زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’کھیت بچاؤ ابھیان‘ 2.712 کروڑ شہریوں تک پہنچا، کھادوں کے متوازن استعمال کے بارے میں 7.17 لاکھ کسانوں کو بیدار کیا گیا


مٹی کی زرخیزی اور پائیدار کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے 12,979 سے زائد کیمپوں کا اہتمام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 MAY 2026 4:02PM by PIB Delhi

وزارتِ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے تحت قائم زرعی تحقیق کی ہندوستانی کونسل  نے اپنے ملک گیر ’کھیت بچاؤ ابھیان‘ کے تحت نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس کی بنیادی توجہ مٹی کی صحت، کھادوں کے متوازن استعمال اور پائیدار زراعت پر مرکوز ہے۔ کسانوں اور متعلقہ شراکتداروں کو غذائی اجزاء کے سائنسی انتظام کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ’کھیت بچاؤ ابھیان‘ نے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے ملک بھر میں ایک مضبوط رسائی قائم کی ہے۔

اس ابھیان  کے تحت اب تک مجموعی طور پر 12,979 بیداری کیمپ اور سیمینار منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں 7.17 لاکھ کسانوں کو براہِ راست شامل کیا گیا ہے۔ صلاحیتوں میں اِضافے کے لیے 3,145 تربیتی پروگراموں کا اہتمام کیا گیا جن میں 1,11,509 شرکاء نے حصہ لیا۔ مزید برآں، ہری کھاد، حیاتیاتی کھاد اور نامیاتی ذرائع  پر 7,928 عملی مظاہروں کے ذریعے کسانوں کو عملی معلومات فراہم کی گئیں۔

نچلی سطح  پر عوامی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے، پنچایت، سرپنچ اور ضلع پریشد کے اراکین کی سرگرم شمولیت کے ساتھ 4,916 جن پرتی ندھی سمیلن  منعقد کیے گئے۔ زرعی پیداواری سپلائی چین کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، کھادوں کے متوازن استعمال کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے زرعی ڈیلروں کے ساتھ 9,609 ڈائیلاگ کا بھی اہتمام کیا گیا۔

اس مہم میں کسانوں کے گروپوں سے بھی استفادہ کیا گیا، جس کے تحت ایف پی اوز ، سیلف ہیلپ گروپس  اور فارمر انٹرسٹ گروپس کے ذریعے 8,383 کسان اراکین کو جوڑا گیا۔ مہم کی بڑے پیمانے پر تشہیر کے لیے ملک بھر میں 53,616 مقامات پر بینرز، پوسٹرز اور ہورڈنگز سمیت پبلسٹی مواد کی نمائش کی گئی۔ اس پیغام کو 1,144 میڈیا نشریات کے ذریعے مزید وسعت دی گئی، جس میں 944 ریڈیو ٹاکس اور 200 ٹی وی و ڈیجیٹل پروگرام شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈیجیٹل رسائی نے اس مہم کے دائرہ کار کو 2.712 کروڑ لوگوں تک پہنچا دیا۔

’کھیت بچاؤ ابھیان‘ کے اس اقدام کا مقصد مٹی کی جانچ پر مبنی غذائی اجزاء کے انتظام کی حوصلہ افزائی کرنا اور کیمیائی کھادوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کو کم کرنا ہے، تاکہ مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھا جا سکے اور طویل مدتی زرعی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

*****

ش ح۔ ک ح –خ م

U.NO.7431


(ریلیز آئی ڈی: 2264166) وزیٹر کاؤنٹر : 15