پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر بین وزارتی بریفنگ
ملک میں کھاد کا مجموعی ذخیرہ اطمینان بخش سطح پر ہے اور اہم کھاد کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے
تقریباً13.5 لاکھ میٹرک ٹن ڈی اے پی اور 7 لاکھ میٹرک ٹن این پی کے کھاد آبنائے ہرمز کے راستے حاصل کر کے مئی اور جون میں بھارتی بندرگاہوں پر پہنچنے کے لیے محفوظ کر لی گئی ہے
صنعت کی سطح پر کَل آن لائن ایل پی جی سلنڈر بکنگ تقریباً99 فیصد تک پہنچ گئی
گزشتہ چار دنوں کے دوران تقریباً1.90 لاکھ پانچ کلوگرام کے ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے
تقریباً7.37 لاکھ پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) کنکشنز کو گیس فراہم کی جا چکی ہے، مزید2.76 لاکھ کنکشنز کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے اور مارچ 2026 سے اب تک 7.76 لاکھ نئے صارفین کا اندراج کیاجاچکا ہے
اب تک 3,217 سے زیادہ بھارتی بحری اہلکاروں کو بحفاظت وطن واپس لایا جا چکا ہے، جن میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران مختلف خلیجی علاقوں سے 61 اہلکار وں کی واپسی بھی شامل ہیں
حکومت خلیجی خطے میں موجود بھارتی بحری اہلکاروں کی فلاح و بہبود کو انتہائی ترجیح دے رہی ہے،بھارتی مشنز مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے قونصلر مدد فراہم کر رہے ہیں اور وطن واپسی کی درخواستوں میں معاونت کر رہے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAY 2026 5:52PM by PIB Delhi
مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بھارتی حکومت شہریوں کو باقاعدہ اپ ڈیٹس کے ذریعے مسلسل آگاہ رکھنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی سلسلے میں آج قومی میڈیا سینٹر میں ایک میڈیا بریفنگ منعقد ہوئی، جس میں پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت ، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت اور وزارتِ خارجہ کے افسران نے ایندھن کی دستیابی، بحری کارروائیوں اور اہم شعبوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ کیمیکل و کھاد کی وزارت نے بھی ملک میں کھادوں کی دستیابی اور موجودہ ذخیرہ جاتی صورتحال سے متعلق اپ ڈیٹس مشترک کیں۔
کھاد اسٹاک کی پوزیشن اور دستیابی
- ملک میں کھادوں کا مجموعی ذخیرہ تسلی بخش سطح پر ہے۔
- خریف 2026 کے لیے کھادوں کی ضرورت کا تخمینہ ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو کی جانب سے 390.54 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں فی الوقت موجود اسٹاک تقریباً 200.98 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جو 51 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ عام طور پر یہ سطح تقریباً 33 فیصد ہوتی ہے۔یہ صورتحال حکومت کی بہتر منصوبہ بندی، پیشگی ذخیرہ کرنے اور مؤثر لاجسٹکس انتظامات کی عکاسی کرتی ہے۔
- اہم کھادوں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
- بحران کے بعد کھادوں کی ملکی پیداوار اور درآمدات (لاکھ ٹن)
|
پروڈکٹ
|
بحران کے بعد ملکی پیداوار
|
بحران کے بعد ہندوستانی بندرگاہوں پر درآمدات پہنچ گئیں
|
|
یوریا
|
52.1
|
13.29
|
|
ڈی اے پی
|
7.03
|
0.88
|
|
این پی کیز
|
17.33
|
4.09
|
|
ایس ایس پی
|
9.76
|
0
|
|
ایم او پی
|
0
|
3.49
|
|
کل
|
86.2
|
21.8
|
- بحران کے بعد کھادوں کی ملکی پیداوار 86.2 لاکھ میٹرک ٹن رہی ہے، جبکہ گزشتہ برس اسی مدت کے دوران یہ 93 لاکھ میٹرک ٹن تھی۔ بحران کی صورتحال کے بعد مجموعی طور پر تقریباً 108 لاکھ میٹرک ٹن کھاد دستیابی میں شامل کی گئی ہے۔
- بھارت نے آبنائے ہرمز (ایس او ایچ ) کے باہر سے تقریباً 13.5 لاکھ میٹرک ٹن ڈی اے پی اور 7 لاکھ میٹرک ٹن این پی کیز کھاد محفوظ کر لی ہے، جو مئی اور جون میں بھارتی بندرگاہوں پر پہنچے گی۔
- ٹی ایس پی اور امونیم سلفیٹ کی عالمی ٹینڈرنگ کے لیے بھارتی کھاد کمپنیوں نے مجموعی طور پر 4 لاکھ میٹرک ٹن ٹی ایس پی اور 3 لاکھ میٹرک ٹن امونیم سلفیٹ کی خریداری کے لیے عالمی ٹینڈر جاری کیا ہے، جو فی الحال زیرعمل ہے۔ یہ اقدامات عروج کے سیزن کے دوران کھادوں کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
- امونیا اور سلفر کی خریداری کے لیے بھارتی کھاد کمپنیوں نے مجموعی طور پر عالمی ٹینڈر جاری کیا ہے، جس کے تحت 5.36 لاکھ میٹرک ٹن امونیا اور 5.94 لاکھ میٹرک ٹن سلفر کی خریداری کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات عروج کے سیزن کے دوران کھادوں کی مناسب اور مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
- کھادوں کی پیداوار کے لیے درکار بنیادی خام مال، یعنی یوریا اور پی اینڈ کے کھادوں کے لیے استعمال ہونے والے ان پٹ کی دستیابی کا کھاد کے محکمہ کی جانب سے باقاعدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
- کھاد کے محکمہ (ڈی او ایف ) کی جانب سے کمپنیوں کے ذریعے جمع کرائے گئے تمام سبسڈی بلوں کی ادائیگی باقاعدگی سے ہفتہ وار بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔
- ایگریکلچر پر اسٹیئرنگ گروپ(ای جی او ایس) کے اب تک 9 اجلاس منعقد کئے جاچکے ہیں تاکہ کھادوں کی مناسب دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان اجلاسوں کے ذریعے کھادوں کی دستیابی سے متعلق بیشتر چیلنجز کو بھی حل کیا گیا ہے۔
- بھارت کی کھادوں کی سلامتی مضبوط، مستحکم اور مؤثر انتظام کے تحت برقرار ہے اور تمام اہم کھادوں کی دستیابی مسلسل ضرورت سے زیادہ ہے۔
قدرتی گیس کی فراہمی اور پی این جی کی توسیعی اقدامات
کمرشل ایل پی جی کی فراہمی اور الاٹمنٹ کے اقدامات:
کمرشل ایل پی جی کی مجموعی الاٹمنٹ کو بحران سے پہلے کی سطح کے تقریباً70 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، جس میں 10 فیصد اصلاحات سے منسلک الاٹمنٹ بھی شامل ہے۔ گزشتہ 4 دنوں کے دوران تقریباً 1.90 لاکھ پانچ کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے۔ 3 اپریل 2026 سے اب تک پی ایس یو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز کے حوالے سے تقریباً 13,800 بیداری سے متعلق کیمپس منعقد کیے ہیں، جن میں2.22 لاکھ سے زائد 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر بھی فروخت کیے گئے ہیں۔ گزشتہ روز تقریباً 95 کیمپس کے ذریعے 2,229 پانچ کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے۔ آئی او سی ایل، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز پر مشتمل تین رکنی کمیٹی، ریاستی حکام اور صنعتی اداروں سے مشاورت کے بعد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کمرشل ایل پی جی کی فروخت کا منصوبہ تیار کرتی ہے۔ مئی 2026 سے اب تک مجموعی طور پر 1,08,753 میٹرک ٹن کمرشل ایل پی جی فروخت کی جا چکی ہے۔ گزشتہ 4 دنوں کے دوران مجموعی طور پر 25,204 میٹرک ٹن کمرشل ایل پی جی فروخت کی گئی ہے۔ اسی مدت میں پی ایس یو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے تقریباً 888 میٹرک ٹن آٹو ایل پی جی بھی فروخت کیا گیا ہے۔
ایل پی جی کی فراہمی
گھریلو ایل پی جی کی فراہمی کی صورتحال:
ایل پی جی کی فراہمی موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث متاثر ہو رہی ہے۔ گھریلو صارفین کو ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایل پی جی تقسیم کار مراکز پر کسی قسم کی قلت یا سپلائی کے بند ہونے (ڈرائی آؤٹ) کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ گزشتہ روز صنعت کی سطح پر آن لائن ایل پی جی سلنڈر بکنگ تقریباً 99 فیصد تک بڑھ گئی۔ ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (ڈی اے سی ) پر مبنی ترسیلات بڑھ کر تقریباً 95 فیصد تک پہنچ گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ انحراف یا غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ یہ کوڈ صارف کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر موصول ہوتا ہے۔ گزشتہ 4 دنوں کے دوران تقریباً 1.72 کروڑ ایل پی جی سلنڈرز کی ترسیل کی گئی، جبکہ اسی مدت میں تقریباً 1.69 کروڑ سلنڈرز کی بکنگ ہوئی۔
نفاذ اور نگرانی سے متعلق اقدامات
ملک بھر میں ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے نفاذسے متعلق کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ 4 دنوں کے دوران پورے ملک میں 6,950 سے زیادہ جگہوں پر چھاپے مارے گئے۔ پی ایس یو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے افسران نے اسی مدت کے دوران تقریباً 2,800 ریٹیل آؤٹ لیٹس (آر اوز) اور ایل پی جی تقسیم کار مراکز پر اچانک معائنہ کیا، تاکہ رسد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی یا بلیک مارکیٹنگ کی نشاندہی کی جا سکے۔ پی ایس یو او ایم سیز نے اپنے اچانک معائنوں کو مزید مؤثر بنایا ہے اور 428 ایل پی جی تقسیم کار مراکز پر جرمانے عائد کیے ہیں، جبکہ 80 مراکز کو گزشتہ روز تک معطل بھی کیا جا چکا ہے۔ روزانہ پریس بریفنگز جاری کرنے اور باقاعدہ عوامی مشورے و ہدایات جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی گمرہ کن خبروں اور غلط معلومات کی فعال نگرانی اور مؤثر تردید کرنے پر زور دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر نفاذی کارروائیوں کو تیز کرنے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ مل کر چھاپوں اور معائنوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی تاکید کی گئی۔ پی این جی کے استعمال کو فروغ دینے اور متبادل ایندھن اپنانے کی ترغیب دی گئی۔ ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دینے، خصوصاً گھریلو ضروریات کے لیے اور 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈروں کی ہدفی تقسیم کے ذریعے رسد کے استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مربوط کوششیں اور ادارہ جاتی نظام
ریاستی حکومتوں کو ضروری اشیاء ایکٹ 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر 2000 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ رسد کی نگرانی کریں اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کریں۔ ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سمیت ضروری اشیاء کی رسد کی صورتحال کی نگرانی اور ضابطہ بندی میں بنیادی رول ادا کرنا ہوتا ہے۔ بھارتی حکومت نے متعدد خطوط اور ویڈیو کانفرنسوں کے ذریعے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس اقدام کی دوبارہ تاکید کی ہے۔ بھارتی حکومت نے27 مارچ2026 اور 02 اپریل 2026کے خطوط کے ذریعے اس بات پر زور دیا ہے کہ شہریوں کو مناسب ایندھن کی دستیابی کے بارے میں بھروسہ دلانے کے لیے فعال اور بروقت عوامی رابطہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں 02 اپریل 2026 کو منعقد اجلاس میں (جس کی صدارت سیکریٹری، پٹرولیم و قدرتی گیس نے کی) اور06 اپریل 2026 کو منعقد اجلاس میں (جس کی صدارت سیکرٹری، پٹرولیم و قدرتی گیس اور اطلاعات و نشریات اور صارفین کے امور کے سیکرٹریوں کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی) ، جن میں درج ذیل نکات پر زور دیا گیا:
حکومت کی تیاری اور رسد کے انتظامی اقدامات
موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باوجود حکومت نے گھریلو ایل پی جی، گھریلو پی این جی اور سی این جی (ٹرانسپورٹ) کی 100 فیصد فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ کمرشل ایل پی جی کے معاملے میں اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دواسازی، فولاد، آٹوموبائل، بیج، زراعت اور دیگر اہم شعبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر رسد فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ مائگرینٹ مزدوروں کے لیے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز کی فراہمی کو 2 اور 3 مارچ 2026 کی اوسط روزانہ سپلائی کے مقابلے میں دوگنا کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے مانگ اور رسد دونوں جانب متعدد اصلاحی اقدامات نافذ کیے ہیں، جن میں ریفائنری پیداوار میں اضافہ، شہری علاقوں میں بکنگ وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک کرنا اور مختلف شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر سپلائی دینا شامل ہے۔
توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی
پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت نے موجودہ ایندھن کی فراہمی کی صورتحال سے متعلق تازہ معلومات فراہم کی ہیں اور اس اقدامات پر روشنی ڈالی کہ مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ:
عوامی ایڈوائزری اور شہری آگاہی
شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی غیر ضروری ذخیرہ اندوزی یا گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں، کیونکہ حکومت پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔ ایل پی جی صارفین سے درخواست ہے کہ وہ ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارمز کااستعمال کریں اور تقسیم کار مراکز پر غیر ضروری طور پر نہ جائیں۔ شہریوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ متبادل ایندھن جیسے پی این جی، بجلی یا انڈکشن چولہوں بھی کا استعمال کریں۔ تمام شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں روزمرہ استعمال میں توانائی کی بچت کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں۔
***
ش ح۔ش م۔ش ت
U: 7215
(ریلیز آئی ڈی: 2262469)
وزیٹر کاؤنٹر : 11