امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی جناب امت شاہ نے چھتیس گڑھ کے بستر میں ’’شہید ویر گونڈادھور سیوا ڈیرہ جن سہولت مرکز‘‘ کا افتتاح کیا


شہید ویر گونڈادھور کی جائے پیدائش بستر کے نتانار گاؤں کو ایک مقدس زیارت گاہ کی حیثیت حاصل ہے، نکسلیوں کے خاتمے کے بعد یہاں عام خدمت کےایک مرکز (سی ایس سی) کے قیام کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے

بستر کی اسی سرزمین پر جہاں کبھی نکسلیوں نے چھ پولیس اہلکاروں کو بے رحمی سے شہید کیا تھا، آج قبائلی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک عوامی خدمت کے مرکز طور پر تعمیر کیا جا رہا ہے

نکسل  کے خاتمے کا مقصد صرف نکسلیوں کا صفایا کرنا نہیں، بلکہ محروم قبائلی افراد  تک فلاحی خدمات اور بنیادی عوامی سہولیات کی فراہم کرنا بھی ہے

حالانکہ  ملک کے باقی حصے نے 1947 میں آزادی حاصل کی تھی، لیکن بستر میں حقیقی آزادی کی صبح 31 مارچ 2026 کے بعد ہوئی ہے

چھتیس گڑھ میں نکسل ازم کے خاتمے کے بعد قبائلی خواتین اس خطے کی ترقی کی قیادت سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں

ہماری حکومت آئندہ پانچ برسوں میں نکسل ازم کے باعث ہونے والی دہائیوں پر محیط تباہی اور نقصان کی تلافی اور ازالے کے تئیں  پرعزم ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAY 2026 5:03PM by PIB Delhi

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے آج چھتیس گڑھ کے بستر ڈویژن میں ’’شہید ویر گونڈادھور سیوا ڈیرہ جن سہولت مرکز‘‘ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ جناب وشنو دیو سائی، نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے شرما، مرکزی داخلہ سیکریٹری جناب گووند موہن، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جناب تاپن ڈیکا اور دیگر کئی معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ایک نہایت تاریخی دن ہے۔ شہید ویر گونڈادھور کی یہ جائے پیدائش  ہر بھارتی شہری کے لیے خود ایک مقدس مقام  کی حیثیت رکھتی ہے۔ 1910 میں ہمارے بہادر قبائلی رہنما نے ’’بھومکل بغاوت‘‘ کے ذریعے آزادی کی جدوجہد کا آغاز کیا تھا اور شہید ویر گونڈادھور نے بستر کے قبائلیوں کو غیر ملکی تسلط کے خلاف منظم کر کے ان کی قیادت کی تھی۔ وزیر موصوف  نے کہا کہ ان ہی سے تحریک  حاصل کرتے ہوئے نتانار کیمپ،جو 2013 سے ایک سیکورٹی کیمپ کے طور پر قائم تھا،اب ایک خدمت کیمپ میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو قبائلی عوام کی خدمت انجام دے گا۔ چھتیس گڑھ حکومت نے بھی اس خدمت کیمپ کو شہید ویر گونڈادھور کے نام سے منسوب کیا ہے۔ داخلی امور کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ کیمپ ہمیشہ اس بات کی یاد دہانی کراتا رہے گا کہ کبھی یہاں چھ پولیس اہلکاروں کو بے رحمی سے شہید کیا گیا تھا، اسکول اور اسپتال جلا دیے گئے تھے، راشن کی فراہمی روک دی گئی تھی، اور عوام کو روزگار و تعلیم سے محروم رکھا گیا تھا۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ آج اسی مقام پر، جہاں ہمارے چھ جوانوں نے شہادت دی تھی، غریب قبائلیوں کی خدمت کے لیے ایک مقدس مقام  کی طرز پر مرکز قائم کرنے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ جب ہم نے نکسل ازم  کے خاتمے کا عزم کیا تھا تو ہمارا مقصد صرف نکسلیوں کا خاتمہ نہیں تھا، بلکہ یہ بھی تھا کہ اس خطے کے غریب قبائلیوں تک وہ تمام سہولیات پہنچیں جو بڑے شہروں میں دستیاب ہیں، تاکہ ان کے بچوں کا مستقبل بھی روشن ہو سکے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ’’ نِیاد نیلّانار‘‘  اسکیم کے ذریعے چھتیس گڑھ حکومت ہر گاؤں میں سستے راشن کی دکانیں کھول رہی ہے، ہر گاؤں میں ابتدائی اسکول قائم کیے جا رہے ہیں اور گاؤں کے درمیان کلسٹر پی ایس سی اور سی ایس سی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ اب ہر غریب کنبے کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کا کام جاری ہے، آدھار کارڈ بنائے جا رہے ہیں اور راشن کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں۔ ہر فرد کو ماہانہ 7 کلو چاول فراہم کیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے 5 لاکھ روپے تک مفت علاج کی اسکیم بھی یہاں پہنچ چکی ہے۔

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ نکسلیوں نے دہائیوں تک یہ غلط تاثر پھیلایا کہ ‘‘ہمارا علاقہ ترقی نہیں کر سکا، اس لیے ہم نے ہتھیار اٹھائے’’۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطہ اسی لیے ترقی سے محروم رہا کیونکہ نکسلیوں نے خود ہتھیار اٹھا کر ترقی کے عمل کو روک دیا تھا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ایک سال کے اندر ہم رائے پور میں ہونے والے تمام ترقیاتی کام آپ کے گاؤں تک پہنچا دیں گے۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ جس طرح بڑے شہروں کے لوگوں کو سرکاری سہولیات کا حق حاصل ہے، اسی طرح آپ کا بھی ان تمام سہولیات پر برابر کا حق ہے۔ جناب شاہ  نے کہا کہ یہ آپ کی اپنی حکومت ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کی زندگیوں میں خوشیاں اور بہتری لائے۔

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ فی الوقت بستر میں تقریباً 200 کیمپ موجود ہیں اور ان میں سے 70 کیمپوں کو آئندہ ڈیڑھ سال کے اندر اس نوعیت کے خدمت مراکز (سیوا مرکز) میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ انہیں قبائلی فلاح و بہبود کے مراکز بنایا جاسکے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ان کیمپوں کا مکمل نقشہ تیار کیا جائے گا۔ یہاں بینکنگ کی سہولیات بھی دستیاب ہوں گی، آدھار کارڈ بنائے جائیں گے، راشن کارڈ جاری کیے جائیں گے اور سرکاری اسکیموں کے تحت رقوم کی تقسیم بھی ان ہی مراکز سے کی جائے گی۔ ریاستی اور مرکزی حکومت کی مجموعی371 اسکیموں کے فوائد ایک ہی جگہ پر عام خدمت مرکز (سی ایس سی) کے ذریعے عوام کو فراہم کیے جائیں گے۔

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بھی یہ بات کہی ہے کہ یہ سمجھ کر اطمینان سے نہیں بیٹھنا چاہیے کہ نکسل ازم  ختم ہو گیا ہے۔ نکسل ازم  کو حقیقی معنوں میں اسی وقت ختم سمجھا جائے گا جب ہم آئندہ پانچ برسوں میں اس کے باعث ہونے والے نقصان کی بھرپائی کر دیں گے اور ان تمام گاؤوں کو ایک متحرک، باحیات اور ترقی یافتہ قبائلی گاؤں میں تبدیل کر دیں گے۔ وزیر موصوف  نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت قبائلیوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ‘‘بستر اولمپکس’’  کا آغاز کیا گیا ہے۔ اسی طرح قبائلی ادب، زبان، موسیقی، فنون، رقص اور متنوع کھانوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور انہیں پہچان دلانے کے لیے ’’بستر پانڈم‘‘ کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔

داخلی امور اور امداد باہمی  کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ وہی دن ہونا چاہیے جس کے لیے شہید ویر گونڈادھور نے آزادی کی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کو 1947 میں آزادی ملی تھی، تو ہمارے بستر میں آزادی کا سورج 31 مارچ 2026 کے بعد طلوع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاخیر اور اس سے ہونے والے نقصانات کی تلافی ہم بہت جلد مکمل کریں گے اور بھارت سرکار اور چھتیس گڑھ حکومت اس خطے کے لوگوں کی ترقی کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی، کبھی ترقی کو روکنے یا اس میں رکاوٹ ڈالنے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ جب ہم ترقی کو رفتار دیتے ہیں تو تبھی اس کے حقیقی فوائد عوام تک پہنچتے ہیں۔

 

***

ش ح۔ش م۔ش ت

U: 7210


(ریلیز آئی ڈی: 2262424) وزیٹر کاؤنٹر : 15