نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ نے پی این پنیکر سے متعلق کتاب کا اِجراء کیا، مطالعے کے کلچر کو بحال کرنے کی اپیل کی
جو معاشرہ پڑھنا چھوڑ دیتا ہے وہ آہستہ آہستہ گہرائی سے سوچنے کی اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے: نائب صدر جمہوریہ
جناب پی این پنیکر نے لائبریریوں کے ذریعے اُمید اور بیداری پیدا کی: نائب صدر جمہوریہ
نائب صدر جمہوریہ نے نوجوانوں میں مطالعے کی کم ہوتی ہوئی عادت پر تشویش کا اظہار کیا
لائبریریوں کو علم اور تخلیق کے مراکز کے طور پر دوبارہ ابھرنا چاہیے: نائب صدر جمہوریہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 MAY 2026 6:19PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریۂ ہند، سی پی رادھا کرشنن نے آج اپ راشٹرپتی بھون میں پی پی ستیان کی تحریر کردہ کتاب ’دی لائبریری مین آف انڈیا: دی اسٹوری آف پی این پنیکر‘ کا اِجراء کیا۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے جناب پی این پنیکر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور انہیں ایک ایسا دور اندیش رہنما قرار دیا جنہوں نے کتابوں اور علم کی خاموش طاقت کے ذریعے کروڑوں لوگوں کی تقدیر بدل دی۔ مصنف جناب پی پی ستیان کو مبارکباد دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ اشاعت جناب پنیکر کے غیر معمولی وژن اور لازوال ورثے کی عکاس ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جناب پنیکر نے ایک سادہ زندگی گزارنے کے باوجود ایک غیر معمولی خواب دیکھا تھا کہ ہر فرد کو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی ذات، طبقے، غریب طبقے یا جغرافیائی خطے سے ہو، علم تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ کیرالہ کے کٹناد میں جناب پنیکر کی عاجزانہ شروعات کا تذکرہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جناب پنیکر نے زندگی کے ابتدائی دور میں ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ ناخواندگی محض پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے محرومی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وقار، مواقع اور انسانی ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔
کیرالہ کی لائبریری اور خواندگی کی تحریک شروع کرنے میں جناب پنیکر کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے، نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ جس تحریک کا آغاز سناتن دھرم لائبریری نامی ایک معمولی ریڈنگ روم سے ہوا تھا، اس نے آگے چل کر کیرالہ کے سماجی اور فکری منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جناب پنیکر نے دیہاتوں اور دور دراز کے قبائلی علاقوں کا انتھک سفر کیا اور ’’پڑھیں اور بڑھیں‘‘ کے سادہ مگر پُر اثر پیغام کے ذریعے عام لوگوں اور رضاکاروں کو متاثر کیا۔
جناب پنیکر کو کیرالہ کے ثقافتی احیاء کا بانی قرار دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ان کا یہ ماننا تھا کہ علم کبھی بھی چند لوگوں کا استحقاق نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے عالمگیر سطح پر انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے اور سماجی بیداری کی طاقت بننا چاہیے۔
لائبریریوں کے ارتقاء پراظہار خیال کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے نالندہ اور تکش شیلا جیسے علم کے مراکز کی بھارت کی شاندار روایت کو اجاگر کیا، جنہوں نے دنیا بھر کے اسکالرز کو اپنی طرف راغب کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اگرچہ لائبریریاں ای بکس، ڈیجیٹل آرکائیوز اور آن لائن وسائل کے ذریعے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہیں، لیکن نوجوانوں میں مطالعے کی عادت میں بتدریج کمی کے حوالے سے ایک سنگین تشویش برقرار ہے۔
موبائل فونز، سوشل میڈیا اور شارٹ فارم انٹرٹینمنٹ پر حد سے زیادہ انحصار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ گہرا مطالعہ، غورو فکر اور سوچ سمجھ کر سیکھنے کا رجحان آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جہاں ٹیکنالوجی نے سہولت پیدا کی ہے، وہیں اس نے صبر، توجہ اور ادب و علم کے ساتھ بامعنی وابستگی کو بھی کم کر دیا ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے تبصرہ کیا کہ جو معاشرہ پڑھنا چھوڑ دیتا ہے وہ آہستہ آہستہ تنقیدی طور پر سوچنے، تخلیقی طور پر تصور کرنے اور گہرائی سے سمجھنے کی اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’دی لائبریری مین آف انڈیا‘ جیسی کتابیں نوجوان نسلوں میں مطالعے اور غورو فکر کے کلچر کو بحال کرنے میں ایک تبدیلی کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
جناب این بالا گوپال کی قیادت میں پی این پنیکر فاؤنڈیشن کے کام کو سراہتے ہوئے، نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ یہ فاؤنڈیشن مطالعے اور سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے کی شاندار کوششوں کے ذریعے جناب پنیکر کے ورثے کو آگے بڑھا رہی ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے ملک کے علمی نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے حکومت کی جانب سے کیے گئے کئی اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ ’من کی بات‘ کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی کے شیئر کیے گئے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لائبریریوں کو تخلیق کے متحرک مراکز کے طور پر ترقی کرنی چاہیے۔ انہوں نے حکومت کے ’’ون نیشن، ون سبسکرپشن‘‘ اقدام کی بھی تعریف کی جس کا مقصد ملک بھر کے طلباء اور تحقیق کاروں کے لیے بین الاقوامی علمی تحقیق اور جرائدتک رسائی کو وسیع کرنا ہے۔
انہوں نے ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے بھارت کے انمول قلمی نسخوں کے ورثے کو محفوظ کرنے، ڈیجیٹلائز کرنے اور عام کرنے کی کوششوں کے لیے گیان بھارت ابھیان کی بھی ستائش کی۔
اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ جناب پنیکر کی عظمت محض لائبریریاں بنانے میں نہیں تھی، بلکہ عام شہریوں میں امید، بیداری اور اعتماد پیدا کرنے میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک لائبریری بچے کا مستقبل بدل سکتی ہے۔ ایک کتاب زندگی کو بدل سکتی ہے۔ اور ایک پُرعزم فرد پورے معاشرے کو بدل سکتا ہے۔‘‘
نائب صدر جمہوریہ نے معاشرے پر زور دیا کہ وہ مطالعے، سیکھنے اور علم پھیلانے کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کرے اور والدین، اساتذہ اور اداروں پر زور دیا کہ وہ بچوں میں مطالعے کی عادت ڈالنے کی حوصلہ افزائی کریں۔
اس موقع پر پٹرولیم اور قدرتی گیس اور سیاحت کے مرکزی وزیرِ مملکت سریش گوپی، راجیہ سبھا کے سابق ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین، پی این پنیکر فاؤنڈیشن کے وائس چیئرمین جناب این بالا گوپال اور کئی دیگر معززین موجود تھے۔
*****
ش ح۔ ک ح –خ م
U.NO.7441
(ریلیز آئی ڈی: 2264292)
وزیٹر کاؤنٹر : 16