھی تعاون فراہم کرتا ہے۔ سفارت خانہ “ٹیروے -نمستے” سیریز کے تحت ہندوستانی اسٹوڈنٹس سے مسلسل رابطہ رکھتا ہے۔
  • فن لینڈ میں تقریباً 33,000 (تینتیس ہزار) ہندوستانی  باشندے مقیم ہیں، جن میں آئی ٹی شعبے سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد شامل ہے، جبکہ تقریباً 2,400 (دو ہزار چارسو) ہندوستانی اسٹوڈنٹس اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
  • سیاحت اور سفری روابط بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ فنش سیاح بڑی تعداد میں گوا، کیرالہ اور گولڈن ٹیمپل جیسے مقامات کا رخ کر رہے ہیں، جس میں ای-  ویزا سہولت اور ہیلسنکی و نئی دہلی کے درمیان براہِ راست پروازوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
  • سن 2026 میں  ہندوستان  اور فن لینڈ نے ٹیکنالوجی اور انوویشن کے شعبہ میں  ہندوستانی ماہرین کی نمایاں خدمات کو سراہا۔

آئس لینڈ:

  • آئس لینڈ کے ساتھ دو طرفہ تجارت کا حجم 2024-25 میں 77.06 ملین امریکی ڈالر رہا۔
  • اسی مدت میں  ہندوستان کی آئس لینڈ کو برآمدات 66.01 ملین امریکی ڈالر جبکہ درآمدات 11.05 ملین امریکی ڈالر رہیں۔
  • ہندوستانی ثقافت، خصوصاً یوگا، کلاسیکی موسیقی، رقص، مصوری، فلموں اور  ہندوستانی کھانوں کو آئس لینڈ میں مقبولیت حاصل ہے۔ آئس لینڈ میں تقریباً 600 (چھ سو) ہندوستانی شہری مقیم ہیں۔
  • سن 2026 میں  ہندوستان  اور آئس لینڈ نے باہمی تعاون کا جائزہ لیا اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے، ثقافتی اور سیاحتی تبادلوں میں توسیع اور آرکٹک تحقیق میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

ناروے:

  • ہندوستان  اور ناروے کے درمیان دو طرفہ تجارت 2024-25 میں 1.05 ارب امریکی ڈالر رہی۔
  • اسی مدت میں  ہندوستان  نے 630 ملین امریکی ڈالر کی اشیاء برآمد جبکہ 420 ملین امریکی ڈالر کی درآمدات کیں۔
  • خدمات (سروسز)کے شعبہ میں تجارت تقریباً 1 ارب امریکی ڈالر کے قریب رہی۔
  • ناروے کے گورنمنٹ پنشن فنڈ گلوبل (جی پی ایف جی) نے دسمبر 2025 تک ہندوستانی کیپٹل مارکیٹ میں تقریباً 28 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
  • اس کے علاوہ اپریل - 2000 سے ستمبر-  2025 تک ناروے سے  ہندوستان  میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا حجم 764 ملین امریکی ڈالر رہا۔

 

  • ہندوستان  اور ناروے کے درمیان تقریباً 30,000 (تیس ہزار)افراد پر مشتمل  ہندوستانی برادری کے ذریعے مضبوط عوامی روابط قائم ہیں۔
  • ہندوستانی اسٹوڈنٹس، محققین اور 40 سے زائد ہندوستانی تنظیمیں ناروے کی ثقافتی اور سماجی زندگی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔
  • “ٹربینڈیگن”اور “ اوسلو کلر فیسٹول” جیسے پروگرام ناروے میں ہندوستانی ثقافت اور نرم طاقت کے بڑھتے ہوئے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔

سویڈن

  • ہندوستان  اور سویڈن کے درمیان دو طرفہ تجارت- 2024 میں 6.96 ارب امریکی ڈالر رہی۔
  • اپریل- 2000 سے دسمبر 2024 تک سویڈن سے  ہندوستان میں مجموعی ایف ڈی آئی ایکویٹی سرمایہ کاری 2.596 ارب امریکی ڈالر رہی۔
  • تقریباً 280 سویڈش کمپنیاں  ہندوستان میں کاروباری موجودگی رکھتی ہیں، جبکہ سویڈن میں سرگرم  ہندوستانی کمپنیوں کی تعداد 2024 میں بڑھ کر 75 ہو گئی۔
  • ہندوستانی ثقافتی روایات جیسے کلاسیکی موسیقی و رقص، یوگا، آیوروید،ہندوستانی تہوار اور سنیما کو سویڈن میں وسیع پذیرائی حاصل ہے۔
  • سویڈن کے مختلف شہروں میں عالمی یومِ یوگا کی تقریبات  ہندوستان کے بڑھتے ہوئے ثقافتی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہیں۔
  • سالانہ ثقافتی میلہ “نمستے اسٹاک ہوم” ہزاروں افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے اور  ہندوستانی فنون و بین الثقافتی تبادلوں کو فروغ دیتا ہے۔
  • ہندوستانی اور سویڈش یونیورسیٹیوں کے درمیان فعال شراکت داریاں قائم ہیں۔ اپسالا یونیورسٹی میں ہندوستانی علوم (انڈولوجی) کی تعلیم تقریباً 200 سال پرانی ہے، جو  ہندوستانی تہذیب کے ساتھ گہرے علمی تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے۔
  • کھیل اور سنیما بھی دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ 2021 میں  ہندوستانی خواتین کی فٹبال ٹیم نے سویڈن کا دورہ کیا، جبکہ 2024 میں ہندوستانی ڈیوس کپ ٹیم بھی سویڈن گئی۔ اسی سال سویڈش فلم ساز لیوان اکن کو  ہندوستان  کے بین الاقوامی فلمی میلے میں آئی سی ایف ٹی-یواین ای ایس سی او-‘یونیسکو’ گاندھی میڈل سے نوازا گیا۔
  • تقریباً 88,000 (اٹھاسی ہزار)افراد پر مشتمل  ہندوستانی برادری  ہندوستانی ثقافت کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
  • ہندوستان اور نارڈک ممالک جدت، پائیداری اور اسٹریٹجک اعتماد پر مبنی شراکت داری قائم کر رہے ہیں۔ یہ تعلقات اب صاف توانائی، ڈجیٹل تبدیلی، مضبوط سپلائی چینز، تحقیق اور سمندری تعاون تک پھیل چکے ہیں۔ نارڈک مہارت اور  ہندوستان  کی وسعت و صلاحیت مل کر طویل مدتی تعاون کے مضبوط مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی، معاشی اور ثقافتی روابط کے ساتھ یہ شراکت داری بتدریج جامع، ٹیکنالوجی پر مبنی اور پائیدار عالمی تعاون کے ایک اہم ماڈل کے طور پر ابھر رہی ہے۔

تیسرا نارڈک سمٹ: طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب نئے اقدامات

تیسرے نارڈک سمٹ میں  ہندوستان  اور نارڈک ممالک کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے۔ گزشتہ دہائی کے دوران دو طرفہ تجارت میں چار گنا اضافے، سرمایہ کاری میں تقریباً 200 فیصد اضافہ اور  ہندوستان کی معاشی ترقی پر اس کے مثبت اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے،  ہندوستان  اور نارڈک ممالک نے اپنے تعلقات کو “گرین ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن اسٹریٹجک پارٹنرشپ” میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا۔

اس اقدام کے تحت  ہندوستان  نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ:

  • آئس لینڈ کے ساتھ جیو تھرمل توانائی اور ماہی گیری کے شعبوں میں تعاون کرے گا۔
  • ناروے کے ساتھ بلیو اکانومی اور آرکٹک تعاون میں شراکت داری کرے گا، اور
  • نارڈک ممالک کے ساتھ سمندری اور پائیداری کے شعبوں میں روابط کو فروغ دے گا۔

اس کے علاوہ جدید مینوفیکچرنگ، دفاع، ٹیلی کام، ڈجیٹل ٹیکنالوجیز، سائبر سکیورٹی، ہیلتھ ٹیک، تحقیق و اختراع، اور آرکٹک و قطبی تحقیق میں تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یہ شراکت داری پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ  ہندوستان اور نارڈک خطے دونوں میں معاشی توسیع، تکنیکی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

ممالک نے کثیر الجہتی اداروں میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور دہشت گردی کے خلاف متحدہ موقف کا اعادہ کیا۔

حالیہ  ہندوستان-یوروپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹی ای پی اے) کو  ہندوستان-نارڈک تعلقات میں “ایک نئے سنہری دور” کا آغاز قرار دیا گیا۔

 سربراہی اجلاس  کے اہم نتائج

سمٹ کے دوران  ہندوستان  اور نارڈک ممالک نے اپنے تعلقات کو گرین ٹیکنالوجی اور انوویشن اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بلند کرنے پر اتفاق کیا، جس کی توجہ قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، ڈجیٹل جدت، پائیدار مینوفیکچرنگ اور ماحولیاتی اقدامات پر مرکوز ہوگی۔

دونوں فریقوں نے تجارت، سرمایہ کاری، تحقیقی تعاون، مضبوط سپلائی چینز اور عوامی روابط کو وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا، جبکہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام اور پائیدار ترقی کے اہداف کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

نتیجہ 1:  ہندوستان–نارڈک گرین ٹیکنالوجی اور انوویشن اسٹریٹجک پارٹنرشپ

گرین ٹیکنالوجی اور انوویشن اسٹریٹجک پارٹنرشپ مستقبل میں پائیدار ٹیکنالوجیز کے استعمال اور ان کے فروغ، پائیدار ترقی و نظم و نسق، وسائل کے مؤثر استعمال اور جدت کی راہ ہموار کرے گی۔ ڈجیٹل انفراسٹرکچر کی مضبوطی حکمرانی اور خدمات کی بلا رکاوٹ فراہمی پر بھی مثبت اثر ڈالے گی۔

اس کے نتائج موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی اور ملک کی توانائی سلامتی پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ اس کے علاوہ یہ شراکت داری گرین روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، حکمرانی کو مضبوط بنائے گی اور نارڈک ممالک کے ساتھ تجارت و سرمایہ کاری کے روابط کو مزید مستحکم کرے گی۔

پانی کے پائیدار استعمال، اس کی ری سائیکلنگ اور بہتر آبی نظم و نسق میں تعاون معیارِ زندگی کو بہتر بنائے گا اور طویل المدتی معاشی ترقی کی حمایت کرے گا۔

مشترکہ تحقیق اور تعلیمی تعاون ہندوستانی اسٹوڈنٹس، محققین اور اساتذہ کو زیادہ بین الاقوامی ایکسپوژر فراہم کرے گا اور تحقیق کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں مدد دے گا۔

نتیجہ 2:  ہندوستان -ای ایف ٹی اے  ٹی ای پی اے اور اس کے ہندوستان-نارڈک تعلقات پر اثرات

 ہندوستان -ای ایف ٹی اے  ٹی ای پی اے معاہدہ منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرنے، تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے، تجارت و سرمایہ کاری کے بہاؤ کو فروغ دینے اور ویلیو چینز کے انضمام میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ آزاد تجارتی معاہدہ، نارڈک ممالک کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے ساتھ مل کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کی حمایت کرے گا۔

نتیجہ 3: ماحولیاتی اقدامات میں پیش رفت

ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے میں یہ اقدام بنیادی طور پر موسمیاتی اثرات میں کمی پر مرکوز ہے۔ اس میدان میں تعاون نہ صرف موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے گا بلکہ گرین روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، دو طرفہ تجارت کو فروغ دے گا اور مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔

اس کے نتیجے میں ایک زیادہ پائیدار معیشت کی تشکیل میں مدد ملے گی اور طویل المدتی معاشی ترقی کو تقویت حاصل ہوگی۔

نتیجہ 4: آرکٹک خطے میں  ہندوستان-نارڈک تعاون

یہ تعاون  ہندوستان  کی آرکٹک پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔ قطبی تحقیق میں اشتراک کے طویل المدتی اثرات آب و ہوا کے نظام، ماحولیاتی تحفظ، پائیداری اور جزیروں کی سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا اور ایک مستحکم آرکٹک خطہ یقینی بنانا  ہندوستان  کے مون سون کے پیٹرن، ماحولیاتی توازن، پائیداری اور بالخصوص زرعی پیداوار کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔

نتیجہ 5: ایس ٹی ای ایم-اسٹیم شعبوں میں تحقیقی تعاون

یہ تحقیقی اقدام نئی روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کو وسعت دینے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینے اور تعلیمی تعاون و تحقیقی معیار کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اگلی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجیز، جس میں 6جی میں پیش رفت ڈجیٹل معیشت کو مزید تقویت دے گی اور ملک کے ڈجیٹل انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے گی۔

نتیجہ 6: بلیو اکانومی میں تعاون

مضبوط بلیو اکانومی میں تعاون معاشی ترقی کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ پائیداری کو یقینی بناتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے، تجارت کو فروغ دیتا ہے اور طویل المدتی ماحولیاتی و موسمیاتی لچک کو مضبوط کرتا ہے۔ بلیو اکانومی سمندری اور بحری وسائل کے پائیدار استعمال پر مرکوز ہے۔ اس شعبے میں تعاون نہ صرف وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بناتا ہے بلکہ بحر ہند–بحرالکاہل (انڈو -پیسیفک) خطے میں استحکام اور سلامتی کو بھی فروغ دیتا ہے، کیونکہ یہ بحری رابطوں کو مضبوط کرتا ہے اور شراکت دار ممالک کے درمیان بحری سلامتی کو بہتر بناتا ہے۔

نتیجہ 7: ٹیلنٹ کی نقل و حرکت

تحقیق اور تعلیم میں تعاون  ہندوستانی اسٹوڈنٹس ، ماہرینِ تعلیم اور محققین کو نئے نقطۂ نظر اور عالمی تعلیمی ماحول سے زیادہ بہتر آگاہی فراہم کرے گا۔ تحقیقی تعاون میں اضافہ نہ صرف تحقیق کے معیار اور مقدار کو بہتر بنائے گا بلکہ مہارتوں میں اضافہ کرے گا، معاشی ترقی کو فروغ دے گا، جدت اور کاروبار و اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

نتیجہ 8: دفاعی پیداوار میں تعاون

ہندوستانی دفاعی صنعتی شعبے میں 100% ایف ڈی آئی کی اجازت دے کر دفاعی صنعتی تعاون کو فروغ دینے سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق اور اختراع میں مدد ملے گی، ملکی دفاعی پیداوار میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور دفاعی پیداوار کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ مزید یہ کہ اس سے دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

ایک مضبوط و مستحکم  ہندوستان-نارڈک پارٹنرشپ کی طرف

ہندوستان اور نارڈک ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل ترقی اور مضبوط ہو رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی دو طرفہ اقدامات کے ذریعے اسے تقویت ملی ہے۔ سربراہی اجلاس کے نتائج کا مقصد اس شراکت داری کو گرین ٹیکنالوجی اور انوویشن اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں مزید بلند کرنا ہے۔ سربراہی اجلاس نے طویل مدتی توانائی کی شراکت داری، موسمیاتی تبدیلیوں میں تخفیف، تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط، ڈجیٹل اختراع، نیلی معیشت، سمندری تعاون،ایس ٹی ای ایم-اسٹیم تعاون اور دفاع جیسے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک مضبوط تحریک فراہم کی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مصروفیت کو ہندوستان  – ای ایف ٹی اے تجارتی اور اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (ٹی ای پی اے) سے مزید تقویت ملی ہے، جس سے امید ہے کہ  ہندوستان  اور نارڈک خطےکے درمیان دو طرفہ اقتصادی تعلقات میں اضافہ ہوگا جبکہ پائیدار اقتصادی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط کرنے کے اقدامات کے علاوہ، سافٹ پاور اپروچ نے تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط کرنے میں مزید مدد کی ہے۔

 

 

 

حوالہ جات:

1.وزارت خارجہ امور

 

2.پریس انفارمیشن بیورو:

 

3.وزارت ارتھ سائنس :

4.ڈی ڈی نیوز:

See In PDF

********

ش ح- ظ الف- ج

UR- 7558


(ریلیز آئی ڈی: 2265520) وزیٹر کاؤنٹر : 12