وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع  کا ویتنام اور جنوبی کوریا کا سرکاری دورہ


ہند-بحرالکاہل  خطے میں امن و استحکام کے فروغ، فوجی تعاون، صنعتی شراکت داری اور سمندری تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رہے گی: جناب راج ناتھ سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAY 2026 10:21AM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ 18 سے 19 مئی 2026 تک ویتنام اور اس کے بعد 19 سے 21 مئی 2026 تک جمہوریہ کوریا کا سرکاری دورہ کریں گے۔ اپنی روانگی سے قبل سوشل میڈیا  ویب سائٹ 'ایکس'پر جاری ایک پیغام میں وزیر دفاع  نے دوطرفہ روابط کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے لیے ان دونوں ایشیائی ممالک کے دورے پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کی بنیادی توجہ اسٹریٹجک دفاعی تعاون کو گہرا کرنے، دفاعی صنعتی شراکت داری کو مضبوط بنانے، اور سمندری تعاون کو فروغ دینے پر ہوگی تاکہ ہند-بحرالکاہل  خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

 

وزیر دفاع کا دورہِ ویتنام دونوں ممالک کے درمیان "جامع اسٹریٹجک شراکت داری" کے 10 سال مکمل ہونے کی علامت ہے، جسے 05 سے 07 مئی 2026 تک ویتنام کے صدر کے دورہِ بھارت کے دوران "بہتر جامع اسٹریٹجک شراکت داری" میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ جناب راج ناتھ سنگھ اس دورے کے دوران ویتنام کے قومی دفاع کے وزیر جنرل فان وان گیانگ کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کریں گے۔

آٹھ سے 10 جون 2022 تک وزیر دفاع کے گزشتہ دورے کے حصے کے طور پر "2030 کی جانب بھارت-ویتنام دفاعی شراکت داری کا مشترکہ وژن اعلامیہ" دستخط کیا گیا تھا، جو دوطرفہ دفاعی تعاون کے لیے واضح طور پر ایک طے شدہ راستہ فراہم کرتا ہے اور یہ دونوں جمہوری ممالک خطے کے امن اور خوشحالی میں یکساں دلچسپی رکھتے ہیں۔

 جناب راج ناتھ سنگھ کا یہ دورہ 19 مئی 2026 کو ویتنام کے سابق صدر ہو چی منہ کی 136 ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے، جہاں وزیر دفاع  احترام کے طور پر ہو چی منہ کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائیں گے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔

جنوبی کوریا کے دورے کے دوران، جناب راج ناتھ سنگھ جمہوریہ کوریا کے قومی دفاع کے وزیر جناب آہن گیو-بیک کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کریں گے۔ دونوں وزراء دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا جائزہ لیں گے، دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے اقدامات تلاش کریں گے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی خیالات کا تبادلہ کریں گے۔

 وزیر دفاع  ڈیفنس ایکوزیشن پروگرام ایڈمنسٹریشن (ڈی اے پی اے) کے وزیر جناب  لی، یونگ-چیول سے بھی ملاقات کریں گے اور بھارت-کوریا بزنس راؤنڈ ٹیبل کی صدارت کریں گے۔

کوریا کی جنگ میں بھارت کا تعاون تاریخ کے سب سے اہم ترین ابواب میں سے ایک ہے، جو عالمی امن اور استحکام کے لیے غیر متزلزل عزم سے عبارت ہے۔ بھارت کی جانب سے اس مدد کا مقصد ہندوستانی فوج کی "60 پیراشوٹ فیلڈ ایمبولینس" کو تعینات کرکے جنگ کے زخموں پر مرہم رکھنا تھا۔ تین سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیتے ہوئے، اس یونٹ نے دو لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا اور تقریباً 2500 سرجریز کیں، اس کے علاوہ بڑی تعداد میں عام شہریوں کا بھی علاج کیا۔ بھارت کا دوسرا بڑا تعاون "نیوٹرل نیشنز ریپیٹریشن کمیشن" کی صدارت تھا، جو کہ اقوامِ متحدہ میں بھارت کی ایک تجویز تھی جسے اکثریت سے منظور کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق، "کسٹوڈین فورس آف انڈیا"—جو کہ ہندوستانی فوج کا 5,230 جوانوں پر مشتمل دستہ تھا—نے جنگ کے بعد کے مرحلے میں تقریباً 2000 جنگی قیدیوں کی پرامن وطن واپسی کی ذمہ داری سنبھالی۔

جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے، 21 مئی 2026 کو محبِ وطن اور سابق فوجیوں کے امور کے وزیر جناب  کوون اوہ-ایول کے ساتھ مل کر "انڈین وار میموریل" کے مشترکہ افتتاح کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

 بھارت کی 'ایکٹ ایسٹ پالیسی' اور جمہوریہ کوریا کی ' ہند-بحرالکاہل  اسٹریٹجی' کے مابین قدرتی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ خطہ ہند-بحرالکاہل  میں مشترکہ اقدار نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔

***

ش ح۔ا  م۔ن م۔

U-7177


(ریلیز آئی ڈی: 2262136) وزیٹر کاؤنٹر : 10