نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی صدارت میں برکس  یوتھ کونسل کی کاروباری ورکنگ گروپ کی نشست اندور میں اختتام پذیر ہوئی


برکس ممالک کے نوجوان کاروباری افراد کی جدت طرازی، شمولیت اور پائیدار کاروبار پر تفصیلی گفتگو

प्रविष्टि तिथि: 21 MAY 2026 5:27PM by PIB Delhi

برکس (بی آر آئی سی ایس) ممالک کے درمیان کاروباری تعاون کو مضبوط بنانے پر مرکوز دو روزہ مباحثوں، مشترکہ کوششوں اور معلومات کے تبادلے کے اجلاسوں کے بعد، برکس یوتھ کونسل کی کاروباری ورکنگ گروپ کی نشست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

سال 2026 میں بھارت کی برکس صدارت کے تحت، بھارت  سرکاری کی نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزارت کے محکمہ برائے امورنوجوانان کی جانب سے اس  میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میٹنگ میں نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزارت کے مرکزی وزیر  ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے (مجازی طور پر) شرکت کی۔ ان کے علاوہ نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزارت  کی وزیرِ مملکت محترمہ رکشا نکھل کھڈسے، مدھیہ پردیش کے کھیل کود اورنوجوانوں کی  بہبودِکے وزیر جناب وشواس کیلاش سارنگ، نوجوانوں کے امور کے محکمہ کی سکریٹری ڈاکٹر پلّوی جین گوول، نوجوانوں کے امور کے محکمہ کے ایڈیشنل سکریٹری جناب نتیش کمار مشرا، نوجوانوں کے امور کے محکمہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سارہ جائل ساکمی، نوجوانوں کے امور کے محکمہ کے ڈپٹی سکریٹری جناب راجیش کمار کنوجیا اور برکس ممالک کے اعلیٰ حکام و مندوبین نے شرکت کی۔

اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، نوجوانوں کے امور کے محکمہ کے ایڈیشنل سکریٹری جناب نتیش کمار مشرا نے برکس ممالک میں کاروباری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ‘‘کاروبار شروع کرنا چند لوگوں کا کوئی خاص حق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا حق ہے جو ہر نوجوان کو، اس کے علاقے، جنس یا پس منظر سے قطع نظر، حاصل ہونا چاہیے۔’’

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کاروباری افراد کو درپیش چیلنجز، جن میں سرمائے تک رسائی، عددی (ڈیجیٹل) بنیادی ڈھانچہ، رہنمائی اور قانونی معاونت شامل ہیں، برکس ممالک کے مشترکہ مسائل ہیں اور ان کے لیے مسلسل شراکت داری اور بات چیت کے ذریعے مشترکہ حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

شکریہ کے کلمات ادا کرتے ہوئے، نوجوانوں کے امور کے محکمہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سارہ جائل ساکمی نے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مندوبین، مبصرین، ناظمین اور انتظامی ٹیموں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ‘‘آپ یہاں صرف اپنے ممالک کی نمائندگی کرنے نہیں آئے تھے، بلکہ آپ یہاں مل کر کچھ نیا تعمیر کرنے آئے تھے اور اسی سوچ نے سب سے بڑا فرق پیدا کیا ہے۔’’

ڈاکٹر ساکمی نے مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کا بھی اعتراف کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس اجلاس کے دوران ہونے والی گفتگو اور قائم ہونے والی شراکت داریاں برکس کے نوجوانوں کے کاروباری ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔

اس اجلاس نے برکس ممالک کے نوجوان کاروباری افراد، مندوبین، حکمتِ عملی سازوں اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد کو ایک جگہ جمع کیا، جس سے خیالات کا تبادلہ کرنے، بہترین طور طریقوں کو ساجھا کرنے اور برکس ممالک میں نوجوانوں کی قیادت میں کاروباری نظام کو مضبوط بنانے کے راستے تلاش کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم میسر آیا۔

پروگرام کا آغاز ایک نمائش کے افتتاح سے ہوا جس میں ٹیکنالوجی، پائیداری، صاف توانائی اور سماجی کاروبار سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والی جدت طرازیوں اور کاروباری اقدامات کو پیش کیا گیا۔ اجلاس کے دوران، مندوبین نے باہمی تعاون اور جدت طرازی کو فروغ دینے پر مرکوز عام مباحثوں، ملکی پیشکشوں، مذاکروں، کاروباری رابطوں، تربیتی نشستوں اور تبادلہ خیال کے معلوماتی سیشنز میں حصہ لیا۔

‘‘مقامی جدت طرازی سے عالمی اثرات تک: نوجوانوں کی قیادت میں نئی اختراعی صنعتوں (اسٹارٹ اپس) کے نظام کے لیے برکس تعاون’’ کے عنوان سے منعقدہ ایک خصوصی نشست نے شریک ممالک کو کاروبار اور نئی صنعتوں کی ترقی میں اپنے اقدامات، تجربات اور بہترین طورطریقوں کو پیش کرنے کے قابل بنایا۔ ان مباحثوں نے برکس ممالک کے کاروباری نظام کے درمیان گہرے تعاون اور تبادلے کے مواقع کو اجاگر کیا۔

اجلاس میں عددی (ڈیجیٹل) جدت طرازی اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار، سب کی شمولیت والے اور سماجی کاروباراور ماحول دوست کاروبار و موسمیاتی تبدیلیوں پر مثبت اثر ڈالنے والے تجارتی نمونوں پر موضوعاتی مذاکرے بھی شامل تھے۔ ان نشستوں میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس)، مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک)، زرعی ٹیکنالوجی (ایگری ٹیک)، پائیداری اور صاف توانائی جیسے شعبوں میں ابھرتے ہوئے مواقع کا جائزہ لیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ سب کی شمولیت پر مبنی ترقی اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والے کاروبار کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

باہمی رابطوں کے معلوماتی سیشنز اور نوجوان کاروباری افراد کے ساتھ ایک غیر رسمی روبرو گفتگو نے شرکاء کے درمیان مکالمے، ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل اور بین ملکی تعاون کو مزید فروغ دیا۔

اجلاس کے دوسرے دن کاروباری صلاحیتوں اور قائدانہ ترقی پر ایک تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کے بعد سوال و جواب کی ایک انٹرایکٹو نشست ہوئی۔ پروگرام کا اختتام ایک الوداعی سیشن پر ہوا جس میں اسناد کی تقسیم اور شرکاء کی جانب سے اپنے تجربات کا تبادلہ شامل تھا۔ مندوبین نے بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں واقع ‘کرسٹل آئی ٹی پارک’ کا دورہ بھی کیا، جو ایک کاروباری مطالعاتی دورے کا حصہ تھا جس کا مقصد اس خطے میں پروان چڑھتے ہوئے جدت طرازی کے نظام کو قریب سے سمجھنا تھا۔

اجلاس کے دوران ہونے والی تفصیلی گفتگو نے نوجوانوں کے کاروبار اور جدت طرازی کے شعبے میں برکس ممالک کے درمیان مکالمے اور تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

برکس یوتھ کونسل کی کاروباری ورکنگ گروپ کی اس نشست نے نوجوانوں کو لچکدار اور مستقبل کے لیے تیار معیشتوں کی تشکیل میں کلیدی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کے حوالے سے بھارت کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کی اور ساتھ ہی بھارت کی صدارت کے دوران برکس ممالک کے درمیان تعاون اور روابط کو مزید مضبوط کیا۔

 

 

****

ش ح۔م م ۔ ف ر

U-7392                       

                          


(रिलीज़ आईडी: 2263870) आगंतुक पटल : 29
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil