امور داخلہ کی وزارت
مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر تعاون جناب امت شاہ نے احمد آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن (این آئی ڈی) میں انوویشن اینڈ انکیوبیشن سینٹر کا افتتاح کیا
این آئی ڈی کا مقصد ملک میں ڈیزائن کے کلچر کو فروغ دینا اور اس کی تجارتی صلاحیت کو سو فیصد بروئے کار لانا ہے
این آئی ڈی اب سیمی کنڈکٹر چپ سمیت ہائی ٹیک ڈیزائن شعبوں تک اپنی رسائی کو وسعت دے گا
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن کا انکیوبیشن اینڈ انوویشن سینٹر اُن باصلاحیت افراد کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا جو ڈیزائن کے شعبے سے شغف رکھتے ہیں
چاہے صنعتی پارک ہو یا کسی تکنیکی منصوبے کی ترقی، ڈیزائن کا نظم و ضبط پہلے ہی بھارت میں موجود ہے؛ ضرورت صرف اسے پہچاننے اور تلاش کرنے کی ہے
خواہ موسیقی ہو، ڈیزائن ہو یا فن کی کوئی اور شکل، کسی بھی شعبے کی صلاحیت کو سو فیصد اسی وقت دریافت کیا جا سکتا ہے جب اسے بطور پیشہ اختیار کیا جائے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAY 2026 5:38PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر تعاون جناب امت شاہ نے آج گجرات کے احمد آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن (این آئی ڈی) میں انوویشن اینڈ اِنکیوبیشن سینٹر (آئی آئی سی) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل، گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل، نائب وزیر اعلیٰ جناب ہرش سنگھوی اور متعدد دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ این آئی ڈی ایک ایسا ادارہ ہے جو تخلیقی صلاحیت، اختراع اور صنعت کاری کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ روایتی طور پر ڈیزائن کو ایک نظم و ضبط سمجھا جاتا ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر یہ ایک فن بھی ہے جو چیزوں کو نفاست اور بامقصد انداز میں پیش کرتا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ این آئی ڈی اس سوچ کے ساتھ قائم کیا گیا تھا کہ ہر فرد میں کسی نہ کسی حد تک ڈیزائن کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، لیکن روزمرہ زندگی کے دباؤ کے باعث بہت سے لوگ، جو ڈیزائن میں نمایاں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسے سنجیدگی سے اختیار نہیں کر پاتے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ڈی کے قیام کا ایک مقصد ایسے افراد کو پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جن میں فطری طور پر ڈیزائن کی جانب رجحان موجود ہو، تاکہ ان کی صلاحیتوں کو معاشرے کے سامنے لایا جا سکے۔ جناب شاہ نے کہا کہ قومی نقطۂ نظر سے کسی بھی شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے بطور پیشہ قبول کیا جائے۔ چاہے نغمہ نگاری ہو، موسیقی ہو یا ڈیزائن، یہ سب فنون کی شکلیں ہیں، لیکن بالآخر انہیں پیشے کے طور پر بھی قبول کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں این آئی ڈی کا قیام اسی لیے عمل میں لایا گیا تاکہ ڈیزائن اور فن کی تجارتی صلاحیت کو مکمل طور پر دریافت کیا جا سکے۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ این آئی ڈی کو ڈیزائن کے شعبے میں مزید نفاست اور بہتری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انوویشن اینڈ انکیوبیشن سینٹر کا قیام ایک قابل ستائش اقدام ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ڈیزائن کو بطور پیشہ اختیار کرنے والے نوجوانوں کو ایسے مواقع سے جوڑا جائے جو ان کے پیشہ ورانہ خدشات اور خواہشات کو پورا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک علیحدہ شعبہ قائم کرنا ہوگا، کیونکہ ڈیزائنر تخلیقی صلاحیتوں کے ماہر ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ تجارتی پہلوؤں میں بھی ماہر ہوں۔ جناب شاہ نے کہا کہ آنے والے برسوں میں این آئی ڈی کو دونوں شعبوں کے ماہرین کو ایک ساتھ لانا ہوگا۔ تبھی بھارت ملک کی ڈیزائن صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکے گا اور نوجوانوں کو بلا جھجھک ڈیزائن کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی ترغیب ملے گی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ڈیزائن کی ہر شعبے میں اہمیت ہے۔ حتیٰ کہ ایک بڑے صنعتی پارک کی تعمیر میں بھی ڈیزائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیزائن کا نظم و ضبط پہلے ہی بھارت میں موجود ہے، ضرورت صرف اسے پہچاننے اور دریافت کرنے کی ہے۔ ہمیں ہائی ٹیک ڈیزائن کے شعبے میں آگے بڑھنا ہوگا، خواہ وہ سیمی کنڈکٹر ہوں یا چِپ۔ اُن تمام شعبوں کو دریافت کرنا چاہیے جہاں ڈیزائن کا معیار، نوعیت اور دلچسپی موجود ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن کو ان شعبوں کو پیشہ ورانہ مواقع سے جوڑنے کی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔ اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے تمام کیمپس میں ایک مخصوص شعبہ قائم کیا جانا چاہیے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہے کہ ڈیزائن معاشرے کے ہر شعبے اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن جائے۔ پٹن پٹولا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اس روایتی ٹیکسٹائل فن کو دیکھا ہے، وہ اس کے ڈیزائن میں شامل غیرمعمولی باریکی، نفاست اور سائنسی انداز کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں، خاص طور پر رنگوں کے امتزاج میں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے ہی ڈیزائن اور دستکاری کی ایسی شاندار روایات کا حامل ہے، لیکن انہیں مزید دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو ڈیزائن کو بطور پیشہ اختیار کرنا ہوگا۔ جناب شاہ نے کہا کہ ڈیزائن کی افادیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور اس شعبے کو مزید وسعت دینے کے لیے بھی کوششیں کی جانی چاہئیں۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
17-05-2026
U: 7170
(ریلیز آئی ڈی: 2262061)
وزیٹر کاؤنٹر : 3