وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم کا یورپی صنعتی گول میز کانفرنس سے خطاب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAY 2026 5:00AM by PIB Delhi

عزت مآب وزیر اعظم کرسٹرسن،

عزت مآب محترمہ اُرسولا جی،

شاہی خاندان کے معزز رکن،

ولوو گروپ کے صدر اورسی ای او،

یورپی راؤنڈ ٹیبل کے سربراہ،

یہاں موجود یورپ کے ممتاز کاروباری رہنما،

خواتین و حضرات،

نمسکار!

سب سے پہلے میں وزیر اعظم کرسٹرسن کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس  گول میز اجلاس میں مدعو کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ نشست “گوتھنبرگ” میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جو جدّت طرازی کے ساتھ ساتھ یورپ کی صنعتی اور مینوفیکچرنگ روح کی ایک زندہ علامت بھی ہے۔

ساتھیو،

یورپی راؤنڈ ٹیبل فار انڈسٹری جیسے باوقار پلیٹ فارم سے خطاب کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

آپ میں سے بعض دوستوں سے میری پہلے بھی ملاقات ہو چکی ہے، جبکہ کچھ سے آج پہلی بار ملاقات ہو رہی ہے۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ آپ سب کسی نہ کسی صورت میں بھارت سے جڑے ہوئے ہیں۔

کسی کی مینوفیکچرنگ بھارت میں ہے، کسی کی تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) بھارت میں ہو رہی ہے، کسی کا ٹیلنٹ بیس بھارت میں موجود ہے، کسی کی سپلائی چین بھارت سے وابستہ ہے اور کوئی بھارت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ آج کی یہ نشست اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع ہے۔

ساتھیو،

آج بھارت اور یورپ کے تعلقات ایک نئے موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ حکومتی سطح پر ہم نے ایک پرعزم اور اسٹریٹجک ایجنڈا طے کیا ہے۔

بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ جیسا کہ اُرسولا جی نے کہا تھا، یہ واقعی “تمام معاہدوں کی ماں” ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اسے جلد از جلد نافذ کیا جائے۔

سیکیورٹی اور دفاعی شراکت داری(سیکورٹی اینڈ ڈیفینس پارٹنرشپ) اور موبیلیٹی معاہدے نے بھی ہمارے تعاون کو نئی سمت دی ہے۔ بھارت-یورپی یونین تجارت و ٹیکنالوجی کونسل نے ہماری شراکت داری کو نئی ادارہ جاتی مضبوطی فراہم کی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، سپلائی چینز اور جدّت طرازی جیسے تمام شعبوں میں بھارت اور یورپ مل کر کام کر رہے ہیں۔

بھارت-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری جیسے تاریخی اقدامات رابطہ کاری اور اقتصادی انضمام کو نئی رفتار دے رہے ہیں۔ گرین ٹرانزیشن اور پائیدار ترقی کے حوالے سے بھی ہماری سوچ اور ترجیحات یکساں ہیں۔

یعنی اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے درمیان گہری سیاسی، اقتصادی اور اسٹریٹجک ہم آہنگی موجود ہے۔ بھارت اور یورپ ایک متوازن، محفوظ اور پائیدار دنیا کے لیے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔

لیکن ساتھیو،

حکومتیں صرف فریم ورک، فریم ورک سپورٹ اور پالیسی کو سمت فراہم کر سکتی ہیں۔ زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی آپ سب کی کوششوں سے ہی ممکن ہو گی۔ اسی لیے آج میں آپ کو بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی مدعو کرنے آیا ہوں۔

دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر بھارت آج ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ بھارت 140 کروڑ لوگوں کی امنگوں کا ملک ہے۔ ہماری نوجوان آبادی، وسعت اختیار کرتا متوسط طبقہ اور بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی بھارت کی معاشی نمو کو نئی رفتار دے رہے ہیں۔

گزشتہ بارہ برسوں میں بھارت نے “ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم” کے اصول پر عمل کیا ہے۔ حکومت کے مضبوط سیاسی عزم کے باعث یہ اصلاحاتی ایکسپریس پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔

جی ایس ٹی نے بھارت کو “ون نیشن، ون ٹیکس، ون مارکیٹ” کی سمت میں آگے بڑھایا ہے۔ انسالوینسی اور بینکروپسی کوڈ (آئی بی سی) نے کاروباری ماحول میں جوابدہی پیدا کی۔ کارپوریٹ ٹیکس اصلاحات نے مینوفیکچرنگ کو زیادہ مسابقتی بنایا، جبکہ لیبر کوڈز نے کمپلائنس کے نظام کو آسان اور شفاف بنانے کی راہ ہموار کی۔

ایف ڈی آئی اصلاحات نے کئی شعبوں کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے کھولا۔ پی ایل آئی اسکیموں نے الیکٹرانکس، فارما، آٹو کمپوننٹس، سولر ماڈیولز، ٹیلی کام اور ٹیکسٹائل سمیت متعدد شعبوں میں مینوفیکچرنگ کو نئی رفتار دی ہے۔

ہم نے ضوابط اورکمپلائنس کے بوجھ کو کم کیا ہے اور ہزاروں فرسودہ قوانین ختم کیے ہیں۔کاروبار کرنے میں آسانی کو حکمرانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا مہم نے عوامی خدمات کو زیادہ شفاف، مؤثر اور قابلِ رسائی بنایا ہے۔

آج بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم رکھتا ہے۔ ہمارے اسٹارٹ اپس مصنوعی ذہانت(اے آئی)، فن ٹیک، خلائی ٹیکنالوجی، ڈرونز، بایوٹیک، کلائمٹ ٹیک اور موبیلیٹی جیسے شعبوں میں عالمی معیار کے حل تیار کر رہے ہیں۔

آج بھارت میں ٹیلنٹ بھی ہے، پیمانہ بھی، طلب بھی، استحکام بھی اور سب سے بڑھ کر 140 کروڑ بھارتیوں کی مضبوط قوت ارادی موجود ہے۔ اسی لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نیت سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری کی طرف قدم بڑھائیں۔

میں اس موضوع پر آپ کے سامنے پانچ تجاویز رکھنا چاہتا ہوں۔

پہلی: ٹیلی کام اور بنیادی ڈھانچہ۔ ووڈافون، ایرکسن، نوکیا اور اورنج پاور کا بھارت میں کوشش کرنا۔ بھارت فائیو جی سے سکس جی منتقلی، مصنوعی ذہانت سے منسلک نیٹ ورکس، محفوظ رابطہ کاری اور شناخت کے میدان میں ایک بڑا حصہ دار بن سکتا ہے۔ آپ سب بھارت کی عالمی تحقیق و ترقی کے مرکز میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دوسری: مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مینوفیکچرنگ۔ اے ایس ایم ایل،  این ایکس پی سیمی کنڈکٹرز، ایس اے پی اورکیپ جیمنی جیسے عالمی رہنما آج یہاں موجود ہیں۔میں آپ کو بھارت کے تیزی سے ترقی کر رہے اینڈ-ٹو-اینڈ ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کا حصہ بننے کے لیے مدعو کرتا ہوں۔

بھارت کا وژن واضح ہے: ٹیکنالوجی انوویشن کی اگلی لہر بھارت میں مشترکہ طور پر تخلیق(کو –کرییٔٹ) ہونی چاہیے۔

تیسرا: گرین ٹرانزیشن اور کلین انرجی۔ غیر یقینی عالمی ماحول میں بھارت انرجی سکیورٹی اور صاف توانائی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ای این جی آئی ای، ٹوٹل انرجی، شیل،یومی کور جیسی کمپنیاں کلین انرجی، ہائیڈروجن، انرجی اسٹوریج، الیکٹرک وہیکلز (ای وی) اور ڈیکاربونائزیشن میں لیڈرزہیں۔ آپ بھارت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

چوتھی: بنیادی ڈھانچہ، نقل و حرکت اور شہری تبدیلی۔ وولوو، مارسک، ایئربس، ساب، آرسیلر متل اور ہائیڈلبرگ میٹریلز  ان سب کی مہارت بھارت کی ترقی اور براہ راست راستے سے ہوئی ہے۔  پائیدار سیمنٹ، گرین اسٹیل، موبیلیٹی، لاجسٹکس، ایرو اسپیس اور دفاع کے شعبوں میں بھارت اور یورپ کی شراکت داری عالمی معیار کے نتائج دے سکتی ہے۔

پانچویں: صحت اور حیاتیاتی علوم۔ آسٹرا زینیکا، روچے، مرک، فلپس، نیسلے اور یونی لیور کے ادارے کے بھارت کے ساتھ طویل عرصے تک تعلقات قائم ہیں۔ اب ہمیں اس شراکت داری کو آگے بڑھاناہے۔

ویکسینز، کینسر کے علاج، صحت، غذائیت اور طبی آلات کے شعبوں میں بے  پناہ امکانات موجود ہیں۔ آپ‘‘ ڈیزائن فار انڈیا – میک ان انڈیا اور ایکسپورٹ فار انڈیا’’ کے ماڈل پرآگے بڑھ سکتے ہیں۔

وقت کی کمی کے سبب میں یہاں موجود سبھی کمپنیوں کے نام نہیں لے سکا، لیکن بھارت کے مواقع سب کے لیے ہیں اور میری دعوت بھی آپ سبھی کے لیے ہے۔

ساتھیو،

ان تجاویز کے بعد میں آپ کے سامنے ایک چیلنج بھی رکھنا چاہتا ہوں۔ کیا یہاں موجود ہر کمپنی بھارت کے لیے ایک نیا بڑا عزم  کر سکتی ہے؟ کیا ہم آنے والے پانچ برسوں میں بھارت میں شروع کیے جانے والے بڑے فلیگ شپ منصوبوں کی نشاندہ کر سکتے ہیں؟

حکومت ہند ،ان تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے میں آپ کی مکمل معاونت کرے گی۔ ہم ان منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ایک ادارہ جاتی نظام بھی قائم کر سکتے ہیں۔

ساتھیو،

ہم سال میں ایک بار بھارت-یورپ سی ای او راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد کر سکتے ہیں۔ اس میں بھارت اور یورپ کی صنعتی تنظیموں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ مخصوص شعبہ جاتی ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔

میں یہ بھی تجویز دوں گا کہ صنعت کے لیے یورپی گول میز ایک انڈیا ڈیسک یا انڈیا ایکشن گروپ بھی قائم کرے۔ اس کا مینڈیٹ سادہ ہو: جو کمپنیاں بھارت میں موجود ہیں، ان کی توسیع میں معاونت کرنا؛ جو نئی کمپنیاں بھارت آنا چاہتی ہیں، ان کے داخلے کے عمل کو آسان بنانا؛ اور کاروباری خدشات کا پیشگی اور مؤثر حل تلاش کرنا۔

ساتھیو،

بھارت اور یورپ کی شراکت داری صرف معاشی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے۔ یہ مشترکہ اقدار کی شراکت داری ہے۔ یہ جمہوریت اور تنوع کی شراکت داری ہے۔ یہ اعتماد اور شفافیت کی شراکت داری ہے۔ یہ جدّت اور شمولیت کی شراکت داری ہے۔

آج کی دنیا میں، جہاں غیر یقینی صورتحال ہے، سپلائی چینز دباؤ میں ہیں، ٹیکنالوجی میں مسابقت بڑھ رہی ہے، توانائی کی سلامتی اور ماحولیاتی تبدیلی دونوں چیلنج بنے ہوئے ہیں، ایسے وقت میں بھارت اور یورپ مل کر استحکام، پائیداری اور مشترکہ خوشحالی کے مضبوط ستون بن سکتے ہیں۔

اسی جذبے کے ساتھ میں آپ سب کو بھارت کی ترقی کے سفر سے جڑنے کی دعوت دیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آج “گوتھنبرگ” سے جو مکالمہ شروع ہوا ہے، وہ آنے والے برسوں میں بھارت اور یورپ کی صنعتی شراکت داری کا ایک نیا باب رقم کرے گا۔

آپ اتنی بڑی تعداد میں یہاں تشریف لائے۔ اس سمٹ میں مجھے آپ کے سامنے اپنی بات رکھنے کا موقع دیا۔ اس کے لیے میں آپ سب کا خصوصی طور پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

***

ش ح۔ ش ت ۔ش ب ن

U-7174


(ریلیز آئی ڈی: 2262141) وزیٹر کاؤنٹر : 21