وزارت خزانہ
خزانہ و کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن نے ممبئی میں منعقدہ ٹیکس پروسل ایکسپورٹ ایوارڈ 24-2023 کے دوران ٹیکسٹائل ویلیو چین کو “کھیت سے ریشے، فیکٹری، فیشن اور غیر ملکی منڈیوں تک” مضبوط بنانے پر زوردیا
نرملاسیتا رمن نے ٹیکس پروسل کے بین الاقوامی تجارت میں جدید سرٹیفکیٹ پروگرام کا بھی آغاز کیا
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ “وکست بھارت” کے وژن کو ٹیکسٹائل کے شعبے میں پرجوش اہداف کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا، جن میں 2030 تک 100 ارب ڈالر برآمدات اور 250 ارب ڈالر ٹیکسٹائل پیداوار کا ہدف شامل ہے
ٹیکس پروسل نے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے کپاس ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو اعزازات سے نوازا اور بھارت کے 100 ارب ڈالر ٹیکسٹائل برآمدات کے ہدف کی سمت پیش رفت کو اجاگر کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAY 2026 6:21PM by PIB Delhi
مالیات اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن نے آج ممبئی میں منعقدہ ٹیکس پروسل ایکسپورٹ ایوارڈز 24-2023کی تقریب کی صدارت کی۔یہ تقریب کپاس ٹیکسٹائل ایکسپورٹ پروموشن کونسل(ٹیکس پروسل ) کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جو حکومتِ ہند کی سرپرستی میں قائم ادارہ ہے، اور جس کا مقصد بھارت کے کپاس ٹیکسٹائل برآمدی شعبے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی خدمات کا اعتراف ہے۔ وزیرِ خزانہ نے برآمدات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے ایکسپورٹرز کو ٹیکس پروسل ایوارڈز سے نوازا۔ اس موقع پر مختلف زمروں میں بھی ایوارڈز دیے گئے جن میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا، اختراع ، ماحولیاتی و سماجی و حکومتی اقدامات اور ای-کامرس میں بہترین کارکردگی شامل تھیں۔
اس موقع پر مرکزی وزیرِ خزانہ نےعالمی تجارت میں ایڈوانسڈ سرٹیفیکیٹ پروگرام (اے سی پی آئی ٹی) بھی لانچ کیا جس کا مقصد بھارت کے برآمدی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ٹیکس پروسل کا یہ منظم سرٹیفیکیشن پروگرام مختلف سرکاری اسکیموں اور پالیسی اقدامات کے مطابق تیار کیا گیا ہے تاکہ ملک کی عالمی تجارتی مسابقت کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس موقع پر مرکزی وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ کپاس کے دھاگے کے مضبوط اور بلا رکاوٹ نظام کو یقینی بنانے کے لیے پوری ٹیکسٹائل ویلیو چین کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اس میں “کھیت سے لے کرریشے، فیکٹری، فیشن اور غیر ملکی منڈیوں تک” تمام مراحل شامل ہیں۔انہوں نے وادیٔ سندھ-سرسوتی تہذیب اور آثارِ قدیمہ کے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی شاندار ٹیکسٹائل اور بُنائی کی روایت قدیم زمانے سے جاری ہے اور آج بھی اس شعبے میں ملک کی عالمی پہچان کو مضبوط کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2047 تک “وکست بھارت” کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بڑے اور پرعزم اقدامات ضروری ہیں۔ ان میں یہ شامل ہے کہ 2030 تک ٹیکسٹائل کی برآمدات کو 100 ارب امریکی ڈالر تک اور ٹیکسٹائل کی پیداوار کو 250 ارب امریکی ڈالر تک پہنچایا جائے۔
مرکزی وزیرِ خزانہ و کارپوریٹ امور نرملا سیتا رمن نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت دنیا کا چھٹا بڑا ٹیکسٹائل برآمد کنندہ بن چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ براہِ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً چھ کروڑ روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے، ملک کی جی ڈی پی میں تقریباً 2.3 فیصد حصہ ہے، اور بھارت کی کل برآمدی آمدنی کا تقریباً 12 فیصد اس شعبے سے حاصل ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت دنیا کا دوسرا بڑا ریشم پیدا کرنے والا ملک بھی ہے، جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات 26-2025میں تقریباً 33.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو ٹیکسٹائل کے شعبے میں عالمی قیادت حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔
مرکزی وزیرِ خزانہ و کارپوریٹ امور نرملاسیتا رمن نے کہا کہ 2014 سے وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں حکومت نے ٹیکسٹائل صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد ساختی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ان اقدامات میں سبسڈی تعاون، جی ایس ٹی اصلاحات، اور عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری کے لیے پی متر ا پارکس کا قیام شامل ہے۔ اسی طرح سامرتھ اسکیم کے ذریعے ہنرمندی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور محروم طبقات کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ایم مترا اسکیم کے تحت ملک بھر میں سات جدید ٹیکسٹائل پارکس تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں اب تک 27,000 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہو چکے ہیں۔انہوں نے 2016 میں شروع کی گئی ترمیم شدہ ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ اسکیم (اے ٹی یو ایس ایف) پر بھی روشنی ڈالی، جو اس شعبے میں ٹیکنالوجی کی جدید کاری کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ اور شرحِ سود پر سبسڈی فراہم کرتی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حکومت ہند کی ٹیکسٹائل کمشنر وریندا دیسائی نے مرکزی بجٹ میں اعلان کردہ کلیدی ٹیکسٹائل اقدامات کے لیے مرکزی وزیر خزانہ سے اظہار تشکر کیا - جس میں ٹیکسٹائل ایکسٹینشن اینڈ ایمپلائمنٹ اسکیم، نیشنل فائبر اسکیم، ٹیکس ایکو انیشی ایٹو، اور سمرتھ 2.0 شامل ہیں - اور وزارت کو قابل اعتماد ترقی اور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
ہندوستان کی معیشت میں کاٹن ٹیکسٹائل سیکٹر کی اہم شراکت کو اجاگر کرتے ہوئے، ٹیکس پروسیل کے چیئرمین مسٹر وجے اگروال نے بتایا کہ ٹیکس پروسل کے 2,000 برآمد کنندگان تقریباً 11 بلین امریکی ڈالر کی برآمدات پیدا کرتے ہیں، جبکہ وسیع تر ماحولیاتی نظام تقریباً 35 ملین ملازمتوں کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے برانڈنگ، سرٹیفیکیشن اور ٹریس ایبلٹی اقدامات کے ذریعے ہندوستانی کپاس کے برانڈ 'کستوری کاٹن' کو فروغ دینے میں ٹیکس پروسل کے کردار پر زور دیا، اس طرح پائیدار ٹیکسٹائل کے دائرے میں ہندوستان کی عالمی حیثیت کو مضبوط بنایا۔ انہوں نے 2020 سے عالمی بحرانوں کے دوران حکومت کی طرف سے بروقت تعاون کی بھی تعریف کی ۔ جس میں آتم نربھر بھارت پیکج، ای سی ایل جی ایس، ایم ایس ایم ای امداد، نقد امداد، اور تجارتی سہولت کاری کے اقدامات شامل ہیں۔ اسکے علاوہ انہوں نے ایکسپورٹ پروموشن مشن، ٹیم اسکیم، اور ٹیکس ایکو اقدام جیسے حالیہ اقدامات کی بھی ستائش کی۔
****
(ش ح ۔ ع و۔ت ا(
U.No.7543
(ریلیز آئی ڈی: 2265282)
وزیٹر کاؤنٹر : 4