PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ایز آف ڈوئنگ بزنس:  ہندوستان میں جاری ضابطہ جاتی تبدیلیاں


مرکزی بجٹ مالی سال 2026-27: ہندوستان کے کاروباری ماحول کو مضبوط بنانا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 FEB 2026 5:36PM by PIB Delhi

 کلیدی نکات

  1. مرکزی بجٹ 2026-27 میں کاروبار میں آسانی (ایز آف ڈوئنگ بزنس) کو ترقی اور معاشی نمو کے ایک اہم ستون کے طور پر مزید مضبوط کیا گیا ہے، جبکہ ڈجیٹلائزیشن، ٹیکس میں یقین دہانی، سرمایہ کاروں کی رسائی اور مقدمات میں کمی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
  2. کسٹمز کلیئرنس کے لیے ایک واحد اور باہم مربوط ڈجیٹل ونڈو اور کسٹمز انٹیگریٹڈ سسٹم کے ذریعے ڈجیٹل تجارتی سہولت کاری کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
  3. مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھانے اور سرمایہ کاروں کی رسائی کو گہرا کرنے کے لیے پورٹ فولیو انویسٹمنٹ اسکیم کے تحت پر آر او آئی سرمایہ کاری کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے۔
  4. میٹ (ایم اے ٹی) کو 14 فیصد کی کم شرح کے ساتھ حتمی ٹیکس کے طور پر تجویز کیا گیا ہے، جس سے ٹیکس نظام میں یقین دہانی بڑھے گی اور تنازعات میں کمی آئے گی۔
  5. قابلِ اعتماد درآمد کنندگان کو رسک سسٹم میں خصوصی شناخت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں  فزیکل جانچ کم ہوگی اور فیکٹری سے براہِ راست شپمنٹ کلیئرنس ممکن ہو سکے گی۔

ترقی اور مسابقت کو فروغ دینا

ترقی اور مسابقت کو فروغ دینا

کاروبار میں آسانی (ایز آف ڈوئنگ بزنس – ای او ڈی بی)  ہندوستان  کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک بنیادی ستون بن چکی ہے اور اسے ترقی و معاشی نمو کے ایک اہم محرک کے طور پر دوبارہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔ مرکزی بجٹ 2026-27 میں ڈجیٹل تجارتی سہولت کاری، ٹیکس میں یقین دہانی، ضابطہ جاتی پیچیدگیوں اور قانونی تنازعات میں کمی، اعتماد پر مبنی کسٹمز نظام اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ٹیکس نظام سے متعلق اصلاحات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ اقدامات گزشتہ ایک دہائی کے دوران کیے گئے مسلسل ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد کاروباری طریق کار کو آسان بنانا، شفافیت میں اضافہ کرنا اور تعمیلی بوجھ کو کم کرنا ہے تاکہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ان اصلاحات کے اثرات  ہندوستان  میں سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کی صورت میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ 2014 سے 2025 کے دوران ہندوستان  نے 748.38 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) حاصل کی، جو اس سے پہلے کے 11 سالہ عرصے کے مقابلے میں 143 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح فعال رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2020-21 میں 1.55 لاکھ سے بڑھ کر 3 فروری 2026 تک 2025-26 میں 1.98 لاکھ تک پہنچ گئی، جو پانچ برسوں میں تقریباً 27 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔‘ وکست بھارت @2047 ’ویژن کے مطابق کاروبار میں آسانی سے متعلق مسلسل اصلاحات عالمی ویلیو چین کے ساتھ روابط مضبوط بنانے اور صنعت پر مبنی ترقی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔

کاروبار میں آسانی پر بجٹ کی توجہ

مرکزی بجٹ نے ٹیکس میں یقین دہانی، تعمیلی بوجھ میں کمی اور اعتماد پر مبنی طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کے اقدامات کے ذریعے ہندوستان  کے کاروبار میں آسانی کے ایجنڈے کو مزید تقویت دی ہے۔ اہم اصلاحات میں ایم اے ٹی کو معقول بنانا، تنازعات کے حل کے نظام کو آسان بنانا اور معمولی ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں کو غیر فوجداری دائرے میں لانا شامل ہے۔ بجٹ میں کسٹمز اور لاجسٹکس اصلاحات کو بھی ڈجیٹل انضمام اور رسک پر مبنی کلیئرنس نظام کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے، تاکہ لین دین کی لاگت کم ہو اور کاروباری کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت کاری

  • کارگو کلیئرنس کی منظوریوں کے لیے ایک واحد اور باہم مربوط ڈجیٹل ونڈو متعارف کرائی جائے گی۔
  • ایسے سامان کے لیے جن پر کسی قسم کی تعمیلی شرط لاگو نہیں ہوتی، درآمد کنندہ کی جانب سے آن لائن رجسٹریشن مکمل ہونے اور ڈیوٹی کی ادائیگی کے فوراً بعد کسٹمز کلیئرنس دے دی جائے گی۔
  • تمام کسٹمز عمل کو ایک ہی مربوط اور قابلِ توسیع پلیٹ فارم پر لانے کے لیے کسٹمز انٹیگریٹڈ سسٹم (سی آئی ایس ) آئندہ دو برسوں میں نافذ کیا جائے گا۔
  • خطرات کے تجزیے کے لیے جدید امیجنگ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ساتھ نان اِنٹروسیو اسکیننگ کے استعمال کو مرحلہ وار وسعت دی جائے گی تاکہ تمام بڑے بندرگاہوں پر ہر کنٹینر کی اسکیننگ ممکن بنائی جا سکے۔
  • بیرونِ ملک مقیم انفرادی افراد (آر آر او آئی ایس) کو پورٹ فولیو انویسٹمنٹ اسکیم ( پی آئی ایس) کے تحت ہندوستانی فہرست شدہ کمپنیوں کے ایکویٹی آلات میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اس اسکیم کے تحت ایک انفرادی پی آر او آئی کی سرمایہ کاری کی حد 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ مجموعی سرمایہ کاری کی حد موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد کی جائے گی۔

عالمی کاروبار اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا

  • غیر ملکی سرمایہ کاری اور عالمی کاروباری اعتماد کو فروغ دینے کے لیے ٹیکس نظام میں متعدد اہم اصلاحات تجویز  پیش کی گئی ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد شفافیت میں اضافہ، ٹیکس تنازعات میں کمی اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی مالی ماحول فراہم کرنا ہے۔
  • غیر مقیم افراد (نان –ریزیڈنٹ) جو تخمینی بنیاد پر ٹیکس ادا کرتے ہیں، انہیں مینی مم آلٹرنیٹ ٹیکس (ایم اے ٹی) سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایم اے ٹی کو بنیادی طور پر ان ‘زیرو ٹیکس کمپنیوں’ کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جو بھاری کتابی منافع اور منافع کی تقسیم کے باوجود مختلف ٹیکس رعایتوں اور مراعات کے باعث ٹیکس ادا نہیں کرتیں۔
  • اسی طرح، تمام اقسام کے شیئر ہولڈرز کے لیے شیئر بائی بیک کو کیپٹل گینز کے طور پر ٹریٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ٹیکس نظام میں یکسانیت اور وضاحت پیدا ہوگی۔
  • نئے نظام میں دستیاب ایم اے ٹی کریڈٹ کے استعمال کی اجازت بھی دی گئی ہے، تاہم یہ رعایت ٹیکس واجبات کے ایک چوتھائی (1/4) تک محدود ہوگی، تاکہ ٹیکس ادائیگی کے نظام میں توازن برقرار رہے۔
  • مزید برآں، ایم اے ٹی کو حتمی ٹیکس کے طور پر نافذ کرنے کی تجویز ہے، جس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کر کے 14 فیصد کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے ٹیکس کے حوالے سے یقین دہانی میں اضافہ ہوگا اور ٹیکس تنازعات میں کمی آئے گی، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے  ہندوستان  کا کاروباری ماحول مزید پرکشش بنے گا۔

جرمانوں اور فوجداری کارروائی کے نظام کی معقولیت سازی

  • ٹیکس نظام میں شفافیت، سہولت اور تنازعات میں کمی کو یقینی بنانے کے لیے جرمانوں اور فوجداری کارروائی کے فریم ورک میں اہم اصلاحات تجویز پیش کی گئی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد کاروباری ماحول کو زیادہ اعتماد پر مبنی اور کم تعزیری بنانا ہے۔
  • مشترکہ حکم کے ذریعے اسسمنٹ اور جرمانے کی کارروائی کو مربوط کیا جائے گا، جبکہ اپیل کے دوران جرمانے پر سود  کی ذمہ داری لاگو نہیں ہوگی۔ مزید برآں، پیشگی ادائیگی کی شرط کو 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے، جو صرف بنیادی ٹیکس ڈیمانڈ پر ہی حساب کیا جائے گا۔
  • ٹیکس دہندگان کو یہ سہولت دی جائے گی کہ وہ دوبارہ اسسمنٹ کے آغاز کے بعد بھی اپنا رٹرن اپ ڈیٹ کر سکیں، تاہم اس پر متعلقہ سال کے قابلِ اطلاق شرح کے علاوہ 10 فیصد اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔
  • کم رپورٹنگ کے معاملات میں جرمانے اور فوجداری کارروائی سے استثنیٰ کے نظام کو توسیع دیتے ہوئے اسے غلط رپورٹنگ  تک بھی بڑھا دیا گیا ہے، بشرطیکہ اضافی آمدنی پر اصل ٹیکس اور سود کے علاوہ 100 فیصد اضافی انکم ٹیکس ادا کیا جائے۔
  • اکاؤنٹس اور دستاویزات پیش نہ کرنے اور اجناس یا خدمات کی صورت میں ادائیگی پر ٹی ڈی ایس کی ذمہ داری جیسے معاملات کو غیر فوجداری قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر اب صرف جرمانے کی بجائے فیس عائد کی جائے گی۔
  • کچھ مخصوص تکنیکی خلاف ورزیوں کے لیے جرمانوں کو فیس میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ غیر ضروری فوجداری بوجھ کم ہو۔
  • باقی ماندہ فوجداری کارروائیوں کو جرم کی شدت کے مطابق درجہ بندی کی جائے  گی، جس میں زیادہ سے زیادہ دو سال تک کی سادہ قید کی سزا ہوگی اور عدالتوں کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ قید کو جرمانے میں تبدیل کر سکیں۔
  • مزید برآں، غیر منقولہ جائیداد کے علاوہ غیر ملکی اثاثوں کے حوالے سے 20 لاکھ روپے سے کم مالیت کے معاملات میں  یکم  اکتوبر 2024 سے سابقہ اثر کے ساتھ فوجداری کارروائی سے استثنیٰ فراہم کیا جائے گا۔

 

اعتماد پر مبنی نظام

ٹائر 2 اور ٹائر 3 مجاز اقتصادی آپریٹرز کے لیے ڈیوٹی موخر کرنے  کی مدت کو 15 دن سے بڑھا کر 30 دن کر دیا گیا ہے۔

اس کا کیا مطلب ہے؟

ڈیفرڈ ڈیوٹی پیمنٹ (ڈی ڈی پی) ایک ایسا طریق کار ہے جس میں ڈیوٹی کی ادائیگی اور کسٹمز کلیئرنس کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ یہ ‘پہلے کلیئر کرو، بعد میں ادائیگی کرو’ کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد بندرگاہ  سے گودام (ویئر ہاؤس) تک بغیر رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنانا ہے تاکہ جسٹ اِن ٹائم مینوفیکچرنگ کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

ڈیوٹی ڈیفیرل مدت میں اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ درآمد کے بعد کسٹمز یا امپورٹ ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے دی جانے والی مدت کو بڑھا دیا جائے، بجائے اس کے کہ یہ ادائیگی فوراً کی جائے۔

  • اہل مینوفیکچرر-درآمد کنندگان کو بھی اسی طرح کی ڈیوٹی ڈیفرل سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد انہیں ترغیب دینا ہے کہ وہ آئندہ مکمل طور پر ٹائر3 –اے ای او (مجاز اقتصادی آپریٹر) کے طور پر خود کو تسلیم کرائیں۔
  • زیادہ یقین دہانی اور بہتر کاروباری منصوبہ بندی کے لیے، کسٹمز کے لیے پابند ایڈوانس رُولنگ کی مدت موجودہ 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے۔
  • اے ای اوایکریڈیشن کی بنیاد پر ان کے کارگو کی کلیئرنس میں ترجیحی سلوک فراہم کیا گیا ہے۔
  • قابلِ اعتماد درآمد کنندگان کو رسک سسٹمز میں تسلیم کیا جائے گا، جس سے جانچ پڑتال میں کمی آئے گی، جبکہ الیکٹرانک طور پر سیل شدہ برآمدی کارگو کو فیکٹری سے براہِ راست شپمنٹ تک کلیئر کیا جائے گا۔
  • غیر تعمیلی (این سی) اشیاء کے معاملہ میں، قابلِ اعتماد درآمد کنندگان کی فائلنگ خودکار طور پر کسٹمز کو اطلاع دے گی تاکہ آمد پر فوری کلیئرنس ممکن ہو سکے۔
  • کسٹمز ویئر ہاؤسنگ کا نظام اب آپریٹر-مرکوز (او سی) نظام میں تبدیل کیا جائے گا، جس میں خود اعلامیہ (سیلف -  ڈکلئیریشن)، الیکٹرانک ٹریکنگ اور رسک پر مبنی آڈٹس شامل ہوں گے تاکہ تاخیر کم ہو اور تعمیلی اخراجات میں کمی آئے۔

کلیئرنس سے تعمیل  کی طرف اصلاحات

گزشتہ کئی  برسوں سے  ہندوستان  نے ایک زیادہ ہموار اور مؤثر کاروباری ماحول تشکیل دینے کے لیے مسلسل ساختی، ضابطہ جاتی اور ڈجیٹل اصلاحات پر عمل کیا ہے۔ موجودہ اقدامات اور ان کے اثرات، جیسا کہ اکنامک سروے 2025-26 میں بھی اجاگر کیا گیا ہے، حکومت اور ریاستی انتظامیہ کی جانب سے ایک مسلسل اور مربوط کوشش کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد معمولی جرائم کو غیر فوجداری بنانا، کاروباری منظوریوں کو آسان بنانا، تعمیلی بوجھ کو کم کرنا اور ضابطہ جاتی طریق کار کو سادہ بنانا ہے۔

غیر فوجداری بنانا اور اعتماد پر مبنی ضابطہ کاری

اعتماد پر مبنی ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے غیر فوجداری بنانے (مجرمانہ عمل) کی سمت میں اہم اصلاحات کی ہیں۔ جن وشواس (ترمیمی دفعات) ایکٹ- 2023 کے تحت 42 قوانین میں موجود 183 دفعات کو غیر فوجداری بنایا گیا، جس کے نتیجے میں معمولی اور تکنیکی نوعیت کے جرائم پر فوجداری ذمہ داری میں کمی آئی۔

اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئےجن وشواس (ترمیمی دفعات) بل- 2025 میں 355 دفعات شامل ہیں، جن میں سے 288 دفعات میں غیر فوجداری بنانے کی تجاویز دی گئی ہیں تاکہ کاروبار میں آسانی (ایز آف ڈوئنگ بزنس) کو فروغ دیا جا سکے، جبکہ 67 دفعات کا مقصد عوامی زندگی میں آسانی ( ایز لیونگ) کو بہتر بنانا ہے۔ یہ اقدامات حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ تعمیلی عمل کو آسان بنایا جائے اور ضابطہ جاتی کارکردگی کو بہتر کیا جائے۔

غیر فوجداری اصلاحات کے علاوہ، حکومت نے مختلف شعبوں اور ریاستوں میں ضابطہ جاتی فریم ورک کو معقول بنانے، تعمیلی بوجھ کو کم کرنے اور اعتماد پر مبنی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد تکمیلی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • ماحولیات (تحفظ) ایکٹ -1986، ہوا (آلودگی کی روک تھام و کنٹرول) ایکٹ-1981، انڈین فاریسٹ ایکٹ- 1927 اور پانی (آلودگی کی روک تھام و کنٹرول) ایکٹ- 1974 کی فوجداری دفعات کو غیر فوجداری بنا دیا گیا ہے، اور معمولی جرائم کو معقول بنایا گیا ہے تاکہ اعتماد پر مبنی حکمرانی کو مزید مضبوط کیا جا سکے اور زندگی اور کاروبار دونوں میں آسانی پیدا کی جا سکے۔
  • کمپلائنس میں کمی اور ڈی ریگولیشن کے لیے ٹاسک فورس جنوری- 2025 میں تشکیل دی گئی، جس کا مقصد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قواعد و ضوابط کو آسان بنانا اور طریق کار کو بہتر کرنا ہے۔ اس ٹاسک فورس نے پانچ اہم شعبوں میں ترجیحی مسائل کی نشاندہی کی، جن میں زمین کا استعمال (ایل یو)، تعمیرات ( بی این سی)، محنت، یوٹیلیٹیز اور اجازت نامے ( یو این پی) اور دیگر اہم ترجیحات شامل ہیں، جو ریگولیٹری تعاملات کا بڑا حصہ تشکیل دیتے ہیں۔
  • مارچ 2025 سے اب تک ٹاسک فورس کے تین دوروں کا انعقاد کیا جا چکا ہے، جن کی خصوصیات مضبوط بین الاداراتی ہم آہنگی، ریاستوں کے ساتھ مرحلہ وار مسائل کا حل، اور حقیقی وقت میں سیکھنے کے عمل پر مبنی ہیں۔

نیشنل سنگلز ونڈوسسٹم(این ایس ڈبلیو ایس

نیشنل سنگل ونڈو سسٹم (این ایس ڈبلیو ایس) ایک ڈجیٹل پلیٹ فارم ہے جو کاروباری ضروریات کے مطابق مختلف منظوریوں  کی نشاندہی کرنے اور ان کے لیے درخواست دینے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک اہم اصلاحاتی اقدام کے طور پر ابھرا ہے جس کا مقصد کاروباری منظوریوں کے عمل کو آسان بنانا ہے، جس میں منظوری کے وقت میں کمی، محفوظ دستاویزاتی  اسٹوریج  کی سہولت اور ایک ہی ڈجیٹل گیٹ وے کے ذریعے فوری سوالات کے حل شامل ہیں۔

یہ نظام 32 مرکزی محکموں اور 32 ریاستی حکومتوں کے منظوری کے عمل کو ایک پلیٹ فارم پر مربوط کرتا ہے، اور اس کے ذریعے 698 مرکزی اور 7435 ریاستی منظوریوں تک رسائی حاصل ہے۔ این ایس ڈبلیو ایس کے آغاز سے اب تک 8,29,750 سے زائد منظوریوں کا اجرا کیا جا چکا ہے۔

حکومت نے اس کے علاوہ بھی دیگر سنگل ونڈو ڈجیٹل پلیٹ فارمز متعارف کرائے ہیں، جن کا مقصد شفافیت میں اضافہ، لاگت میں کمی اور تعمیلی عمل کو مزید آسان بنانا ہے۔

 

ں۔

دیگر سنگل ونڈو ڈجیٹل پلیٹ فارم

 

 

پرویش(انٹرایکٹیو اور ماحولیاتی سنگل ونڈو ہب کے ذریعے پرو ایکٹو اور ریسپانسیو سہولت)3.0

ماحولیاتی منظوریوں اور منظوری کے بعد تعمیل کی نگرانی کے لیے۔

یہ شفافیت، پیشین گوئی اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے بنیادی اعداد و شمار، جنگلات کے زمینی بینکوں، بین وزارتی ڈیش بورڈز، اور اے آئی سے چلنے والی مدد کو مربوط کرتا ہے۔

 

 

 

 

ای- گرام سوراج پورٹل

جی پی کے مکمل پروفائل کے ساتھ ایک واحد ونڈو فراہم کرتا ہے، جس میں سرپنچ/سکریٹری، ڈیموگرافی، مالیات، اثاثوں کے ساتھ ساتھ گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلان (جی پی ڈی پی)کے ذریعے کی گئی سرگرمیوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

ایک متحد رپورٹنگ اور ٹریکنگ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتے ہوئے، یہ  ڈی سنٹرلائزڈ منصوبہ بندی کو مضبوط کرتا ہے اور ترقیاتی فنڈ کے استعمال کی تاثیر کو بہتر بناتا ہے۔

 

ریاستی سطح پر اصلاحاتی جدت

کمپلائنس کے بوجھ کو کم کرنے کے عمل کے تحت مرکزی وزارتوں اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں  نے ریگولیٹری کمپلائنس پورٹل پر دستیاب ڈیٹا کی بنیاد پر بھاری تعمیلی تقاضوں کی خود نشاندہی کا وسیع عمل شروع کیا۔ نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 47,000 سے زائد کمپلائنسز کو کم کیا جا چکا ہے، جن میں 16,108 کمپلائنسز کو آسان بنایا گیا، 22,287 کو ڈجیٹائز کیا گیا، 4,458 کو غیر فوجداری بنایا گیا، جبکہ 4,270 غیر ضروری کمپلائنسز کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔

متعدد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ایسے اختراعی اصلاحاتی اقدامات بھی کیے ہیں جو عام اصلاحاتی ماڈلز سے آگے ہیں۔ یہ اقدامات ان کے مخصوص انتظامی، معاشی اور جغرافیائی حالات کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، تاکہ مقامی سطح پر حکمرانی کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور کاروبار دوست بنایا جا سکے۔

مناسب زمین کے استعمال کے حوالے سے آندھرا پردیش اور اتراکھنڈ نے منتخب زمروں کے لیے زمین کی تبدیلی کی شرط کو ختم کر دیا ہے، جس سے طریق کار میں تاخیر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

آسام، جموں و کشمیر، اوڈیشہ، پڈوچیری اور تری پورہ نے مخلوط زمین کے استعمال والے زونز کے لیے منفی فہرست متعارف کرائی ہے، جس کے تحت تمام سرگرمیوں کی اجازت ہے، سوائے ان کے جو واضح طور پر ممنوع قرار دی گئی ہوں۔

انڈمان و نکوبار جزائر میں زمین کے استعمال میں تبدیلی کے لیے آن لائن نظام متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے چند ہی مہینوں میں سینکڑوں درخواستیں نمٹا دی گئیں۔ اس سے سیاحت کی اضافی گنجائش پیدا ہوئی اور گھریلو و کاروباری قرضوں کے بہاؤ میں بہتری آئی۔

عمارت سازی اور ترقیاتی ضوابط کے شعبے میں ہریانہ، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ، تمل ناڈو، اتر پردیش اور اتراکھنڈ نے بلڈنگ بائی لاز میں نرمی کی ہے اور سیٹ بیکس، ایف اے آر ، پارکنگ اور پلاٹ سائز سے متعلق ضابطوں کو آسان بنایا ہے، جس سے زمین کے بہتر استعمال اور منصوبوں کی تیز تر تکمیل ممکن ہوئی ہے۔

چھتیس گڑھ، میزورم، راجستھان، تری پورہ اور اتر پردیش نے تھرڈ پارٹی بلڈنگ پلان منظوری کا نظام متعارف کرایا ہے، جبکہ انڈمان و نکوبار جزائر، آندھرا پردیش، گوا، تمل ناڈو اور اتراکھنڈ نے ماحولیاتی منظوریوں کے لیے خود اعلامیہ اور تھرڈ پارٹی سرٹیفکیشن کی اجازت دی ہے۔ آتشزدگی سے متعلق حفاظتی ضوابط کو آسام، اوڈیشہ، تلنگانہ اور تری پورہ میں مجاز تھرڈ پارٹی اداروں کے ذریعے آسان بنایا گیا ہے۔

محنت کے شعبے میں بہار، گجرات، اوڈیشہ، مہاراشٹر اور تلنگانہ نے خواتین کو مختلف صنعتوں اور تجارتی اداروں میں کام کرنے پر عائد پابندیوں کو ختم کیا ہے۔

چھتیس گڑھ، گجرات، ہریانہ، کرناٹک اور اتر پردیش نے جن وشواس ایکٹ کی طرز پر ریاستی سطح کے قوانین متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت پرانے قوانین کو منسوخ کیا گیا، پرانی دفعات میں ترمیم کی گئی اور معمولی جرائم کو غیر فوجداری بنایا گیا۔

تری پورہ میں زمین، بلڈنگ ریگولیشنز، لیبر، یوٹیلیٹیز اور دیگر شعبوں میں جامع اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔‘ رائزنگ نارتھ ایسٹ  انویسٹرزسمٹ2025’کے بعد وعدہ شدہ سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ عملی مراحل میں داخل ہو گیا ہے، جو کہ منظم ڈی ریگولیشن، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مسلسل صنعتی رابطے کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

کاروباری اصلاحاتی ایکشن پلان (بی آر اے پی) اور ضلعی اصلاحات

حکومت 2015 سے کاروباری اصلاحاتی ایکشن پلان (بی آر اے پی) نافذ کر رہی ہے، جس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، ضابطہ جاتی طریق کار کو آسان بنانا اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ اب تک بی آر اے پی کے 7 ادوار مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ آٹھواں ایڈیشن، بی آر اے پی2026 کو 11 نومبر 2025 کو باضابطہ طور پر شروع کیا گیا۔

اصلاحات کو نچلی سطح ( گراس وٹ) تک مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈی پی آئی آئی ٹی نے ضلع کاروباری اصلاحاتی ایکشن پلان (بی آر اے پی) بھی متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد ضلع سطح پر کاروبار میں آسانی کو مضبوط بنانا ہے۔ اکنامک سروے 2025-26 میں بی آر اے پی کے تحت ریاستوں کی بعض نمایاں کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

بی آر اے پی کے تحت ریاستوں کی کامیابیاں

 

 

کیرالہ

  • ہموار کاروبار کی رجسٹریشن
  • ڈجیٹلائزڈ زمین اور ٹیکس کے عمل
  • آسان ماحولیاتی منظوری اور جدید قابل تجدید توانائی کو اپنانا، کاربن غیر جانبدار گرام پنچایتیں، اور واٹر باڈی کی بحالی۔

 

 

تمل ناڈو

  • سنگل ونڈو متعارف کرایا
  • سولر پارکس، ڈیکاربونائزیشن کے منصوبوں کو فروغ دیتے ہوئے زمینی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ڈجیٹائزڈ منظوری
  • صنعتی فضلے کے علاج کے نظام کی موثر نگرانی

 

 

آندھرا پردیش

  • سنگل ونڈو صنعتی منظوریوں پر عمل درآمد
  • آن لائن زمین کی رجسٹریشن
  • ای -ماحولیاتی منظوری،
  • اپنے آن لائن رضامندی کے انتظام اور نگرانی کے نظام کو وسیع کیا جس سے فرموں کو رضامندی کے لیے درخواست دینے اور منظوریوں کو ڈجیٹل طور پر ٹریک کرنے کی اجازت دی گئی۔

 

اسٹرکچرل ریفارمز کاروبار کرنے میں آسانی کی حمایت کرتی ہیں

ای او ڈی بی کی حمایت کرنے والی ساختی اصلاحات نے مالیاتی منڈیوں، ٹیکسیشن، لیبر، بینکنگ اور ماحولیاتی ضابطے میں ریگولیٹری آسان بنانے، ادارہ جاتی استحکام اور ٹیکنالوجی کی قیادت میں حکمرانی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ سیکٹرل ریگولیٹرز کے حالیہ اقدامات، انشورنس، سکیورٹیز، جی ایس ٹی، لیبر کوڈز اور پبلک سیکٹر بینکنگ میں اصلاحات کے ساتھ تعمیل کے بوجھ کو کم کرنا، شفافیت کو بڑھانا اور مالیات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ ایک ساتھ، یہ اصلاحات ریگولیٹری یقین کو مضبوط کرتی ہیں، مسابقت کو فروغ دیتی ہیں اور زیادہ موثر اور لچکدار کاروباری ماحولیاتی نظام کی حمایت کرتی ہیں۔

ریگولیٹری اقدامات

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اپنے ریگولیٹری ڈھانچے کی جامع تنظیمِ نو کی ہے، جس کے تحت 9,000 سے زائد سرکولرز اور رہنما خطوط کو مختلف اقسام کے ریگولیٹڈ اداروں کے لیے 238 فنکشن-اسپیسفک ماسٹر ڈائریکشنز میں یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے حصے کے طور پر 9,446 سرکولرز کو منسوخ کیا جا رہا ہے، جن میں سے 3,809 متعلقہ سرکولرز کو ماسٹر سرکولرز میں شامل کر لیا گیا ہے جبکہ 5,673 کو غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے۔

یہ اقدام ریگولیٹری وضاحت کو بہتر بناتا ہے، تعمیل کے بوجھ کو کم کرتا ہے، اور کاروبار کرنے میں آسانی (ای او ڈی بی) کو بہتر بنانے کے مقصد کو تقویت دیتا ہے۔

سب کا بیمہ، سب کی رکشا (انشورنس قوانین میں ترمیم)

‘سب کا بیمہ، سب کی رکشا’ (انشورنس قوانین میں ترمیم) ایکٹ- 2025 نے انشورنس ایکٹ- 1938، لائف انشورنس کارپوریشن ایکٹ- 1956اور انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایکٹ- 1999 کی مختلف شقوں میں ترمیم کی ہے، جس کا مقصد شہریوں کے تحفظ کو بڑھانا، انشورنس کی رسائی کو گہرا کرنا، انشورنس شعبہ کی ترقی و نمو کو تیز کرنا، اور کاروبار کرنے میں آسانی(ای او ڈی بی)) کو بہتر بنانا ہے۔

اس قانون کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ انشورنس کمپنیوں میں 100 فیصد تک غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ہندوستان  میں مزید غیر ملکی اداروں کے داخلہ کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

یہ اقدام ای او ڈی بی کو درج ذیل طریقوں سے فروغ دیتا ہے:

  • انشورنس انٹرمیڈیئریز کی ایک مرتبہ رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنا

انشورنس کمپنیوں کے لیے ادا شدہ ایکویٹی سرمایہ کے حصص کی منتقلی کے لیے آئی آر ڈی اے آئی کی منظوری کی حد کو  ایک  فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کرنا

  • غیر ملکی ری انشوررز کے لیے نیٹ اونڈ فنڈز کی شرط کو 5,000 کروڑ روپے سے کم کر کے 1,000 کروڑ روپے کرنا، تاکہ زیادہ ری انشوررز کو داخلہ میں سہولت ملے اور ملک میں ری انشورنس صلاحیت کو مضبوط کیا جا سکے
  •  ہندوستانی انشورنس کمپنیز (غیر ملکی سرمایہ کاری) ترمیمی قواعد- 2025 کو بھی 30 دسمبر 2025 کو نوٹیفائی کیا گیا تاکہ انشورنس کمپنیوں اور انٹرمیڈیئریز کے لیے شرائط کو معقول بنا کر کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کی جا سکے۔

کریڈٹ اسیسمنٹ ماڈل (سی اے ایم)

پبلک سیکٹر بینکس نے 2025 میں ایم ایس ایم ایز کے لیے ڈجیٹل فٹ پرنٹس کی بنیاد پر کریڈٹ اسیسمنٹ ماڈل (سی اے ایم) متعارف کرایا۔ 1 اپریل سے 31 دسمبر 2025 کے درمیان ڈجیٹل کریڈٹ انڈر رائٹنگ پروگرامز کے تحت 3.96 لاکھ سے زائد ایم ایس ایم ایز قرض کی درخواستیں منظور کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت52,300 کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔

یہ ماڈل کاروبار کرنے میں آسانی(ای او ڈی بی) کو درج ذیل طریقوں سے بہتر بناتا ہے:

  • ڈجیٹل اور قابلِ تصدیق ڈیٹا کے ذریعے خودکار قرض جانچ (اے ایل اے) کو ممکن بنانا
  • تمام درخواستوں کے لیے غیر جانبدار  فیصلہ سازی اور موجودہ و نئے ایم ایس ایم ای قرض دہندگان کے لیے ماڈل پر مبنی حد کا تعین
  • کریڈٹ گارنٹی اسکیموں کا انضمام

 لیبر اصلاحات

29 مرکزی لیبر قوانین کو چار لیبر کوڈز میں یکجا کرنے سے کاروبار کرنے میں آسانی( ای او ڈی بی) میں نمایاں بہتری آئی ہے، کیونکہ اس سے تعمیل کے عمل کو آسان بنایا گیا، منظوری کے وقت کو کم کیا گیا اور خصوصاً ایم ایس ایم ایز کو زیادہ عملی لچک فراہم کی گئی ہے۔

ان کوڈز کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • فیکٹری کی تعمیر یا توسیع کے لیے اجازت دینے کی مدت 90 دن سے کم کر کے 30 دن مقرر کی گئی ہے اور مجموعی منظوری کا وقت بھی 30 دن کر دیا گیا ہے
  • کنٹریکٹ لیبر کے قواعد کو آسان بناتے ہوئے 50 سے کم ورکرز رکھنے والے کنٹریکٹرز کو لائسنس سے استثنا دیا گیا ہے
  • الیکٹرانک سنگل رجسٹریشن، سنگل رٹرن اور 5 سالہ سنگل آل انڈیا لائسنس متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ڈییمڈ اپروول شامل ہے۔
  • چھ موجودہ بورڈز کو ختم کر کے ایک قومی ٹرائی پارٹائٹ بورڈ تشکیل دیا گیا ہے
  • جرمانوں کی بنیاد پر کمپاؤنڈنگ متعارف کرائی گئی ہے، فوجداری سزاؤں کی جگہ سول پنالٹیز دی گئی ہیں اور قانونی کارروائی سے قبل 30 دن کا نوٹس لازمی قرار دیا گیا ہے
  • لے آف، برطرفی، بندش اور اسٹینڈنگ آرڈرز کے لیے حد 300 ورکرز تک بڑھا دی گئی ہے، جس سے اداروں کو پہلے منظوری کے بغیر زیادہ آپریشنل لچک حاصل ہوئی ہے

جی ایس ٹی 2.0

جی ایس ٹی اصلاحات

ستمبر- 2025 میں متعارف کرائی گئی جی ایس ٹی اصلاحات نے کاروبار کرنے میں آسانی(ای او ڈی بی) کو مزید مضبوط بنایا ہے، کیونکہ ان کے ذریعے ٹیکس سلیبز کو آسان بنایا گیا، اہم شعبوں میں شرحوں میں کمی کی گئی، جس سے ٹیکس کا بوجھ کم ہوا اور قیمتوں کی مسابقت  میں بہتری آئی۔

سادہ دو شرحوں (ٹو –ریٹ اسٹرکچر) کی طرف پیش رفت نے تعمیل) اور لین دین کے اخراجات کو کم کیا، جبکہ شرحوں کی تنظیم نو  نے اشیاء کو زیادہ قابلِ استطاعت بنایا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا۔

ان اصلاحات کے اثرات ٹیکس نیٹ کی توسیع کی صورت میں بھی نظر آتے ہیں، جہاں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 2017 میں تقریباً 60 لاکھ سے بڑھ کر نومبر 2025 میں 1.5 کروڑ سے زائد ہو گئی، جو معیشت کی زیادہ فارمالائزیشن کی نشاندہی کرتی ہے۔

مزید یہ کہ انورٹیڈ ڈیوٹی اسٹرکچر(آئی ڈی ایس) کی اصلاح، خاص طور پر محنت کشوں پر مبنی اور زرعی ان پٹ والے شعبوں جیسے ٹیکسٹائل اور کھاد میں، لاگت اور ورکنگ کیپیٹل کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، جس سے کاروباری عمل مزید آسان ہوا ہے۔

خلاصہ

 ہندوستان  کا ایز آف ڈوئنگ بزنس فریم ورک مسلسل ارتقاء پذیر ہے، جس کی بنیاد ریگولیٹری سادگی، ڈجیٹلائزیشن اور اعتماد پر مبنی حکمرانی  پر رکھی گئی ہے۔ یونین بجٹ 2026-27 کی تجاویز اور ٹیکسیشن، لیبر، فنانس اور ریگولیشن کے شعبوں میں جاری اصلاحات اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت کاروباری تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے اور پالیسی کی پیش گوئی کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

سرمایہ کاری میں اضافے، کاروباری اداروں کی ترقی اور معیشت کی رسمی شکل اختیار کرنے کے مضبوط رجحانات گزشتہ ایک دہائی کی اصلاحاتی رفتار کو ظاہر کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات  ہندوستان کی مسابقت کو مضبوط بناتے ہیں اور معاشی ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔

 

حوالہ جات

وزارت خزانہ

https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf

https://www.indiabudget.gov.in/doc/budget_speech.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2206011®=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2216047®=6&lang=1

https://incometaxindia.gov.in/tutorials/10.mat-and-amt.pdf

وزارت کامرس اینڈانڈسٹریز

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201280®=3&lang=2

https://www.nsws.gov.in/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204665®=1&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2188992®=3&lang=2#:~:text=BRAP%202024%20covered%20434%20reform,across%2034%20States%20and%20UTs.

Sober

https://sansad.in/getFile/annex/270/AU381_Ff7hlQ.pdf?source=pqars

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU2676_JjlKis.pdf?source=pqals&utm_

پی آئی بی ہیڈ کوارٹر

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/dec/doc2025125719501.pdf

Central Board of Indirect Taxes & Customs

https://www.aeoindia.gov.in/SourceCode/Website/pdf/faq_on_deferred_duty_payment.pdf

Click here to see pdf

***

ش ح- ظ الف- م ش

UR- 7402 


(ریلیز آئی ڈی: 2263989) وزیٹر کاؤنٹر : 9