جل شکتی وزارت
پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ نے ’سجل گرام سمواد‘ کے ساتویں ایڈیشن کی میزبانی کی
کثیر لسانی مکالمے میں کمیونٹی شمولیت، مقامی ملکیت اور دیہی آبی سپلائی نظام کے آپریشن و دیکھ بھال پر زور
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 MAY 2026 7:17PM by PIB Delhi
پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ، وزارت جل شکتی نے آج کثیر لسانی ’’سجل گرام سمواد‘‘ کے ساتویں ایڈیشن کا کامیاب انعقاد کیا، جس کے ذریعے جل جیون مشن 2.0 کے تحت کمیونٹی کی قیادت میں آبی نظم و نسق کے تئیں حکومت کے عزم کو مزید مضبوط کیا گیا۔
ورچوئل سمواد میں گرام پنچایت نمائندوں، ولیج واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹی کے اراکین، مقامی کمیونٹی کے شرکاء، جل سہیا، جل بہنی، جل سکھی، آنگن واڑی کارکنان، طلبہ، اساتذہ اور گرام پنچایتوں سے وابستہ صف اول کے کارکنان نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ جل جیون مشن کے ریاستی مشن ڈائریکٹرس، ضلع کلکٹرس، ضلع مجسٹریٹس، ڈپٹی کمشنرس، ضلعی واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن کے افسران اور مختلف ریاستوں کے سینئر حکام بھی پروگرام میں شریک ہوئے

اس سمواد کی صدارت اشوک کے کے مینا، سکریٹری، پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ نے کی، جبکہ اس موقع پر ڈی سنتھل پانڈین، جوائنٹ سکریٹری، نیشنل جل جیون مشن سمیت محکمہ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں اشوک کے کے مینا نے ’’سجل گرام سمواد‘‘ کو گرام پنچایتوں کے تجربات اور چیلنجوں سے سیکھنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تبادلہ خیال کے دوران پیش کی جانے والی بہترین مثالیں دیگر گرام پنچایتوں کو اپنے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت توجہ اب دیہی پینے کے پانی کے نظام کے کمیونٹی کی قیادت میں پائیدار انتظام کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔
اشوک کے کے مینا نے کہا کہ روایتی طور پر دیہی برادریاں خود اپنے پینے کے پانی کے وسائل کا انتظام کرتی تھیں، اور مقامی ملکیت کے اسی جذبے کو دوبارہ زندہ کرنا طویل مدتی پائیداری کیلئے ضروری ہے۔
انہوں نے گرام پنچایتوں اور مقامی برادریوں سے اپیل کی کہ وہ دیہی آبی سپلائی نظام کے آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری خود سنبھالیں تاکہ محفوظ پینے کے پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو دیہات کی مدد جاری رکھنی چاہیے تاکہ وہ تیزی سے تکنیکی نوعیت اختیار کرتے دیہی آبی بنیادی ڈھانچے کا بہتر انتظام کر سکیں۔
’’سجل گرام سمواد ‘‘ کے ساتویں ایڈیشن میں 6 گرام پنچایت ہیڈکوارٹر دیہات میں دیہی سطح پر تبادلہ خیال کا انعقاد کیا گیا۔
اس پروگرام میں تقریباً 4000 افراد نے ڈیجیٹل طور پر شرکت کی، جن میں خواتین، بچے، نوجوان اور بزرگ شامل تھے، جو مقامی برادریوں اور حکام کی بھرپور دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
پروگرام میں 6 ریاستوں کی گرام پنچایتوں نے راجستھانی، میزو، گڑھوالی، کنڑ، پنجابی اور ہندی زبانوں میں شرکت کی۔
یہ سمواد اپنی نوعیت کا منفرد ثابت ہوا کیونکہ اس نے علاقائی زبانوں اور لہجوں میں مؤثر ابلاغی رابطے کو فروغ دیا۔

گرام پنچایتوں کی آواز
گرام پنچایت کھنڈوا پٹہ، ضلع چورو، راجستھان:
گرام پنچایت کھنڈوا پٹہ کے نمائندوں نے جل جیون مشن کے نفاذ سے متعلق اپنے تجربات شیئر کیے۔ انہوں نے بتایا کہ گھروں تک نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کی جا رہی ہے اور ولیج واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹی پوری طرح فعال ہے، جس میں خواتین اراکین دیہی آبی سپلائی نظام کی دیکھ بھال میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
پنچایت نے بارش کے پانی کے ذخیرے کیلئے روایتی ’’کنڈ/ٹانکا‘‘ کی تعمیر کو بھی اجاگر کیا۔
نمائندوں نے بتایا کہ گاؤں کی خواتین کو اسکولوں، آنگن واڑی مراکز اور گھروں میں پانی کے معیار کی جانچ کیلئے تربیت دی گئی ہے۔
مزید برآں، ضلعی حکام نے کہا کہ گرام پنچایتوں اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محکمہ کے اشتراک سے آبی سپلائی نظام میں رساؤ کو دور کرنے اور آپریشن و دیکھ بھال کی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ ریاست ’’جل سنچئے‘‘ مہم کے تحت پانی کے تحفظ اور آبی ذرائع کی پائیداری کیلئے وسیع پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ضلع واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن کی باقاعدہ میٹنگیں بھی منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ نفاذ اور پائیداری کے اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

گرام پنچایت کھمرنگ، ضلع کولاسب، میزورم:
گاؤں کے نمائندوں نے میزو زبان میں اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے جل جیون مشن کے پائیدار نفاذ کیلئے اختیار کیے گئے مضبوط کمیونٹی پر مبنی طریقہ کار کو اجاگر کیا۔
دیہاتیوں نے بتایا کہ وہ ایک مخصوص واٹس ایپ کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جسے پانی کی فراہمی کے اوقات، دیکھ بھال سے متعلق مسائل، کمیونٹی اجلاسوں اور پینے کے پانی کے انتظام سے متعلق بیداری سرگرمیوں کیلئے فعال طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ محفوظ اور پائیدار پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے باقاعدہ کلورینیشن، کمیونٹی کی نگرانی اور ’’جل سیوا آنکَلن‘‘ سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ دونوں اضلاع نے جل جیون مشن کے تحت گھریلو نل کنکشن کی سو فیصد کوریج حاصل کر لی ہے اور اب کمیونٹی کی ملکیت کے اصول کے تحت اسکیم کی دیکھ بھال پر مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔

گرام پنچایت گھولیکھ، ضلع پوڑی گڑھوال، اتراکھنڈ:
گرام پنچایت گھولیکھ کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران بتایا گیا کہ مقامی سطح پر باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔
ولیج واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹی کی جانب سے مرمت کا سامان خریدنے اور آبی نظام کی فوری دیکھ بھال یقینی بنانے کیلئے ہر ماہ 20 روپے بطور صارف فیس جمع کیے جاتے ہیں۔
فائدہ حاصل کرنے والوں نے یہ بھی بتایا کہ گھروں میں نل کنکشن دستیاب ہونے سے دور دراز علاقوں سے پانی لانے کی دشواری میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اشوک جوشی، چیف ڈیولپمنٹ آفیسر، پوڑی گڑھوال نے بتایا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور پانی کے ذرائع سے متعلق مشکلات کے باوجود ضلع میں جل جیون مشن کے تحت منظور شدہ متعدد اسکیمیں مکمل کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپرنگ اینڈ ریور ریجووینیشن اتھارٹی اور شمسی توانائی پر مبنی آبی سپلائی اسکیموں کے ذریعے ریاست میں پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ضلع اور ریاستی سطح پر ضلع واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن کی میٹنگیں مسلسل منعقد کی جاتی ہیں۔

گرام پنچایت اناہلی، ضلع چتردرگہ، کرناٹک:
پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ کے افسران کے ساتھ ریاستی زبان کنڑ میں بات چیت کے دوران گاؤں کے نمائندوں نے جل جیون مشن کے کامیاب نفاذ سے متعلق اپنے تجربات شیئر کیے۔
اسکیم کے ایک مستفید شخص نے بتایا کہ جل جیون مشن کے نفاذ سے پہلے گاؤں میں پانی کی فراہمی بے قاعدہ تھی اور براہِ راست پمپوں کے استعمال اور غیر مجاز پائپ لائن کنکشن کے باعث پانی کی تقسیم غیر مساوی تھی۔
بعد میں منظم منصوبہ بندی کے تحت پنچایت نے قابلِ اعتماد آبی ذرائع کی نشاندہی کی اور ایک نئے بورویل، اوورہیڈ ذخیرہ ٹینک اور مخصوص پائپ لائن نیٹ ورک کی تعمیر مکمل کی۔
نمائندوں نے یہ بھی بتایا کہ ہر گھر سے 70 روپے بطور صارف شراکت جمع کیے جا رہے ہیں، جنہیں نظام کے آپریشن اور دیکھ بھال کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
ضلع واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن اور ریاستی واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن کے افسران نے کہا کہ مستحکم آبی ذرائع، رساؤ کے خاتمے اور جل جیون مشن کے بنیادی ڈھانچے کے مؤثر استعمال نے پائیداری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ریاست کے تقریباً 260 دیہات کو 24x7 پانی فراہمی والے دیہات قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ رواں سال اس تعداد کو بڑھا کر ایک ہزار دیہات تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

گرام پنچایت گل کلاں، ضلع بھٹنڈہ، پنجاب:
گاؤں کے نمائندوں نے پنجابی زبان میں اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت گھروں تک باقاعدہ اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کی جا رہی ہے اور گاؤں میں پانی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پانی کی فراہمی کے انتظام، آپریشن و دیکھ بھال کی سرگرمیوں اور خدمات کی فراہمی سے متعلق مسائل پر غور کیلئے گرام پنچایت سطح پر ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔
ضلع حکام اور ڈاکٹر سید سہرش اصغر، مشن ڈائریکٹر، جل جیون مشن پنجاب نے بھٹنڈہ میں جل جیون مشن کے تحت پائیدار اور قابلِ اعتماد پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے پنچایت کی جانب سے کیے جا رہے کمیونٹی پر مبنی اقدامات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرام پنچایت گل کلاں میں اسکیم کے نفاذ کے دوران خواتین کی سرگرم شمولیت دیکھنے کو مل رہی ہے اور اس بات کی ستائش کی کہ یہ گاؤں جلد ہی ریاست کا ’’ماڈل ولیج‘‘ بن جائے گا۔

گرام پنچایت تنہاری مافی، ضلع باندا، اتر پردیش:
سمواد کے دوران گاؤں کے نمائندوں نے بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت اب پورے گاؤں میں گھریلو نل کنکشن فراہم کر دیے گئے ہیں اور صبح و شام کے اوقات میں باقاعدہ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
مستفیدین نے کہا کہ نل کے پانی کی دستیابی سے خواتین پر بوجھ میں نمایاں کمی آئی ہے اور روزمرہ زندگی میں سہولت بڑھی ہے۔
باندا ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بتایا کہ ضلع بھر کے دیہات میں بڑی آبی اسکیموں کے ذریعے دریائے جمنا اور دریائے کین کے سطحی پانی کی فراہمی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پائیداری کو مضبوط بنانے کیلئے ولیج واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹی کی باقاعدہ میٹنگیں، ضلعی سطح کے جائزے اور مختلف اسکیموں کے تحت تالاب، بندھ اور فارم پانڈ جیسے آبی تحفظ اقدامات انجام دیے جا رہے ہیں۔
پرویش کمار، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اسٹیٹ واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن، اتر پردیش نے بتایا کہ باندا ضلع کے کئی دیہات پہلے ہی ’’ہر گھر جل‘‘ سرٹیفکیشن حاصل کر چکے ہیں۔
انہوں نے آبی ذرائع کی پائیداری کے منصوبوں، دریاؤں کی بحالی کی کوششوں اور ریاست بھر میں پانی کی فراہمی کی حقیقی وقت نگرانی اور شکایات کے ازالے کیلئے ’’جل سارتھی‘‘ موبائل ایپلی کیشن کے آغاز کو بھی اجاگر کیا۔

اپنے اختتامی خطاب اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کمل کشور سوان، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، نیشنل جل جیون مشن نے جل جیون مشن 2.0 کے تحت کمیونٹی کی قیادت میں دیہی پینے کے پانی کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کیلئے گرام پنچایت نمائندوں، ضلعی انتظامیہ اور ریاستی حکومتوں کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے اس بات کی حوصلہ افزائی کی کہ ایسی بہترین مثالوں کو مزید وسعت دی جائے اور زیادہ سے زیادہ پنچایتوں کو اس مہم سے جوڑا جائے، تاکہ شفافیت، کمیونٹی شمولیت اور جوابدہی کے ایسے ماڈلز کو گرام پنچایت سطح پر بھی اپنایا جا سکے۔
سمواد کا آغاز ڈی سنتھل پانڈین، جوائنٹ سکریٹری، نیشنل جل جیون مشن کی جانب سے پس منظر اور مقاصد کی وضاحت کے ساتھ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس سمواد کا مقصد دیہی برادریوں کی بات سننا، ان کے تجربات کو سمجھنا اور آپریشن و دیکھ بھال نیز آبی ذرائع کی پائیداری سے متعلق مقامی طریقہ کار سے سیکھنا ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 7340)
(ریلیز آئی ڈی: 2263452)
وزیٹر کاؤنٹر : 12