صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

افریقہ کے بعض علاقوں میں ایبولا کے بڑھتے معاملوں کے پیش نظر مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے ایبولا بیماری سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا


اب تک ہندوستان میں بُنڈی بُگیو ایبولا مرض کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا: جے پی نڈا

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایبولا کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دیا، جبکہ افریقہ سی ڈی سی (افریقہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول) نے اسے براعظمی سلامتی سے متعلق عوامی صحت کی ایمرجنسی  کی حالت کا اعلان کیا

جناب جے پی نڈا نے وزارتِ صحت کے سکریٹری، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کو ہدایت دی کہ بیماری کی نگرانی، جانچ اور سرویلانس سے متعلق تمام ضروری انتظامات ہر وقت مکمل طور پر مستعد اور تیار حالت میں رکھے جائیں

بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور دیگر داخلی مقامات پر اسکریننگ اور نگرانی کے اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ اسکریننگ، قرنطینہ، طبی نگہداشت، لیبارٹری جانچ اور انفیکشن سے بچاؤ کے طریقۂ کار سے متعلق ہدایات اور ایس او پی (معیاری عملی رہنما اصول) ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شیئر کر دیے گئے ہیں

مرکزی حکومت ایبولا کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی ہوئی  ہے اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی رابطہ اور تال میل برقرار ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAY 2026 8:24PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے آج افریقہ کے بعض علاقوں میں حالیہ ایبولا  کے پھیلاؤ کے پیش نظر ایبولا بیماری سے نمٹنے کے لیے تیاریوں اور نگرانی کے اقدامات کا جائزہ لیا۔

اجلاس کے آغاز میں مرکزی وزیر صحت نے بتایا کہ ’’اب تک ہندوستان میں بُنڈی بُگیو ایبولا بیماری کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔‘‘ تاہم عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے ایبولا کو بین الاقوامی سطح پر عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال (پی ایچ ای آئی سی) قرار دیے جانے اور افریقہ سی ڈی سی (افریقہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول) کی جانب سے اسے براعظمی سلامتی سے متعلق عوامی صحت  کی ایمرجنسی (پی ایچ ای سی ایس) قرار دینے کے بعد حکومتِ ہند افریقہ میں ایبولا کی صورتحال پر گہری نظر رکھی  ہوئی ہے۔ عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر ملک بھر میں نگرانی اور تیاریوں کے اقدامات کو مزید مؤثر اور سخت بنا دیا گیا ہے۔

جناب جے پی  نڈا نے کہا کہ احتیاطی اقدام کے طور پر مرکزی وزارتِ صحت نے نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس)، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر)، شہری ہوابازی، امیگریشن حکام اور دیگر متعلقہ وزارتوں و محکموں کے ساتھ قریبی تال میل قائم کرکے  ملک بھر میں نگرانی اور عوامی صحت سے متعلق تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور دیگر داخلی مقامات پر اسکریننگ اور نگرانی کے اقدامات کو مزید سخت کیا گیا ہے، جبکہ اسکریننگ، قرنطینہ، طبی نگہداشت، لیبارٹری جانچ اور انفیکشن سے بچاؤ کے طریقۂ کار سے متعلق ایڈوائزری اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پی) تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شیئر کیے گئے ہیں۔‘‘تیاریوں اور کارروائی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ متعدد میٹنگیں بھی منعقد کی گئی ہیں۔ مرکزی وزیر نے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے سکریٹری، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ڈائریکٹر جنرل اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ بیماری کی نگرانی، جانچ اور سرویلانس سے متعلق تمام ضروری انتظامات ہر وقت مکمل طور پر مستعد اور تیار رکھے جائیں۔

مؤرخہ 24 مئی 2026 کو ہندوستان نے اپنے شہریوں کے لیے سفری ایڈوائزری جاری کرکے  جمہوریہ کانگو، یوگانڈا اور جنوبی سوڈان کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس سے قبل 21 مئی 2026 کو مرکزی وزارتِ صحت نے ایبولا بیماری سے متعلق عوامی صحت کی تیاریوں اور ردِعمل کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) جاری کیا تھا، جس میں بین الاقوامی مسافروں کے لیے اختیار کیے جانے والے پروٹوکول شامل تھے۔اس کے بعد 22 مئی 2026 کو اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول، آئیسولیشن  کی سہولیات کی تیاری، اور ایبولا مریضوں کی لاشوں کو محفوظ اور باوقار طریقے سے سنبھالنے سے متعلق رہنما ہدایات بھی جاری کیے گئے تھے۔

انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلانس پروگرام (آئی ڈی ایس پی) یونٹس اور ایئرپورٹ ہیلتھ آرگنائزیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ بین الاقوامی مسافروں میں غیر واضح بخار جیسی بیماریوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور کسی بھی مشتبہ معاملے کی فوری اطلاع دینے کے ساتھ اس کا بروقت انتظام یقینی بنایا جائے۔

ایبولا ایک خطرناک وائرل ہیمرجک بخار ہے، جس میں شرحِ اموات کافی زیادہ ہوتی ہے۔ فی الحال بُنڈی بُگیو وائرس سے پیدا ہونے والی ایبولا بیماری کے لیے نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج موجود ہے۔

اجلاس میں مرکزی وزارتِ صحت کی سکریٹری محترمہ پُنّیہ سلیلہ سریواستو، محکمۂ صحت و تحقیق کے سکریٹری اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیو باہل، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) ڈاکٹر سنیتا شرما، مرکزی وزارتِ صحت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب راکیش گپتا، جوائنٹ سکریٹری محترمہ جی ایس چترا اور وزارتِ صحت کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

******

(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)

Urdu No-7530


(ریلیز آئی ڈی: 2265214) وزیٹر کاؤنٹر : 9