تعاون کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 “ کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیوں کے انتخابات میں شفافیت اور پاکیزگی” کے موضوع پر نئی دہلی میں قومی سیمینار منعقد کیاگیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں اور داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کی رہنمائی میں امداد باہمی شعبے میں اصلاحات “سہکار سے سمردھی” کے وژن کو آگے بڑھا رہی ہیں

امداد باہمی سے  متعلق انتخابی اتھارٹی اب تک تقریباً240 انتخابات منعقد کر چکی ہے، امداد باہمی اداروں میں جمہوری حکمرانی کو مضبوطی حاصل  ہو رہی ہے

توقع ہے کہ امداد باہمی سے متعلق اتھارٹی آئندہ سال مزید تقریباً130 انتخابات منعقد کرے گی،جبکہ فی الحال تقریباً70 انتخابات کاعمل جاری ہے

خواتین اور ایس سی/ایس ٹی اراکین کے لیے ریزرویشن کوآپریٹو گورننس میں شمولیت اور تنوع کو مضبوط کرنا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 MAR 2026 8:04PM by PIB Delhi

امداد باہمی کی وزارت کے تحت امداد باہمی سے متعلق  انتخابی اتھارٹی (سی ای اے ) کی جانب سے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں “کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیوں کے انتخابات میں شفافیت اور پاکیزگی” کے موضوع پر ایک قومی سیمینار منعقد کیا گیا۔ مذکورہ سیمینار میں مختلف متعلقہ فریقین نے شرکت کی، جن میں کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیوں کے چیئرمین، چیف ایگزیکٹیو افسران اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان، ریٹرننگ افسران، ضلعی مجسٹریٹ، ریاستی امداد باہمی انتخابی اتھارٹیز کے چیئرمین، امداد باہمی شعبے کے ماہرین اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران شامل تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امداد باہمی کے وزیر مملکت جناب کرشن پال گرجر نے کہا کہ امداد باہمی انتخابی اتھارٹی کی جانب سے منعقد کیا گیا یہ پروگرام تاریخی نوعیت کا حامل ہے اور امداد باہمی تحریک کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیر موصوف  کہا کہ پہلی مرتبہ ملک بھر کی کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیوں کے نمائندے ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا ہوئے ہیں تاکہ امداد باہمی انتخابات میں شفافیت اور دیانت داری کو مزید مضبوط بنانے پر غور و خوض کیا جا سکے۔ جناب کرشن پال گرجر نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے “سہکار سے سمردھی” کے وژن اور داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی جناب امت شاہ کی قیادت میں بھارتی حکومت مسلسل امداد باہمی نظام کو مضبوط بنانے اور اس کی پائیدار ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے، تاکہ 2047 تک ایک خود کفیل اور ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کے حصول میں امداد باہمی ادارے مؤثر رول ادا کر سکیں۔

امداد باہمی کے وزیر مملکت جناب کرشن پال گرجر  نے اس بات پر زور دیا کہ کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیز (ترمیمی) ایکٹ 2023 کے ذریعے کئی اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد امداد باہمی اداروں کو زیادہ شفاف، جواب دہ اور جمہوری بنانا ہے۔ وزیر موصوف  کہا کہ اس ترمیم شدہ قانون کے تحت سب سے اہم اصلاحات میں ایک خودمختار امداد باہمی انتخابی اتھارٹی کا قیام شامل ہے، جسے11 مارچ 2024 کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ اس ادارے کو کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیوں میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ جناب کرشن پال گرجر نے  مزید کہا کہ ایک اور اہم اصلاح امداد باہمی سوسائٹیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مدتِ کار مقرر کرنا ہے اور اس شق کو ختم کرنا ہے جس کے تحت انتخابات کے انعقاد تک بورڈ غیر معینہ مدت تک کام جاری رکھ سکتا ہے۔ اس تبدیلی سے حکمرانی کے نظام میں نظم و ضبط پیدا ہوا ہے اور انتخابات میں تاخیر کے امکانات کم ہوئے ہیں۔

جناب کرشن پال گرجر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اصلاحات کا مقصد امداد باہمی اداروں کے اندر جمہوری طرزِ حکمرانی اور جواب دہی کو مضبوط بنانا ہے۔ وزیر موصوف  نے بتایا کہ امداد باہمی انتخابی اتھارٹی اب تک تقریباً 240 انتخابات کامیابی سے منعقد کر چکی ہے، جبکہ فی الحال تقریباً 70 انتخابات کاعمل جاری ہے اور توقع ہے کہ آئندہ مالی سال میں مزید تقریباً 130 انتخابات منعقد کیےجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم شدہ قانون کے تحت کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیوں کے بورڈز میں خواتین کے لیے دو نشستیں اور درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے ایک ایک نشست مختص کی گئی ہے، تاکہ امداد باہمی نظم و نسق میں زیادہ شمولیت اور تنوع کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر موصوف  نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اب تک ہونے والے انتخابات میں خواتین کے لیے مختص چھ نشستیں اور درج فہرست ذات و قبائل کے لیے مختص 13 نشستیں خالی رہ گئی ہیں اور امداد باہمی  کی وزارت  ان نشستوں کو پُر کرنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

امداد باہمی کے وزیر مملکت نے مزید کہا کہ بینکاری ضابطہ (ترمیمی) ایکٹ 2025 نے امداد باہمی سے متعلق بینکوں، بشمول کثیر ریاستی امداد باہمی بینکوں کے بورڈز کی مدتِ کار کو آئین کے آرٹیکل 243زیڈ جے کی دفعات کے مطابق ہم آہنگ کر دیا ہے، جس سے امداد باہمی  سے متعلق بینکاری شعبے میں جمہوری طرزِ حکمرانی مزید مضبوط ہوئی ہے۔ وزیر موصوف نے یہ بھی بتایا کہ کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیز (ترمیمی) ایکٹ 2023 کے تحت امداد باہمی  سے متعلق بینکوں میں شفافیت اور جواب دہی کو بڑھانے کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ ایسے بینک مرکزی رجسٹرار آف کوآپریٹو سوسائٹیز کی منظور شدہ فہرست سے آڈیٹرز کا تقرر کریں۔ اس کے علاوہ بینکاری ضابطہ ایکٹ 1949 میں کی گئی ترامیم کے مطابق کثیر ریاستی امداد باہمی  سے متعلق بینکوں کے ڈائریکٹرز مسلسل دس سال سے زیادہ عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے، جس سے امداد باہمی اداروں میں نئی اور نوجوان قیادت کے لیے مواقع پیدا ہوں گے۔

جناب کرشن پال گرجر نے مزید کہا کہ امداد باہمی سوسائٹیاں امداد باہمی اصولوں پر قائم ہوتی ہیں، جو امداد باہمی تحریک کی ترقی اور مضبوطی کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ یہ اصول اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اراکین منصفانہ طور پر اپنا رول ادا کریں  اور امداد باہمی اداروں کے سرمائے اور انتظامی امور پر جمہوری کنٹرول رکھیں، جس سے وہ پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں فعال طور پر شریک ہوسکیں۔ عوام کے اعتماد کو امداد باہمی نظام میں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ امداد باہمی سوسائٹیوں کو شفاف اور جواب دہ انتظامی ڈھانچے تشکیل دینے چاہئیں۔ جناب کرشن پال گرجر  نے کہا کہ بھرتیوں اور مصنوعات و خدمات کی خریداری کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام ناگزیر ہے تاکہ ت امداد باہمی ادارے پیشہ ورانہ انداز میں منظم ہو سکیں اور ایک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کے حصول میں مؤثر رول ادا کر سکیں۔

امداد باہمی کے وزیر مملکت جناب کرشن پال گرجر  نے یہ بھی بتایا کہ کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیز ایکٹ 2002 میں ترامیم کے بعد حکومت نے 5 مارچ 2024 کو گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ایک امداد باہمی محتسب (کوآپریٹو اومبڈسمین) کے تقرر کا اعلان کیا، تاکہ امداد باہمی سوسائٹیوں کے اراکین کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ وزیر موصوف  نے کہا کہ یہ محتسب اراکین کی جانب سے دائر شکایات کی جانچ کرتا ہے اور ساتھ ہی امداد باہمی سوسائٹیوں کے امداد باہمی اطلاعاتی افسران کے احکامات کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 38 ہزار سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک کثیر  تعداد کو امداد باہمی محتسب کے احکامات کے ذریعے حل کیا جا چکا ہے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے امداد باہمی انتخابی اتھارٹی کے چیئرمین جناب دیویندر کمار سنگھ نے کہا کہ اتھارٹی اب اپنے کام کے تیسرے سال میں داخل ہو رہی ہے اور اس دوران اس نے مختلف امداد باہمی اداروں میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے قیمتی تجربہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امداد باہمی سوسائٹیاں جمہوری رکنیت کے کنٹرول کے اصول پر کام کرتی ہیں، اس لیے انتخابی عمل کا شفاف، شمولیتی اور قابلِ اعتماد ہونا نہایت ضروری ہے۔

چیئرمین موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ امداد باہمی سوسائٹیوں کے قواعد و ضوابط میں وضاحت کا ہونا انتخابات کے دوران تنازعات سے بچنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کے حقوق، فعال رکنیت اور انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت جیسے امور کی واضح تعریف کی جانی چاہیے تاکہ انتخابی عمل منصفانہ رہے اور کسی قسم کی ابہام پیدا نہ ہو۔ چیئر مین موصوف  نے مزید کہا کہ بڑی کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیاں جو متعدد ریاستوں اور اضلاع میں کام کرتی ہیں، ان کے بورڈ میں نمائندگی ایسی ہونی چاہیے جو اراکین کے تنوع کی عکاسی کرے اور واقعی طور پر ان کے مفادات کی نمائندہ ہو۔

اس سے قبل دن میں دو تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے ، جن کے موضوعات ’’انتخابات کے ذریعے شفافیت کو فروغ دینا‘‘ اور ’’انتخابی عمل میں پاکیزگی اور دیانت داری کو مضبوط بنانا‘‘ تھے۔ ان اجلاس میں متعلقہ فریقین نے بھرپور شرکت کی اور امداد باہمی انتخابات کے انتظامی امور سے متعلق مختلف پہلوؤں پر مفید اور بامقصد غور و خوض کیا۔

یہ سیمینار اس اجتماعی عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ امداد باہمی انتخابات میں شفافیت، منصفانہ عمل اور جمہوری شمولیت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، تاکہ امداد باہمی تحریک کو بھارت کی سماجی و معاشی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر مزید مستحکم کیا جا سکے اور حکومت کے ’’سہکار سے سمردھی‘‘اور 2047 تک ’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کو آگے بڑھایا جا سکے۔

************

ش ح۔ش م۔ش ت

 (U: 7199)      


(ریلیز آئی ڈی: 2262348) وزیٹر کاؤنٹر : 4