صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر)نے نئی دہلی میں بھارت کا سب سے بڑا بایومیڈیکل اختراعات اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر ایونٹ‘‘ میڈیکل انیوویشن پٹنٹ مترا:انوویٹرس ٹو انڈسٹری(آئی 2آئی ) کنکٹ منعقد کیا
مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود جناب پرتاپ راؤ جادھو نے کہا کہ بھارت مضبوط سائنس انڈسٹری شراکت داری کے ذریعے سستی اور معیاری صحت کی ٹیکنالوجیز کا عالمی ذریعہ بن رہا ہے
آئی سی ایم آرنے پہلی مرتبہ اپنی نوعیت کا “انوویٹر–انڈسٹری پلیٹ فارم” شروع کیا ہے اور اس موقع پر 41 عوامی صحت سے متعلق ٹیکنالوجیز کو صنعت کے حوالے کیا
بھارت میں پہلی بار غیر فعال کے ایف ڈی اور چاندی پورہ وائرس کے حیاتیاتی مواد کو صنعتی شراکت داروں کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ بایومیڈیکل تحقیق اور ویکسین سازی کو مزید بہتر بنایا جا سکے
نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر گوبر دھن داس نے کہا کہ بھارت کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ صحت کی ٹیکنالوجیز کے میدان میں ایک عالمی رہنما کے طورپر ابھرسکے
ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ ریسرچ کے سیکرٹری اور آئی سی ایم آرکے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیو بہل نے کہا کہ “میڈیکل انوویشنز پیٹنٹ مترا” بھارت میں تیار ہونے والی بایومیڈیکل تحقیق کو لیبارٹری سے عام عوام تک پہنچانے کے عمل کو تیز کرتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAY 2026 4:57PM by PIB Delhi
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر)، جو حکومت ہند کی وزارت صحت وخاندانی بہبود کے صحت سے متعلق ریسرچ کے محکمے کے تحت ہے، نے آج نئی دہلی کے مانیک شا سینٹر میں بھارت کا سب سے بڑا بایومیڈیکل اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر سہولت کاری ایونٹ‘‘ میڈیکل انیوویشن پٹنٹ مترا:انوویٹرس ٹو انڈسٹری(آئی 2آئی ) کنکٹ کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
یہ ایونٹ ملک کے پہلے منظم پلیٹ فارمز میں سے ایک کے قیام کی علامت ہے، جو بایومیڈیکل اختراعات کی نمائش اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے آئی سی ایم آر کے “میڈیکل انوویشن پیٹنٹ مترا” اقدام کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر تیار ہونے والی بایومیڈیکل تحقیق کو صنعت کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے قابلِ رسائی اور عملی صحت کے حل میں تبدیل کرنا ہے۔
اس تقریب کا افتتاح مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے وزارت آیوش اور وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود جناب پرتاپ راؤ گنپت راؤ جادھو نے کیا، جبکہ اس موقع پر نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر گوبر دھن داس بھی موجود تھے۔
اپنے کلیدی خطاب میں وزیر مملکت جناب جادھو نے کہا کہ یہ اقدام بھارتی سائنس اور صنعت کو جوڑنے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے، تاکہ ہماری لیبارٹریز میں تیار ہونے والی اختراعات کو ایسی ٹیکنالوجیز میں بدلا جا سکے جو عوامی صحت کو مضبوط بنائیں اور وکست بھارت کے ہدف کو آگے بڑھائیں۔ ہندوستان صحت کی ٹکنالوجیوں کا صارف بننے سے سستے اور جدید صحت کی دیکھ بھال کے حل کا عالمی ذریعہ بننے کی طرف بڑھ رہا ہے ، جو آئی سی ایم آر جیسے اداروں اور مضبوط صنعتی شراکت داری سے چلنے والا ہے ۔
اس موقع پر نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر گوبر دھن داس نے کہا کہ بھارت میں صحت کی ٹیکنالوجیز کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی صلاحیت اور اختراعی ماحولیاتی نظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل انوویشن پیٹنٹ مترا دانشورانہ املاک کے تحفظ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مقامی اختراعات کو لیبارٹری سے معاشرے تک پہنچانے کے عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹرجنرل اور صحت سے متعلق تحقیق کے محکمے کے سیکریٹری ڈاکٹر راجیو بہل نے کہا کہ “میڈیکل انوویشنز پیٹنٹ متر آئی سی ایم آر کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ترین تحقیق کو لیبارٹریوں سے نکال کر مضبوط صنعت کاری شراکت داری کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے۔’’
اس ایونٹ کے دوران “انڈین بایومیڈیکل پیٹنٹ لینڈ اسکیپ رپورٹ” اور “ٹیکنالوجی کمپنڈیم” بھی جاری کیے گئے، جو بھارت کے بایومیڈیکل اختراعی نظام، دانشورانہ املاک اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے شعبے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اس پروگرام کی ایک بڑی خاص بات یہ تھی کہ آئی سی ایم آر اداروں اور محققین کی جانب سے 41 عوامی صحت سے متعلق ٹیکنالوجیز کو صنعت کے شراکت داروں کے حوالے کرنا تھا، تاکہ ان کی مزید ترقی، پیداوار اور تجارتی استعمال کو ممکن بنایا جا سکے۔ ان ٹیکنالوجیز میں جدید تشخیصی طریقے، ویکسینز، میڈیکل ڈیوائسز اور صحت کے اہم مسائل کے حل کے لیے بایومیڈیکل اختراعات شامل ہیں۔ منتقل کی گئی ٹیکنالوجیز میں ٹائیفائیڈ اور پیراٹائیفائیڈ کے لیے گلائکوکونجوگیٹ اور ریکومبیننٹ ویکسینز، جبکہ جاپانی انسیفلائٹس، تپ دق (ٹی بی) اور ایم پاکس جیسی بیماریوں کے لیے تشخیصی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر پہلی بار مکمل طور پر تیار شدہ بایولوجیکل مواد جیسے غیر فعال کے ایف ڈی اور چاندی پورہ وائرسز بھی صنعت کے شراکت داروں کے حوالے کیے گئے، جس سے بھارت کے بایومیڈیکل تحقیق اور مینوفیکچرنگ نظام کو مزید تقویت ملی۔
اس ایونٹ میں 100 سے زائد ٹیکنالوجیز بھی پیش کی گئیں، جن میں تشخیص، علاج اور میڈیکل ڈیوائسز سے متعلق اختراعات شامل تھیں، جو آئی سی ایم آر اداروں، محققین اور اسٹارٹ اپس نے تیار کی ہیں، جبکہ اس دوران موجدین اور صنعت کے نمائندوں کے درمیان براہ راست رابطے کو بھی فروغ دیا گیا۔
امید ہے کہ انوویٹرس اینڈ انسٹری کنکٹ پہل وکست بھارت 2047 کے لیے مضبوط پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ساتھ ہندوستان کے بائیو میڈیکل سیکٹر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی ۔





*****
(ش ح ۔ ت ف۔م ذ)
U. No. 7513
(ریلیز آئی ڈی: 2265037)
وزیٹر کاؤنٹر : 12