زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان اور اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی نے بھونیشور میں مشرقی علاقائی زرعی کانفرنس کا افتتاح کیا
اڈیشہ میں علاقائی زرعی کانفرنس کے دوران مشترکہ ترقیاتی لائحہ عمل پر غور و خوض، مشرقی ہندوستان کا زرعی مستقبل مرکزِ توجہ
مشرقی ہندوستان ملک کی زرعی ترقی کا انجن بن سکتا ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان کا مربوط کاشتکاری، دالوں اور تلہن کی پیداوار اور پائیدار زراعت پر زور
"کھیت بچاؤ، مٹی بچاؤ، کسان بچاؤ"؛ جناب شیوراج سنگھ چوہان کی کھادوں کے متوازن استعمال اور مٹی کی صحت کے تحفظ کی اپیل
کسان شناختی کارڈ، سائنسی تحقیق اور خریداری کا مضبوط نظام زرعی انقلاب کے لیے ناگزیر: جناب شیوراج سنگھ چوہان
نقلی کھادیں، ناقص کیڑے مار ادویات اور غیر معیاری بیج کسانوں کے خلاف سنگین جرائم ہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی نے فصلوں کے تنوع، ملیٹس کی کاشت، نامیاتی کھیتی اور کسان دوست اقدامات پر روشنی ڈالی
مشرقی علاقائی زرعی کانفرنس میں کسانوں کی آمدنی، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحم کاشتکاری اور زرعی خود انحصاری پر توجہ مرکوز
جناب شیوراج سنگھ چوہان کی مشرقی ہندوستان میں کسانوں کی خوشحالی کے لیے متنوع اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق زراعت اپنانے کی اپیل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAY 2026 3:57PM by PIB Delhi
زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کےمرکزی وزیرجناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج بھونیشور کے مے فیئر کنونشن میں اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی کے ہمراہ مشرقی علاقائی زرعی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ اس کانفرنس میں اڈیشہ، بہار، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ مشرقی ہندوستان میں زراعت کی کایا پلٹ سے جڑے اہم امور پر غور و خوض کیا جا سکے۔

کانفرنس میں دالوں اور تلہن کی پیداوار میں اضافے، چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کے لیے مربوط کاشتکاری، قدرتی کھیتی، کسانوں کے اندراج (رجسٹری)، باغبانی، زرعی قرضوں، مارکیٹنگ کی اصلاحات، نقلی زرعی اشیاء کی روک تھام اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے سمیت وسیع پیمانے پرمتعدد امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ کانفرنس محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ مشرقی ہندوستان میں زراعت، کسانوں کے معاش اور علاقائی زرعی حکمتِ عملی کو ایک نئی سمت دینے کا ایک سنجیدہ پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاپربھو جگن ناتھ کی مقدس سرزمین پر جمع ہونے والی 'ٹیم زراعت' پورے مشرقی خطے میں کاشتکاری کے حالات کو بہتر بنانے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے عزم کے ساتھ متحد ہے۔

مشرقی ہندوستان کی زرخیز زمین، پانی کے وافر وسائل، متنوع موسمی حالات اور محنتی کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ خصوصیات مناسب اقدامات اور پالیسیوں کے ذریعے اس خطے کو ہندوستان کی زرعی ترقی کا انجن بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
کسانوں کو محض 'اَن داتا' (رزق دینے والا) ہی نہیں بلکہ 'جیون داتا' (زندگی دینے والا) قرار دیتے ہوئے، جناب چوہان نے کہا کہ کسانوں کی خدمت کرنا خدا کی عبادت کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ایک ترقی یافتہ، خود کفیل، خوشحال اور طاقتور ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے اور زراعت اس سفر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے کے لیے تین بڑی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا: 1.4 ارب شہریوں کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانا، غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا اور کسانوں کے لیے بہتر روزگار اور زیادہ آمدنی کا انتظام کرنا۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پیداوار میں اضافہ، کاشتکاری کے اخراجات میں کمی، منافع بخش قیمتوں کو یقینی بنانا، نقصانات کا ازالہ اور زراعت میں تنوع لانا آج کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ زراعت کو صرف دھان اور گندم تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اب دالوں، تلہن، پھلوں، سبزیوں اور دیگر زیادہ منافع بخش فصلوں پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے، بالخصوص جبکہ مشرقی ہندوستان ان شعبوں میں بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے۔
مشرقی ریاستوں میں زمین کے چھوٹے رقبوں کی حقیقت کا تذکرہ کرتے ہوئے، جناب چوہان نے کہا کہ مربوط کاشتکاری (انٹیگریٹڈ فارمنگ) کو محض نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اور زمینی سطح کا نمونہ بننا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی کاشت کے ساتھ باغبانی، ماہی پروری، مویشی پروری، شہد کی مکھیوں کی پرورش اور زراعتی شجرکاری کو یکجا کرنے سے چھوٹے کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے آئی سی اے آر ، ریاستوں کے وزرائے زراعت اور حکام پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مربوط کاشتکاری کے نمونوں کو کسانوں کے سامنے ایک متاثر کن اور عملی انداز میں پیش کیا جائے۔
پائیدار زراعت پر زور دیتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کھادوں کے متوازن استعمال کے ذریعے مٹی کی صحت کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ مٹی کی جانچ کے بغیر اندھا دھند کھادوں کا استعمال لاگت کو بڑھاتا ہے اور مٹی کی زرخیزی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ کسانوں کو صرف سائنسی ضروریات کے مطابق کھاد استعمال کرنے کی ترغیب دیں۔ قدرتی کھیتی کو وزیر اعظم کا ایک بڑا توجہ طلب شعبہ قرار دیتے ہوئے، انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی زمین کے کم از کم ایک حصے پر قدرتی کاشتکاری کے طریقے ضرور اپنائیں۔
جناب چوہان نے اعلان کیا کہ یکم جون سے ملک گیر سطح پر 'کھیت بچاؤ مہم' کا آغاز کیا جائے گا، جس میں کھادوں کے متوازن استعمال، مٹی کی صحت، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے، حکومتی اسکیموں کے بارے میں بیداری اور کسانوں کی تعلیم پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے رعایتی قیمتوں پر ملنے والی کھادوں کے غلط استعمال (کھیتی کے علاوہ دیگر کاموں میں منتقلی) کو روکنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ رعایتی نرخوں پر فراہم کی جانے والی ان اشیاء کو سختی سے صرف کاشتکاری کے مقاصد کے لیے ہی استعمال کیا جائے۔
نقلی کھادوں، غیر معیاری بیجوں اور نقلی کیڑے مار ادویات کو کسانوں کے خلاف سنگین جرائم قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کی جانب سے سخت قوانین اور مضبوط کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسانوں کو کاشتکاری کے اخراجات میں غیر ضروری اضافے کے بغیر معیاری زرعی اشیاء حاصل ہوں۔
دالوں اور تلہن کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے، جناب چوہان نے کہا کہ مشرقی ہندوستان ان شعبوں میں ملک کو خود انحصار بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان دالوں اور تلہن کی کاشت میں اسی وقت اضافہ کریں گے جب انہیں سرکاری خریداری (پروکیورمنٹ) کی مدد کا یقین دلایا جائے گا۔ اس سلسلے میں، انہوں نے پی ایم-آشا ، خریداری کے نظام، نیفیڈ، این سی سی ایف اور ریاستی ایجنسیوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مرکزی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئی سی اے آر ، کرشی وگیان کیندروں اور دیگر سائنسی اداروں کے ذریعے سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کو براہِ راست کسانوں تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ علاقائی ضروریات کے مطابق مہمات شروع کریں تاکہ تحقیق کے نتائج، جدید ٹیکنالوجیز اور اسکیموں سے متعلق معلومات کی کسانوں تک بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
جناب چوہان نے کسان شناختی کارڈ (فارمر آئی ڈی) کو کسانوں تک آسان، شفاف اور تیز ترین طریقے سے فوائد پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسان شناختی کارڈ کسانوں کی زمین، خاندان اور دیگر تفصیلات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے قرضوں، کھادوں اور حکومتی اسکیموں کے فوائد تک رسائی میں ہونے والی تاخیر اور مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔
انہوں نے باغبانی، آم جیسی زیادہ منافع بخش فصلوں، برآمدی صلاحیتوں، بیماریوں سے پاک پودوں کی فراہمی، نرسری کے نظام اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق زراعت کی اہمیت پر مزید زور دیا۔ ان کے مطابق، مشرقی ہندوستان میں کاشت کیے جانے والے پھل، سبزیاں اور خصوصی فصلیں نہ صرف ملکی منڈیوں میں بلکہ برآمدات میں بھی بہتر قیمتیں حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ جناب موہن چرن ماجھی نے کہا کہ مشرقی علاقائی زرعی کانفرنس مشرقی ریاستوں کو زراعت کے مستقبل کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے 'پُوروودیا' (مشرقی ہند کی ترقی) کے وژن کو تقویت ملے گی، جبکہ مشرقی ہندوستان میں زرعی پیداواری صلاحیت، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحم کاشتکاری اور ہمہ جہت زرعی ترقی کو ایک نئی رفتار حاصل ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اڈیشہ بنیادی طور پر ایک زرعی ریاست ہے جہاں زراعت معاش، غذائی تحفظ اور سماجی و اقتصادی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت بڑے اقدامات کے سلسلے کے ذریعے زراعت کو مزید جامع، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ اور کسان دوست بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
جناب ماجھی نے بتایا کہ اڈیشہ دالوں کی پیداوار، خوردنی تیل میں خود انحصاری، فصلوں کے تنوع اور کاشت کے دائرہ کار کو بڑھانے پر بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ دھان کی پیداوار اور سرکاری خریداری میں اضافے کے ساتھ ساتھ ذخیرہ کاری، نکاسی اور مارکیٹنگ سے جڑے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ سے پیداوار کی قدر میں اضافے (ویلیو ایڈیشن)، انتظام و انصرام اور مارکیٹ کے نظام کو بیک وقت مضبوط بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
اڈیشہ کے کسان دوست اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے دھان کی خریداری، امدادی اشیاء کی فراہمی، پی ایم-کسان کے ساتھ ساتھ سی ایم-کسان امداد، فصلوں کی انشورنس، زرعی مشینی کاری، کسان پیدا کار تنظیموں (ایف پی اوز) کی مضبوطی، کولڈ اسٹوریج کی توسیع اور زرعی صنعتوں کے فروغ کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کو پائیدار اور منافع بخش زراعت سے جوڑنے کے لیے پالیسی سپورٹ، بنیادی ڈھانچے، منظم مارکیٹنگ کے نظام اور کاروباری طرزِ فکر (انٹرپرینیورشپ) پر مبنی طریقوں کی ضرورت ہے۔
باجرے (ملٹس) کو ایک 'سپر فوڈ' قرار دیتے ہوئے، جناب ماجھی نے کہا کہ ان فصلوں کو کم پانی اور کم کھادوں کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ خاص طور پر قبائلی خطوں کے لیے بے حد فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے نامیاتی کھیتی (آرگینک فارمنگ)، روایتی فصلوں کی اقسام کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی بحالی اور زرعی سائنسدانوں کی جانب سے ان شعبوں پر زیادہ توجہ دیے جانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اڈیشہ کی ترجیحات میں کسان پیدا کار تنظیموں (ایف پی اوز)، کولڈ اسٹوریج کے بنیادی ڈھانچے، زرعی کاروباریت (ایگری انٹرپرینیورشپ)، کافی کی کاشت کو مضبوط بنانا اور مقامی زرعی مصنوعات کی بہتر مارکیٹنگ شامل ہے۔ ان کے مطابق، مشرقی ریاستوں کے درمیان بہترین طور طریقوں، اختراعات اور تجربات کا تبادلہ اس کانفرنس کے اہم ترین نتائج میں سے ایک ہوگا اور یہ زرعی خود انحصاری اور کسانوں کی خوشحالی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
اس موقع پر زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزرائے مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری اور جناب رام ناتھ ٹھاکر، اڈیشہ کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر زراعت جناب کنک وردھن سنگھ دیو، بہار کے وزیر زراعت جناب وجے کمار سنہا، چھتیس گڑھ کے وزیر زراعت جناب رام وچار نیتام، مغربی بنگال حکومت کے نمائندے و وزیر جناب اشوک کیرتنیا، مرکزی زرعی سیکرٹری جناب اتیش چندرا، آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مانگی لال جاٹ، مرکز اور شرکت کرنے والی ریاستوں کے اعلیٰ حکام، سائنسدان، کسانوں کے نمائندے، کرشی وگیان کیندر، کسان پیدا کار تنظیمیں (ایف پی اوز)، اسٹارٹ اپس، نابارڈ اور بینکنگ اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
****
ش ح-م م۔ا ک م
Uno- 7264
(ریلیز آئی ڈی: 2262840)
وزیٹر کاؤنٹر : 11