سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امریکی سفیر سرگیو گور  نے ڈاکٹر جتیندر سنگھ  سے ملاقات کی، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا


بھارت اور امریکہ نے بایوٹیکنالوجی، کوانٹم اور خلائی شعبوں میں قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی تعاون کو وسعت دینے پر غور کیا

وزیر  موصوف نے کہا کہ بھارت میں پہلی بار  جوہری تحقیق کو نجی شعبے کے لیے کھول دیا گیا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے

ڈاکٹر  جتیندر سنگھ نے امریکی سرمایہ کاروں کے ساتھ باقاعدہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز پیش کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 MAY 2026 5:29PM by PIB Delhi

امریکی سفیر سرگیو گور  نے آج مرکزی وزیر ڈاکٹر  جتیندر سنگھ سے ملاقات کی اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر گفتگو کی، جن میں خصوصاً بایوٹیکنالوجی، کوانٹم ٹیکنالوجیز، خلائی شعبہ، ایٹمی توانائی اور نیوکلیئر میڈیسن میں  ہنر مندی ، سرمایہ کاری، علم کے تبادلے اور صنعت کی قیادت میں شراکت داری  شامل  ہیں  ۔

وزیر  موصوف نے کہا کہ بھارت میں پہلی بار جوہری تحقیق کو نجی شعبے کے لیے کھول دیا گیا ہے، جس سے سرمایہ کاری، نجی شعبے کی شمولیت اور کینسر  کے جدید  علاج، تشخیص، آنکولوجی ریسرچ اور جینیاتی طب میں بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کی  اہم  برتری اس کے وسیع اور متنوع جینیاتی ڈیٹا پول میں ہے، جہاں مختلف آبادیاتی گروہ ایک ساتھ موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہ بایوٹیکنالوجی، پریسیژن میڈیسن، اے آئی پر مبنی تشخیص اور مستقبل کے صحت کے نظام کے لیے عالمی تحقیق میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی پر مبنی تشخیص، سیکوینسنگ ٹیکنالوجیز اور تیز تر ٹیسٹنگ جیسے جدید آلات صحت کی خدمات کی فراہمی کے وقت کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں، جن میں وہ عمل بھی شامل ہیں  ، جو روایتی کلچر بیسڈ طریقوں میں تقریباً 48 گھنٹے لیتے ہیں۔

وزیر  موصوف نے تعاون اور مواقع کے چند قابلِ پیمائش نکات کا ذکر کیا: نیشنل کوانٹم مشن کے تحت کوانٹم کمپیوٹنگ، کمیونیکیشن، سینسنگ اور میٹرولوجی اور کوانٹم میٹریلز و ڈیوائسز کے چار موضوعاتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے آٹھ سالہ فریم ورک کے مقابلے میں تین سال میں مشن کے نصف سے زیادہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

بات چیت کی بنیاد امریکہ-بھارت ٹرسٹ  اقدام تھا، جو مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجیز، بایوٹیکنالوجی، توانائی، جدید مواد، اہم معدنیات اور خلائی ٹیکنالوجیز میں حکومتوں، تعلیمی اداروں، صنعت اور اسٹارٹ اپس کے درمیان تعاون کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی شراکت داری، مضبوط سپلائی چینز، جدت پر مبنی ایکو سسٹمز اور حساس ٹیکنالوجیز کے تحفظ پر زور بھارت-امریکہ سائنسی تعاون کے اگلے مرحلے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ پلیٹ فارمز جیسے آئی یو ایس ایس ٹی ایف ، یو ایس آئی ایس ٹی ای ایف  اور امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون کو اس عمل کے نفاذ کے ادارہ جاتی ذرائع کے طور پر شناخت کیا گیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اہم پالیسی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ   بھارت نے جوہری شعبے اور نیوکلیئر میڈیسن سے متعلق تحقیق اور سرمایہ کاری کو نجی شعبے کی شمولیت کے لیے کھول دیا ہے، تاہم اس میں حفاظتی اور سکیورٹی تقاضے برقرار رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ان شعبوں میں نجی سرمایہ کاری ممکن ہو سکے گی  ، جو پہلے زیادہ تر سرکاری شعبے تک محدود تھے اور اشارہ دیا کہ حتمی قواعد آئندہ چند ہفتوں میں جاری کیے جا سکتے ہیں۔

دونوں فریقین نے بایوٹیکنالوجی، ویکسین تعاون، ریگولیٹری ہم آہنگی، آنکولوجی ٹرائلز، سی اے آر – ٹی  تھراپی، اے آئی پر مبنی تشخیص اور بھارت کے متنوع جینیاتی ڈیٹا پول کے عالمی تحقیق میں استعمال پر بھی گفتگو کی۔ بایوٹیکنالوجی میں صنعت کے ساتھ تعاون کے لیے بی آئی آر اے سی  کو ایک رابطہ پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا، جب کہ نیوکلیئر میڈیسن کے لیے اسی طرز کا ایک سہولت کاری نظام بنانے کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔

سرمایہ کاری کے حوالے سے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن فنڈ کو ایک اہم حکومتی اقدام قرار دیا  ، جو نجی شعبے کو تحقیق و ترقی میں شامل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ فنڈ بنیادی طور پر نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیتا ہے اور تقریباً 2 سے 3 فی صد شرح سود پر طویل مدتی غیر محفوظ مالی معاونت فراہم کرتا ہے، جس سے صنعت تحقیق اور جدت میں برابر کی شراکت دار بن سکتی ہے۔

مرکزی وزیر نے یہ بھی تجویز دی کہ ایک باقاعدہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے  ، جو ممکنہ طور پر ہر ماہ ملاقات کرے، تاکہ امریکی سرمایہ کاروں، کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ سرمایہ کاری،  ہنر مندی ، علم کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی شراکت نہ صرف سرمایہ بلکہ تکنیکی مہارت، نجی شعبے کا تجربہ اور باہمی تعاون کی صلاحیت بھی بھارت کے ابھرتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی شعبوں میں لا سکتی ہے۔

اس دوران ، خلائی تعاون، اسٹار لنک، ملک میں کوانٹم انفراسٹرکچر، تھیوریم بیسڈ نیوکلیئر امکانات کے لیے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور بنگلورو میں آئندہ خلائی سرگرمیوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ پانچ سے چھ سالوں میں بھارت کی خلائی شعبے کو نجی شراکت کے لیے کھولنے کی پالیسی نے بڑی پیش رفت کی ہے، جس سے قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

 

 

..................................................... ...................................................

) ش ح –       ض ر     -  ع ا )

U.No. 7324


(ریلیز آئی ڈی: 2263373) وزیٹر کاؤنٹر : 14